رکشہ چلانے والے غریب باپ کا بیٹا بنا IAS افسر

0

بنارس شہر میں ایک بچہ دوستوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اپنے ایک دوست کے گھرمیں داخل ہوا۔ جیسے ہی اس کے دوست کے والد نے اس بچے کو اپنے گھر میں دیکھا، وہ غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ انہوں نے بچے پرچللانا شروع کیااوراونچي آواز میں پوچھا، 'تم کس طرح میرے گھر میں آ سکتے ہو؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں آنے کی؟ تم جانتے ہو تمہارا بیک گراؤنڈ کیا ہے؟ تمہارا بیک گراؤنڈ ہمارے ساتھ بیٹھنے کے لائق نہیں ہے۔ تم اپنے بیک گراؤنڈ والوں کے ساتھ اٹھا بیٹھا کر۔'

یہ کہہ کردوست کے والد نے اس بچے کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ دوست کے والد کے اس رویے سے بچہ گھبرا گیا۔ اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر اس نے کیا غلط کیا ہے. اسے لگا کہ دوسرے بچوں کی طرح ہی وہ بھی اپنے ایک دوست کے ساتھ کھیلنے اس کے گھر میں چلا گیا تھا. دوستوں کے گھر میں تو ہر بچہ جاتا ہے، پھر اس نے کیا غلط کیا؟

اس بچے کے دماغ میں اب "بیک گراؤنڈ" کے بارے میں جاننے کی شدید خواہش پیدا ہو گئی. آپنے تجسس کو دور کرنے کے لئے وہ بچہ اپنے ایک جان پہچان کے شخص کے پاس گیا، جو پڑھا لکھا تھا اور کسی بڑے امتحان کی تیاری بھی کر رہا تھا۔ اس شخص نے بچے کو اس کے سماجی پس منظر کے بارے میں وضاحت کی۔ بچے کو احساس ہو گیا کہ وہ غریب ہے اور اس کا دوست امیر۔ اس کے والد رکشا چلاتے ہیں اور اس کے سماجی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

نہ جانے بچے کے دل میں کیا خیال آیا کہ اس نے اچانک اس شخص سے یہ پوچھ لیا کہ سماجی بیک گراؤنڈ تبدیل کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟

اس شخص کے منہ سے بےاختیارنکل گیا کہ آئی اے ایس افسر بن جاؤ، تمہارا بھی بیک گراؤنڈ بدل جائے گا۔

شاید مذاق میں یا پھر بچے کا دل خوش کرنے کے لئے اس شخص نے یہ بات کہی تھی، لیکن اس بات کو بچے نے کافی سنجیدگی سے لیا تھا۔ اس کے دل ودماغ پر اس بات نے گہری چھاپ چھوڑی. اس وقت چھٹی کلاس میں پڑھ رہے اس بچے نے ٹھان لیا کہ وہ ہر حال میں آئی اے ایس افسر بنے گا۔ اور جب سے ہی اس بچے نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جی جان لگا کرمحنت کی۔ طرح طرح کی پریشانیوں، مصیبتوں اور محرومیوں کے باوجود وہ بچہ آگے چل کر اپنی لگن، محنت، عزم کے بلبوتے پر آئی اے ایس افسر بن گیا۔

جس واقعہ کی یہاں بات ہوئی ہے وہ واقعہ گووند جیسوال کے بچپن کآ سچہ واقعہ ہے۔ رکشہ چلانے والے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے گووند جیسوال نے اپنی پہلی کوشش میں ہی آئی اے ایس کا امتحان کامیاب کر لیا تھا۔ آج وہ ایک کامیاب اور نامورافسرہیں۔

لیکن جن مشکل حالات اور محرومیوں میں گووند نے اپنی تعلیم مکمل کی وہ کسی کو بھی توڑسکتی ہے۔ اکثر عام لوگ ان حالات اور محرومیوں سے ہارجاتے ہیں اور آگے نہیں بڑھ پاتے۔ لیکن گووند نے جو حاصل کر دکھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ غریب خاندان میں پیدا ہونے والے بچے، نوجوان اور دوسرے لوگ بھی گووند کی کامیابی کی کہانی سے سبق حاصل کرسکتے ہیں۔

گووند کے والد نارائن جیسوال بنارس میں رکشہ چلاتے تھے۔ رکشہ ہی ان کی کمائی کا واحد ذریعہ تھا۔ رکشے کے دم پر ہی سارے خاندان پرورش ہوتی۔غربت ایسی تھی کہ خاندان کے پانچوں رکن صرف ایک ہی کمرے میں رہتے تھے۔ پہننے کے لئے ٹھیک کپڑے بھی نہیں تھے۔ گووند کی ماں بچپن میں گزر گئی تھیں۔ تین بہنیں گووند کی دیکھ بھال کرتیں۔ باپ سارا دن رکشہ چلاتے، پھر بھی زیادہ کچھ کمائی نہیں ہوتی تھی۔ بڑی مشکل سے دن کٹتے تھے۔ بڑی بڑی مشکلات جھیل کر والد نے گووند کی تعلیم جاری رکھی۔ چاروں بچوں کی پڑھائی اور اخراجات کے لئے والد نے دن رات محنت کی۔ کڑاکے کی سردی ہو، تیز گرمی، یا پھر زوردار برسات، والد نے رکشہ چلایا اور بچوں کا پیٹ بھرا۔ ایک دن جب گووند نے یہ دیکھا کہ تیز بخار کے باوجود اس کے والد رکشہ لے کر چلے گئے تب اس کا یہ ارادہ اور بھی مضبوط ہو گیا کہ اسے کسی بھی قیمت پر آئی اے ایس بننا ہے۔ بچپن سے ہی گووند نے کبھی بھی باپ اور بہنوں کو مایوس نہیں کیا۔ اگرچہ اس کے پاس دوسرے بچوں جیسی سہولیات نہ تھیں اسکے باوجود خوب دل لگا کر تعلیم حاصل کی اور ہر امتحان میں اول نمبر لائے۔

گووند کے گھرکے ارد گرد بہت سے فیکٹریاں تھیں۔ ان فیکٹریوں میں چلنے والے جنریٹروں کی آواز گھروالوں کو بہت پریشان کرتی تھی۔ تیز آوازوں سے بچنے کے لئے گووند کانوں میں روئی ڈال کر پڑھائی کرتا۔

اور تو اور، گووند کو کچھ لوگ اکثر طعنے بھی مارکر پریشان کرتے۔ اسے پڑھتا لكھتا دیکھ آس کے پڑوس کے کچھ لوگ طعنے مارتے کہ کتنا بھی پڑھ لو بیٹا، چلانا تو تمہیں رکشہ ہی ہے۔ لیکن، گووند پران باتوں اور تانوں کا کوئی فرق نہیں پڑا۔

غربت کے تھپیڑے جھیلتے کسی طرح زندگی آگے بڑھ رہی تھی کہ حالات اس وقت اور بھی بگڑ گئے جب باپ کے پاؤں میں سیپٹیک ہو گیا۔

سیپٹیک کی وجہ سے والد کا رکشہ چلانا ناممکن ہو گیا۔ گھرچلانے کے لئے والد نے رکشہ کرایہ پر دے دیا۔ والد کی محنت کی وجہ سے گووند کے بہنوں کی شادی ہو پائی تھی۔

ان سب کے درمیان گووند نے اچھے نمبروں سے گریجویشن کی تعلیم مکمل کر لی۔ اس نے آئی اے ایس افسر بننے کا اپنا خواب پورا کرنے کے لئے کوچنگ لینے کا ارادہ کیا۔ کوچنگ کے لئے گووند کو بنارس سے دہلی جانا پڑا۔ دہلی میں بھی دن مشکلوں بھرے رہے۔

یہاں گووند نے اخراجات کے لئے طلباء کو ٹیوشن پڑھایا۔ کئی بار تو گووند نے دن بھر میں صرف ایک بار کھانےپر ہی اکتفاء کیا آئی اے ایس کے امتحان میں پاس ہونے کے مقصد سے گووند نے ہر روز کم از کم سے کم 12۔13 گھنٹے تک تعلیم حاصل کی۔ کم کھانے اور زیادہ پڑھنے سے حالات ایسے ہو گئے کہ گووند کی طبیعت بگڑ گئی اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ اگر کچھ وقت تک پڑھائی کو نہیں روکا گیا تو حالت اور بھی بگڑ جائے گی اور بہت نقصان ہوگا، لیکن گویند کی نظر صرف اپنی منزل پر تھی۔ اس نے کسی کی نہ سنی اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اس محنت اور لگن کا نتیجہ یہ نکلا کہ گووندنے پہلی ہی کوشش میں آئی اے ایس کا امتحان کامیاب کرلیا ۔ گووند نے آئی اے ایس (عام زمرے میں) کے امتحان میں 48 وا رینک حاصل کیا اور ہندی ذریعے اول نمبر حاصل کرنے کا خطاب بھی اپنے نام کیا۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ گووند کو اپنی تعلیم اور کیریئر کے سلسلے میں خاندان سے کوئی رہنمائی نہیں ملی، لیکن مشکلات کے دور میں بہنوں نے گووند کا کافی ساتھ دیا. ہمیشہ اس حوصلہ افزائی کی۔ گووند کی ہرممکہ مدد کی۔ ماں کی طرح محبت اور دلار بھی دیا۔ کچھ دوستوں اور اساتذہ نے بھی وقت وقت پرصحیح مشورہ دیا۔ آئی اے ایس امتحان کی تیاری میں دہلی کے 'پتنجلی انسٹی ٹیوٹ' سے بھی مدد ملی۔ یہاں پر دھرمیندر کمار نامی شخص نے گووند کی سب سے زیادہ مدد کی۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ گووند نے اپنی زندگی میں کبھی 'شارٹ کٹ راستہ' نہیں پکڑا اور بڑے ہی منظم طریقے سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ محنت بہت زیادہ کی۔ سہولتوں کی عدم دستیابی کوآڑے آنے نہیں دیا.

آئی اے ایس امتحان کے لئے موضوع منتخب کرنے کے معاملےمیں بھی گووند کی بات دلچسپ ہے۔ گووند کے ایک دوست کے پاس تاریخ کی کافی کتابیں تھیں، اس نے تاریخ کو اہم موضوع بنایا۔ دوسرا موضوع فلسفہ رکھا، کیونکہ اس کا نصاب چھوٹا تھا اور سائنس پر اس کی پکڑ مضبوط تھی۔

گووند جیسوال کی یہ کہانی لوگوں کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ اکثر لوگ غربت، تنگ دستی اور مصیبت کو اپنی ناکامی کی وجہ بتاتے ہیں، لیکن، گووند نے ثابت کیا ہے کہ اگر حوصلے بلند ہوں، محنت و جدوجہد کی جائے تو سہولتوں کی عدم دستیابی اور غربت میں بھی کامیابی حاصل کی سکتی ہے۔ خواب کو پورا کرنے کے لئے حالات اور مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ سہولتوں کی عدم دستیابی کو دور کرنے کے لئے محنت اور جدوجہد ہی کامیابی کا فارمولا ہے۔ اس بات میں بھی دو رائے نہیں ک ہمحرومی حالات نے ہی گووند کو ایک بڑی کامیابی حاصل کرنے کا عزم لینے پر مجبور کیا تھا۔

گووند کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہسماجی پس منظر کا بھی کامیابی پر اثر نہیں پڑنے دیا جا سکتا۔ بیک گراؤنڈ اگر کمزور بھی ہو تو مضبوط ارادوں اور جدّوجہد سے خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem