سڑکوں پر 3 ڈی زیبرا کراسنگ بنا کر حادثے کم کرنے میں مصروف ماں اور بیٹی

ماں بیٹی کی جوڑی نے دوسرے ممالک سے تحریک حاصل لیتے ہوئے زیبرا کراسنگ کو ہموار زمین پر کچھ ایسے پینٹ کیا ہے کہ گاڑی ڈرائیوروں کو وہ ابھرا ہوا لگتا ہے

0


ملک میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ لوگ سڑک حادثوں میں مارے جاتے ہیں۔ حکومت ایسے حادثوں کو روکنے کے لئے بھلے ہی کئی اقدامات اٹھا رہی ہو، لیکن احمد آباد کی ماں بیٹی کی جوڑی نے ایسے سڑک حادثات پر لگام لگانے کے لئے ایک فنکارانہ راستہ تلاش نکال لیا ہے۔ سومیا پانڈیا ٹھکر اور ان کی ماں شکنتلا ٹھکر نے بڑے مؤثر طریقے سے زیبرا کراسنگ کو تھری ڈی میں پینٹ کر نئی شکل دی ہے۔

ماں بیٹی کی جوڑی نے دوسرے ممالک سے تحریک حاصل لیتے ہوئے زیبرا کراسنگ کو ہموار زمین پر کچھ ایسے پینٹ کیا ہے کہ گاڑی ڈرائیوروں کو وہ ابھرا ہوا لگتا ہے۔ اس وجہ سے وہ خود ہیاپنی گاڑی کی رفتار کو سست کر دیتے ہیں۔ جس سے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔

سومیا پانڈیا ٹھکر بنیادی طور پر ایک پروفیشنل پینٹر ہیں وہ گزشتہ 15 سالوں سے احمد آباد میں پینٹنگ کر رہی ہیں۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے سب سے لمبی ایکوا شیڈو پینٹنگ بنائی ہیں، جس کے لئے ان کا نام لمکا بک آف ریکارڈ میں درج ہوا ہے۔ پروفیشنل پےٹگ کے اپنے اس کام کو وہ اپنی ماں شکنتلا ٹھکر کے ساتھ مل کر کرتی ہیں۔

سومیا بتاتی ہیں،

"ایک دن میرے پاس ہائی وے کا کام دیکھنے والی روڈ اتھارٹی کا فون آیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مہسانا کے ہائی وے پر ان کو سڑک پر پینٹنگ کروانی ہے۔ روڈ اتھارٹی کے حکام نے مجھے بتایا کہ مغربی ممالک میں زیبرا کراسنگ پر تھری ڈی پینٹنگ کی گئی اور کچھ اسی طرح کی پینٹنگ وہ بھی مہسانا ہائی وے پر بنوانا چاہتے ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ مہسانا کے اس ہائی وے میں متعدد اسکول اور کالج پڑتے ہیں جس وجہ سے وہاں پر کافی سڑک حادثات ہوتے ہیں۔ "

سومیا بتاتی ہیں کہ "ہم نے انہیں 2-3 ڈیزائن بھجوائے جسے انہوں نے دو دن میں ہی پاس کر دیا۔ اس کے بعد ہم نے اس ہائی وے کو 3 ڈی پینٹنگ سے پینٹ کیا۔ "سومیا کے مطابق وہ ایک پینٹر ہیں اور لوگوں کو ان کا کام پسند آیا ہے۔ روزانہ ان کے پاس اس کام کو لے کر کئی طرح کی معلومات مانگی جاتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب ہائی وے اتھارٹی کے لوگ ان سے ملنے آئے تو انہوں نے ان سے کہا کہ اس سے وہ سو فیصد تک حادثے میں کمی نہیں لا سکتے ہیں' لیکن وہ اس کے ذریعے کمی لانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے زیبرا کراسنگ بنانے سے حادثات میں کمی آئی ہے لیکن کتنی کمی آئی ہے کا ڈیٹا ان کے پاس نہیں ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ تصویر دیکھ کر بہت سے لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ تو دکھنے میں بہت ڈراونا لگتا ہے۔ اسے دیکھ کر تو ڈرائور ڈر سے اچانک بریک لگا دے گا۔

سومیا کے مطابق،

"ہماری آنکھیں 2 ڈی پینٹنگ ہی دیکھ سکتی ہیں 3 ڈی پینٹنگ دیکھنے کے لئے ہمیں شیشے لگانا پڑتا ہے اور ایک مقررہ فاصلے اور انگل سے کیمرے کے ذریعے ہی ہم اسے دیکھ سکتے ہیں، لیکن روڈ میں چلنے والوں کو یہ سلاٹگ لائن اور کچھ مختلف طریقوں کا ڈیزائن اور کلر دکھائی دیتا ہے۔ اس سے وہ اس زیبرا كرسنگ احتیاط سے دیکھتے ہیں۔ "

مہسانا کے ہائی وے پر ٹرائل کے بعد اتھارٹی اس کے آس پاس کچھ اور زیبراز كسگ کو بھی مختلف طریقے سے پینٹ کر رہی ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ توجہ اس طرف جائیں۔

اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ملک کے دوسرے نیشنل ہائی وے میں بھی 3 ڈی ٹیکنالوجی یا دوسرے تخلیقی طریقے سے زیبرا كراسنگ کو رنگا جائے۔ وہ کہتی ہیں،

"نیشنل ہائی وے اتھارٹی اپنے منصوبوں پر فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں لاتی ہے لیکن کبھی نہ کبھی تو ہمیں پہلی بار کوشش کرنا ہی ہوگا۔ اگر ہمیں کام کرنے کی یہ چھوٹ ملتی ہے تو ہمارے پاس کافی سارے دوسرے خیال ہیں، جسے نافذ کر حادثات میں کافی کمی لائی جا سکتی ہے۔