قتل سے بچی مُکھلا پیروں سے لکھ رہی ہے عبارت

0

پیروں سے لکھ کر گیارہویں میں حاصل کئے 80فیصد نمبرات ...

بلند عزائم اور سخت محنت کی زندہ مثال ...

ہاتھ نہ ہونے کے باوجود پڑھائی کے تئیں اپنے جوش اورجذبے سے لوگوں کے لئے سر چشمہ ترغیب ...

مدد کے لئے آگے آئےکئی ہاتھ ...

زندگی میں اکثر دوطرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ ،جوقسمت کو اپنا سب کچھ مان لیتے ہیں اور اس کو جذب کرکے زندگی گذارنے لگتے ہیں ۔ دوسرے وہ، جو نوشتۂدیوار کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ اپنی قوت ِ ارادی سے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگ اپنے جوش وجذبے اور بلند حوصلے کے سامنے مفروضات کو جھکنے پر مجبورکردیتے ہیں ۔ سماج کے لئے کچھ ایسی ہی باعث ِ تحریک مثال ہیں مکھلا سینی۔ جے پور ضلع کے کوٹ پوتلی قصبے کے مضافاتی گاؤں ناریہڑا میں مکھلا جب پیداہوئیں تو سب نے کہا کہ گلا گھونٹ کر مارڈالو۔ لیکن والد نے اسے پالنے کی ضد کی۔ مگر آج اسی مکھلا پر پوراگاؤں ،سماج اور خاندان فخر محسوس کرتاہے۔ مکھلا کے ہاتھ نہیں ہیں ۔ اپنےروزمرہ سے لے کر ہر کام مکھلا پیروں سے کرتی ہیں ۔ ہاتھ ان کی کامیابی میں روکاوٹ بنے ایسا مکھلا نے نہیں ہونے دیا۔ ہاتھوں کے بجائے مکھلا کے پیروں نے قلم تھاما اور لکھ ڈالی ایسی عبارت ،جسے دیکھ کر ہر شخص فخر کرتاہے۔ مکھلا ابھی وویکا نند سینئر سیکنڈری آدرش ودیا مندرکی بارہویں جماعت کی طالبہ ہیں ۔ بڑی بات یہ نہیں ہے کہ وہ بارہویں کلاس میں زیرتعلیم ہیں بلکہ بڑی بات یہ ہے کہ مکھلا نے پڑھائی کے تئیں جذبے ،حوصلے، محنت اور لگن کے زور پر گیارہویں جماعت میں 80فیصد نشانات حاصل کرکے سب کو حیرت زدہ کردیا۔

مکھلا کے والد پھول چند سینی اپنے گاؤں میں پنکچر بنانے کا کام کرتے ہیں اور ان کی ماں گیتادیوی ہاؤس وائف ہیں ۔ اپنی بیٹی کو تعلیم کے اس مقام پر پہنچتے دیکھ کر انتہارئی مسرور والد پھول چند سینی کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں ۔ بیٹی کو یہاں تک پہنچانے میں پورےکنبے نے کافی جدوجہد کی ہے۔ نہ صرف معاشی بلکہ سماجی طور سے بھی۔ پھول چند نے یوراسٹوری کو بتایا:

’’جب مکھلا کا جنم ہواتو دائی نے گلا گھونٹ کر مارڈالنے کی صلاح دی تھی۔ لیکن میں نے اور میری پتنی نے سماج کے ہر چیلنج کا سامنا کرکے مکھلاکو پالا ۔ آج اسے اپنی پڑھائی مسلسل جاری رکھتے دیکھ کر فخر کا احساس ہوتاہے۔ مجھے امید ہے میری بیٹی ایک دن پڑھ لکھ کر کچھ اچھاکام کرے گی۔ ‘‘

وقت اور مکھلاکے حوصلے کے ساتھ لوگ بھی آنے لگے۔ انھوں نے مکھلاکی حوصلہ افزائی کی اور اس کی روز مرہ کی زندگی کے لئے تمام چیزیں بطور تحفہ دیں ۔ ظاہر ہے کہ اس سے مکھلاکو آگے بڑھنے کی طاقت ملتی ہے ۔ مکھلاسینی کہتی ہیں :

’’بچپن میں گھروالے کہتے تھے اس کا کیاہوگا،یہ تو پڑھ لکھ بھی نہیں سکتی ۔ اس کی شادی بھی کہیں نہیں کرسکتے۔ باقی لڑکیوں کو پڑھتے ہوئے دیکھتی تھی تومن کرتاتھاپڑھنے لکھنے کا۔ لیکن ہاتھ نہیں تھا۔ پھر پیروں سے لکھنے کی مشق شروع کی۔ شروع شروع میں بے حد مشکل تھا،لیکن دھیرے دھیرے مشق ہوتی چلی گئی اور اب تو ہم ہاتھ کا ساراکام پیر سے ہی کرلیتے ہیں ۔ اسکول میں آئی تو میرے ٹیچروں نے بھی حوصلہ بڑھایا۔ میری خواہش پڑھ لکھ کر ٹیچر بننے کی ہے۔ ‘‘

مکھلاکے ٹیچر رتن سینی کہتے ہیں :

’’مکھلا پڑھائی میں اتنی اچھی ہے کہ اسے ہر وقت پڑھانے کا من کرتاہے۔ باقی طلباء کے مقابلے پڑھنے کے تئیں سنجیدگی اس میں زیادہ ہے۔ اس کے من میں کبھی آتاہی نہیں کہ اس کے ہاتھ نہیں ہیں ۔ ہاتھ والے طلباء سے بھی اچھا اور تیز لکھتی ہے۔ بس اس بات کا ملال ہے کہ محکمہ تعلیم کو بار بار بتانے کے باوجود کسی بھی طرح کی سہولت مہیانہیں کرائی جارہی ہے۔ ‘‘

مکھلاسینی صرف ایک لڑکی نہیں بلکہ سرچشمہ ٔ ترغیب ہے ان تمام لوگوں کے لئے جو مشکل گھڑی میں سوچ میں پڑے رہتے ہیں ،اب کیا، کیسے کریں ؟ظاہر ہے کہ مکھلاکی کامیابی کے پیچھے اس کی سخت محنت ہے ۔ لیکن یہ طے ہے کہ سخت جاں فشانی ہی منزل تک لے جاتی ہے۔ یوراسٹوری کی طرف سے مکھلاسینی کے جذبے کو سلام!

قلمکار : روبی سنگھ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ruby Singh

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini