منچلوں کو سبق سکھانے کے لئے لڑکیوں کی ’مُکّا مار‘ مہم

0

'’مُکّا مار‘ کہنے کا مطلب لڑائی جھگڑے کے لئے کسی کو اُکسانا نہیں، بلکہ یہ ایک مہم کا نام ہے ۔ اور یہ مہم ہے لڑکیوں کو اُن منچلوں سے بچانے کے لئے جو سرِراه لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ لہٰذا کسی دن اگر آپ ممبئی کے’ ورسووا‘ علاقے میں ساحِلِ سمندر پرچہل قدمی کررہے ہوں اور ساحِل کی ریت پر آپ کو کچھ لڑکیاں’ کنگ فو ‘کی تربیت حاصل کرتی مل جائیں تو تعجب مت کیجئے گا ۔ سلم ایریامیں رہنے والی یہ لڑکیاں ’مُکّا مار‘ مہم کے تحت بالکل مُفت’ کنگ فو‘ کی تربیت لیتی ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ انوکھی مہم چلا رہی ہیں اشتہاری فلموں سے اپنا کیریئر شروع کرنے والی’اِشیتا شرما‘ اور کنگ فوسکھاتے ہیں’ الیگزینڈر فرنانڈیس‘۔

' ’مُکّا مار‘ مہم شروع کرنے سے پہلے’ 'دل ،دوستی ایکسٹرا‘ جیسی فلموں اور '’ڈانس انڈیا ڈانس‘ ٹی وی شو کی میزبانی کر چکی اِشیتا شرما نے پرفارمنگ آرٹس کو فروغ دینے کے لئے’ 'آمد‘ نام سے ایک انسٹی ٹيوٹ قائم کیا، جہاں ڈانس، مارشل آرٹ اور یوگا کی تربیت دی جاتی ہے ۔’ اشِیتا‘ نے ’یوراسٹوری‘ کو بتایا،

’’چند ماہ قبل میں نے ’نربھیا ‘پر ایک ڈاکیومنٹری دیکھی ۔ اُسے دیکھ کر گویا میری روح تک لرز گئی اور میَں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر میَں ایسا کیا کروں کہ جو ’نربھیا ‘کے ساتھ ہوا ،وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ نہ ہو۔‘‘

اُسی دوران انہیں اپنے ساتھ پیش آچکا ایک واقعہ اچانک یاد آیا۔’ اِشیتا کا کہنا ہے،

’’ایک دفعہ میَں اپنی کار سے کہیں جا رہی تھی ، تب 3 بائیکس پر سوار 6 لڑکے مجھ پر پھبتيا ں کس رہے تھے ۔ اِس سے پریشان ہوکر میں نے انہیں سختی سے ڈانٹ دیا تھا جس کے بعد وہ لڑکے بھاگ کھڑے ہوئے ۔‘‘

حالانکہ اُس واقعہ کو کافی وقت گزر چکا تھا اس لئے ’ اِشیتا‘ کو یاد نہیں تھا کہ انہوں نے اُن لڑکوں کو کس طرح ڈانٹا تھا ۔ مگر انہیں یہ ضرور یاد تھا کہ وہ مارشل آرٹ کی طالبہ تھیں اور ان کو ہر ’پنچ‘ کے ساتھ ایک مخصوص آواز نکالنی ہوتی تھی ۔ وہ تقریباً 8 ماہ سے اس کی ٹریننگ لے رہی تھیں۔ اس واقعہ کے بعد’ اِشیتا ‘نے فیصلہ کیا کہ وہ لڑکیوں کو مارشل آرٹ سكھائیں گی ۔’اِشیتا‘ کا خیال ہے کہ ریپ اور چھیڑخانی کے معاملات میں ایک بہت بڑی وجہ معاشرے میں جہالت اور لڑکیوں کےتعلق سے اُن کے والدین کا باخبر اور آگاہ نہ ہونا ہے ۔ تب انہوں نے ممبئی میں '’لائف انسٹی ٹیوٹ آف تائی چے، مارشل آرٹ اینڈ ہیلِنگ ریسرچ سینٹر‘ چلانے والے ’الیگزینڈر فرنانڈیس‘ کے سامنے اپنا آئیڈیا رکھا ۔ جسے انہوں نے کافی پسند کیا اور وہ ’اِشیتا‘ کی اس مہم میں ساتھ دینے کے لئے تیار ہو گئے ۔’ الیگزینڈر فرنانڈیس‘ کی صرف یہی ایک شناخت نہیں ہے بلکہ وہ متعدد مقابلوں میں ملک کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں ۔

'’مُکّا مار‘ مہم شروع کرنے والی’ اِشیتا‘ کیلئے یہ اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔ اس لئے انہوں نے سب سے پہلے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ ڈالی۔ جسے کافی لوگوں نے پسند تو کیا لیکن کوئی بھی آگے نہیں آیا ۔اس کے باوجود ’اِشیتا‘ ٹھان چکی تھیں کہ انہیں اپنی اِس مہم کو فیس بک سے باہر لا کر حقیقت میں بدلنا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے’ ورسووا ‘کے سلم ایریا میں جا کر لوگوں سے ملاقات کی اور انہیں سمجھایا کہ لڑکیوں کو اپنی سلامتی اور تحفظ کے لئے مارشل آرٹ سیکھنا کتنا ضروری ہے ۔ ’اِشیتا‘کی یہ بات سلم ایریا میں رہنے والے بیشتر لوگوں کو پسند نہیں آئی ۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی لڑکیوں کو گھر سے باہر نہیں بھیجنا چاہتے، کیونکہ سلم ایریا کا ماحول بہت ہی خراب ہے ۔

’اِشیتا‘کہتی ہیں کہ جھونپڑا بستی میں رہنے والے لوگ ایک کام تو اچھّاکر رہے تھے کہ وہ اپنے بچّوں کو اسکول بھیج رہے تھے ۔ لہٰذا ’اِشیتا‘ اُن اسکولوں میں گئیں جہاں پر جھونپڑا بستی میں رہنے والی یہ لڑکیاں پڑھتی تھیں ۔ ’اِشیتا‘نے وہاں پر ٹیچروں سے بات کرکے انہیں اعتماد میں لیا اور اُن سے کہا کہ وہ لڑکیوں کے والدین سے اس بارے میں بات کریں ۔’اِشیتا‘کی یہ ترکیب کام کر گئی اور کچھ لڑکیوں کے والدین اپنی لڑکیوں کو تربیت کے لئے بھیجنے کوتیار ہو گئے۔

اس طرح ’اِشیتا‘نے’ الیگزینڈر فرنانڈیس‘ کے ساتھ مل کر فروری سے ’مُکّا مار‘ مہم کی شروعات کی ۔ اِس کام کے لئے انہوں نے ورسووا ساحِل کے علاقے میں نانا نانی چوک کے قریب واقع سلم ایریا کو منتخب کیا ۔ یہاں پر لڑکیوں کو مارشل آرٹ كنگ فو کی مُفت ٹریننگ دی جاتی ہے۔’اِشیتا‘ یہ مہم اپنی تنظیم’ 'آمد‘ کے ذریعے چلاتی ہیں ۔ اس کے لئے انہوں نے’ الیگزینڈر فرنانڈیس‘ کے علاوہ اپنے ساتھ 4 انسٹرکٹر زکو رکھا ہوا ہے ۔’مُکّا مار‘کی یہ کلاس ہر ہفتہ اور اتوار کی شام 5:30 بجے سے 7 بجے تک چلتی ہے۔’اِشیتا‘ نے 10-15 لڑکیوں کے ساتھ اس مہم کا آغاز کیا اور کچھ عرصہ بعد ہی یہ تعداد بڑھ کر 50-60 ہو گئی ۔ اس وقت تقریباً 75 لڑکیاں اُن سے کنگ فو کی تربیت لے رہی ہیں ۔ ٹریننگ لینے والی ان لڑکیوں کی عمر 5 سے 15 سال کے درمیان ہے ۔ ان لڑکیوں کو 2 گروپ میں کنگ فو کی تربیت دی جاتی ہے ۔

’اِشیتا‘ بتاتی ہیں کہ انہوں اس کام کے لئے ورسووا کو اس لئے منتخب کیا کیونکہ یہ جگہ سلیم ایریا کے بالکل قریب ہے ۔ وہ چاہتی تھیں کہ یہاں تک پہنچنے میں کسی بھی لڑکی کو کوئی پیسہ خرچ نہ کرنا پڑے اور جب بھی کنگ فو کی کلاس شروع ہو تو وہ فوری طور پر موقع پر آ جائے ۔’اِشیتا‘کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں ان لڑکیوں کوسِکھانے میں انہیں کافی مشکلات آئیں کیونکہ یہ لڑکیاں مناسب طریقے سے ’پنچ‘ بھی نہیں مار پا رہی تھیں مگر کافی کوششوں کے بعد ان کی محنت رنگ لانے لگی ۔

اپنی مشکلات کے بارے میں ’اِشیتا‘کا کہنا ہے کہ وہ سلیم ایریا کی جن لڑکیوں کو کنگ فو سکھانے کا کام کرتی ہیں اُن کے والدین کو یہ سمجھانا کافی مشکل ہوتا ہے کہ سیلف ڈیفنس کی ٹریننگ لڑکیوں کے لئے کیوں ضروری ہے ۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں چھوٹی لڑکیاں بھی کھیلنے کے لئے باہر نہیں آتی ہیں، کیونکہ اُن کے ساتھ چھیڑخانی عام بات ہے ۔ اس کےباوجود لڑکیوں کے والدین کا کہنا ہے کہ کنگ فو کی جگہ وہ انہیں رقص یا گلوکاری جیسی چیزیں سكھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لڑکیاں 3-4 کلاس کے بعد ہی کنگ فو کی تربیت لینا بند کر دیتی ہیں ۔

مستقبل کے اپنے منصوبوں کے بارے میں ’اِشیتا‘کا کہنا ہے کہ اگر کہیں سے ان کو اقتصادی مدد مِل جائے تو وہ ممبئی کے دوسرے حصّوں میں بھی مارشل آرٹ کی تربیت دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ورسووا کے سینٹر کو چلانے کا خرچ ’اِشیتا‘اپنے ادارے’ 'آمد‘ کے ذریعے کرتی ہیں ۔ اب وہ چاہتی ہیں کہ ورسووا میں جن لڑكيوں کو وہ کنگ فو کی تربیت دے رہی ہیں وہ دوسری جگہوں پر جا کردیگر لڑکیوں کو ٹریننگ دینے کا کام کریں ۔

ویب سائٹ: www.aamad.co

قلمکار : گیتا بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Geeta Bisht

Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والی ایسی ہی حوصلہ مند خواتین کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

’راشی آنند ‘ کے ’لکشیم‘ کا مقصد تعلیم اور ترقیّ سے سماجی بُرائیوں کا خاتمہ

5 سال تک تعلیم سے محروم صفائی ملازم کی بیٹی نے... صرف 15 سال کی عمر میں لیا پی ایچ ڈی میں داخلہ...

جیل میں آئے ایک نیک خیال کی بدولت ... آج سندیپ کور ہیں 98 یتیم لڑکیوں کی ماں ...

Related Stories