2020 تک 4000 کروڑ کا ہوگا منظم چائے کاکاروبار

0

چائے ہندوستانیوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر شہر اور ہر گاؤں میں چائے مختلف طرح سے پیش کی جاتی ہے۔ اعلی طبقے میں جہاں انگریزی انداز میں بغیر دودھ کی چائے پی کر صحت بنانے کی سوچ ہے، تو غریب اور درمیانے طبقے کے لوگ دودھ کے ساتھ والی چائے کی چسكيو میں اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے اعتبار سے خوش ہوتے ہے۔

چھوٹی، بڑی غیر منظم ہوٹلوں اور چائےخانوں کو چھوڑ دیں، تو صرف منظم چائے اور کافی کا موجودہ کاروبار 2000 کروڑ روپے کا ہے جو 2020 تک بڑھ کر 4000 کروڑ تک پہنچ جائے گا۔ اس طرح کا اظہار خیال ٹی ٹریل کے بانی شریک اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سنجیو ایس پوٹی نے کیا۔

  یور اسٹوری سے بات چیت کے دوران سنجيو نے کہا کہ 2013 میں انہوں نے چائے کے کاروبار میں قدم رکھا تھا۔ اب تک 1 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اس میں کی گئی ہے۔ اب تک ان کا ٹی ٹریلس کیفے ممبئی تک محدود تھا۔ ممبئ میں اب تک 9 کیفے قائم کئے گئے ہیں، لیکن حیدرآباد میں نئی شاخ کے قیام کے ساتھ ہی بینگلور، دہلی، چنئی اور دیگر شہروں میں بھی توسیع کے ،منصوبے پر عمل ہو رہا ہے۔ آئندہ 5 سال میں کمپنی کی کیفے کی تعداد 500 تک پہنچائی جائے گی، جن کی ذاتی اورفرینچائسی دونوں قسم کے ماڈيول ہوں گے۔ ان میں سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں 45 کیفے کی تجویز ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سنجیو نے کہا کہ چائے کے کاروبار میں قدم رکھنے سے پہلے 1 سال سے زیادہ وقت تک 2000 طرح کی چائے کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا، جس میں سے 100 بہترین نمونوں کو مینو میں شامل کیا گیا ہے۔

ملک میں چائے کے کاروبار کے بارے میں سنجیو نے کہا کہ فی الحال منظم کیفے کی تعداد 3200 ہے، جو آئندہ پانچ سالوں میں 6000 تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں جہاں کافی کی طلب زیادہ ہے، وہاں بھی نئی نسل کے نوجوان چائے پینا پسند کرنے لگے ہیں۔ سینفرینسسكو جیسے چھوٹے شہر میں 30 چائے کیفے کھل گئے ہیں۔

سنجیو کے مطابق دنیا بھرمیں چائے کی الگ الگ قسمیں پائی جاتی ہیں، لیکن ہندوستان کی دارجلینگ کے باغات سے نکلی چائے کی خوشبو کافی مشہور ہے۔ اس کے علاوہ کانگڑا، کشمیری، نیلگیری اور آسام کی چائے بھی اپنا الگ برانڈ رکھتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ چین کے بعد ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا چائے کی پیداوار والا ملک ہے، جہاں چائَے کی کھپت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ جاپان، ارجینٹینا، ملیشیا میں بھی چائے کے اچھے باغات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سنجیو نے کہا کہ ہندوستان کی پیداوار میں 1.2 لاکھ روپئے کلا والی چائے بھی شامل ہے، لیکن اکسر اچھی خصوصیات والی چائے درامد کی جاتی ہے، اور چائے کے نام پر پاوڑر ہندوستانی بازار میں ملتا ہے، لیکن اب گرین ٹی اور دیگر مختلف اقصام کی چائَ بازار میں انے کے بعد لوگوں میں شعور بھی بڑھ رہا ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem