طلباء کے خوابوں کو نئی پرواز دے رہا ہے 'کیریئر پاور'

1

سال 2010 میں انیل نے نوکری چھوڑکر اپنے دوست سوربھ بنسل کے ساتھ 'کیریئر پاور' کی شروعات- ایک لاکھ روپے کی سرمایا کاری سے کی۔ کیریئر پاور کوچنگ اسٹيٹيوٹ کیریئر پاور طلباء کو داخلہ امتحانات کے لئے تیاری کرتا ہے۔ - کیریئر پاور کے ملک بھر میں 70 کوچنگ سینٹر ہیں ۔

کچھ لوگ اپنا مستقبل خود بنانے میں یقین کرتے ہیں۔ وہ منفی حالات میں بھی اپنا آپا نہیں کھوتے اور نہ ہی قسمت کا رونا روتے ہیں۔ ان کی توجہ صرف اپنے ہدف پر ہوتی ہے اور آخر میں وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی ایک کہانی اتر پردیش کے ایک گاؤں میں رہنے والے انل ناگرکی ہے۔ انل کی پیدائش ایک کسان خاندان میں ہوئی۔ بچپن سے ہی انہیں خود پر بہت بھروسہ تھا اور وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ ان کی قسمت کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ انہوں نے آئی آئی ٹی میں داخلے کی تیاری شروع کی۔ بہت سخت محنت کی اور 1998 میں آئی آئی ٹی، بی ایچ يو میں ان کا داخلہ ہو گیا۔ انجینئرنگ کے بعد انہوں نے کئی بڑی کمپنیوں جیسے جے پی، مائع، اے ٹي ایم یونیورسٹی اور كگنيجینٹ ٹیکنالوجی سليشن جیسی کمپنیوں میں کام کیا۔ 2010 میں انہوں نے اپنی نوکری چھوڑ دی اور اپنے دوست سوربھ بنسل کے ساتھ 'کیریئر پاور' نام سے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ متعارف کرایا۔ 

اس کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کا آغاز انہوں نے ایک لاکھ روپے لگا کر کیا۔ کیریئر پاور ایک ایسی تنظیم ہے جو طالب علموں کو سرکاری ملازمتوں اورداخلہ امتحانات کے لئے تربیت دیتی ہے۔ آج کمپنی کے ملک بھر میں 70 کوچنگ سینٹر ہیں۔ طالب علموں کی سہولت کے لئے انہوں نے آن لائن ٹیسٹ کی تیاری کی سہولت بھی شروع کی ہے۔ جہاں طالب علم امتحان کی آن لائن تیاری کر سکتے ہیں۔ یہ دو سائٹس ہیں sscadda.com ۔ اور Bankersadda.com انل بتاتے ہیں کہ Bankersadda.com میں روزانہ آنے والے طالب علموں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ وہیں ایس ایس سی اڈہ ڈاٹ کام پر گزشتہ سال دو ملین طلباء علموں نے وزٹ کیا۔

انیل نے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ گوا سے ایم بی اے بھی کیا ہے۔ وہیں سوربھ ایک فائنانس گریجویٹ ہیں۔ جنہوں نے کالج آف بزنس اسٹڈیز دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن اور دہلی یونیورسٹی سے ہی ماسٹرز ان فائنانس بھی کیا۔ سوربھ کو دس سال کا طویل تجربہ ہے۔ اس دوران انہوں نے كےائی پی سی او گروپ، ائی سی آر اے اورایس بینک جیسے اداروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ کیریئر پاور نے دہلی میں ایک کلاس روم سے اپنی شروعات کی۔ انل بتاتے ہیں کہ اس بیچ کے 32 میں سے 26 بچے مختلف مقابلہ کے امتحان میں کامیاب رہے۔ سوربھ بتاتے ہیں کہ ہماری طلباء کو پڑھانے کی اپروچ کافی اچھی ہے۔ ہم لوگ طلباء کو تفویض دیتے ہیں وقت وقت پر ٹیسٹ اور quizzes منعقد کراتے رہتے ہیں تاکہ طالب علم ہر وقت تیار رہیں۔

کیریئر پاور میں سات سو سے زائد ملازمین ہیں۔ جس میں تین سو سے زائد ٹیچر ہیں۔ کیریئر پاور دو اہم امتحانات کے لئے بچوں کو تیاری کرتا ہے۔ پہلا بینک امتحان اور دوسرا ایس ایس سی امتحان۔ آن لائن ٹیسٹ سریز کے ذریعے طلباء خود کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ انل بتاتے ہیں کہ ہمارا جو کنٹینٹ ہوتا ہے وہ ماہرین کی ٹیم تیار کرتی ہے اور اسے اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ مکمل نصاب طالب علموں کو تیار کرایا جا سکے۔

بینکاروں اڈہ ڈاٹ کام طلباء کی ريذنگ، ایپٹيٹيوٹ ٹیسٹ، انگریزی، کمپیوٹر، مارکیٹنگ، بینکنگ اور زہنی تیاری کراتا ہے۔ وہیں ایس ایس سی اڈہ ڈاٹ کوم انگریزی زبان، جنرل اسٹڈیز ، جنرل انٹیلی جنس اور ریلوے نوٹس فراہم کرتا ہے۔

جہاں باقی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کافی موٹی فیس لے کر طلباء کو امتحان کی تیاری کرا رہے ہیں وہیں کیریئر پاور دس ہزار روپے فی کورس کے حساب سے فیس لیتا ہے۔ آنے والے دو سے تین سالوں میں کیریئر پاور دوسرے امتحانات کے لئے بھی جیسے این ڈی اے، سی ڈیز، ریلوے، سی ٹی ای ٹی وغیرہ امتحانات کے لئے بھی طالب علموں کو تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انل بتاتے ہیں کہ کلاس روم کوچنگ سے ہمارا پروفٹ مارجن 25-26 فیصد ہوتا ہے۔ وہیں آن لائن ذریعے ہمارا پروفٹ 50 فیصد تک ہو جاتا ہے۔ 2015 کے مالی سال میں کیریئر پاور نے 28 ہزار طلباء کو کوچنگ دی۔ جہاں 16 ہزار طلباء کلاس روم کے ذریعے کیریئر پاور سے منسلک وہیں 12 ہزار طلباء نے کیریئر پاور کے آن لائن پروگرام کے ذریعے کوچنگ لی۔

کیریئر پاور کا ہدف 2016 میں ایک لاکھ طلباء کو کوچنگ دینا ہے۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہوئے امتحانات میں کیریئر پاور کے 12 سو طلباء کو مختلف امتحانات میں منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہیں ایک ہزار طلباء 2015 بی آئی پی او پری امتحان میں پاس ہوئے۔

کیریئر پاور کا ہدف 30 اور برانچ کھولنے کا ہے۔ تاکہ 60 ہزار طلباء کو کلاس روم میں پڑھایا جا سکے۔ دہلی، لکھنؤ، کانپور، پٹنہ، رانچی، کولکتہ، بھوپال، احمد آباد، حیدرآباد کے علاوہ کئی بڑے شہروں میں ان کی برانچ پھیلی ہوئی ہیں۔ سال 2014-15 میں کیریئر پاور کو 28 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ وہیں 2015-16 میں یہ بڑھ کر 30 کروڑ ہونے کی توقع ہے۔

تحریر- اپراجتا چودھری

ترجمہ - ایف ایم سلیم

Related Stories