شوق نے رسیپشنسٹ گیتا کو گلوکارہ بنایا

0

والدین کی ضد کے آگے کیا تھا اپنے شوق کو قربان

اب شوہر کر رہے ہیں حوصلہ افزائی

دو بچوں کی ماں گیتکا فلموں کے لئے گاکر کمانا چاہتی ہے نام

زندگی میں کئی بار حالات آپ کے خلاف ہوتے ہیں، لیکن ان حالات سے ہار نہ مان کر اپنے آپ کو ہدف کی جانب آگے لے جانا اور اپنے شوق کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ اسی راہ میں آگے منزلیں انتظار کرتی ہیں۔ زندگی میں انہیں لوگوں کو کامیابی ملتی ہے، جو مخالف ہواؤں کے باوجود چراغ کا جلائے رکھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ حیدرآباد کی گيتكا ڈاکے کی بھی کچھ یہی کہانی ہے۔ انہوں نے بھی شاید اسی بنیادی بات کو اپنی مٹھی میں باندھے رکھا ہے۔ ایک رسیپشنسٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے انہوں نے اپنے گائے ہوئے گیت کا البم بنایا ہے۔

گيتكا نے تیلگواپنا البم 'ایدھومونم' حال ہی میں لانچ کیاہے۔ ان کا حوصلہ بڑھانے کےلئے ان کے شوہر وجے بالاجی اور موسیقار سانكرتك بھی ان کے ساتھ ہیں۔

یور اسٹوری سے بات چیت کرتے ہوئے گيتكا نے نے بتایا کہ وہ بچپن سے گانے کا شوق رکھتی ہیں۔ اسکول میں کالج میں ہر جگہ ان کے گانے کی تعریف ہوئی، لیکن گائیکی کو پروفیشن بنانے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ حالانکہ اب تک کی زندگی میں کوئی بڑا پلیٹ فارم انہیں نہیں ملا ہے، لیکن انہیں امید ہے کہ کبھی نہ کبھی وہ بڑی آرٹسٹ بن جائیں گی اور لوگ ان کا گانا سن کر واہ واہ کر اٹھیں گے۔

گیتکا کی زندگی ایک ایسی مثال پیش کرتی ہے، جس میں شوق بھی ہے، جستجو بھی ہے، اپنوں کے لئے قربانیاں بھی ہیں اور پھر ہار نہ ماننے والی ضد بھی ہے۔ انہوں نے اپنے شوق کو کہیں دبا کر رکھا اور جب وقت آیا تو اس شوق کو پوری طاقت، محنت اور لگن کے ساتھ اجاگر کیا۔ وہ بتاتی ہیں، '' مجھے بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا۔ والدین سے میں نے اس کے لئے باضابطہ طور پر تعلیم حاصل کرنے کی گزارش کی لیکن، وہ مجھے کمپیوٹر گریجوٹ بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے میرے لئے سب کچھ کیا تھا، بھلا میں ان کی بات کیسے ٹالتی۔ حالانکہ میرا دل پڑھنے سے زیادہ گانے میں لگتا تھا، لیکن میں اس وقت ایسا نہیں کر پائی۔''

گیتیکا کے مطابق گریجویشن کے دوسرے سال ہی ان کی شادی ہو گئی۔ اب وہ دو بچوں کی ماں ہیں۔ بچوں کی زمہ داری بھی ان پرہے۔ وہ میکس میڈیا افس میں کام بھی کرتی ہیں۔ لیکن اپنا شوق بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ یہ بات جب ان کے شوہر کو پتہ چلی تو انہوں نے گیتکا کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کر دی۔ ان کے آفس میں بھی لوگوں نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ اور آخرکا انہوں نے اپنے پہلے گیت کا البم بنا ہی دیا۔ اب انہیں بڑی گلوکارہ بننے کا خواب پورا کرنا ہے۔

گيتكا کہتی ہیں، '' میں نے بڑی گلوکار بننے کے خواب کو اپنی آنكھوں میں سجا رکھا ہے اور کبھی نہ کبھی یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ایسا یقین مجھے اس لیے بھی ہے کہ میرے ساتھ میرے دفتر میں کام کرنے والے لوگ، میرے ساتھی اور میرے گھر میں سب کو میرا گانا پسند ہے۔ ''

گيتكا کے والد کبھی فلم ڈرسٹری بیوشن کا کام کرتے تھے لیکن اب گھر پر ہی رہتے ہیں۔ شوہر بھی فلمی موسقی سے جڑے ہیں۔ گیتکا نےاپنے شوہر اور قریبی لوگوں کی حوصلہ افزائی سے جو گیت گایا ہے اس کا ویڈیو بھی بنایا گیا ہے۔ گيتكا کو امید ہے کہ یہ ٹریک موسیقاروں کو دکھانے کے بعد انہیں فلموں میں گانے کا موقع مل سکتا ہے۔ بالخصوص ٹاليوڈ میں گیت گانے کی ان خواہش پوری ہو سکتی ہے۔

گيتكا کو اسکول اور کالج سطح پر گانے، نغمے کہ کافی ایوارڈ ملے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا اور انہوں نے اب اس کے لئے باضابطہ تعلیم حاصل کرنے اور ریاض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem