مصوری کی نئی تکنیک سےلڑکیوں کو خود مکتفی بنانے میں لگے حیدرآباد کےسید ناصر الدین وقار

0

اب وہ زمانہ نہیں رہا جب کہا جاتا تھا”کھیلیں گے کودیں گے تو بنے گے خراب“۔ آج کھیل کود کے ذریعے لوگ بہت ترقی کرتے ہیں۔ ترقی کرنا ہوتو راستے کی مشکلات دیکھا نہیں کرتے۔ اکثر ہم سنتے ہیں کہ فلاں اسکول اچھا نہیں ہے۔ اردو میڈیم مدارس میں پڑھنے والے بچے ترقی نہیں کرسکتے۔ ان ساری باتوں کو غلط ثابت کردکھایا ہے سید ناصر الدین وقار نے۔ انھوں نے اپنے فن اور قابلیت کا لوہا نہ صرف ہندوستان میں بلکہ اقوام متحدہ میں بھی منوایا۔ مختلف ممالک میں اپنی خدمات انجام دینے کے بعد اب وہ سماجی خدمت کے ساتھ ساتھ فن ِ مصوری کو نئے زاویوں سے روشناس کرارہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ان کی وجہ سے حیدرآباد میں کئی لڑکیوں نے اس فن کو سیکھ کر اپنی معاشی زندگی میں اصلاح کی ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

پرانا شہر حیدرآباد میں سید وقار نے نہ صرف مصوری کے فن کو نئی جہت دی بلکہ انہوں نے اس کو اسلا می آرٹ سے جوڑا تاکہ جب اسے لڑکیاں سیکھ لیں اور اس پر قرآن کی آیتیں نقش کریں تو یہ لوگوں میں مقبول ہوں۔

فن ِ مصوری میں داخلہ کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ ساری دنیا گھوم کر جب وطن لوٹے تو انھوں نے اپنا سارا وقت اس فن کو دے دیا۔ فن مصوری کا آغاز گلاس ورک کے ساتھ ہوا۔ اس واقعہ کے بارے میں انھوں نے بتایا،

” 2005ءمیں جب میں چھٹی پر گھرآیا تو گھر میں سجاوٹ کے لیے گلاس پر کچھ کام کروانے کا خیال آیا۔ بنجارہ ہلز میں ایک فن کار محترمہ آئیں۔ انھوں نے اس کام کے لیے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ میں نے پوچھا کیا آپ نے بی ایف اے کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ نہیں۔ میں ایم ٹیک ہوں۔ میری ڈگری کے مطابق مجھے 15 بیس ہزار روپے ملتے تھے۔ اب بڑے بڑے فلم اسٹاروں کے گھرکی سجاوٹ میں نے ہی کی ہے۔ لہٰذا میں نے اسے کام دے دیا۔ 6 مہینے بعد جب واپس آکر دیکھا تو مجھے کئی غلطیاں نظرآئیں۔جب میں نے غلطیوں کا تذکرہ اپنی اہلیہ سے کیا تو انھوں نے کہا آپ خود کیوں نہیں کرلیتے۔ تب میں نے 2006اس فن کا آغاز کیا“۔

سید ناصر الدین وقار کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں حاصل کی۔ ان کے والد گورنمنٹ اسکول کے ٹیچر تھے۔ اس کے باوجود ناصرالدین کو تعلیم سے زیادہ کھیل سے دلچسپی تھی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ ایک فٹ بال پلیئر بن گئے اور گریجویشن کے دوران عثمانیہ یونیورسٹی کے لیے کئی کھیلوں میں حصہ بھی لیا۔

ناصر الدین سے ان کے ابتدائی ایام کے بارے میں پوچھنے پر انھوں نے بتایا ”میں اردو میڈیم کا طالب علم تھا۔ میں نے تعلیم سے زیادہ کھیل پر توجہ دی۔ اس لیے جب میں نے دسویں جماعت کا امتحان کامیاب کیا تو اس وقت کے ہیڈماسٹر صاحب نے ہم سے کہا کہ تم لوگ کھیل میں دلچسپی رکھتے ہو اور آگے تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے اور کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کوئی نوکری کرلو۔ یہ سن کر میں اور میرے ہم جماعت ساتھیوں کے دل میں ضد پیدا ہوگئی کہ ہم کیوں پاس نہیں ہوسکتے اور ہم نے کھیل کے ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی۔انٹرمیڈیٹ بھی کامیاب ہوئے اور عثمانیہ یونیورسٹی میں گریجویشن میں داخلہ بھی لیا۔ فٹبال بھی کھیلتے تھے اور گریجویشن بھی مکمل کیا اور آگے چل کر ملک کا بھی نام روشن کیا۔ پرانے شہر کے ایزا اردو میڈیم اسکول سے میرے ساتھ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے میرے 25 سے 30 ساتھیوں سے روابط ہیں جو یوروپ ، امریکہ اور کینڈا وغیرہ میں اچھے عہدوں پر فائز ہے۔ اردو میڈیم سے انٹرمیڈیٹ کیا تھا۔“

اپنے ہیڈ ماسٹر کا چیلنج قبول کرنے والے ناصر حسین نے تمام مضامین میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ ہرشعبہ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاسکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں انھوںنے تعلیم کے سلسلہ کو آگے بھی جاری رکھا ایم اے بھی عثمانیہ یونیورسٹی سے کیا۔ اس کے بعد وہ عثمانیہ یونیورسٹی میں مزید تعلیم جاری رکھنے چاہتے تھے چنانچہ انھوں نے لائبریری سائنس میں داخلہ لے لیا۔

لائبریری سائنس میں داخلہ لینے کے بارے میں انھوں نے بتایا، ”گریجویشن کے تکمیل کے بعد ہمارے ایک رہنما نے بتایا کہ ہندوستان میں فٹبال کا بہتر مستقبل نہیں ہے۔ تم اپنی تعلیم جاری رکھو۔ اس کے بعد میں نے عثمانیہ یونیورسٹی میں لائبریری سائنس میں داخلہ لیا۔ 1973ءمیں نظام چیارٹیبل ٹرسٹ سے اسکالرشپ ملی۔ کینیڈا کی میک گل (McGill) یونیورسٹی میں داخلہ بھی ملا۔ میں اپنی 2 سال کی تعلیم مکمل کیا۔ وہاں پر لائبریری سائنس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد میراانتخاب یونائٹیڈ نیشن میں ہوا۔ اقوام متحدہ میں ڈاکومنتلسٹ (لائبریرین) 975سے1982تک خدمات انجام دیا۔ “

ناصر الدین نے قوام متحدہ میں ملازمت کے دوران بہت سارے ممالک میں قیام کیا۔ روم ، کینیا، عراق وغیرہ میں یواین میں خدمات انجام دیئے۔ اس کے بعد ریاض میں کنگ فیصل فاﺅنڈیشن میں بطور لائبریرین1982سے 2007(25سال) خدمات انجام دڈ ہوئے۔

اقوام متحدہ کی ملازمت کے دوران انھیں خدمت خلق کا جذبہ بھی پروان چڑھا چنانچہ انھوں نے بتایا”میری ذاتی رائے ہے کہ اقوام متحدہ میں غریب بچوں کو تعلیم کے ساتھ عیسائیت کی بھرپورتبلیغ کی جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ وہ لوگ اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے یہ کام کررہے ہیں تو ہم صرف خدمت خلق کے جذبہ کے تحت یہ کام کیوں نہیں کرسکتے ہیں ۔ میں نے بھی ایک اسکول کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا اور میرے والد نے یہاں پر اسکول قائم کیا۔ ”نیو ایرا مشن ہائی اسکول“ 1985میں قائم ہوا۔ ہمار نصب العین غریب بچوں کو مفت تعلیم دینا تھا۔ “

ناصرالدین نے فن سیکھنے کے بعد اسے روکے نہیں رکھا۔ اپنے فن کو بے لوث طریقے سے لڑکیوں کو سیکھاتے ہیں۔اب تک انھوںنے 200سے زائد لڑکیوں کو دستکاری اور مصوری سکھائے ہیں۔

کانچ پر ڈیزائن کے بعد لکڑی پر ڈیزائننگ کا خیال کس طرح آیا اس تعلق سے انھوں نے بتایا”ریما نامی لڑکی نے بڑی محنت سے گلاس پر آیت الکرسی لکھی۔انجانے میں کسی نے اس پر ہاتھ رکھ دیا۔ وزن سے یہ شاہکار تخلیق ٹوٹ گئی۔ اس کا مجھے اور اس لڑکی کو بہت افسوس ہوا۔ میں نے سوچا یہی کام لکٹری پر بھی کیاجاسکتاہے۔ میں مختلف لکڑی کا کام کرنے والے اداروں سے روابط کیا۔ اسے اپنے گھر پر سیکھا“۔

ان کے پاس سے کام سیکھنے والی زیادہ لڑکیوں نے شادی کے بعد اس کام کو چھوڑدیا۔ اس کے ذریعہ سے انھوں نے بہت سے لوگوں کے مشکلات کو آسان کیا ہے۔ ایک لڑکی کی ذہنی اصلاح کے بارے میں انھوں نے بتایا،

”شہناز نامی ایک لڑکی تقریباً نیم پاگل حالت میں تھی۔ا س وقت ماہر نفسیات ڈاکٹر مجید خان میرے کام سے واقف تھے انھوں نے اس لڑکی سے کہا وقار صاحب کے پاس جاکر لکڑی کا کام سیکھ کر آﺅ۔ وہ لڑکی جو شوہر اور بچوں کے بارے میں سوچ سوچ کر پاگل ہورہی تھی اب کہنے لگی ”سر! ہمیشہ شوہر اور بچے کے بارے میں سوچتتی تھی جب سے لکڑی کا کام سیکھ رہی ہوں دماغ میں صرف لکڑی کا خیال ہے۔ آج فلاح آیت لکھنی ہے، فلاں کٹنگ کرنا ہے وغیرہ اور اب میں بالکل ٹھیک ہوگئی ہوں اور مجھے ڈاکٹرمجید خان نے نہیں بلکہ آپ نے ٹھیک کیا ہے“۔

مصوری کے فن میں ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اسے ایک نئی اختراع کی ہے۔ لکڑی سے مصوری بغیر کسی کلر کے استعمال سے شاندار کارنامہ ہے۔ سیدناصرالدین کے اس کام کی ستائش سبھی کرتے ہیں۔ دہلی میں 2013ءمیں آرٹ گیلری میں ناصرالدین کی لکڑی کی پینٹنگ نے بہت اچھا مظاہرہ کیا اور شائقین کا دل جیتنے کے علاوہ بہت اچھا کاروبار بھی کیا۔ اسی سے متاثرہوکر ادارہ سیاست جو اس آرٹ گیلری کے منتظمین تھے نے توصیف نامہ بھی عطا کیا ۔ اس توصیف نامہ میں ناصرالدین کے فن کی اس طرح ستائش کی گئی۔

روزنامہ سیاست کے ایڈیٹرزاہد علی خان۔ ان کے بارے میں لکھتے ہیں، ”جناب سید ناصرالدین صاحب مصوری دراصل نظر کی عدالت اور رنگوں کی زبان سے مکمل واقفیت تصور کی جاتی ہے۔ آپ نے مصری کو نئے خد و خال کے ساتھ پیش کرنے کی جدت اور اختراع سے اس فن کو نئی جہات سے روشناس کروایا ہے۔ آپ کے فن پاروں کی قدر افزائی اور آپ کے فن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ادارہ سیاست آپ کی خدمت میں 2013ءکا صادقین ایوارڈ پیش کرنے میں مسرت محسوس کرتا ہے۔ ''

مصوری میں جدیدڈیزائننگ کو شامل کرتے ہوئے لکڑی سے مصوری کرنے والے فنکار ناصرالدین وقار نئے فنکاروں کے لیے ایک قابل ِ تقلید مثال ہیں۔

Related Stories