بیٹے کی موت کے بعد سڑک تحفظ مہم

0

سن 2010میں ایک سڑک حادثے میں ہوئی تھی شبھم کی موت...

والد آشوتوش سوتی نے رکھی شبھم سوتی فاؤنڈیشن کی بنیاد...

فاؤنڈیشن کا مقصد لوگوں کو روڈ سیفٹی کے بارے میں بیدارکرنا...

مختلف پروگراموں کے ذریعے بیدار کررہے ہیں عام لوگوں کو ...

ہر انسان کی زندگی میں اچھااور برادور آتاہے۔اچھاوقت ہماری اچھی کوششوں کا نتیجہ ہوتاہے ، جب کہ نامساعدحالات میں عموماً آدمی مضطرب و پریشان ہوجاتاہے اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتاہے۔لوگوں کو یہ سمجھناچاہئے کہ اگر برے دورمیں ہم صبر وتحمل سے کام لیں اور کرب کو پی کر آگے بڑھنے کی طاقت جمع کرلیں تو ہمارے کام لوگوں کے لئے باعث ِ ترغیب وتحریک بن سکتے ہیں۔اس لئے ہمیںہمیشہمثبت فکر کے ساتھ آگے بڑھتے رہناچاہئے۔

لکھنؤ کے باشندے آشوتوش سوتی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہے جو ہمیں تکلیفوں سے لڑنے کی ترغیب دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ کہ مخالف حالات میں بھی تعمیری فکرکے ساتھ آگے بڑھاجاسکتاہے ۔اس طرح ملک ومعاشرے کے لئے بہت کچھ کیاجاسکتاہے۔ آشوتوش لکھنؤ کے ایک اسپتال میں اعلیٰ منصب پر فائز ہیں ۔ جولائی 2010میں آشوتوش کے بیٹے شبھم سوتی کی ایک سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی۔وہ محض 15سال کے تھے اور 12 ویں جماعت میں پڑھتے تھے۔اس حادثے نے پورے کنبے کو بری طرح توڑدیا۔آشوتوش نے اس وقت عہد کیاکہ وہ اپنے بیٹے کے نام کو مٹنے نہیں دیں ، بلکہ اس کے نام سے سماج میں ایک مثبت پیغام دیں گے۔

شبھم کی موت کے کچھ ہی دنوں بعد آشوتوش نے شبھم سوتی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد تھا لوگوں کو روڈ سیفٹی کے بارے میں بیدارکرنا۔ آشوتوش بتاتے ہیں ، ’’ہندوستان میں ہر دن سڑک حادثات میں ہزاروں جانیں جاتی ہیں، جن میں سے زیادہ تر حادثات کی وجہ لاپروائی ہوتی ہے۔اگر لوگوں کے اندر بیداری آجائے تو ان میں سے کئی حادثات سے بآسانی بچاجاسکتاہے۔‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ غیرممالک مین لوگ روڈ سیفٹی کے تئیں کافی بیدارہیں۔ وہ پیچھے والی سیٹ پر بھی اگر بیٹھتے ہیں تو سیٹ بیلٹ ضرور لگاتے ہیں۔جب کہ ہندوستان میں لوگ یہ کام صرف چالان سے بچنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہی حال دوپہیہ والوں کا بھی ہے۔ وہ بھی صرف پولیس کے ڈر سے ہیلمٹ پہنتے ہیں۔اگر لوگوں کے اندر چالان کے ڈر سے زیادہ اپنی حفاظت کا جذبہپیداہوجائے تو سڑک حادثوں سے کافی حد تک بچاجاسکتاہے۔ آشوتوش کہتے ہیں ، ’’ڈر کسی مسئلے کا حل نہیں ، بلکہ بیداری ہی مسئلے کو ختم کرنے میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔اگر لوگ بیدارہوں گے تو اپنے بارے میں سوچیں گے ۔وہ کہیں بھی جائیں ہمیشہ ٹریفک کے ضوابط پر عمل کریں گے۔انھیں اس بات کا فرق نہیں پڑے گاکہ سامنے پولیس والے ہیں یانہیں۔‘‘

آشوتوش کہتے ہیں ، ’’روڈ سیفٹی کی تعلیم بچوں کو دیناسب سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر یہ ان چیزوں کو بچوں کو سمجھانے میں کامیاب ہوگئے تو آنے والی نسل سڑک حادثات کے تئیں زیادہ باشعورہوجائے گی۔‘‘

شبھم سوتی فاؤنڈیشن سال کے کچھ باقی ایام جیسے پانچ جنوری کو،شبھم کے یوم پیدائش والے دن ایک بڑاپروگرام منعقدکرتی ہے،جس میں اسکول کے بچوں کے لئے کوئز ہوتی ہے۔ لوگوں کو ہیلمٹ تحفے میں دیئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ 15جولائی کو شبھم کے یوم وفات کے موقع پر بھی متعدد روڈ سیفٹی پروگرام کا اہتماکیاجاتاہے۔ان دودنوں کے علاوہ بھی سال بھر حکومت اور مختلف تنظیموں کی مدد سے کئ روڈ سیفٹی پروگراموں کا انعقاد کیاجاتاہے۔ آشوتوش بتاتے ہیں کہ ان کاموں میں انھیں لوگوں ، مختلف تنظیموں اور حکومت کا پوراتعاون ملتاہے۔

شبھم سوتی فاؤنڈیشن سے تقریباً 35رضاکارمستقل طور سے وابستہ ہیں۔یہ لوگ وقتاً فوقتاً اسکولوں میں جاکر بچوں کو روڈ سیفٹی کے بارے میں بتاتے ہیں اور ان کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔انھیں سڑکوں پر چلنے اور گاڑی چلانے کے چھوٹے چھوٹے ضابطے جیسے گاڑی کی رفتارکتنی رکھی جائے،ریڈ لائٹ کیسے پارکی جائے وغیرہ کی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔

آشوتوش بتاتے ہیں کہ وہ کوشش کررہے ہیں کہ ریاستی حکومت سے مل کر تحفظ سڑک کو بچوں کےتعلیمی نصاب میں شامل کیاجائے۔کچھ دنوں قبل شبھم سوتی روڈ تہذیب کلب بھی بنایاگیاہے۔اس سے متعدد لوگ وابستہ ہیں۔اس کے ذریعے بھی لوگوں کو بیدارکیاجارہاہے۔

شبھم سوتی فاؤنڈیشن کے زیراہتما تحفظ سڑک کے علاوہ بھی متعدد پروگرام چلائے جاتے ہیں۔جیسے اسکول کے بچوں کو جوڑکر شجرکاری کرائی جاتی ہے۔بچوں کے لئے کوئز کرائی جاتی ہے۔آشوتوش کا خیال ہے کہ بچوں کی ہمہ جہت ترقی ضروری ہے۔وہ بچوں کے لئے کھیلوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں شبھم سوتی کرکٹ کلب کی بھی تاسیس کی گئی ہے۔یہ ٹیم مختلف ریاستوں میں ہونے والے کئی کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لے چکی ہے۔

آشوتوش بتاتے ہیں کہ آئندہ ہم لکھنؤ کے علاوہ ریاست اور ملک کے دیگر حصوں میں اپنے کام کی توسیع کرناچاہتے ہیں۔اس کے لئے وہ لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان کے فاؤنڈیشن سے وابستہ ہوں اور عوامی فلاح وبہبود کے کاموں میں آگے آئیں۔

اگر آپ بھی روڈ سیفٹی کی اس مہم سے جڑناچاہتے ہیں تو آپ بھی ا ن سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔

www.shubhamsoti.org/

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ashutosh Khantwal

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini