بلند عزائم‘ ٹھوس ارادوں کی ملکہ 'مورم بائی'

0


ہر خاتون کو خود کفیل بنانے میں سرگرم

صرف 10 ویں تک تعلیم یافتہ مورم بائی صدر پنچائت بن گئیں۔


وہ پڑھنا چاہتی تھیں، لیکن گھر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔ اس وقت مورم بائی تور نے ٹھان لیا تھا کہ وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گی ۔ آج مورم بائی تور راجستھان کے جھالاواڑ ضلع کے منوہرتھانا میں پنچایت کمیٹی کی صدر ہیں ۔ یہ ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج ان کی پنچایت کے تمام گاؤں میں حفظان صحت کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم اور انہیں خود کفیل بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔

مورم بائی 9 بھائی بہنوں میں سب سے بڑی ہیں اور ان کے والد کاشت کاری کا کام کرتے تھے ۔ بڑی مشکلوں سے ان کا گزر بسر ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2005 میں جب وہ 8 ویں جماعت میں تھیں تواچانک شادی کی وجہ سے درمیان میں ہی تعلیم ترک کرنی پڑی ۔ ارادوں کی پکی مورم بائی نے گھر میں خالی بیٹھنا سیکھا ہی نہیں تھا ۔ اس لئے وہ 'لٹریسی انڈیا' نام کے ایک فلاحی ادارے کے ساتھ جڑ گئیں اور یہاں رہ کر پہلے سلائی سیکھی اور اس کے بعد کمپوٹر کی تعلیم حاصل کی ۔ مورم بائی نے جو کچھ بھی کیا دل سے کیا، بڑی ذہانت اور اخلاص کے ساتھ کیا ۔ مورم بائی کی اسی لگن اور جستجو کو دیکھتے ہوئے 'لٹریسی انڈیا' نے انہیں دوسری خواتین کو سلائی سکھانے اور کمپوٹر کی تعلیم دینے کے لئے اپنے یہاں ملازمت دے دی ۔ اس طرح مورم بائی خواتین کوخود کفیل بنانے کے لئے کمپوٹر کی ٹرینگ دینی شروع کی ۔

مورم بائی کی زندگی یوں ہی گزر رہی تھیں لیکن وہ معاشرے کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں ۔ ایک دن مورم بائی کو پتہ چلا کہ پنچایت کمیٹی میں ڈیٹا آپریٹر کی ضرورت ہے اور اس کے لئے دسویں جماعت تک ہونا لازمی ہے ساتھ ہی کمپوٹر کا سارٹی فکیٹ کورس بھی ہونا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے اوپن اسکول سے دسویں کا امتحان دیا اور کامیاب ہونے کے بعد پنچایت کمیٹی میں ڈیٹا آپریٹر ملازمت کے لئے درخواست دے دی ۔ تقریباًسال بھر کام کرنے کے بعد ان کو اپنے گھریلو وجوہات سے ملازمت چھوڑ دینی پڑی ۔ پنچایت کمیٹی میں ملازمت کے دوران اور اس کے بعد انہوں نے خواتین کو سلائی اور کمپوٹر کی ٹرینگ دینے کا کام نہیں چھوڑا ۔ ان کا یہ کام پہلے کی طرح بدستور جاری رہا ۔

مورم بائی کو پابندی کے ساتھ اخبار پڑھنے کا بڑا شو ق تھا ۔ ایک دن انہوں نے یہ خبر پڑھی کہ ضلع میں پنچایت انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس کے لئے 10 ویں تک کامیاب امیدواروں کوہی حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی ۔ بس پھر کیا تھا مورم بائی کو تو ایسے ہی کسی موقع کی تلاش تھی تاکہ وہ سماج کی خدمت کے کام میں اور زیادہ لوگوں کے ساتھ شامل سکے ۔ مورم بائی کے مطابق انہوں نے منوہر تھانہ پنچایت کمیٹی کے لئے ضلع انتخابات کے لئے فارم بھرا اور اس سال جنوری میں ہوئے ان انتخابات میں 10 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے انہیں کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد فروری میں وزیر کمیٹی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے وہ پنچایت صدر منتخب ہوئیں ۔

مورم بائی کہتی ہیں کہ ان انتخابات میں کوئی عہدہ حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ سرکاری اسکیموں کی معلومات عام لوگوں تک پہنچانے اور ان کی ترقی کے لئے انہوں نے حصہ لیا تھا ۔ آج مورم بائی کی نگرانی میں صفائی مہم کے تحت بیت الخلاء تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے بہت کم عرصہ میں ان کی نگرانی میں 26 پنچایتوں کے منجملہ 2 پنچایتوں میں 100 فیصد بیت الخلاء تعمیر کئے جا چکے ہیں ۔ جبکہ دوسری پنچایتوں میں بھی کام تیزی سے چل رہا ہے ۔ وہ خواتین کو اس ضمن میں بیدار کرنے کا بھی کام کر رہی ہیں ۔ مورم بائی اسکول اور آنگن واڑی کے کام کاج پر بھی خاص توجہ دیتی ہیں ۔

مورم بائی کہتی ہیں کہ ان کی نظر اس بات پر رہتی ہے کہ ان کی پنچایت میں اسکول اور آنگن واڑی وقت پر کھلیں اور ٹھیک طرح سے کام کریں ۔ جن خواتین کے آدھار کارڈ نہیں بنے ہیں ان کی وہ مدد کرتی ہیں ۔ ساتھ ہی خواتین کو اس بات کی ترغیب دیتی ہیں کہ وہ وزیر اعظم سیکورٹی انشورنس اسکیم کا فائدہ اٹھائیں ۔ مورم بائی کا یہ عقیدہ ہے کہ خواتین کی ترقی سے ہی علاقے کی ترقی ممکن ہے ۔