وراٹ کی کپتانی میں اب تک کی بہترین ہندوستانی کرکٹ ٹیم

سابق صحافی / ایڈیٹر، کرکٹ پریمی / تجزیہ کار اور سیاستدان اشوتوش کا کہنا ہے کہ چاہے انہیں کوئی کچھ بھی کہے، وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہیں گے - وراٹ کی سینا گزشتہ ساری ٹیموں سے زیادہ اثر دار اور طاقتور ہے

0
صحافی اور عام آدمی پارٹی کے قائد آشوتوش کی قلم سے

حالیہ سيرز میں انگلینڈ پر ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی 4-0 سے فتح  کوآپ کیا کہیں گے؟ کیا وراٹ کوہلی کی یہ ٹیم ہندوستان کی اب تک کی بہترین کرکٹ ٹیم ہے؟ کیا وراٹ اب تک کے بہترین ہندوستانی کپتان ہیں؟ کیا یہ ہندوستانیکرکٹ کے سنہری دور کا آغاز ہے؟ کیا اب ہندوستانعالمی کرکٹ پر اسی طرح راج کرے گا جس طرح سے 70 اور 80 کی دہائی میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے کیا؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جو میں گزشتہ ایک ہفتے سے خود سے پوچھ رہا ہوں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ یہ ٹیم شاید اب تک کی بہترینہندوستانیکرکٹ ٹیم ہے۔ اس کپل دیو کی اس ٹیم سے بھی بہتر ہے جس نے 1983 میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ یہ مہندر سنگھ دھونی کی اس ٹیم سے بھی بہتر ہے جس نے 2 ورلڈ کپ جیتے ہیں۔ یہ ٹیم سورو گنگولی کی اس ٹیم سے بھی کہیں بہتر ہے جس  میں سچن، ڈراوڈ، سہواگ، لکشمن، کمبلے اور ہربھجن جیسے بڑے  کھلاڑی تھے۔

میں جانتا ہوں کہ نقاد میرے اس خیال سے متفق نہیں ہوں گے اور وہ یہ کہیں گے کہ میں پگلا گیا ہوں یا میں نے وراٹ کی ٹیم کی طاقت کو اصلیت سے کہیں زیادہ تصور کر لیا ہے۔ لیکن حقیقت تو کچھ اور ہی کہانی بتا رہی ہیں۔

میں اپنی بات پر اڑا ہوں، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ میں بچپن سے کرکٹ دیکھ رہا ہوں، میری دلچسپی کبھی کم نہیں ہوئی۔ ہمیشہ کرکٹ کو فالو کیا ہے۔ مجھے یاد ہے میرے بچپن کا وہ دور جب ہندوستانی ٹیم صرف شکست سے بچنے کے لئے کھیلتی تھی۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم بمشکل سے کوئی میچ جیتتی تھی۔ وہ حقیقی ٹیسٹ کرکٹ کا دور تھا۔ ایک روزہ کرکٹ کی ویسی چمک دھمک نہیں تھی جیسی اس رنگین لباس کے دور میں داخل ہونے کے بعد ملی۔ اس وقت ٹی -20 کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میدان میں اتنے چست کھلاڑی بھی نہیں تھے جتنے آج کے دور میں ہیں، لیکن ہاں کچھ کھلاڑی اپنی پھرتی سے سب کا دل ضرور جیت لیتے تھے۔ آج کی طرح ہیلمیٹ کا بھی فیشن اس دور میں نہیں تھا۔ 'راست نشریات بھی ہماری زندگی میں نہیں تھی۔ ریڈیو ہی ایک محض ایسا ذریعہ تھا جس سے کرکٹ کی معلومات ملتی تھی اور ہم سشیل دوشی اور نروتم پوری کی پیاری آواز سننے کو بے تاب رہتے تھے۔

70 کی دہائی میں ہندوستان اپنے اسپن گیند بازوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ چندر شیکھر، بیدی، پرسنا اور وینکٹ راگھون کی اسپن سے مخالف ٹیم کے بلے باز گھبراتے تھے، ہندوستانی پچوں پر تو دنیا کے بہترین بلے باز بھی ان کے آگے کانپتے تھے۔ ہندوستان کے پاس اس وقت دو عالمی بلے باز تھے - سنیل گواسکر اور گڈپا وشوناتھ۔ اسپن گیند بازوں کی چوکڑی اور دو بلے بازوں کی جوڑی کے باوجود ہندوستانی ٹیم سے مخالف ٹیموں کو زیادہ ڈر نہیں لگتا تھا۔ غیر ملکی دوروں پر ہار تقریبا طے مانی جاتی تھی اور ملکی میدانوں پر ہم میچ جیتنے کے لئے جدوجہد کرتے نظر آتے تھے۔ اس دور میں ہم جیت کے لئَ کبھی نہیں  کھیلے۔ ایک ٹیم کے طور پر ہندوستان کے صرف دو ہدف ہوتے تھے - شکست سے بچنا اور میچ ڈرا کروا لینا۔ میچ ڈرا ہو جائے تو ہندوستانیٹیم کو بڑی راحت ملتی تھی۔

کپل دیو کی آمد کے ساتھ اسپن گیند بازوں کے دور کا اختتام ہو گیا۔ ہر نوجوان کپل  کی طرح بننا چاہتا تھا۔ اسپن کا دم-خم بھی کم ہوتا گیا، لیکن ہمارے تیز بولر اتنے تیز بھی نہیں تھے جتنے کہ ویسٹ انڈیز کے بولر یا پھر آسٹریلیا کے للی اور تھومسن تھے۔ ہمارے فاسٹ بولر ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے تیز گیند بازوں کی طرح اثر دار نہیں تھے۔ محمد نثار کے پاس رفتار تھی، لیکن وہ آزادی کے پہلے کے دور کی کہانی کا حصہ تھے۔

گواسکر کے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد سچن کی آمد ہوِئی، لیکن سورو گنگولی نے صحیح معنوں میں ہندوستانی ٹیم کو مضبوطی دی اور مسابقتی بنایا۔ سورو  ایک بہترین کپتان بھی تھے۔ سورو جارحانہ بھی بہت تھے۔ گواسکر اور کپل دیو سے الٹ، سورو صرف جیتنے کے لئے کھیلتے تھے۔ وہ خوش قسمت تھے کہ ان کی کپتانی والی ٹیم میں اپنے دور کے بڑےبلے باز تھے۔ سورو کی فوج میں جہاں سہواگ جیسے جارحانہ اور تیز-ترار بلے باز تھے تو نمبر تین پر راہل دراوڑ جیسی مضبوط 'دیوار' تھی۔ سچن اور لکشمن جیسے عظیم کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کو غضب کی مضبوطی دیتی تھی۔ انیل کمبلے اور ہربھجن جیسے دو عالمی اسپن بولر بھی ٹیم میں تھے جو کسی بھی میچ کو کسی بھی دن جتا سکتے تھے۔ کمبلے اور ہربھجن کا ساتھ دینے کے لئے جواگل سری ناتھ اور ظہیر خان جیسے بااثر فاسٹ بولر بھی تھے۔ اس ٹیم کو ڈرانا انتہائی مشکل تھا۔ سورو کی سینا ریچی پونٹنگ اور سٹیو وا کی کپتانی والی سب سے بہترین ٹیم کی طاقت کو بھی چیلنج دے سکتی تھی۔ لیکن سورو کی ٹیم میں کوئی اچھا آل راؤنڈر نہیں تھا جو اس ٹیم کا توازن برقرار رکھتا۔

مہندر سنگھ دھونی ہندوستانیٹیم کو ایک نئی اونچائی پر لے گئے۔ اس وقت آسٹریلوی ٹیم کا زوال شروع ہو گیا تھا لیکن اس کو ہرانا آسان اس وقت بھی نہیں تھا۔ دھونی میں غضب کا خود اعتماد تھا، وہ سب سے زیادہ بہادر کپتان تھے اور صحیح معنوں میں ٹیم کی قیادت کرتے تھے۔ میدان میں پراعتماد اور پرسکون رہ کر اپنی خاص حکمت عملی کو انجام دینے کی خوبی کی وجہ سے دھونی 'کیپٹن کول' کے طور پر جانے جانے لگے۔ دھونی کے دور میں ہی ٹی -20 اور آئی پی ایل کا آغاز ہوا اور دھونی کی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم نے کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنا شروع کیا۔ دھونی نے پہلا ٹی -20 ورلڈ کپ جیتا اور اس کے بعد ون ڈے ورلڈ کپ بھی۔ لیکن دھونی کے دنادن کرکٹ والے دور میں بھی ہندوستانی ٹیم کی بولنگ عالمی نہیں تھی اور اس کی ٹیم میں ایک بھی اچھا آل راؤنڈر نہیں تھا۔بولنگ میں ٹیم کے پاس زیادہ اختیارات بھی نہیں تھے۔

دھونی کی ہی طرح، وراٹ میں بھی غضب کا اعتماد ہے اور وہ قیادت میں بھی موثر ہیں۔ وہ ہمیشہ چیلنجوں کا سامنا کرنے کے شوقین  نظر آتے ہیں۔ سورو گنگولی کی طرح ہی، وراٹ کا بھی رخ ہمیشہ جارحانہ رہا ہے اور میدان پر مخالفین کو رودنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ ان کی بلے بازی ان کی طاقت ہے۔ وہ سورو اور دھونی سے کہیں زیادہ بہترین بلے باز ہیں۔ میری رائے میں وراٹ سچن تندولکر اور سنیل گواسکر کے زمرے  کےبلے باز ہیں۔ وہ واحد ہندوستانیکپتان ہیں جنہوں نے ایک سال میں تین ڈبل سنچری بنائی ہیں۔ سچن سے مختلف ہیں، جیت کا پیچھا کرنے میں وہ غضب کا خود اعتماد رکھتے ہیں۔ مخالف حالات میں وہ سچن سے بہتر بلے باز ہیں۔ دباؤ میں بھی وہ سچن سے بہتر کھیلنے۔ وراٹ کو 'کپتانی'  راس آتی ہے اور وہ اس کا بھی خوب مزہ دیتے ہیں، جبکہ سچن کو 'کپتانی' راس نہیں آئی، الٹے ان کی کمزوری ثابت ہوئی۔

وراٹ کے پاس وہ ٹیم ہے جس میں سورو کی ٹیم کے ہر عظیم کھلاڑی کی جگہ لینے والے کھلاڑی ہیں۔ سچن کی جگہ وراٹ خود ہیں، پجارا اپنی رن بنانے کی بھوک اور قابلیت سے راہل دراوڑ کے برابر کھڑے ہوتے نظر آتے ہیں۔ رهانے نے لکشمن کی جگہ لے لی ہے۔ مرلی وجے، شیکھر دھون اور کے۔ ایل راہل سلامی بلے بازوں کے طور پر سہواگ اور گوتم گمبھیر کی جوڑی جیسا دم خم رکھتے ہیں۔ جہاں تک گیند بازی کی بات ہے، اشون اور جڈیجہ نے مل کر کمبلے اور ہربھجن سے زیادہ میچ جتائے ہیں۔ امیش یادو، سمیع، ایشانت شرما، بومراه، بھونیشور کمار نے رفتار کے معاملے میں  کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک 140 كلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینک کر مخالف بلے بازوں کو پریشانی میں ڈال رہا ہے۔

سورو اور دھونی کی ٹیموں سے وراٹ کی کپتانی والی ٹیم میں تین بڑی خوبيا ہیں اور یہی خوبيا اس ٹیم کو پرانی دونوں ٹیموں سے بہتر ثابت کرتی ہیں۔ ایک، وراٹ کی ٹیم ہندوستان کی اب تک کی سب سے فرتیلی اور اتھلیٹک ٹیم ہے۔ مجھے وراٹ کی ٹیم جیسی پھرتی کسی دوسری ٹیم میں نظر نہیں آئی۔ سورو اور دھونی کی ٹیموں میں کئی کھلاڑی فیلڈنگ کرتے وقت کمزور نظر آتے تھے۔ دو، اشون اور جڈیجہ جیسے دو عالمی الراڈرس وراٹ کی ٹیم کی طاقت کو بڑھا دیتے ہیں۔ دونوں عالمی بولر ہیں۔ جینت یادو جیسا نیا بولر بھی سنچری بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہی آل کھلاڑیوں کی وجہ سے بھارتی بیٹنگ کو استحکام اور گہرائی ملتی ہے۔ اب بھارت کے پاس 9 ایسے کھلاڑی ہیں جو سنچری بنانے کا مادہ ركھتے ہیں۔ اب تک کسی بھی ہندوستانی ٹیم میں اس گہرائی تک بیٹنگ کی قابلیت  نہیں رہی۔ حقیقت میں یہ صلاحیت عالمی کرکٹ میں بھی نایاب ہے۔  وراٹ کی ٹیم کی ایک اور بڑی خوبی ہے اس کی 'بنچ سٹرینتھ' یعنی ریزرو میں بھی بااثر اور اثر دار کھلاڑی ہیں۔ ہر پوزیشن کے لئے وراٹ کے پاس دو یا تین اختیارات دستیاب ہیں۔ اگر شکھر دھون زخمی ہو جاتے ہیں تو کے۔ ایل راہل اور پارتھیو پٹیل ہیں۔ اگر رهانے نہیں ہیں تو كر نائر کسی کو ان کی غیر موجودگی کا احساس ہونے نہیں دیتے، وہ انتہائی آسانی سے ٹرپل سنچری بنا لیتے ہیں۔ اگر ورددھمان ساہا فٹ نہیں ہیں تو پارتھیو پٹیل اپنے بلے اور دستانے کے ساتھ تیار ملتے ہیں۔ روہت شرما جیسے قابل بلے باز کو بھی اس ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کے لئے مشقت کرنی پڑتی ہے۔ تیز گیند بازی میں ہمارے پاس 5 بولر ہیں اور ان سب میں ایک جیسی رفتار، طاقت اور صلاحیت نظر آتی ہے۔ اشون اور جڈیجہ کے ساتھ ساتھ جینت یادو اور امت مشرا جیسے ہنر مند اسپن بولر بھی ہیں۔ موجودہ وقت میں اشون دنیا میں نمبر ایک بولر اور جڈیجہ نبر دو یعنی دنیا کے دو سب سے عمدہ بولر وراٹ کی ٹیم میں ہی ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ میں نے دکھتی رگ چھیڑ دی ہے، ناقدین اس بات پر مجھے چھیل دیں گے۔ لیکن کوئی مجھے یہ بتائے کہ اب تک کون سی ہندوستانی ٹیم نے انگلینڈ کو 4-0 سے شکست دیدی ہے۔ ہر میچ ہندوستان نے بھاری فرق سے جیت لیا ہے۔ کک کی کپتانی والی انگلینڈ کی یہ ٹیم کو کمزور نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس ٹیم میں بہت شاندار کھلاڑی ہیں، پھر بھی وراٹ کی ٹیم نے انہیں سڑک پر لا کھڑا کر دیا۔ اور یہ مت بھولئے کہ وراٹ کی یہ ٹیم اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان پر نہیں اتری، بہت سے کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کی وجہ سے جانبازوں کو بینچ پر بیٹھنا پڑا۔ وراٹ کو نئے کھلاڑی کھلانے پڑے۔ اور ان تمام نوجوان اور نئے کھلاڑیوں نے خود کو اپنے سينيرس سے بہتر ثابت کیا۔ یہی اس ٹیم کی طاقت ہے اور ہمیں ان تمام کھلاڑیوں کو سلام کرنا چاہئے۔ 

آشوتوش
آشوتوش

امید ہے اور دعا بھی - یہ ٹیم ہمیشہ اسی طرح کامیاب ہوتی رہے۔