بچّوں کے رسالے ’ گُل بوٹے‘ اور اس کے مدیر فاروق سیّد کی کہانی

0


کبھی صرف 250 کاپیاں، آج25,000 ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا ہے!


ہزار برق گِرے، لاکھ آندھیاں آئیں۔

وہ پھُول کھِل کے رہیں گے، جو کھِلنے والے ہیں

لگن، محنت اور سراپا جدو جہد کا دوسرا نام ہے فاروق سیّد۔ بچّوں کے اُردو ماہنامہ ’گُل بُوٹے‘ کے ایڈیٹر، پرنٹر، پبلشر اور پروپرائٹر فاروق سیّد کو ’گُل بُوٹے‘ اور اِس میگزین کی بے مثال کامیابی پلیٹ میں سجی ہوئی وِراثت میں نہیں مِلی ہے۔ یہ کامیابی اُن کی دِن رات کی انتھک محنت اور کچھ کر دِکھانے کے جذبہ و جنون کی مرہون منّت ہے۔ چار رنگوں میں شائع ہونے والا مکمل رنگین ماہنامہ ’گُل بُوٹے‘ آج رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اِس کی طباعت کا معیار کسی بھی زاویے سے کسی ہندی یا انگریزی میگزین کے مقابلے میں کمتر نہیں ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ اُردو مخالف اِس دَور میں جبکہ کئی اہم اور نامور اِداروں سے شائع ہونے والے بچّوں کے اُردو میگزین کسی نہ کسی سبب سے بند کر دئیے گئے ہیں، فاروق سیّد کی کوششوں سے ’گُل بُوٹے‘ مسلسل ترقّی کی راہ پر گامزن ہے۔ آج سے 21 سال پہلے محض250 کی تعداد میں شائع ہونے و الے ’گُل بُوٹے‘کی موجودہ تعدادِ اشاعت25ہزار ہے جو ہر اعتبار سے کسی اُردو میگزین کیلئے ایک کارنامے سے کم نہیں ہے۔ اور25ہزار کی یہ تعدادِ اشاعت محض دِکھاوے کے لئے، دوست احباب کو مُفت میں بانٹنے کے لئے یا میگزین شائع کرکے، بنڈل باندھ کر گھر یا آفس میں رکھنے کے لئے نہیں ہے۔ ’گُل بُوٹے‘ کے طئے شُدہ ماہانہ اورسالانہ خریدار ہیں اور پورے مہاراشٹر میں بُک اسٹالز کے علاوہ بہت سے اُردو اسکول ہیں جہاں طلبہ کے لئے یہ میگزین ہر ماہ پابندی سے جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ ’گُل بُوٹے‘کامیابی کی منزلیں طئے کرتے ہوئے اب دُبئی، شارجہ ، سعودی عربیہ،دوحہ، قطر، بحرین، ایران اور دیگر بیرونی ممالک تک پہنچ گیا ہے۔ تو آخر ’گُل بُوٹے‘ کی کامیابی کا رازکیا ہے؟

کامیابی کی کُنجی

راز یہ ہے کہ فاروق سیّد نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ لگن، محنت اور مسلسل جد وجہد کی بدولت کامیابی محض کتابی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہی کامیابی کی کنجی ہے اور اِس کی زندہ مثال ہیں وہ خود اور اُن کا رِسالہ ’گُل بُوٹے‘۔ مہاراشٹر کے سولا پور میں جنم لینے والے فاروق سیّد کو اپنی ذمّہ داریوں کا احساس بچپن سے ہی تھا، اسی لئے وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ چوتھی جماعت سے ہی والدین کا ہاتھ بٹانے کے لئے چھوٹے موٹے کام کرتے رہے۔ کبھی سوڈا فیکٹری میں، کبھی وڈا پاؤ بیچ کر، کبھی پتنگ بنا کر، تو کبھی اگر بتیّاں بیچ کر۔ سولاپور جیسے شہر میں اُردو میڈیم سے تعلیم یافتہ نوجوان کیلئے نوکری ملنا کوئی آسان کام نہیں تھا اور فاروق قسمت کے بھروسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ انہیں ایک کام اور ذریعۂ معاش کی تلاش تھی۔ بہت جلد فاروق کو اندازہ ہوگیا کہ بہتر مستقبل کے لئے انہیں ہجرت کرنا پڑے گی۔ تب وہ سنہری خوابوں کا بستہ باندھ کر ممبئی آگئے۔

ممبئی میں دوست احباب اور رشتہ داروں ،بالخصوص اُن کی خالہ نے فاروق کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یہاں فاروق سیّد نے اپنی عملی زندگی کی جد و جہد کا آغاز ایک ایسے کام سے کیا جس پر آج کوئی تعلیم یافتہ نوجوان شاید یقین نہ کرے، یا پھر یہ کام کرنے میں شرم محسوس کرے۔ فاروق سیّد نے ممبئی کے گلی کوچوں میں ٹوٹے ہوئے انڈے بیچنا شروع کر دیا! انھوں نے خود بتایا کہ وہ ’’پھُوٹیلے انڈے لے لو!‘‘ کی صدا لگاتے ہوئے گلیوں گلیوں گھومتے تھے اور اپنے گھر میں کسی پر بوجھ بننے کے بجائے اخراجات کا بار ہلکا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ صبح 6؍ بجے سے 9؍ بجے تک انڈے بیچنے کے بعد وہ کالج جاتے۔

کچھ کر گزرنے کاجذبہ

کچھ کر گزرنے کے اُن کے جوش اور جذبہ سے متاثر ہوکر ممبئی میں سبھی نے اُن کی ہر ممکن مدد کی اورپروفیسر الیاس شوقی کے توسط سے فاروق سیّد کوممبئی کے مشہور اُردوکتاب گھر’مکتبہ جامعہ‘ میں عارضی نوکری مل گئی۔ مگر فاروق سیّد اِس عارضی کامیابی سے مطمئن ہوکر اپنے مستقبل سے غافل نہیں ہوئے۔ مکتبہ جامعہ میں ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا اور اپنی خوش اخلاقی کے سبب فاروق اِن سب کے درمیان رفتہ رفتہ مقبول ہونے لگے تھے۔

ایک دن اُن کی ملاقات معروف شاعرو صحافی انجم رومانی اور اُردو کے مشہور افسانہ نگار وصحافی ساجد رشید سے ہوئی۔ اُن دنوں یہ دونوں حضرات ممبئی کے مشہورروزنامہ ’اُردو ٹائمز‘ سے وابستہ تھے ۔ ساجد رشید نے فاروق کی صلاحیتوں کو پرکھنے میں دیر نہیں کی اور اس طرح فاروق اُردو ٹائمز‘ سے پروف ریڈرکے طور پر منسلک ہوگئے۔ بچّوں کے ادب میں اپنی ذاتی دلچسپی کے سبب بہت جلدانہیں اِس اخبار کے بچّوں کے صفحہ کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور فاروق سیّد ’گُل بُوٹے‘کے نام سے بچّوں کا صفحہ ترتیب دینے لگے۔ یہیں سے ’گُل بُوٹے‘ کا سفر شروع ہوا۔ کچھ ہی عرصہ بعد فاروق نے ذاتی طور پر ماہنا مہ ’گُل بُوٹے‘ کے نام سے بچّوں کے اُردو میگزین کی اشاعت شروع کر دی۔ یہ کام آسان نہیں تھا۔ اُس زمانے میں فاروق کی ماہانہ تنخواہ محض ڈیڑھ یا دو ہزار تھی، اور اسی معمولی تنخواہ میں بڑھ گئے تھے۔ میگزین کے اخراجات۔

فاروق کے شوق، جذبہ اور جنون کو دیکھتے ہوئے بچّوں کے اِس رِسالے کے سلسلے میں دوست احباب نے ہر ممکن اُن کا ساتھ دیا۔ کوئی ٹائٹل ڈیزائن کر دیتا تو کوئی کہانی یا مضمون لکھ دیتا یا کارٹون بنا دیتا۔ بعض لوگ محض صلاح مشورہ دیتے، مگر یہ کبھی نہیں پوچھتے کہ آخر اِس میگزین کی اشاعت کے اخراجات کیسے پورے کرتے ہو؟ لیکن فاروق اپنی دھُن میں مگن ،مسلسل ’گُل بُوٹے‘ کو سجانے، سنوارنے اور نکھارنے میں لگے رہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اپنے رِسالےکو بند ہونے سے بچانے کے لئے انھیں اخبار کی نوکری چھوڑنا پڑی کیونکہ تکنیکی طور پرکسی اخبار میں نوکری کرتے ہوئے آپ خود اپنا کوئی ذاتی میگزین یا اخبارشائع نہیں کر سکتے۔

محنت رنگ لائی

اخبار سے الگ ہونے کے بعد فاروق ایک طرح سے آزاد ہوگئے، اب وہ اپنے میگزین کوزیادہ سے زیادہ وقت دے سکتے تھے، حالانکہ ذریعۂ معاش کا مسئلہ ایک بار پھر سامنے آگیا تھا۔ لیکن انہوں نے ہمّت نہیں ہاری اور حقیقی معنوں میں’ تن ، من، دھن‘ سے ’گُل بُوٹے‘ کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں لگ گئے۔اِس سلسلے میں انھوں نے اُردو اسکولوں سے رابطہ قائم کیا اور اُن کا میگزین باقاعدگی سے مہاراشٹر کے اسکولوں میں جانے لگا، اسکول کے بچّے سالانہ خریدار بننے لگے اور میگزین کی تعدادِ اشاعت رفتہ رفتہ بڑھنے لگی جو کہ خود فاروق کے بتائے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق آج 25,000ہزار ہے۔

اپنے میگزین کے سلسلے میں اُردو اسکولوں کے چکّرلگاتے لگاتے فاروق کو اسٹوڈنٹس اور ٹیچرز کوقریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور وہ تعلیمی سرگرمیوں میں بھی حصّہ لینے لگے۔ یہاں تک کہ انھوں نے چہارم سے دہم جماعت کے بچوں کو مقابلہ جاتی امتحانات کی مشق کے لئے ’گُل بُوٹے اسکالرشپ امتحان‘ شروع کیا جو اِس وقت پورے مہاراشٹر میں غیر سرکاری اداروں کی طرف سے لیا جانے والا سب سے بڑا امتحان ہے۔ گزشتہ گیارہ برسوں سے جاری نصاب پر مبنی اِس امتحان میں گزشتہ سال 35؍ ہزار بچوں نے شرکت کی۔ ششماہی اور سالانہ امتحانات میں سوالات کے پرچے بھی ادارہ ’گُل بُوٹے‘ ترتیب دیتا ہے اور سالانہ امتحان میں کسی اسٹوڈنٹس کا فیل یا پاس ہونا انہی سوالات کے جوابات پر منحصر ہوتا ہے۔ اِس وقت تقریباً100 اُردو؍ انگریزی میڈیم اسکولوں میں’گُل بُوٹے‘ سوالیہ پرچے استعمال ہوتے ہیں۔

’اُردو میلہ‘ کے بانی

’گُل بُوٹے‘، ’گُل بُوٹے اسکالر شپ امتحان‘ اور سوالات کے امتحانی پرچوں کے علاوہ فاروق مشہورِ زمانہ ’اُردو میلہ‘ کے بھی بانی ہیں ۔’اُردو میلہ‘ فاروق سیّد کی ہی ایجاد ہے۔ سب سے پہلا اُردو میلہ انہوں نے سولا پور میں منعقد کیا تھا جس کی صدارت علی سردار جعفری نے اور افتتاح کالی داس گپتا نے فرمایا تھا۔ اردو میلہ کی بے پناہ کامیابی کے بعد یہ اُردو میلہ ہر سال کسی نئے شہر یا علاقے میں منعقد کیا جاتا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں اسٹوڈنٹس، ٹیچرز ، شاعر، ادیب اور اُردو والے شریک ہوتے ہیں۔

فاروق سیّد کی مسلسل کامیابیوں کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی کسی کامیابی کے بعد مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جاتے، کہ چلو اپنا کام ہوگیا! مسلسل جد و جہد اُن کا مزاج بن گیا ہے اور اِس کا ثبوت ہے ’گُل بُوٹے‘کی کامیابی کے بعد ایک ہفت روزہ اُردو اخبار کی اشاعت کا فیصلہ، اوراُردو میلہ کی کامیابی کے بعد ’اُردو جلوس‘ کی شروعات۔’اُردو جلوس‘ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں اسکولوں کے طالب علم ، اساتذہ اور محبّانِ اُردو شرکت کرتے ہیں۔ اُن کا ہفت روزہ اُردو اخبار’اُردو میلہ‘بھی اپنی اشاعت کے 7 سال مکمل کر چکا ہے جبکہ ’گُل بُوٹے‘ اپنی مسلسل اشاعت کے21 ویں سال میں قدم رکھ چکا ہے۔ فاروق سیّد کی لگن، محنت اورمسلسل جد و جہد کو دیکھ کر کالی داس گپتا رضا نے کہا تھا ، ’’بابائے اردو تو سُنا تھا آج فرزندِاُردو میرے سامنے ہے۔ ‘‘

فاروق سیّد کہتے ہیں کہ ’’ کوئی زبان کسی انسان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ بلکہ زبان زینہ ہے کامیابی کی طرف بڑھنے کا۔‘‘ نئی نسل کو مشورہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’ تعلیم سے منہ نہ موڑو۔ کامیابی اور ترقّی کے لئے تعلیم اشد ضروری ہے۔ تعلیم کے بغیر ایک نوجوان میکینک تو بن سکتا ہے مگر انجینئر نہیں! ‘‘ فاروق سیّد کا کہنا ہے کہ ’’ ملک وقوم کے روشن مستقبل کے لئے ہمیں جڑوں میں کھاد ڈالنے کی ضرورت ہے جبکہ ہم پتّوں پر پانی چھڑک کر خوش ہورہے ہیں!‘‘

Related Stories