طالب علموں نے لیا ایک گاؤں کو گود، پاكٹ منی سے مہیا کرا رہے ہیں ضروری چیزیں

ہوپ ویلفیر ٹرسٹ قائم کیا.....وارناسی کے پاس کے گاؤں خوشياری کو لیا گود....آج 287 افراد ٹرسٹ سے جڑے ہوئے ہیں....چار دوستوں کی کوشش رنگ لائی

0

3 جنوری 2015 کو ایک دوست کی سالگرہ منانے کے بعد جب اسی گھاٹ سے چار دوست واپس آ رہے تھے، اسی وقت ان کی نظر سڑک کنارے كوڈے کے ڈھیر میں کھانا ڈھونڈتے کچھ بچوں اور خواتین پر پڑی، حالت یہ تھی ایک طرف کتے تھے دوسری طرف بچے اور خواتین۔ بچے اور خواتین کتوں کو مسلسل بھگانے کی کوشش کرتے رہے پر نہ تو کتے بھاگے نہ ہی یہ لوگ وہاں سے ہٹے۔ روٹی کے دو ٹکڑے کو لینے کی جدوجہد نے ان چاروں دوستوں کو دہلا دیا۔ ایک پل میں سالگرہ کی ساری خوشی جاتی رہی۔ اسی وقت ان چاروں نوجوانوں نے ٹھان لیا کہ معاشرے اور گاؤں کی تبدیلی میں اپنا تعاون دیں گے۔ یہ چار دوست تھے روی مشرا، دويانشو اپادھیائے، دھرمیندر سنگھ یادو اور وپل ترپاٹھی۔ایسا نہیں کہ یہ دوست کسی بڑی کمپنی میں کام کر رہے تھے، یہ وارانسی کے مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اب بھی زیر تعلیم ہے۔ لیکن کہتے ہیں جب سامنے ایک مقصد ہو تو پھر نہ تو عمر دیکھی جاتی ہے اور نہ ہی پیسے، بس جو سامنے ہوتا ہے وہ ہے جذبہ۔ کچھ کر گزرنے کا جوش اب نیا روپ لینے کی تیاری میں تھا۔

تنظیم

کہتے ہیں نوجوانوں کے کاندھوں پر ملک کی باگ ڈور ہے۔نوجوان ٹھاں لیں تو ملک کی حالت بدل سکتے ہے۔ایسا ہی کیا روی مشرا، دويانشواپادھیائے، دھرمیندر سنگھ یادو اور وپل ترپاٹھی نے،ان چاروں دوستوں نے سماج کی خدمت کے ساتھ ساتھ ایک ادارے کا قیام کیا اور نام رکھا ہوپ ویلفیر ٹرسٹ.

یہ ٹرسٹ پوری طریقے سے پاكٹ منی سے چلایا حاتا ہے۔ اور یہ کام کرتے ہیں بنارس ہندو یونیورسٹی اور مہاتما گاندھی کاشی ودیاپیٹھ کے نوجوان۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نوجوانوں کی تعداد بڑھتی گئی اور اس کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ اب اس سے نہ صرف وارناسی بلکہ دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالاء بھی شامل ہو چکے ہے۔ اس تنظیم سےاب تک 287 طالب علم جڑ چکے ہے۔


ہوپ ویلفیر کے ابتدائی کام

روی مشرا نے يوراسٹوري کو بتایا،

وارناسی کے درگاكڈ کی صفائی، معمریں آشرم کی طرح بہت سے کام اجام دینے کے بعد ہم نوجوانوں نے گاؤں میں کام کرنے کا فیصلہ کیا کیوںک آج بھی کئی ایسے گاؤں ہیں جن کوسرکاری اسکیم کا فائدہ، بجلی اور پانی جیسی چیزیں مہیا نہیں ہو پہنچتا ہے۔ وارناسی کے کئی گاؤں کا سروے کرنے کے بعد ہم نے 9 اگست 2015 کو خوشياري گاؤں کو گود لیا اور اس کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا عہد کیا۔ خوشياري گاؤں وارانسی سے 12 کلومیٹر دور ہے، جو کاشی ودیا پیٹھ بلاک میں آتا ہے۔

خوشياری گاؤں کو منتخب کرنے کے اہم وجہ

ہوپ ویلفیر کے بانیوں میں سے ایک د ويانشو اپادھیائے بتاتے ہیں کہ جب ہم لوگوں نے خوشياري گاؤں کا دورہ کیا تو گاؤں والوں کو دیکھ کر انہیں حیرانی ہوئی۔ حیرانی اس بات سے کہ ملک بھر کے دیہات میں ٹوائلٹ بنوانے کے لئے حکومت کی طرف سے مسلسل کوشش جاری ہے، لیکن اس گاؤں میں صرف دو ٹوائلٹ تھے وہ بھی ذاتی، ایسے میں ہوپ ویلفیر نے طے کیا کہ اس گاؤں میں کام کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو یہ دیکھ کر بھی ہیراني ہوئی کہ وارناسی سے محض 12 کلومیٹر دور اس گاؤں میں اب تک بجلی نہیں پہنچ پائی ہے۔ ٹوٹی سڑکیں اور پینے کا صاف پانی کی عدم سربراہی اپنی کہانی الگ سے سنا رہی تھی ۔ایسے میں تعلیم کو لے کر گاؤں والوںکیسچ ایک لگزری جیسی بات تھی۔ آج تک بھی خوشياري گاؤں میں نصف سے کم لوگ تعلیم سے جڑ پائے ہے ۔ ناخواندہ ہونے کے ساتھ ساتھ گاؤں والوں میں نشہ کی لت عام بات تھی۔ اور جب اتنے سارے مسائل ایک ساتھ ایک گاؤں میں پھیلے ہوں تو پھر بے روزگاری تو ہوگی ہی۔

گاؤں میں کئے گئے کام

نوجوانوں کو اب تک سمجھ میں آ گیا تھا کہ خوشياري گاؤں میں سنجیدہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں نے ہر اس کام کو انجام دینے کی کوشش کی جس کی سخت ضرورت گاؤں والوں کو تھی۔ گاؤں کے لئے 50 ٹائلٹ بنوانے کی منظوری ملی اور کام تیزی سے جاری ہے ۔ بجلی کی فراہمی کے لئے طلباء نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گاؤں میں الگے دو ماہ میں بجلی پہنچنے والی ہے۔ ہوپ ویلفیر کی طرف سے خوشياری گاؤں کو نشہ کی لت سے پاک کرنے کے لئے تمام کوششیں جاری ہے۔ کیمپ لگانے سے لے کر ڈرامہ کے ذریعہ لوگوں کو بیدار کرنے کی پہل کی جا رہی ہے۔لوگوں کو خود کفیل بنانے کے لئے انگھریلو صنعت سے جوڑا جا رہا ہے۔ خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی گاؤں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے ان کے والدین کی کونسلنگ کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لڑکیاں بھی اسکول جانے لگی ہے۔ کئی لڑکیوں کو سائیکل بھی دی گئی ہے۔ لڑکیوں کو لیپ ٹاپ کے ذریعہ ہفتے میں ایک دن کمپیوٹر کی معلومات دی جا رہی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گاؤں میں تعلیم بالغاں کا نظم کیا جا رہا ہے۔ انہیں سرکاری اسکیموں کی معلومات دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے حق کے لئے آگے آ سکیں۔

گاؤں کے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی بنائے جا رہے ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کھیتی سے ان کو الگ کیا جا رہا ہے،بلکہ کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی سے کاشت کے معلومات بھی فراہم کی جارہی ہے۔ ہوپ ویلفیر کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ یونین بینک کی مدد سے گاؤں میں 3 شمسی لائٹس لگوائی گئی ہے۔ ظاہر ہے ملک کی ترقی میں سب کی شرکت اہم ہے، ایسے میں ہوپ ویلفیر خوشياري گاؤں کے لئے نعمت ثابت ہو رہا ہے۔

ہوپ ویلفیر کی تمام کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ایک گاؤں نئے انداز میں سانس لے رہا ہے۔ گاؤں کے ہر شخص کو زندگی کا ایک مقصد مل گیا ہے۔ ہوپ ویلفیر کے نوجوانوں کے اس نیک کام کی گونج دور دور تک پھیلنے لگی ہے۔

دھرمیندر یادو اور وپل ترپاٹھی نے یور اسٹوری کو بتایا،

''ہمارے لئے سب سے بڑی بات یہ تھی کہ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے بی ایچ یو ویڈیو كانفرنسنگ میں خوشياری گاؤں کو گود لئے جانے کی تعریف کی اور کہا زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کی شرکت اس کام میں ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ ریاست کے گورنر رام نائیک نے ہمیں ملنے کے لئے بلایا ہے۔

اس ادارے کا سب سے بڑا اصول ہے کہ اسے سیاست سے بالکل دور رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی رکن کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستہ یا تشہیر کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو اس کی رکنیت چھین لی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے ممبران پارلیمنٹ کو ایک ایک گاؤں گود لینے کے لئے کہا تھا۔ ان طلباء نے بھی اپنی ذمہ داری سمجھی اور اپنے ملک کی ترقی میں ہات بٹانے میں لگ کیے۔ يوراسٹوري کو ان طالب علموں پر فخر ہے۔ طے ہے وزیر اعظم نریندر مودی بھی ان نوجوانوں پر فخر محسوس کریں گے۔

تحریر:نوین پانزے

ترجمہ:محمدعبدالرحمٰن خان