نیلوفر کیفے ... ویٹر سے مالک تک کامیاب سفر

0

دوستو! دنیا ایسے تاجروں سے بھری پڑی ہے جو تجارت کو صرف روپے کمانے کا زریہ سمجھتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے صحیح و غلت کی تمیز بھلا دیتے ہیں۔آج ہم ایک ایسے شخص سے ملاقات کریں گے جو ان اصولوں کے خلاف کام کرتے ہوئے بھی نہ صرف کامیابی حاصل کی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعل راہ بنا ہوا ہے۔

کہتے ہیں کہ ترقی اور دولت صرف قسمت سے حاصل ہوتی ہے مگر بابو راؤ نے اس کو غلط ثابت کر دیا اور بتا دیا کہ محنت اور ایمانداری کبھی رائگاں نہیں جاتی اور آج ان کا شمار شہر کے امراء اور کامیاب تاجروں میں ہوتا ہے۔

حیدرآباد شہر کے علاقہ ریڈ ہلس میں نیلوفر کیفے ہے جہاں ہر روز چائے پینے والوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اس جگہ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا چائے مفت بانٹی جا رہی ہو۔اس ہوٹل کی ایک منفرد داستان ہے، جو ایسے ہر شخص کے لیے تحریک کا باعس بن سکتی ہے، جو کچھ بننا چاہتا ہے۔اسی ہوٹل میں کبھی ویٹر کا کام کرنے والے بابو راؤ نے ترقی کی وہ منزلیں طے کی کہ زمانہ ششدر رہ گیا۔ آج بابو راؤ نیلوفر کیفے کے مالک ہیں اور اپنے جوان سال فرزند ششانت کے ساتھ اپنے کاروبار کو توسیع دینے میں مصروف ہیں۔ یور اسٹوری نے بابو راؤ سے ملاقات کی اور ترقی کا راز جاننے کی کوشش کی۔

بابو راؤ ریاست تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے چھوٹے سے موضع میں پیدا ہوے ۔ ایسے تیسے دسویں جماعت تک سلسلہ تعلیم مکمل کیا۔ جب دسویں جماعت کی فیس داخل کرنے کا وقت آیا تو بابو راؤ نے اپنے والد سے پیسے طلب کیے،غربت کا شکار اس خاندان کے پاس فیس داخل کرنے پیسے نہیں تھے مجبوراّ والد نے خاندان کی کفالت کا واحد زریہ دودھ دینے والی گائے کو فروخت کرتے ہوئے رقم حوالہ کی۔ جب اس حقیقت کا علم بابو راؤ کو ہوا تو وہ دنگ رہ گیے اور ان پر روپے کمانے کا جنون سوار ہو گیا۔اسی دھن ميں وہ کچھ کر دکھانے محض 22 برس کی عمر میں حیدرآباد آگئے۔ بابو راؤ بتاتے ہیں کہ جب وہ پہلی بار حیدرآباد آے اس وقت ان کا کل سرمایہ صرف ایک جوڈا کپڑے تھے۔انہیں چھٹی پر گیے ایک شخص کی جگہ کام ملا۔بابو راؤ کہتے ہیں کے پہلے دن انہں بطور اجرت پانچ روپے حاصل ہوئے، جس میں دو روپے کھانے پر ار باقی تین روپے ایک عدد پرانے جوڑے کی خریداری پر خرچ ہوئے۔ بابو راؤ بتاتے ہیں کہ چند دن کے بعد ایک اور آزمایش کا سامنا کرنا پڑا مالک دکان کو جب پتہ چلا کہ بابو راؤ کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور وہ ریلوے اسٹیشن پر سو کر رات گزارتے ہے تو انہیں نوکری سے نکال دیا گیا،دوسرے دن بابراؤ کام کے لیے دوبارہ دکان پہنچے تو دکان مالک نے انہں ایک ہوٹل میں یہ کہتے ہوئے کام پر لگا دیا کہ یہاں کام کے ساتھ رہنے کے لیے ٹھکانہ بھی مل جائگا۔

اپنی ترقی کے متعلق بابو راؤ کہتے ہیں،

''جب میں روکسی ہوٹل میں کام کرتا تھا، وہاں ایک نواب صاحب اکثر آیا کرتے تھے، جن سے میری روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دن نواب صاحب نے بتایا کہ وہ ایک ایرانی سے ہوٹل کرایہ پر لینے والے ہیں،اور مجھ سے کاونٹر سنبھالنے کی پیشکش کی، جس کو میں نے قبول کر لیا۔ یہ ہوٹل نیلوفر تھی۔''

وہ کہتے ہیں کہ ہوٹل نیلوفر میں کام کے زریعہ اگرچہ کے انہں کھانا مل رہا تھا مگر پیسے نہیں مل پا رہے تھے۔ کیونکہ ہوٹل نقصان میں چل رہی تھی۔ایسے حالات ميں ایک دن نواب صاحب نے مجھے پیشکش کی کہ میں خود ہوٹل چلالوں اور انہں یومیا 200 روپے نیز مالک جائداد کو یومیا35 روپے ادا کروں۔ بابو راؤ اس پیش کش پر راضی ہو گئے انہوں نے نے تن تنہاء کام شروع کیا وہ خود چائے بناتے صاف صفائی کرتے ویٹر کا کام بھی کرتے ان کی محنت رنگ لائی ہوٹل چل پڑی۔

''اس عرصہ میں نواب صاحب نے اس ہوٹل کو ایرانی مالک سے خرید لیا،وقت گزرتا گیا ہوٹل اچھا چل رہی تھی یومیا کرایہ بھی 200 سے بڑھ کر 1000 اور پھر 1200 ہو گیا۔ایک دن نواب صاحب نے ہوٹل فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا میں نے ان کے دوست کے توسط سے ہوٹل خرید لی اس طرح میں نوکر سے مالک بن گیا۔''

زندگی کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف بابو راؤ نے کامیابی کے ساتھ خدمت خلق کو اختیار کیا،اپنی ہوٹل کے بازو واقعہ ایم این جے کینسر ہاسپٹل میں ہفتہ میں دو دن مریضوں میں دودھ اور ان کی نگرانی کے لیے آئے افراد خاندان ميں کھانا تقسیم کرنا شروع کیا۔اپنی فلاحی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرتے ہوے بابو راؤ کہتے ہیں کے انہوں زندگی کی تلخیوں کو قریب سے دیکھا ہے اور ہر مجبور کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں ، بابو راؤ بتاتے ہیں کہ خدمت خلق کی توفیق حاصل ہونا اللہ کی جانب سے حاصل بہت بڑی نعمت ہے وہ کسی پر احسان نہیں کر رہے بلکہ اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ انہیں کچھ کرنے کا موقع دیا اور چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ کو ان کی اولاد بھی جاری رکھے۔

بابو راؤ نے اپنے بچوں کی تعلی پر بھی خصوصی توجہ دی۔ ان کی دونوں لڑکیاں ڈاکٹر ہیں۔ ایک لڑکا ایم بی اے کر چکا ہے جو موجودہ طور پر ان کے کروبار کی زمہ داری سمبھالے ہوئے ہے۔

حال ہی مہں بابو راؤ نے اپنے لڑکے کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک مکمل ایرکنڈیشنڈ ہوٹل نیلوفر کیفے ائنڈ بیکرس کے نام سے شروع کی۔ جس میں یشودھا چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر سایہ پرورش پائے یتیم و یثیر لڑکے اور لڈکیوں کو ملازم رکھا گیا۔اس مقصد کے پس پردہ راز کے متعلق ششانت کہتے ہیں کی ہمارا مقصد کاروبار کے زریعہ مال و دولت کار و بنگلہ حاصل کرنا نہیں ہے۔ ہمارے پاس تو اللہ کا دیا سب کچھ ہے ہم چاہتے ہیں کہ سماج کے ان افراد جو کچھ بننا چاہتے ہیں، کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے پلیٹ فارم تیار کیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ کاروبار سے ہم کو یقینی طور پر فائدہ ہوگا مگر ساتھ ہی چند افراد کی زندگیوں میں خوشحالی بھی آئےگی ۔ دوسرے طرف بابو راؤ نے ایک بہت بڑا فیصلہ لیا ہے وہ اپنے ان تمام ساتھیوں کے لیے جو گزشتہ 20 سال سے ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اپنے زاتی خرچ سے مکانات تعیر کروا کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں معامولی آمدنی ميں کسی بھی شخص کو کرایہ کے گھر میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا دیگر اخرجات کو پورا کرنا مشکل ہے۔ ایسے میں اگر ذاتی رہائش کا انتظام کر دیا جائے تو انہیں دیگر کاموں کی تکمیل میں اسانی ہوگی۔

ایک ایسے دور میں جب ہر کسی نے اپنے ماضی کو بھلا کر صرف نام و نمود اور دولت کمانے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا ہے، بابوراؤ ایک مشعل راہ ہیں، جو آج بھی اپنے تلخ ماضی کو یاد رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس سے تحریک حاصل کرتے ہوے دوسروں کی خدمت کو اپنے لیے اعزازسمجھے ہوئے ہیں ۔