حیدرآباد طاقتور اسٹارٹپ مرکز بننے کی طرف گامزن

1

بنگلورو بھلے ہی حالیہ برسوں میں اسٹارٹپ کی تشہیر کا مرکز بنا، لیکن حیدرآباد نے ہندوستان میں اسٹارٹپ کے طاقتور ماحولی نظام اور مرکز کے قیام کی خاطر ایک بہت مضبوط بنیاد رکھنے کی سمت پیش رفت کی ہے۔ درحقیقت ایسا مرحلہ بھی آیا جب یہ مان لیا گیا کہ بنگلورو کو حیدرآباد سے سخت مسابقت درپیش رہے گی۔

حیدرآباد اپنے آئی ٹی انقلاب کے عروج میں بہت بڑی کمپنیوں جیسے مائیکروسافٹ، فیس بک اور گوگل کا مسکن رہا۔ اُس وقت کا یہ ایک عام خیال ہے کہ تب کے چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کس طرح بل گیٹس کے ساتھ میٹنگ منعقد کرنے اور انھیں حیدرآباد میں مائیکروسافٹ کے ریسرچ سنٹر کے قیام کے لئے مطمئن کرنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم سیاسی مسائل جیسے تلنگانہ تحریک نے حیدرآباد کی غالب اسٹارٹپ مرکز بننے کی سمت پیش قدمی پر روک لگائی۔

اب حیدرآباد میں حکومتی عہدے داروں، سرمایہ کاروں، تجارتی گہواروں اور اسٹارٹپس کا گروپ اُس نقصان کی تلافی کے لئے کوشاں ہے۔ اس کے نتائج ظاہر ہونے لگے ہیں۔ گلوبل ای کامرس کی بڑی کمپنی Amazon نے اِس شہر کا انتخاب اپنا سب سے بڑا ویئرہاوس (مال گودام) قائم کرنے کے لئے کیا ہے، جو لگ بھگ دو ملین پراڈکٹس کا ذخیرہ رکھنے کے قابل ہے۔ Uber بھی حیدرآباد میں اپنا اعلیٰ ترین سنٹر قائم کررہی ہے جو آخرکار اس کا سب سے بڑا انٹرنیشنل آفس بن جائے گا۔

نوخیز اور اُبھرتے اسٹارٹپس بھی فروغ حاصل کررہے ہیں۔ موجودہ طور پر YourStory نے حیدرآباد میں 1,800 اسٹارٹپس پر نظر رکھی ہوئی ہے۔

وافر فنڈنگ

اس سے قبل کہ ہم مختلف اجزا کا جائزہ لیں جو واقعی طاقتور حیدرآبادی اسٹارٹپ بناتے ہیں، اِس شہر میں فنڈنگ کے تعلق سے ایک نظر ڈال لیتے ہیں:

حیدرآباد میں گزشتہ پانچ برسوں میں فنڈنگ کا رجحان :

حیدرآباد کے اسٹارٹپس

موبائل ایپ پر مرکوز اسٹارٹپس جیسے CanvasFlip، AppVirality اور Zify کے علاوہ صحت اور عافیت کا شعبہ فنڈنگ کے معاملے میں اس منظر پر غالب معلوم ہوتا ہے ، جیسا کہ ManageMySpa ، Zapluk، MapMyGenome، Truweight اور Healthians کو سرمایہ کاری حاصل ہورہی ہے۔ دیگر میں Pricejugaad اور MySmartPrice شامل ہیں۔

گزشتہ سال سپٹمبر میں NASSCOM کی ایک رپورٹ نے بتایا کہ ہندوستان میں لگ بھگ آٹھ فیصدی اسٹارٹپ سرگرمی حیدرآباد میں ہورہی ہے۔ سنجے انیشٹی (50K وینچرز) کا کہنا ہے کہ 2018ءتک ’حیدرآباد اسٹارٹپ ایکوسسٹم‘ ممکنہ طور پر ’بنگلورو اسٹارٹپ ایکوسسٹم‘ سے کہیں بڑا ہوجائے گا۔

اس شعبے سے وابستہ ستیش کا حیدرآباد میں دکھائی دینے والے اسٹارٹپس کے معیار اور اقسام کی بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سارے ہندوستان کے زیادہ تر اسٹارٹپس کی مانند حیدرآباد والے بھی ہائپر لوکل (نہایت مقامی نوعیت) اور ای کامرس کے دھارے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

تاہم گزشتہ چند برسوں میں جس قسم کے اسٹارٹپس حیدرآباد میں فروغ پائے، وہ انٹرپرائز سافٹ ویئر، کامرس اور ہیلت کیئر کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

انٹریپرینرز

کوئی تجارتی مہم شروع کرنے لوگوں اور انٹریپرینرز (مختارانِ کاروبار) کی بڑھتی تعداد کے ساتھ اسٹارٹپ کا معیار بھی بہتر ہورہا ہے۔ رمیش کا کہنا ہے کہ اِس شہر میں انٹریپرینرشپ گزشتہ سال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔

” حیدرآباد میں یہ رجحان چل پڑا ہے کہ کارپوریٹ کا ٹھوس تجربہ رکھنے والے لوگ اپنی نوکریاں چھوڑتے ہوئے اسٹارٹپ کا آغاز کررہے ہیں۔ یہ امر خود انٹریپرینرشپ کا معیار بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ انٹریپرینرز کو بزنس کے مختلف عناصر اور پہلووں کا فہم و اِدراک ہوتا ہے۔ وہ ضروری نہیں کہ ہر چیز کا علم رکھنے والے ہوں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ (بزنس کے) مختلف پہلو ہوتے ہیں،“ یہ تاثرات ٹام تھامس، سی او او، سی آئی ای حیدرآباد کے ہیں۔

تاہم جنھوں نے حیدرآباد کو ’اسٹارٹپ ہب‘ کے طور پر فروغ پاتے دیکھا ، وہ کہتے ہیں کہ انٹریپرینرز کا معیار ہمیشہ ہی اونچا رہا ہے۔ ستیش اَندرا، منیجنگ ڈائریکٹر، Endiya Partners کا کہنا ہے، ”آپ دنیائے ہیلت کیئر (نگہداشت ِ صحت) اور فارماسیوٹیکل (دواسازی سے متعلق) کے بڑے ناموں پر نظر ڈالیں۔ انٹریپرینرز کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ حیدرآباد کے لوگ انٹریپرینرشپ اور بزنس قائم کرنے میں ہمیشہ ہی زبردست رہے ہیں“۔

لہٰذا ایسے کیا کلیدی اجزا ہیں جو حیدرآباد کو زبردست ’اسٹارٹپ ایکوسسٹم‘ بناتے ہیں؟

I۔ انفراسٹرکچر

کوئی بھی اسٹارٹپ پھلنے پھولنے کے لئے متعلقہ پراڈکٹ کے علاوہ آپ کو درست ٹیم اور انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) کی دستیابی درکار ہوتے ہیں۔ اور حیدرآباد نے یقینی بنالیا ہے کہ اِس شہر میں مضبوط بنیادی ڈھانچہ قائم رہے۔ درحقیقت اِس شہر کے انفراسٹرکچر کی بنیاد اوائل رہا 2000ءمیں رکھی گئی تھی۔

” حیدرآباد کو آج اِس ملک کے سب سے سستے بڑے شہروں میں سے مانا جاسکتا ہے۔ مضبوط انفراسٹرکچر کی بنیاد کے بیج پہلے ہی رکھ دیئے گئے، اور اب ہم اس میں بس اضافہ کررہے ہیں،“ یہ الفاظ رمیش لوگناتھن (VP Products اور سنٹر ہیڈ، Progress Software) کے ہیں، جن کا شمار اِس شہر کے سب سے زیادہ پسندیدہ سرپرستوں اور مشیروں میں ہوتا ہے۔

1۔ اِنکیوبیشن ایکوسسٹم کی فروغ پذیری ۔ T-Hub

ہندوستان میں اسٹارٹپس کے لئے شاید اس سے بہتر وقت نہیں رہا ہے کیونکہ حال میں ’اسٹارٹپ انڈیا‘ مہم کو جہت ملی اور متعلقہ اعلان ہوا ہے۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ حیدرآباد کے معاملے میں حکومتی تائید و حمایت میں جوش و جذبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حال ہی میں اِس ملک کی سب سے نئی ریاست تلنگانہ شہ سرخیوں میں آئی کہ اس نے ہندوستان کے سب سے بڑے اِنکیوبیشن سنٹر T-Hub کا اعلان کیا۔

اسے سب سے طاقتور اور پُرجوش پراجکٹس میں سے مانا جارہا ہے جو ریاستی حکومت نے شروع کئے ہیں۔ کے ٹی راما را¶ جو چھ سال آئی ٹی پروفیشنل رہے اور اب تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی (انفارمیشن ٹکنالوجی) ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ T-Hub صرف تلنگانہ کے ٹکنالوجی پروفیشنلز کے لئے نہیں، بلکہ اس کا مقصد ملک بھر سے ٹیلنٹ کو راغب کرنا بھی ہے۔

حکومت تلنگانہ عنقریب مزید دو اِنکیوبیشن سنٹرز کا قیام گیمنگ اینڈ انیمیشن اور ایروسپیس کے شعبوں میں بھی روبہ عمل لانے میں مصروف ہے۔ آئی آئی آئی ٹی کیمپس میں قائم ’ٹی۔ہب‘ کو حیدرآباد میں معتبر صلاح کار اور اِنکیوبیٹر کے سربراہان ’the incubator of incubators‘ کہتے ہیں۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ٹی۔ہب کے اجیت راج کا کہنا ہے کہ یہ اِنکیوبیشن سنٹر کا مقصد اسٹارٹپس کے لئے مکمل ایکوسسٹم تشکیل دینا ہے۔ اجیت کا مزید کہنا ہے، ”یہاں اصل نظریہ ایسا امدادی نظام (support system) فروغ دینا ہے جو اتنا مضبوط ہو کہ اسٹارٹپس کو مشورہ، صلاح کاری، فنڈنگ اور انفراسٹرکچر کے حصول میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اس ضمن میں ہم نہ صرف ہمارا خود کا اِنکیوبیشن سنٹر رکھتے ہیں، بلکہ NASSCOM ، CIE اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کے حامل بھی ہیں تاکہ اُن کے اسٹارٹپس کو بھی پروان چڑھانے میں مدد دے سکیں“۔

رتن ٹاٹا نے جب اس T-Hub کا افتتاح کیا، تب کہا: ”ٹی۔ہب کی عمارت میں گھومتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ ہم ہندوستان میں انٹریپرینرشپ، اختراعیت اور انٹرپرائز کے نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ یہ مہم جوئی ہی ہے جو غیرروایتی اور ذہن کی اختراعیت پر مرکوز ہوتی ہے۔ یہی چیز ہے جس نے امریکہ کو 1980ءکے دہے میں نئی دنیائے تکنیک تک پہنچایا اور ہائی ٹیک بنایا۔ اس نے ہمارے طرز ِ زندگی کو بدلا ہے۔ ٹی ہب جیسا مقام آپ کو آنے والے کل کے نئے ہندوستان کی جھلک دکھلاتا ہے۔“

حیدرآباد میں قائم ٹیک اسٹارٹپ Zippr کے بانی ادتیہ ووچی کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں اسٹارٹپ کی شروعات کرنا کبھی آسان تر کام نہیں رہا۔ اُن کو مرکزی اور ریاستی محکمہ جات کے درمیان تعاون و اشتراک عمل کی امید ہے۔

ٹی۔ہب نے دوشنبہ کو اپنے اِنکیوبیشن پروگرام LAB/32 کا اعلان بھی کیا۔ اس پروگرام میں چند منتخب اسٹارٹپس کو نہ صرف یہ انڈسٹری کے سرکردہ اعلیٰ صلاح کاروں سے ربط قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ انھیں دنیا بھر کے وی سیز اور اینجل انوسٹرز تک رسائی کا موقع بھی دیا جائے گا۔ ایسے اعلیٰ صلاح کاروں میں Aarin Capital کے گوتم سیشادری اور Aruba Networks کی کیرتی ملکوٹے شامل ہیں۔

2۔ تعلیمی اِنکیوبیشن سنٹرز

” جب میں CIE میں برسرکار تھا تب اس سنٹر میں لگ بھگ 11 اسٹارٹپس تھے، اور تقریباً ایک سال بعد جب میں CIE سے رخصت ہورہا تھا تب وہاں اِنکیوبیشن سنٹر میں لگ بھگ 70 اسٹارٹپس ہوگئے،“ یہ الفاظ منوج سوریا، بانی Zenty کے ہیں۔ آئی آئی آئی ٹی میں سی آئی ای کے علاوہ دیگر انکیوبیشن سنٹرز آئی ایس بی اور بِٹس (BITS) پِلانی میں ہیں۔

پراوین ڈورنا، شریک بانی Startup Byte اور ہیڈ اِنکیوبیشن منیجر، سی آئی اے کا کہنا ہے کہ جس قسم کے انٹریپرینرز سی آئی اے سے وابستہ ہیں، وہ دیگر کہیں کے انٹریپرینرز سے بہت مختلف نہیں ہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ یہ اِنکیوبیشن سنٹر ایک ٹھوس بنیاد اُن بانیوں کے لئے فراہم کرتا ہے جو زبردست پراڈکٹس تیار کرنے کوشاں ہیں اور جنھیں انفراسٹرکچر، اعلیٰ صلاح کاروں اور مشیران کی تائید و حمایت درکار ہوتی ہے۔

3۔ مشترک کام والے مقامات

رگھویر کوورو، اسٹارٹپ کوچ اور کمیونٹی انیمیٹر، Co.Lab.Orate کا کہنا ہے کہ یوں تو حیدرآباد کی اسٹارٹپ سرگرمی کا بنگلورو سے تقابل نہیں کیا جاسکتا، لیکن پھر بھی یہ شہر مضبوط ’ecosystem base‘ بننے کی سمت دھیرے دھیرے اور بتدریج کام کررہا ہے۔

” مشترک کام کی جگہ کا آئیڈیا کمیونٹی کو فروغ دینا اور اسٹارٹپس کو دفتری مقامات پر کم خرچ کرنے میں مدد دینا ہے۔ وہ متعلقہ پراڈکٹ اور ٹیلنٹ کی بنیاد کو پروان چڑھانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں،“ یہ رگھویر کا تاثر ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ co-working space میں زیادہ اشتراک اور نٹ ورکنگ کی گنجائش ہوتی ہے۔

مشترک کام کاج کی زیادہ تر جگہوں پر فنڈنگ، شرح ترقی کے بارے میں ایونٹس اور مذاکرے ہوتے ہیں اور ایسا کلیدی مشورہ دیا جاتا ہے جو کسی بھی نوخیز انٹریپرینر کو مطلوب رہے گا۔

II۔ شخصیات

اسٹارٹپس اور اسٹارٹپ ایکو سسٹمز کی تشریح اُن لوگوں سے ہوتی ہے جو اسٹارٹپس یا ایکوسسٹم تشکیل دیتے ہیں۔ حیدرآباد میں حکومتی تائید حاصل ہوجانے اور بنیادی ڈھانچہ کے عناصر کی دستیابی کے بعد اب انٹریپرینرز پر منحصر ہے کہ اِس ایکوسسٹم کو تیار کریں اور فروغ دیں۔

1۔ ٹیلنٹ کی دستیابی

اِس شہر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بڑھتی تعداد نہ صرف زبردست اِنکیوبیشن سنٹرز کو یقینی بناتی ہے، بلکہ یہ بھی کہ اسٹارٹپس کو اشد ضروری ٹیک ٹیلنٹ اور متعلقہ افرادی قوت حاصل ہوجائے۔ رمیش کا کہنا ہے کہ بنگلورو کے بعد ممکنہ طور پر حیدرآباد مختلف شعبوں میں نہایت پھلتے پھولتے ٹیلنٹ پول کا حامل ہے۔ یہ شہر نے مختلف گوشوں میں فروغ اور ترقی دیکھی ہے، اور یقینی بنایا کہ اِس شہر میں ٹیلنٹ کا فروغ تیزتر سطح پر ہو۔

2۔ ایک بین مربوط نٹ ورک

حیدرآباد میں انٹریپرینرز اور اسٹارٹپس کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے کلیدی مشیروں، اعلیٰ صلاح کاروں، اِنکیوبیٹر سربراہان اور سرمایہ کاروں نے فیصلہ کیا کہ آپس میں مل بیٹھ کر اِس شہر میں انٹریپرینرز کی مدد کریں۔ آئیڈیا سادہ رہا: یہ نشست اسٹارٹپس کو اس معاملے میں مدد دینے پر مرکوز رہی کہ وہ اعلیٰ صلاح کاروں اور سرمایہ کاروں کے تجربے اور اِدراک کو استعمال کرنے کا طریقہ بہتر سے بہتر بنائیں۔

آج حیدرآباد ملک بھر کے نہایت قابل رسائی اور مربوط ایکوسسٹمز میں شامل ہے۔ ” ہر کوئی بات چیت کے لئے رضامند ہے اور کسی کو جس قسم کا مشورہ ملے وہ کافی کھلا اور تعمیری ہوتا ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ ہر کوئی ایکوسسٹم کی بڑھوتری اور کامیابی چاہتا ہے،“ یہ بھی منوج کے تاثرات ہیں۔

سنجے کا کہنا ہے کہ جب 50K Ventures پہلی مرتبہ 2007-08ءمیں شروع کیا گیا، تب کچھ زیادہ لوگ نہیں تھے جن سے صلاح و مشورہ طلب کیا جاسکے۔ لیکن آج ، اُن کا کہنا ہے کہ ایکوسسٹم ایک مضبوط یونٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے ہر کسی کی اُن کے اپنے انداز میں آگے بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں مدد کررہا ہے۔

نقائص دور کرنا

ویسے تو مختلف اجزا دستیاب ہوگئے ہیں، پھر بھی حیدرآباد اسٹارٹپ ایکوسسٹم کو ہنوز اُس نوعیت کی فنڈنگ دیکھنا ہے جس طرح بنگلورو میں دکھائی دیتی ہے۔ مختلف محکمہ جات میں بین ارتباط ہوجانے اور معقول انفراسٹرکچر کی دستیابی کے باوجود اِس شہر نے گزشتہ سال کا بیشتر حصہ سیاسی تنازعات کے سبب کھو دیا۔

اگرچہ حیدرآباد میں معقول تکنیکی ہنرمندی اور صلاحیت موجود ہے، لیکن اِس شہر کو بنگلورو میں قائم اسٹارٹپس کے ساتھ مسابقت کرنی ہوگی جو زیادہ گہرا مالیہ رکھتے ہیں۔ ٹام کا مزید کہنا ہے، ”ہمارے پاس مختلف اجزاءدستیاب ہوگئے ہیں، اب ہمیں مختلف شہروں سے لوگوں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے“۔

یوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کا ہر میٹرو اسٹارٹپ کا محور بننے کا مقصد رکھتا ہے، لیکن حیدرآباد اس قطعی مقصد کے حصول کے لئے واقعی مختلف پہلووں پر کام کررہا ہے۔ ” ہر کوئی انفراسٹرکچر، ٹیلنٹ اور ترقی کے موقع کے تعلق سے بات کرتا ہے، لیکن اصل معاملہ مختلف عناصر سے استفادہ اور فی الواقعی ایک طاقتور اسٹارٹپ ایکوسسٹم کو فروغ دینا ہے، اور حیدرآباد اس ضمن میں ایک یونٹ کے طور پر بے تکان کام کررہا ہے،“ یہ تاثر رمیش کا ہے۔


قلمکار : سندھو کیشپ

مترجم : عرفان جابری

خاکے : ادتیہ رناڈے

Writer : Sindhu Kashyap

Translator : Irfan Jabri

Images : Aditya Ranade