ملک کی مٹی نے سکھایا دیسی مشروبات کا فن

ملٹی نیشنل کمپنی کی ملازمت چھوڑ شروع کیا ذاتی کاروبار...نیرج ککڑ کی کہانی

0

یہ ضروری نہیں ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں رہ کر ہی کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اپنے ملک کی مٹی بھی بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔ مقامی مشروبات کے میدان میں تیزی سے ابھرتی ہندوستانی کمپنی پیپر بوٹ کو ملک کے 100 شہروں میں لے جانے میں کامیابی حاصل کرنے والے نیرج كکڑ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا وہ 9 سال تک کوکہ کولا میں ملازم کی پھر ملازمت چھوڑ 2 سال تک امریکہ میں بزنس کی اعلا تعلیم حاصل کی اور یہ سوچ کر ہندوستان آئے کے اپنے ملک میں مغربی ممالک کی طرح فنکشنل مشروبات کا کاروبار کریں۔ لیکن جب اپنے ملک کی روایتی مشروبات اتنا متاثر کیا کہ آم، زیرہ، جامن۔ املی جیسے پھلوں سے دیسی طریقے سے مشروبات بنانے میں مصروف ہیں۔

نیرج نے یور اسٹّری کو بتایا کہ انہوں نے اپنے چار ساتھیوں کےساتھ مل کر مشروبات بنانے کی کمپنی پانچ سال پہلے شروع کی تھی۔ آج اس کمپنی میں 1000 ملازمین ہیں۔
تصویر بشکریہ یو ٹیوب 
تصویر بشکریہ یو ٹیوب 

تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پانكم مشروبات پیش کرنے کے لئے حیدرآباد آئے نیرج ککڑ نے بتایا کہ تقریبا 8 سال تک کوک اور3 سال تک وپرو کمپنیوں میں کیا۔ بعد انہوں نے امریکہ میں بزنس کی تعلیم حاصل کی۔ امریکہ میں واٹن بزنس اسکول میں پڑھنے کے دوران انہوں نے دیکھا کہ مشروبات کے علاقے میں مغربی ممالک میں کافی مقبولیت ہے۔ ان کا خیال تھا کہ انہی مشروبات کو ہندوستان میں پیش کیا جائَے۔ ایسا انہوں نے کیا بھی ۔ وہ بتاتے ہیں۔

''ہندوستان میں مغربی طرز کے مشروبات کی پیداوار شروع کر دی، لیکن بہت جلد ہمیں احساس ہوا کہ ہندوستان میں مغربی ممالک کی کاپی کرنے کے بجائے ملک کی اپنی خصوصیات والے مشروبات سے صارفین کے درمیان نئی شناخت بنائی جا سکتی ہے. پھر کیا تھا آم پنا، کالا کھٹا، ستّو کانجی، جل جيرا جیسے مشروبات کی پیداوار سے خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ہندوستانی بازار میں مقامی مصنوعات کی شناخت بنانی شروع کر دی۔''

پیپر بوٹ برانڈ کا کے مصنوعات بنانے والی ہیکٹر بيوریجس پرائیویٹ لمیٹڈ کا دفتر ان دنوں بینگلور میں ہے۔ ان کی ایک فیکٹری میسور میں ہے۔

ککڑ بتاتے ہیں کہ آج ہندوستان میں مقامی مشروبات کے میدان میں کچھ کمپنیوں نے قدم رکھا ہے، لیکن جب انہوں نے اس میں قدم رکھا تھا تو حالت الگ تھے۔ روایتی طریقے سے بنائے جانے والے مشروبات کی طریقے لوگ بھولنے لگے تھے. پیاس بجھانے اور ذائقہ کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مشروبات تو بازار میں تھے، لیکن مقامی طریقوں سے بنائے جانے والے کھٹی میٹھی مشروبات کے ذریعے صنعت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے،یہ سوچ نہیں تھی۔

نیرج ككڑ نے بتایا،

'' کمپنی کو شروع میں تقسیم اور فراہمی کی مسائل بنے رہے، لیکن آہستہ آہستہ اس پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔ یہاں بڑی کمپنیاں تو اپنا سپلائی چین بنا لیتی ہیں، لیکن چھوٹی کمپنیوں کے لئے یہ راہ آسان نہیں ہے۔ پھلوں کی فراہمی آج بھی آسان نہیں ہے، لیکن کمپنی کے ساتھ 1000 ملازمین کی ٹیم جڑ گئی ہے اور یہ سفر جاری ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں نیرج ككڑ نے بتایا کہ حیدرآباد میں کاروبار کی توسیع کا امکان اس لئے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ یہ شہر کھانے کے شوقین لوگوں کے لئے خصوصیت رکھتا ہے، اس وجہ سے نئے مصنوعات کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ چلی گواوہ انہوں نے خصوصاً حیدرآبای پسند کو دھیان میں رکھ کر بنایا ہے۔

 انہوں نے بتایا ہندوستان میں تمام قسم کے مشروبات کا بازار تقریبا 30000 کروڑ روپے کا ہے، جس میں دیسی مشروبات کی حصہ داری صرف 1000 کروڑ روپے کی ہے، لیکن یہ آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔

نیرج اور انی کے ساتھیوں کے لئے یہ سفر آسان نہیں تھا، جب ملازم تھے تو چھٹیاں ملتی تھیں اور خوب مزے ہوتے تھَے،لیکن اب جب خود کی کمپنی شروع کی تو پھر ہر دن کام تھا۔ حالانکہ اس کام میں ذاتی کاروبار ہونے کی خوشی اور جزبہ موجود تھا، لیکن افراد خاندان کو وقت دے پانا مشکل ہوتا تھا۔ لیکن کامیابی کے لئے کچھ قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں خصوصاً وقت اور محنت کے ساتھ کبھی بھِ مفاہمت نہیں ہونی چاہئے۔

نیرج کے اس کامیابی کے سفر میں اردو زبان نے بھی اپنا اہم رول ادا کیا۔ نیرج بتاتے ہیں کہ ان کے اشتہار گلزار صاحب لکھتے ہیں اور وہ اردو میں لکھتے ہیں۔ دیسی مشروبات اور دیسی زبان میں گلزار صاحب کی آواز میں ان کے اشتہار لوگوں کو خوب پسند آتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔

انٹر نیٹ ٹی وی کی دنیا میں انقلاب لانے والے عالمی کاروباری اودئے ریڈی

بھوکے بے سہاراوں کا سہارا... اظہر مخصوصی


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories