نوجوانوں میں تبدیلی کی تحریک ... پرکھرکی کوشش

0

پرکھر بھارتیَ کے والدین اترپردیش کے کانپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس سال ان کی پیدائش ہوئی ان کے والدین نے انہیں شہر کے سب سے اچھے اسکولوں میں سے ایک میں داخلہ دلوانے کیلئے کانپور کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نئی جگہ پرکھر کے لئے بالکل نئی تھی، ورنہ وہ سلم بستی جہاں مشکل سے کسی بچے نے اسکول کا منہ دیکھا ہو اور یہ جہاں سب بچے اسکول جاتے ہیں۔ ہر سال موسم گرما کی چھٹیوں میں پرکھر کے والدین انہیں ایک بار واپس گاؤں ضرور لے کر جاتے، جہاں بجلی اور بنیادی حفظان صحت کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اور زمین آسمان کے اس فرق نے اس نوجوان کے دماغ کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔


اب پرکھر30 سال کے ہو چکے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ یہ عدم مساوات کے ساتھ ان کا پہلا واسطہ تھا اور خاص طور پر جب تعلیم کی بات ہو تو۔ ظاہر ہے، آج وہ جو بھی کر رہے ہیں اور ان کے غیر روایتی کیریئر کی بنیاد اسی وقت پڑ گئی تھی، جب وہ چھوٹے بچے تھے۔

آج کے دور میں جب ہم تیزی سے وائی فائی اور لائی فائی کی دنیا میں تیزی سے قدم بڑھاتے جا رہے ہیں پرکھرکے گاؤں میں آج بھی بجلی اور بنیادی حفظان صحت کا فقدان ہے۔ کتنی حیرت کی بات ہے ابھی بھی ہمارے ملک کے کچھ حصے اس طرح کے ماحول میں ہیں۔

کالج کے دنوں میں پرکھرنے نوجوان ہندوستانیوں کو شامل کرتے ہوئے اپنی سماجی زمہ داریوں کی تکمیل کے مقصد سے یوتھ الائنس نامی گروپ تیار کیا۔ سال 2009 میں پرکھرٹيچ فار انڈیا کے فیلو بننے میں کامیاب رہے۔ سال 2011 میں انہوں نے یوتھ الائنس میں نیاپن لایا۔ اور ہندوستان میں سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے نوجوانوں کو جمع کرنے کے مقصد سے رسمی طور پر اپنے ادارے کا رجسٹریشن کروایا۔


پرکھرکا سفر

پرکھرنے میکینکل انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے اتر پردیش کے غازی آباد کے ایک انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا۔

پرکھرکہتے ہیں،

'' میرے کالج میں 2500 سے بھی زیادہ طالب علم تھے اور ان میں سے مشکل سے 25 ایسے تھے جنہیں واقعی یہ پتہ تھا کہ وہ انجینئرنگ کیوں کر رہے ہیں۔ پہلے تو آپ چار سال تک الیکٹریکل انجینئرنگ پڑھتے ہیں اور پھر کوئی آئی ٹی کمپنی آپ کو جاوا کوڈنگ کرنے کے لئے ملازمت دیتی ہے! اس کے پیچھے کوئی دلیل ہے کیا؟ اس کے علاوہ دیہی اور شہری ہندوستان کے درمیان فرق ہمیشہ سے ہی مجھے فکرمند بناتا رہا ہے۔ مجھے ہمیشہ سے ہی یہ لگتا تھا کہ دیہی ہندوستان میں نوجوانوں کی ایک پوری فوج ہے، جس کے لئے کچھ بھی کرنا ناممکن نہیں ہے، لیکن پھر بھی وہ زمینی حقیقت سے کتنی دور ہے۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ اگر ایک بار وہ بیدار ہو جائیں تو وہ بھی اس سمت میں کچھ ضرور کرنا چاہیں گے۔ ''

تبدیلی لانے کی امید کے ساتھ پرکھرنے یوتھ الائنس UA کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے باغات کی صفائی مہم، پانی بچاؤ وغیرہ کاموں کے ذریعے ابتداء کی۔ سال 2009 میں اپنا دائرہ بڑھاتے ہوئے پرکھرنے ٹاٹا چائے عومی بیداری مہم کے ساتھا ہاتھ ملایا اور غازی آباد کے انچارج بن گئے۔ اس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کوآئندہ عام انتخابات سے پہلے ووٹر شناختی کارڈ بنوانے کیلئے بیدار کرنا تھا۔ ان کی یہ مہم کافی کامیاب ثابت ہوئی اور پرکھرکو تحریک ملی کہ نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑ کر دیہی اور شہری ہندوستان کے درمیان فرق کو پاٹا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد ٹیک فار انڈیا نے بالکل صحیح وقت پر ان کے سامنے دستک دی۔ اس کے ذریعے پرکھرکو محروم معاشرے کے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کے سامنے آنے والی پریشانیوں کو جاننے کا موقع ملا۔ وہ کہتے ہیں،

'' میں نے ٹی ایف آئی کا حصہ بننے کا فیصلہ صرف اس لئے کیا کیونکہ میں اصلی ہندوستان کی ضروریات کو سمجھنا چاہتا تھا۔ میں ان لوگوں کے ساتھ جڑ کر، ان کی زندگی کا ایک حصہ بن کر آخر کار نوجوانوں کو اس حقیقی ہندوستان سے جوڑکر چاہتا تھا تاکہ وہ مسئلہ کو حل کرنے میں میرا ہاتھ بٹا سکیں۔ '' ٹی ایف آئی میں ان کے ہم خیال ساتھی ان ہی کی طرح تبدیلی کو ہی اپنا کیریئر بنانا چاہتے تھے۔ نوجوانوں کی طاقت کو لے کر پرکھرکے اردے اور مضبوط ہوئے۔ کلاس روم اور سماج نے انہیں ان بنیادی مسائل کو اور قریبی سمجھنے کا موقع دیا جنہیں معاشرہ اور حکومت ہاشئے پر رکھتے آئےہیں۔

یوتھ الائنس میں انقلابی تبدیلی

دو برسوں تک ٹی ایف آئی کے ساتھ کام کرنے کے دوران پرکھرکو یوتھ الائنس کوبہتر طور پر چلانے کی تحریک ملی۔ ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور راستہ ان کے سامنے واضح تھا۔

یہ ادارہ دو پروگرام چلاتا ہے۔ سب سے پہلے ہے گرامیہ ویچارمنتھن، جو اپنے آپریشن کے پانچویں سال میں ہے یہ ایک نو روزہ رہائشی پروگرام ہے جس میں شہری نوجوانوں کو کانپور دیہات میں گراوو میں رہ کر حقیقی ہندوستان سے روبرو کروایا جاتا ہے اور ان کا دوسرا پروگرام اونس کہلاتا ہے۔ اس میں كالیج جانے والے طالب علموں کے لئے سال بھر چلنے والا ایک پروگرام ہے۔ انہیں ایک ریسرچ دورے پر نکل کر اپنی صنعتی مہارت اور قیادت کی خصوصیات کو بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ وائی اے مہارت، تعمیری مشقوں کے طور پر ڈیزائن، سوچ، وسائل جمع کرنے، مؤثر مواصلاتی تکنیک کی بنیاد پر مختلف ورکشاپس کا انعقاد بھی کرتا رہتا ہے۔

حوصلہ افزائی کرنے والی کہانیاں

اپنے رسمی قیام کے بعد سے وائی اے 350 سے بھی زیادہ لوگوں کے ساتھ براہ راست طور پر کام کر چکا ہے۔ ادارے میں کام کرکے تجربہ حاصل کرنے والے لوگ اب دوسرے اداروں کے ساتھ اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ ان میں سے 80 فی الحال سماجی ترقی کے میدان میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

پرکھران نوجوانوں کی کوششوں کی مثال دیتے ہیں جنہیں اپنی مرضی کا کام کرنے کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایک انتہائی امیر خاندان سے تعلق رکھنے والی پلوی كا ذکر کرتے ہیں، جسے سماجی میدان میں کام کرنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں اپنے خاندان کو منانے کے لئے زمین آسمان ایک کرنا پڑا تھا۔ ایسی ہی ایک اور لڑکی جو ان گرامیہ ویچارمنتھن پروگرام کا ایک حصہ تھی جو اب بہار میں تعلیم کے میدان میں سرگرم ہے۔

مشکل سفر

وائی اے کے سامنے ایک اہم چیلنج کے بارے میں پرکھر بتاتے ہیں،

'' ہمارا کام بنیادی طور ذہنیت کو تبدیل کرنے سے متعلق ہے جس میں کافی وقت لگتا ہے۔ ایسے میں اس کے اثرات کو جاننا کافی مشکل ہوتا ہے اسی لیے فنڈ حاصل کرنا اور بھی زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔ ''

اس کے علاوہ وائی اے کے بارے میں والدین کو سمجھانا ایک اور انتہائی مشکل چیلنج ہے کیونکہ اس پروگرام میں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ایک بالکل ہی مختلف راستے پر لے جانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جو کسی بھی والدین کے نقطہ نظر سے بالکل الگ ہے ۔ ابتدائی مراحل میں بالکل ایسا ہی ان کے اپنے خاندان کے ساتھ بھی ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان نے دیکھا کہ جو کام وہ کر رہے ہیں اس سے ان کو خوشی ملتی ہے اور اس کے بعد سے انہوں نے ان کی پورا حمایت کی۔

مستقبل کے منصوبے

پرکھرکا ارادہ آنے والے تین برسوں تک اس کام کو کل وقتی طور پر کرنے کے بعد اسے کسی دوسرے کو سونپنے کا ہے۔ وہ بتاتے ہیں،

'' اس تنظیم کو ایک ایسے نظریے کی طرح پھیلنا چاہیے جو نوجوانوں کے لئےرول ماڈل ہو اور سماجی جہدکاروں کو پھلنے پھولنے کے قابل بنا سکے۔ میں اس کے بعد بھی نوجوانوں کے ساتھ کام جاری رکھوں گا، لیکن ایک ایسی تنظیم کی تعمیر کے ذریعے سے جو 'ملک کی تعمیر' سے متعلق پروگرام چلایا کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ میں 'انڈین اسکول آف ڈیموکریسی' قائم کروں جو ان نوجوانوں کے لئے ایک کل وقتی رہائشی پروگرام ہو جو جمہوریت کے اہم ستون، عدلیہ، ایگزیکٹیو، مقننہ اور میڈیا کا حصہ بن کر ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کا ایک حصہ بننے کے بے چین ہوں۔ ''

ان کی زندگی کا اہم مقصد ایک انسانیت سے بھری قابل احترام دنیا کی تعمیر کے خواب کو پورا کرنا ہے۔ آخر میں پرکھرکہتے ہیں، '' یہ ایک مسلسل اور طویل عمل ہے جس میں کچھ صدیوں کا وقت بھی لگ سکتا ہے اور میں اس کام میں اپنا کردار ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتا ہوں جو صرف محبت، امید اور اعتماد کی بیج بو سکتا ہے۔

----

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

مہاتما گاندھی کی یادیں، باتیں اور.... پوتی سمترا گاندھی کلکرنی

---------------

قلمکار: سنگدھا شرما

مترجم: زلیخا نظیر