’سوشل اسٹارٹپ ‘ گاندھی جی کے اصولوں کے مطابق کام کریں : بِندیشورپاٹھک

0

عام ڈگر سے ہٹ کر چلنے والے اور بعد میں عوام کو اپنے پیچھے چلانے والے لوگ گنے چنے ہی ہیں ۔ ایسے لوگ جنہوں نے ایک سوچ اپنائی، اُسی دھُن میں غرق رہے اور تاعمر اُسی پر چل کر پوری دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائی ۔ صرف شناخت ہی نہیں بنائی بلکہ دوسروں کی شناخت، اُن کے کام کاج کے طریقے اور ان کی زندگی کونئی شکل دے کر سماجی انقلاب لائے۔ ایسے ہی ایک شخص کا نام ہے ’بِندیشور پاٹھک‘ ۔ وزیرِ اعظم نریندرمودی کی ’کلین انڈیا‘ تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے معروف سماجی کارکن اور ’سُلبھ انٹرنیشنل‘ کے بانی ’بِندیشور پاٹھک‘۔ کئی سماجی پہلوؤں،اسٹارٹپ انڈیا اور مستقبل کے منصوبوں پر’بِندیشور پاٹھک‘ سے ’ یوراسٹوری‘ نے بات کی ۔ یہاں پیش ہیں اسی گفتگو کے اہم اقتباسات۔

یوراسٹوری - ’سُلبھ انٹرنیشنل‘ کا آئيڈيا آپ کے ذہن میں کیسے آيا-؟

ڈاکٹربِندیشور پاٹھک- ’سُلبھ‘ کا آئيڈيا ذہن میں آنے سے قبل کئی ایسے حالات کا سامنا ہوا جو انتہائی پریشان کُن کہے جا سکتے ہیں۔ میَں 1968 میں گاندھی جی کےیومِ پیدائش کا صد سالہ جشن منانے کے لئے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی میں شامل ہوا۔ اِس سلسلے میں کئی مقامات پر جانے کا موقع ملا اور معاشرے میں پھیلی ذات پات کی تفریق کو بھی قریب سے دیکھا۔ اسی دوران بہار کے موتیہاری ضلع کی ایک اچھوت کالونی میں جانے کا موقع ملا۔ وہاں پیش آنے والے ایک واقعہ نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔ ایک نوجوان لڑکے کو ایک بیل نے مارکر بُری طرح زخمی کر دیا تھا، لیکن کسی نے بھی اُسے ہاتھ نہیں لگایا، کیونکہ وہ اچھوت تھا۔ مجھے بڑی تکلیف ہوئی ۔ میَں نے اُس لڑکے کو اٹھایا اور لاکر اسپتال میں داخل کروایا، لیکن وہ بچ نہیں سکا۔ اس کے بعد میَں نے گاندھی جی کا نام لے کر قسم کھائی کہ جب تک ’میلا ‘ڈھونے کی روایت کو ختم نہیں کروں گا، اورجب تک ان اچھوتوں کی فلاح نہیں ہوگی، اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ بس وہیں سے اس آئیڈیا کی شروعات ہوئی جو آگے چل کر ’سُلبھ انٹرنیشنل ‘نامی ادارے کی شکل میں سامنے آیا ۔

یوراسٹوری- میلا ڈھونے کی روایت کو ختم کرنے کے لئے ’سُلبھ‘ نے کس طرح کی منصوبہ بندی کی تھی ؟

ڈاکٹرپاٹھک- میَں نے’ ٹوپِٹ(Two pit)‘ اسکیم سے ٹائلیٹ بنانے کا سسٹم ڈیولپ کیا جو کہ دنیا کو ’ سُلبھ‘ کی دین ہے۔ مرکزی حکومت نے بھی ہماری اسکیم کو 2008 سے تسلیم کیا ہے جبکہ ریاستی حکومتوں نے تو پہلے سے ہی اس ٹیکنالوجی کو منظوری دے دی تھی ۔ اس سسٹم میں ہاتھ سے ’میلا ‘صاف کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اتنا ہی نہیں ’سُلبھ‘ نے آگے چل کر پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں بھی مقامی وسائل سے’ ٹو پِٹ‘ ٹائلیٹ بنانے کی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے۔

یوراسٹوری- بہار کے اشرافیہ برہمن خاندان سے آنا اور روایتی سماجی نظام کے درمیان آپ کے لئے ایسی شروعات کرنا کتنا مشکل تھا، جبکہ اُس وقت لوگ اِس تعلق سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے؟

ڈاکٹرپاٹھک- دیکھا جائے تویہ’فرہاد‘ کی طرح پہاڑ کاٹنے جیسا کام تھا ... یا پھرہمالیہ پر چڑھنے جیسا مشکل بھی کہہ سکتے ہیں، جس میں کئی لوگ کامیابی حاصل کرلیتے ہیں اور کچھ تھک ہار کر لوٹ جاتے ہیں ۔ میَں نے لوٹ جانے والے راستے کا انتخاب نہیں کیا۔

میَں جانتا تھا کہ اگر میَں یہ کام نہیں کروں گا تو خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ’’جب تک ہریجنوں کی فلاح نہیں ہوگی، سماجی ترقی ادھوری رہے گی۔‘‘ اور اُس دور میں اُن کی باتیں کرنے والے کم ہی لوگ تھے لیکن کچھ خاص نہیں ہو پا رہا تھا۔ یہاں تک کہ میری بیوی کے والد (سسُر) نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ نے میری بیٹی کی زندگی برباد کر دی۔ کیونکہ اُس علاقے میں اُن کی شہرت تھی اور لوگوں میں موضوع بحث یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب (ڈاکٹرپاٹھک کے سسُر’ ویشالی‘ ضلع میں ڈاکٹر تھے) کا داماد اچھوتوں کے ساتھ اٹھتابیٹھاہے۔ لیکن ان تمام مخالفتوں کے باوجود میں نے کبھی ہار نہیں مانی۔ بس ایک چیز جو ہمیشہ میرے ساتھ تھی، وہ تھی میری ہمّت، اور میَں نے ہمّت کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔

یوراسٹوری-آپ نے کافی پہلے، تقریباً 45 سال پہلے اپنے ادارے’سُلبھ انٹرنیشنل‘ کے ذریعے سوشل انٹرپرائز کرنا شروع کر دیا تھا جس کے ذریعے آج تقریباً 50 ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ آپ سوشل انٹرپرائز کرنے والے نوجوانوں کےآئیڈیل کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ... آج کے نوجوان جو کہ’ سوشل انٹرپرنر‘بننا چاہتے ہیں، انہیں کن کن باتوں کا دھیان رکھنا چاہئے؟

ڈاکٹرپاٹھک- دیکھئے، میں مہاتما گاندھی کے خیالات سے متاثر ہوں، خاص طور پر گاؤں اور ترقی سے متعلق جو خیالات گاندھی جی نے پیش کئے تھے وہ آج بھی اپنی جگہ درست ہیں۔

اسٹارٹپ شروع کرنے والے نوجوانوں یا سوشل اسٹارٹپ کا ارادہ رکھنے والے نوجوانوں سے میَں یہی کہنا چاہوں گا کہ وہ گاندھی جی کے اصولوں کے مطابق کام کریں۔ اپنے آئيڈيا اور اپنی سوچ سے پہلے آپ خود مطمئن ہوں توآپ کو کامیاب ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔اگر دیکھیں تو میرے لئے 1968 سے 1973 کاعرصہ سخت مشکلات کا دور تھا لیکن اس کے بعد مجھے ایک کے بعد ایک کامیابیاں ملیں۔

یوراسٹوری-ہمارے علم میں آیاہے کہ آپ گاندھی جی کے علاوہ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے خاصے متاثر ہیں؟

ڈاکٹرپاٹھک-جی ہاں، آپ نے صحیح کہا۔ یہ سچ ہے کہ مجھ پر گاندھی جی کے علاوہ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کا بھی اثر ہے۔ میَں اُن کے اِس بیان سے خاصہ متاثر ہوں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ  

’ یہ مت پوچھو کہ ملک نے تمہارے لئے کیا کیا ہے، بلکہ خود سے یہ پوچھو کہ تم نے اپنے ملک کے لئے کیا کیا؟‘

یوراسٹوری- مودی حکومت نے حفظان صحت سے متعلق صفائی مہم چھیڑی ہے، لیکن آپ کی تنظیم’سُلبھ انٹرنیشنل‘ تو یہ کام گزشتہ 45 سالوں سے بھی زیادہ وقت سے کر رہی ہے،حکومت کی مہم کے بعد کیا فرق آیا ہے؟

ڈاکٹرپاٹھک-فرق یہ آیا ہے کہ کئی بینک اور پرائیویٹ كمپنیوں نے’سُلبھ انٹرنیشنل‘ سے عوامی بیت الخلا بنانے کے لئے رابطہ کیا ہے۔ یہ سمجھ لیجئے کہ اگر ملک کی ٹاپ ليڈرشِپ کچھ کہتی ہے تو اس کا فرق تو پڑتا ہی ہے، لیکن اگر مودی جی کچھ کہتے ہیں تو اُس کا اور زیادہ فرق پڑتا ہے، کیونکہ لوگ مودی جی کی باتوں کو سنتے ہیں اور عمل کرتے ہیں ۔ لہٰذااُن کی حفظان صحت کی منصوبہ بندی کے بھی کافی تذکرے ہو رہے ہیں۔ اسکول، کالج، سرکاری دفتر اور نجی دفاتر میں بھی حفظان صحت سے متعلق کافی بحث و مباحثے ہو رہے ہیں، جس سے عوامی بیداری میں اضافہ ہوا ہے ۔ بچّوں اور نوجوانوں کے درمیان یہ مہم بہت مقبول ہو رہی ہے ۔2019 تک ملک کے ہر گاؤں میں بیت الخلا بنانے کی وزیر اعظم کی مہم میں’سُلبھ انٹرنیشنل‘ قدم سے قدم ملا کرچلنا چاہتا ہے اور ہمارے پاس اس کی مکمل تفصیلی منصوبہ بندی ہے کہ کیسےناممکن سی نظر آنے والی اس مہم کو ممکن بنایا جاسکتاہے ۔

یوراسٹوری-اب تک ’سُلبھ انٹرنیشنل‘ کا نام اور کام کن کن ممالک میں پہنچ چکا ہے؟

ڈاکٹرپاٹھک-جہاں تک’سُلبھ انٹرنیشنل‘کے نام کا سوال ہے وہ تو دنیا کے قریب قریب تمام ممالک میں پہنچ گیا ہے۔ لیکن کام کی اگر بات کریں تو افریقی ،ایشیائی اور خلیجی ممالک کی حکومتیں اور مقامی انتظامیہ نے ’سُلبھ‘ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری تنظیم نے دنیا بھر کے کئی ممالک میں ٹریننگ دینے اور انہیں کم قیمتوں میں بہتر ٹوائلیٹ بنانے کے منصوبے دئیے ہیں۔

یوراسٹوری- ان منصوبوں کےعلاوہ’سُلبھ انٹرنیشنل‘ اور کیا کر رہا ہے؟

ڈاکٹرپاٹھک-اسٹارٹپ کے طور پر ہم نے مغربی بنگال کے متاثرہ علاقوں (ان علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ کینسر جیسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں) میں آبی انتظامیہ کا کام اپنے ہاتھوں میں لیا ہے اور وہاں ہم پینے کا پانی 50 پیسے فی لیٹر مہیا کرا رہے ہیں۔

سوشل اسٹارٹپ کے طور پر ’سُلبھ‘ کی اتحادی تنظیم’نئی دِشا‘ راجستھان کے’ ٹونک‘ اور ’الور ‘ضلع میں ’میلا ‘ ڈھونے والوں کے ساتھ مل کر انہیں بہتر زندگی کے وسائل پیش کرنے کا کام کر رہی ہے۔ وہاں پاپڑ اور اچار بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں ’سُلبھ ‘ کے دہلی کیمپس میں ایک انگلش میڈیم اسکول بھی چلتا ہے جہاں بچّوں کو مُفت تعلیم دی جاتی ہے ۔ اس اسکول میں مذکورہ بالا خاندانوں کے بچّے دیگرعام بچّوں کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں، یہاں بيوٹیشين، سلائی کڑھائی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ غازی آباد میں بھی ہم ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ’ بِرندابن‘ اور ’بنارس‘ کی بیواؤں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی ’سُلبھ‘ کام کر رہا ہے۔

یوراسٹوری- مودی جی نے حال ہی میں’ اسٹارٹپ انڈیا‘ لانچ کیا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو سماجی مسائل کے حل کے لئے اسٹارٹپ شروع کرنا چاہئے۔ آپ سوشل اسٹارٹپس میں کتنے مثبت امکانات دیکھتے ہیں-؟

ڈاکٹرپاٹھک-جیسا کہ میَں پہلے ہی کہ چکا ہوں کہ مودی جی کی باتوں کو لوگ سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ان کی گزارش پر کافی نوجوان یہ چیلنج قبول کریں گے ۔ اِس شعبےمیں لا محدود امکانات ہیں۔ سینی ٹیشن، ویسٹ مینجمنٹ ،واٹر مینجمنٹ کے میدان میں کافی امکانات ہیں۔

یوراسٹوری- آخر میں ایک ضروری سوال کے ساتھ ہم اپنا یہ انٹرویو ختم کرنا چاہتے ہیں، سوشل اسٹارٹپ کے سلسلے میں پیش قدمی کرنے والے نوجوانوں کو’سُلبھ انٹرنیشنل‘ کی طرف سے کیا کیا سهولیات مل سکتی ہیں؟

ڈاکٹرپاٹھک-سوشل اسٹارٹپ کرنے والے نوجوانوں کے لئے ’سُلبھ انٹرنیشنل‘ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں ۔ ہم نے کئی نوجوانوں کو ٹریننگ اور انٹرن شپ بھی دی ہے ۔’سُلبھ انٹرنیشنل‘ کی ٹیکنالوجی’ پیٹنٹ‘ قانون کے دائرے میں نہیں ہے ۔ لہٰذا کوئی بھی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر سکتا ہے، کاروبار کر سکتا ہے ۔ لیکن ان نوجوانوں سے میری گزارش ہوگی کہ جب آپ اپنے انٹرپرائز سے کمائی کرتے ہیں تواُس کا فائدہ معاشرے کے ضرورتمندوں کو بھی ملنا چاہئے، کمائی کا ایک حصّہ معاشرے کے کمزور طبقے پر خرچ ہو، جس سے ان کے بچّے بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکیں ۔ تبھی ترقی کی صحیح تعریف سامنے آئے گی اور تبھی ان کا اسٹارٹپ ایک سوشل اسٹارٹپ بن پائے گا ۔ ایسے نوجوان کاروباریوں کومیری جانب سے نیک خواہشات۔

یوراسٹوری- یوراسٹوری سے گفتگو کرنے کے لئےتہہِ دل سے شکریہ۔

ڈاکٹرپاٹھک-آپ کا بھی شکریہ، اور آپ کی کمپنی’ یوراسٹوری‘ میڈیاکے لئے نیک خواہشات جو اتنا بہترین کام کر رہی ہے۔

قلمکار : نیرج سنگھ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Niraj Singh

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories