غریب بچوں کو پڑھانے کے لئے گھر چھوڑ کر بنے 'سائیکل ٹیچر'

0
قلمکار- گیتا بشٹ

جن کی سوچ بلند ہو اور سماج کو بدلنے کی صلاحیت اور جزبہ رکھتے ہوں، ایسے لوگ کم کم ہی ملتے ہیں۔ معاشرے کے لئے جیتے ہیں، اس کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کے سامنے بھلے ہی کتنی بھی روكاوٹیں کیوں نہ آئیں ان کے قدم کبھی لڑھڑا تے نہیں۔ ایسے ہی ایک انسان ہیں لکھنؤ کے آدتیہ کمار۔ 'سائیکل ٹیچر' کے نام سے مشہور آدتیہ گزشتہ 23 سالوں سے سائیکل پر گھوم گھوم کر غریب اور بے سہارا بچوں کی زندگی تعلیم سے سنوار رہے ہیں۔ آدتیہ قریب پندرہ سو بچوں کو مفت پڑھا رہے ہیں۔

آدتیہ کمار کی پیدائش اتر پردیش کے فروخ آباد میں ہوئی۔ تمام مالی پریشانیوں کے باوجود انہوں نے کانپور سے حیاتیات میں بی ایس سی تک کی تعلیم مکمل کی۔ بی ایس سی کرنے کے بعد وہ کانپور میں ہی غریب بچوں کو پڑھانے کے کام کرنے لگے، اس کے لئے وہ ان بچوں سے کوئی پیسہ نہیں لیتے تھے۔ تنگ دستی سے گزر بسر کر رہے خاندان کو ان کی یہ عادت پسند نہیں تھی اور وہ ان سے ناراض رہنے لگے۔ خاندان والے چاہتے تھے کہ آدتیہ کام کر گھر کی مالی حالت کو بہتر بنانے میں مدد کریں، لیکن آدتیہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا وہ تو بس ان بچوں تک تعلیم کی روشنی پہنچانے میں لگے رہتے تھے جن سے تعلیم بہت دور تھی۔

گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے آدتیہ کو ایک دن اپنا گھر چھوڑنا پڑا اور وہ لکھنؤ آ گئے۔ اب وہ آزاد تھے اور اپنے ذہن کےمطابق کام کر سکتے تھے۔ لکھنؤ آنے کے بعد وہ کچھ وقت تک چارباغ ریلوے اسٹیشن پر رہے۔ آغاز میں انہوں نے اسٹیشن میں بھیک مانگنے والے بچوں کو پڑھانے کا کام کیا۔ آہستہ آہستہ انہیں کچھ ٹیوشن مل گئے جس سے ان کا خرچہ چلنے لگا۔ اس کے بعد وہ پارکوں، چوکوں اور سڑک کنارے ایسے بچوں کو پڑھانے لگے جو اسکول نہیں جا پاتے تھے۔

آدتیہ گزشتہ 23 سالوں سے غریب بچوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ اپنی سائیکل میں سوار ہو کر مختلف جھگی بستیوں میں جاتے ہیں اور وہاں پر ان پڑھ بچوں کو پڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں'

"جہاں بھی مجھے بچے ملتے ہیں میری سائیکل انہیں پڑھانے کے لئے وہیں پر رک جاتی ہے۔"

اس کام میں ان کے کچھ ساتھی بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ لوگ انہیں پہچاننے لگے اور لوگ ان کو حوصلہ افزائی کرنے لگے۔

گزشتہ 14 مہینوں سے آدتیہ تعلیم کی روشنی کو ملک بھر میں پھیلانے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے لئے وہ سائیکل کے ذریعے ملک کے مختلف ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اپنے اس سفر کا آغاز انہوں نے لکھنؤ سے کیا ہے۔ آدتیہ کہتے ہیں,

"میں اکیلے پورے ملک کو تو نہیں پڑھا سکتا، لیکن اپنی سائیکل کے ذریعے ہر اس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں جہاں پر میری ضرورت ہوتی ہے۔"

آدتیہ اپنے اس کام کو ایک مہم ، نہیں بلکہ فرض سمجھتے ہیں۔ لکھنؤ میں وہ قریب 6 ہزار بچوں کو اب تک بلا معاوضہ پڑھا چکے ہیں۔ اس کے لئے وہ ٹیوشن سے ملنے والے پیسے سے بچوں کے لئے کتابیں اور دوسری مواد خریدتے ہیں۔ ان پاس تعلیم حاصل کرنے والے کئِ بچے نوکریاں حاصل کرکے اونچے عہدوں پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ

"آج میرا پڑھایا کوئی بچہ وکیل بن گیا ہے تو کچھ کو سرکاری نوکری مل گئی ہے اور کوئی اپنا کاروبار چلا رہا ہے۔"

تعلیم کے میدان میں آدتیہ کمار کی کوششوں کی وجہ سے ہی ان کا نام لمکا بک آف ریکارڈ میں درج ہے۔ اس کے علاوہ ان کو کئی قومی اور بین الاقوامی اعزاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اپنی مشکلات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی وہ پڑھاتے پڑھاتے اتنا تھک جاتے ہیں کہ ان کی آواز ہی نہیں نکلتی ہے۔ ساتھ ہی مسلسل سفر کی وجہ سے وہ کافی کمزوری کا بھی احساس کرتے ہیں۔ آدتیہ کو حکومت سے شکایت ہے کہ 23 سالوں سے تعلیم کے میدان میں کام کرنے کے باوجود ان کی خیر خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ آدتیہ کہتے ہیں،

"مجھے گوگل نے ملک کا نمبر 1 استاد کا درجہ دیا، باوجود اس کے کوئی بھی ادارے یا سرکاری افسر میرے کام میں مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔"

مضبوط ارادوں والے آدتیہ مانتے ہیں کہ کوئی ان کی مدد کرے یا نہ کرے لیکن جب تک وہ زندہ ہیں تب تک وہ غریب اور پسماندہ طبقوں میں تعلیم پھیلانے کرتے رہیں گے۔

مترجم- زلیخا نظیر

.......................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

گرہستی کی گاڑی چلانے کے لئے کویتا نے تھام لی اسٹیئرنگ

صدف آپا نے بچائی حاملہ راجکماری اور اس کے بچے کی جان

ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہوتی ہے