ممبئی میں ضرورت مندوں کے لئے فرشتہ ہے ایک آٹو ڈرائیور، مُفت میں پہنچاتا ہے اسپتال تک...

0

16 سال سے ممبئی کی سڑکوں پرچلا رہے ہیں آٹو ...

بزرگوں کو کرایہ میں دیتے ہیں رعایت ...

’فیس بُک‘ یا’ ٹوئیٹر‘ کے ذریعے بُک کر سکتے ہیں آٹو ...

لوگوں کو اسپتال تک پہنچاتے ہیں مفت ...

آٹو میں ’وائی فائی‘، موبائل چارجنگ اور دیگر کئی سہولیات ...

بالی وُڈ اداکار سنجے دت کے ہیں مدّاح ...

’منّا بھائی ایس ایس سی‘ ، یہ کسی فلم یا کردار کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ نام ہے ایک آٹو ڈرائیور کا، جسے ساری ممبئی اِسی نام سے جانتی ہے ۔ اصلیت میں اِن کا نام ہے سندیپ بچّے۔ یہ گزشتہ 16 برسوں سے ممبئی میں آٹو رکشہ چلا رہے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جو سہولیات پرائیویٹ ٹیکسی یا ہوائی جہاز میں بھی نہیں ملتیں، اُس سے کہیں زیادہ سہولیات یہ اپنے آٹو رکشہ میں دیتے ہیں ۔ اِس کے علاوہ وہ بزرگوں کو کرایہ میں رعایت دیتے ہیں، نابینااوراسپتال جانے والوں کو مُفت میں سوار ی کراتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ضرورت پڑنے پر اپنی جیب سے مریضوں کی مالی مدد بھی کرتے ہیں ۔ بالی وُڈ اداکار سنجے دت کے زبردست مدّاح سندیپ ہر سواری سے ملنے والے کرایہ میں سے دو روپے نکال کر بیماروں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔

کیسےبنے آٹو ڈرائیور

سندیپ نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے اور بالی وُڈ اداکار سنجے دت کے مدّاح ہونے کے سبب اُن کے ساتھیوں نے انہیں ’ 'منّا بھائی ایس ایس سی‘ نام دیا ہے ۔ سندیپ آٹو رکشہ چلانے سے پہلے ایک ٹور اینڈ ٹریول کمپنی میں ملازمت کرتے تھے ۔ اس دوران اُن کو لگژری بسوں میں کام کرنے کا موقع ملا ۔ وہاں انہیں معلوم ہوا کہ کس طرح اِن بسوں میں معمولی سی تبدیلی کرکے انہیں مزید بہتر بنایا جاتا ہے، لیکن کچھ عرصہ بعد سندیپ کو وہ نوکری چھوڑنی پڑی ۔

انہوں نے دیکھا کہ ممبئی کے آٹورکشہ والے اکثرمسافروں کے ساتھ بحث میں الجھے رہتے تھے ۔ جہاں لوگ چلنے کو کہتے تھے، وہاں جانے سے وہ انکار کر دیتے تھے ۔ اِس کے علاوہ بیرونِ ممبئی سے جو لوگ یہاں سیر و تفریح کے لئے آتے تھے، انہیں بڑے تلخ تجربات ہوتے تھے ۔ تب انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ وہ خود آٹو رکشہ چلائیں تاکہ آٹو رکشہ والوں کے تئیں لوگوں کامنفی نظریہ حتیٰ الامکان بدل سکیں۔

آٹو رکشہ میں سہولیات

آج سندیپ کے ہائی ٹیک آٹو میں گانے سننے کے لئے ریڈیو ہے، کسی سے فون پر بات کرنی ہے تو پی سی او کی سہولت ہے، کوئی موبائل چارج کرنا چاہتا ہے تو وہ سفر کے دوران کر سکتا ہے ، کسی کے موبائل میں بیلنس ختم ہو گیا ہے تو اُسے اِن کے آٹو میں بیٹھے بیٹھے’ ری چارج ‘کیا جا سکتا ہے، اگر کوئی سفر کے دوران کافی پینے کے مزے لینا چاہتا ہے تو اُس کا بھی انتظام ہے، سفر کے دوران اگر کوئی ’بور‘ ہو رہا ہو یا کسی اہم کام کے لئے انٹرنیٹ کی ضرورت ہو تو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اِن کے آٹو رکشہ میں’ وائی فائی‘ کی سہولت بھی ہے، جبکہ کچھ کھانے کے لئے چاکلیٹ کا انتظام بھی ہے ۔ اگرمسافر خواتین ہوں تو اس کے لئے آئینے کی سہولت ہے ۔ اِن کے رکشہ میں بیٹھ کر روزانہ چڑھتے اترے سونے، چاندی اور ڈالر کے مارکیٹ ریٹ معلوم کئے جا سکتے ہیں ۔ اسٹاک مارکیٹ کا حال جان سکتے ہیں، موسم کی خبر حاصل کر سکتے ہیں ۔ پیاس بجھانے کے لئے پانی کی بوتل کے علاوہ وقت اور دن، تاریخ دیکھنے کے لئے گھڑی اور کیلنڈر کا بھی انتظام ہے۔

لوگوں کی مدد

سندیپ نے بھلے ہی اپنے آٹو رکشہ کو کافی’ ہائی ٹیک‘ بنایا ہو لیکن اِسی آٹو کے ذریعے وہ سماجی خدمت بھی کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آٹو میں بیٹھنے والی بزرگ سواريوں کو کرایہ میں رعایت دیتے ہیں ۔ جیسے ممبئی میں میٹر سے آٹو کرایہ 18 روپے سے شروع ہوتا ہے لیکن یہ بزرگوں سے ابتدائی میٹر کا کرایہ صرف 10 روپے لیتے ہیں ۔

اتنا ہی نہیں،کسی نابینا انسان کو کہیں جانا ہو یا پھر کسی عام شخص کو کسی بھی اسپتال جانا ہو تو اُس سے یہ کرایہ نہیں لیتے ۔اِن کا کہنا ہے کہ’’مجھے اکثرایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو انکار کرنے کے باوجود میری خدمات کو دیکھتے ہوئے کرایہ سے زیادہ پیسہ دیتے ہیں، ایسی صورت میں وہ پیسہ میَں غریبوں پر خرچ کر دیتا ہوں ۔‘‘اِس کے علاوہ سندیپ 15 اگست، 26 جنوری، 2 اکتوبر، رکشا بندھن اور اداکار سنجے دت کی سالگرہ کے دن لوگوں کومُفت میں سفر کراتے ہیں۔

سندیپ کے آٹو میں’ فرسٹ ایڈ کِٹ‘ بھی ہر وقت تیار رہتی ہے اور یہ اس کا استعمال راستے میں ملنے والے ایسے لوگوں کے لئے کرتے ہیں جوزخمی ہوتے ہیں مگر اپنا علاج نہیں کر پاتے ۔ سال 2004 میں اِن کی ماں کو کینسر ہو گیا تھا، اس لئے یہ اس تکلیف کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔ یہ بتاتے ہیں کہ ’’جب بھی مجھے وقت ملتا ہے تو میَں کینسر متاثرین سے ملاقات کرتا ہوں اور حتیٰ المقدور اُن کی مدد کرتا ہوں ۔بھلے ہی یہ مدد میَں کھانے پینے میں کروں یا پھر پیسے سے ۔‘‘ اس کے علاوہ یہ ڈائلیسِس کروانے والے غریب لوگوں کی بھی مالی مدد کرتے ہیں ۔ سندیپ کا کہنا ہے کہ ’’میَں زیادہ مالی مدد نہیں کر سکتا لیکن جس کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میَں زیادہ سے زیادہ 7 سو روپے تک اُن کی مدد کرتا ہوں ۔‘‘ اس کے علاوہ سندیپ اپنے آٹو میں بیٹھنے والے مسافروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے پُرانے کپڑے انہیں دیں، تاکہ وہ انہیں ضرورت مند غریب بچّوں اور عورتوں میں بانٹ سکیں ۔

سنجے دت کے مدّاح

سندیپ فلم اداکار سنجے دت کے زبردست مدّاح ہیں ۔ تبھی تو جب سے سنجے دت یروڈا جیل میں بند ہیں تب سے سندیپ نے اپنے پیروں میں چپّل یا جوتے پہننا بند کر دیا ہے ۔ گزشتہ ڈھائی سال سے وہ ننگے پاؤں ہی ہر جگہ جاتے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ سنجے دت بھی ان کے جذبے کا احترام کرتے ہیں ۔

جب سنجے دت کو ساتھی قیدیوں سے جیل میں پتہ چلا کہ سندیپ نے ان کی خاطر جوتے ، چپّل پہننا چھوڑ دیا ہے تو اس کے بعد جب وہ پیرول پر باہر آئے تو سندیپ کو انہوں اپنے گھر چائے پر بلایا اور انہوں نے ان سے پوچھا کہ چپّل کب پہنوگے؟ جس کے جواب میں سندیپ نے ان سے کہا کہ جس دن وہ ان کے گھر چائے پینے آئیں گے اس دن سے وہ چپّل پہننا شروع کر دیں گے ۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے اپنے بائیں کندھے پر سنجے دت کا ایک’ ٹیٹو‘ بھی بنایا ہے۔

’ہائی ٹیک ‘ہیں سندیپ

سندیپ کا صرف آٹو ہی’ ہائی ٹیک‘ نہیں ہے بلکہ وہ خود بھی’ ہائی ٹیک‘ ہیں، تبھی تو وہ ’فیس بُک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور هائیك‘ پر بھی موجود ہیں ۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن آٹو بکنگ کی سہولت بھی فراہم کرتےہیں ۔ اس کے لئے یہ 50 روپے بکنگ چارج لیتے ہیں اور آدھے گھنٹے میں بلائی گئی جگہ پر پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

گزشتہ 16 سال سے رکشہ چلا نے والے سندیپ کے اچھے اخلاق اور رویے کا آر ٹی او محکمہ اعتراف کر چکا ہے ۔ سندیپ کے اِس خاص آٹو میں بالی وُڈ کے سُپر اسٹار سلمان خان بھی سفر کر چکے ہیں ۔ اِس کے علاوہ کئی ٹی وی اور ریڈیو شو اِن کے آٹو میں ہو چکے ہیں ۔ اِس وجہ سے صرف ممبئی میں ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی ان کے چاہنے والے ہیں، پھر چاہے بات لندن کی ہو یا کیلی فورنیا کی یا پھر جوہانسبرگ یا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی، ہر کسی سے یہ انٹرنیٹ کے ذریعے ’کنیکٹ‘ رہتے ہیں۔

ممبئی کے باندرہ ، کھار علاقے میں رہنے والے سندیپ کے خاندان میں ان کے والد، بیوی اور دو بچّےہیں ۔ ان کی سماجی خدمات کی بدولت انہیں کئی بار اعزازات سے نوازا بھی جا چکا ہے ۔ سندیپ کہتے ہیں کہ ’’آٹو رکشہ نے مجھے بہت کچھ دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ میَں نے اپنے ہاتھ میں’ ٹیٹو ‘بنایا ہے، جس میں آٹو کا نمبر بھی لکھا ہوا ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ میَں آٹو رکشہ ڈرائیور ہوں ۔‘‘

گاندھی گیری کے اصولوں پر عمل کرنے والے سندیپ نے اپنے آٹو میں بھی لکھا ہے ’’ نو بھائی گیري ،اونلي گاندھی گیری ‘‘۔

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza