ڈیڑھ متوالے بابا کا نیا کمال، پیش کریں گےڈجِٹل خاکے

جانی واکر بھی رہے ہیں حامد  کمال اور سبحانی کے مداح

0


مزاحیہ محفلوں میں رنگ بھرنے والے ڈیڑھ متوالے بابا یعنی حیدرآباد کے فنکار حامد کمال اب نئی ٹیکنالوفی کی دنیا میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے مزاحیہ خاکوں کو ویڈیو بنا کر انہیں يوٹيب اور سوشل میڈیا پر پیش کرنے کی نئی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی دو فلمیں سوشل مڈيا پر 10 لاکھ لوگوں تک پہنچ چکی ہے۔ اب ان کا ارادہ ڈجٹل میڈیا میں لمبی زندگی جینے کا ہے۔

حامد کمال گزشتہ چالیس پینتالیس برسوں سے مزاحیہ اسٹیج کی دنیا میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ اس نئی تبدیلی کے بارے میں بتاتے ہیں۔

'میں نے پہلی فلم بنائی تھی، 'ڈیڑھ متوالے بابا'۔ یہ فلم تانترک باباؤں کے بارے میں تھی اور كمرشيل حساب سے بہت اچھی اور کامیاب فلم رہی۔ لوگوں کو فائدہ بھی پہنچا۔ اس کے بعد 'ریڈيمیٹ دولہا' فلم بھی لوگوں نے کافی پسند کی۔ حالانکہ یہ فلم، موضوع اور مقصد کو دیکھا جائے تو پہلی فلم سے بھی اچھی تھی، لیکن پہلے کے مقابلے میں اس کو کچھ کم کامیابی ملی۔ اب ہم چھوٹی چھوٹی فلمیں بنائیں گے۔ تاکہ کم وقت میں لوگ جہاں جب چاہے اس سے لطف اٹھا سکیں۔'

ٹکنالوجی بدلتی جا رہی ہے۔ اس کا اثر فنون کے شعبے پر بھی پڑا ہے۔ لوکل کیبل مقامی فلمیں کئی بار دکھا ئی جاتی ہیں ہیں۔ اس کے علاوہ رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے نکال دی ہے۔ 3 جی اور 4 جی کے زمانے میں ڈی وی ڈی فروخت نہیں ہوپارهے ہیں۔ایسے میں حامد کمال کی فلمیں بھلا کیا کمال کر دکھاتیں، شاید اسی لئے انہوں نے سوشل میڈیا کا راستہ اپنایا ہے۔

 وہ کہتے ہیں، ''سوشل میڈیا کی وجہ سے جن لوگوں نے ہماری فلمیں دیکھی تھی، اس کا اثر بھی رہا۔ جہاں بھی ہم گئے، لوگوں نے ان دونوں فلموں کا ذکر ضرور کیا۔ اس سے آمدنی تو کم ہوئی، لیکن خوشی یہ ہے کہ ان فلموں نے لوگوں میں سماجی سطح پر بیداری لانے میں تعاون کیا۔ اسے دیکھتے ہوئے خود میں نے ہی دونوں فلمیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دییں۔ جس کو دیکھنے والوں کی تعداد اب تک 10 لاکھ سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔ پہلے مجھ کو یہ پتہ بھی نہیں تھا کہ انٹرنیٹ سے پیسے بھی ملتے ہیں۔ اب ہم نے خاکوں پر کام کرنا شروع کیا ہے اور اس کے دیکھنے والوں میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ ''

ایچ کے انٹرٹینمینٹ حیدرآبادی مزاحیہ تھیٹر کو ڈیجیٹل شکل میں پیش کر رہا ہے۔ اس کو مقبولیت بھی مل رہی ہے۔ حامد کمال کے لئے یہ زمین بہت زرخیز ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ''جب میں نے دیکھا کہ جن کی مدد سے ہم لوگ اپنے ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے تھے، ان کو آمدنی کا نصف حصہ دینا پڑ رہا تھا، میں نے اپنا خودكا انٹرٹینمینٹ چینل بنایا ہے، ایچ کے انٹرٹینمینٹ۔ اس سے اب مکمل آمدنی میرے اکاؤنٹ میں آئے گی۔ ''

حامد کمال سبحانی اور دیگر فنکار
حامد کمال سبحانی اور دیگر فنکار

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر حیدرآبادی مزاح کی ویڈیو اور آڈیو کی بھرمار آئی ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہ کام شروع کیا ہے۔ حامد کےساتھ بھی 7 فنکاروں کی ٹیم ہے۔ وہ کہتے ہیں،

 ''میں نے سوچا کہ زمانے کے ساتھ چلنا ہے اور نئی نسل میں زندہ رہنا ہے تو اپنے آپ کو حالات اور زمانے کے مطابق تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اب اسٹیج شو کم ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگ تو رویندر بھارتی جیسے تھیٹر میں اپنے شو کر بھی نہیں پا رہے ہیں۔ میں اب بھی شو کر رہا ہوں۔ سال میں تین یا چار شو کر رہا ہوں۔ 70 کی دہائی میں سال میں کم از کم 50 شو کرتا تھا۔ ہر ہفتہ ایک یا دو شو ضرور ہوتے تھے۔ اب سال میں چار شو مشکل سے ہو رہے ہیں۔ لوگوں کے پاس آپ کو دینے کے لئے تین گھنٹے نہیں ہیں۔ آنے جانے میں الگ سے ایک دو گھنٹے نکل جاتے ہیں۔ ''
حامد کمال اور سبحانی 
حامد کمال اور سبحانی 

گزشتہ برسوں میں ٹیلی ویژن نے جو کمال کر دکھایا تھا، وہ اب ختم ہو گیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا میں كمپيوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل پر کوئی بھی جب جی چاہے اپنا من پسند مواد دیکھ اور پڑھ سکتا ہے اور اس پر خرچ کچھ بھی نہیں ہے۔ پبلک سےجڑے رہنے کا اچھا ذریعہ مل گیا ہے۔ بھلا حامد کمال پیچھے کیوں رہتے۔ حامد کمال نے 1975 میں ہمایت اللہ، دولت رام، اور دیگر فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ دو بارسرکاری نوکری چھوڑ دی۔ وہ بتاتے ہیں، 'ٹی اجييا چیف منسٹر تھے، انہوں نے نوکری دلائی تھی۔ وہ کام دوائیں پیک کرنے کی تھا۔ میں نے سوچا کہ ایک پڑھا لکھا آدمی اس طرح پیکیجنگ میں کیوں زندگی کھپائےگا۔ ۔ پھر میں نے وہ نوکری چھوڑ دی۔ اس سے پہلے آئی ڈی پی ایل میں ایک نوکری چھوڑ چکا تھا۔ کمرشل ٹیکس آفس میں بھی کچھ دن تک کام کیا۔، لیکن کرپشن کا حصہ نہیں بن پایا۔ اس لئے میں ملازمت نہیں کر پایا۔ میں نے ببن خان کے ساتھ 6 ماہ تک کام کیا تھا۔ اس وقت احساس ہوا کہ اچھی چیز دو تو برابر چلے گی۔ 1975 میں میں نے وہاں سے نکل کر ڈیڑھ متوالے شروع کیا۔ سبحانی اس سے پہلے میرے ساتھ تھے۔ چالیس سال سے ہماری جوڑی ٹوٹی نہیں۔

ڈیڑھ متوالے بابا ۔تصاویر بشکریا دی ہندو
ڈیڑھ متوالے بابا ۔تصاویر بشکریا دی ہندو

ہم سے پہلے بہت اسٹینڈرڈ تھیٹر ہوتا تھا۔ قادر علی بیگ، پنڈت جگت جیون جیسے فنکاروں نے' برف کی مینار، سكھارام بائنڈر' جیسے شو ہوتے تھے۔ ان میں میں نے چھوٹے چھوٹے رول كئے تھے۔ سیکھنے کا موقع ملتا تھا، لیکن پیسے نہیں ملتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ڈیڑھ متوالے کا آغاز کیا اور آج اسی کے اگلے مرحلے کے طور پر ایچ کے انٹرٹینمینٹ شروع کی ہے۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج (FACEBOOK) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ڈاکٹر کلثوم مرزا نے حیدرآباد میں کھولاخواتین کا پہلا ڈینٹل ہاسپٹل

خواتین اور معذور بچوں کی جہدکار عائشہ روبینہ

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem