’گوگل گُرو ‘کی کامیابی کا راز ... اپنے کام سے عشق !

0

آسمان کی بُلندیاں چھُونے والوں کو پرواز کے لئےپنکھ نہیں، صرف حوصلہ درکار ہوتا ہے ۔’امیت سنگھل‘ اِسی کہاوت پر پورے اُترتے ہیں ۔ آپ شاید’ امیت سنگھل‘ کو نہیں جانتے ہوں لیکن’ گوگل سرچ‘ کی بابت کون نہیں جانتا؟ ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل ہر کام ’گوگل گرو ‘کرتا ہے، کوئی بھی سوال ہو ’گوگل گرو‘ کے پاس چلے جاؤ، صحیح معلومات مل جاتی ہے۔ لیکن اب آپ کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اِن تمام معلومات کو صحیح صحیح پہنچانے میں جس شخص کا ہاتھ ہے، وہ تاریخی شُہر’جھانسی ‘کے رہنے والے’ امیت سنگھل‘ ہی ہیں۔ ’گوگل‘ میں اعلیٰ نائب صدر کے عہدے پرفائز’ امیت سنگھل ‘ ہی گوگل میں’ کوالٹی سرچ ‘ ٹیم کی نگرانی کرتے ہیں، جس کے بعد ہی آپ اپنے ہر سوال کی صحیح معلومات پاتے ہیں ۔ امیت کے پاس معاون مصنفین کے طور پر تیس سے زائد سائنسی مضمون نگار اور ہزارہا پیٹنٹ (Patent)ہیں ۔

کچھ دنوں قبل ہمیں ’گوگل ‘ہیڈ کوارٹرز میں امیت سنگھل سے ملنے کا موقع ملا ۔ وہیں اُن کے ’جھانسی‘ سے آئی آئی ٹی ’رُڑکی‘ تک کے سفر کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا۔ آپ بھی جان لیجئے کہ کس طرح اپنے کام میں خوشی ڈھونڈھ كر آپ اپنے کام کو بامقصد اور بامعنی بنا سکتے ہیں ۔ زندگی میں کن باتوں کا دھیان رکھنے سے آپ کی زندگی آسان ہو سکتی ہے ۔ امیت کا کہنا ہے کہ اپنے کام سے جنون کی حد تک محبت کرنا بہت معنی رکھتا ہے ۔ اگر آپ اپنے کام کو پوری دل جمعی سے کریں گے تو کامیابی خودبخود آپ کے پیچھے پیچھے چلی آئے گی ۔ یہ بات صرف کہنے کے لئے نہیں ہے بلکہ اس فارمولے کو خود امیت نے اپنی زندگی میں آزمایا ہے ... امیت نے ہمیشہ اپنے کام کو مکمل قلبی اطمینان اور خوشی کے ساتھ انجام دیا، اور آج دیکھئے کامیابی امیت کے ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔ گوگل کے ساتھ کئی برسوں سے کام کرنے والے امیت آج کامیابی کی اُس بُلندی پر ہیں جہاں پہنچنا ایک خواب سا لگتا ہے۔

امیت سنگھل’ جھانسی‘ شہر کے رہنے والے ہیں۔ سن 2000 میں ’گوگل‘میں شامل ہونے سے پہلے، امیت AT & T Labs میں تکنیکی اسٹاف کے سینئر رکن تھے ۔’رُڑکی‘ سے آئی آئی ٹی کرنے کے بعد ’مینیسوٹا‘ (Minnesota) یو نیورسٹی سے امیت نے ایم ایس کیا، اس کے بعد’ كارنل‘ يونیورسٹي سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

کام سے محبت کا مطلب بے پناہ کامیابی

عزّت، دولت اور شہرت حاصل کرنا ہی کامیابی نہیں ہوتی ۔ صحیح معنوں میں کامیابی تب ملتی ہے جب آپ اپنے کام سےعشق کرنے لگتے ہیں ۔ امیت کے مطابق، لوگ کیا کہتے ہیں اِس کے متعلق سوچ کر وقت برباد نہیں کرنا چاہئے بلکہ جو کام آپ کو پسند ہے اورجسے کرنے سے آپ کو قلبی سکون اور خوشی ملے، تو سمجھ لیجئے کامیابی دُور نہیں ہے۔

امیت کی کامیابی کی اہم وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنا کام دل و جان سے کیا ۔ اگر آپ اپنے کام سے خوش نہیں ہیں تو بھلے ہی آپ کے پاس پیسہ ہو، گاڑی ہو، بنگلہ ہو، لیکن آپ کامیاب نہیں كهلائیں گے۔امیت کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام زندگی اپنے کام سے عشق کیا ہے، دیگر تمام چیزیں خود بخود خود پیچھے پیچھے چلی آئیں... اور آج بھی امیت کے کام کرنے کا طریقہ ویسا ہی ہے جیسا پچیس سال پہلے تھا ۔ وہ کام کو کام سمجھ کر نہیں بلکہ اپنے کام سے خوشی حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں ۔ آج تک امیت نے کوئی بھی کام کامیابی حاصل کرنے کے لئے یا پھر روپیوں کے لئے نہیں کیا، بلکہ صحیح معنوں میں وہ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں ، اسی لئے کامیابی کی بلندیوں تک پہنچے ہیں ...

تعلیم حاصل کرنے کے دوران امیت سنگھل مغربی معاشرے کے لوگوں سے کافی متاثر ہوئے تھے ۔ امیت کے مطابق مشرقی اور مغربی معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی سوچ میں نمایاں فرق هے۔امیت کا کہنا ہے کہ مشرقی معاشرے میں طالب علم کامیاب ہونے کے لئے ہمیشہ ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں،جبکہ مغرب میں لوگوں کی سوچ مختلف ہے ... وہ لوگ اپنے کام کو پوری خوشی کے ساتھ کرتے ہیں اور کامیابی بڑی آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں ۔ امیت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے معاشرے میں پلےبڑھے ہیں جہاں ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ اچھے ہیں تو انجینئر، ڈاکٹر یاپھر آئی اے ایس بن سکتے ہیں لیکن کبھی اس بات پر کسی نے غور نہیں کیا کہ آپ کو کیا کرنا پسند ہے؟ کون سا کام کرنے سے آپ کو خوشی ملے گی؟

بالی ووڈ کے میوزک ڈائریکٹر’ شانتنو موئترا ‘سے امیت بے حد متاثر ہیں ۔’ شانتنو‘ ​​امیت کے اچھے دوست بھی ہیں ۔ امیت کے مطابق ’ شانتنو‘ کو اپنے کام سے بے حد محبت ہے اور یہ محبت ہی ایک واحد وجہ ہے اُن کی متاثر کُن موسیقی کی ۔ اور اُن کی کامیابی کا راز بھی موسیقی سے اُ ن کی بے پناہ محبت ہے۔

چیلنجز کا سامنا کریں

اگر کبھی آپ خود کو زندگی کے دوراہے پر کھڑا پاتے بھی ہیں، تو صرف اپنے دل کی آواز سنئے۔ کیونکہ دل سے نکلی آواز ہی اکثرآپ کی صحیح رہنمائی کرتی ہے ۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے جب ہم اپنے فیصلے پر اعتماد نہیں کر پاتے، لیکن امیت سنگھل کے مطابق کسی بھی چیز کا فیصلہ صحیح یا غلط نہیں ہوتا ،بلکہ ہم اپنے کام سے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہیں۔

والدین کا ساتھ ضروری، غلطیوں سے سیکھیں

ہماری زندگی میں والدین ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں... میری زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے جہاں مجھے کچھ بھی کرگزرنے کی آزادی ملي... اور ایسا کرتے ہوئے میَں نے غلطیاں بھی کیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا بھی... عمر کا ایک دور ایسا بھی ہوتا ہے جہاں آپ غلطی کرتے ہیں ... لیکن وہ معنی نہیں رکھتی ... آپ کو کبھی اے گریڈ، بی گریڈ یا پھر سی گریڈ ملتا ہے، یا پھرآپ کبھی فیل بھی ہو جاتے ہیں ... لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جہاں گریڈ معنی ہی نہیں رکھتے ... بلکہ یہ دورغلطیوں اور ناکامیوں کے اسباب اور اہمیت سِكھاتا ہے...

ہر کوئی گرتا اور ٹھوکر کھاتا هے۔ يهاں تک کہ کئی بار مخالف حالات سے بھی گزرنا پڑتا ہے ... لیکن ایسی صورتِ حال میں بھی آپ کا صبر و تحمل اوروقت آپ کو لچکدار اور منکسر بنا دیتا ہے ...یعنی آپ گر کر پھر اٹھتے ہیں ... اورآگےبڑھنے لگتے هیں ... 6th گریڈ میں کم گریڈ ملنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس صورت حال کا کس طرح سامنا کرنا ہے یہ بچّے کو سیکھنے کی ضرورت ہے ... گھر اور اسکول جیسےمحفوظ ماحول میں ہم اپنی زندگی کے کئی بڑے اور اہم سبق سیکھتے ہیں۔ اس لئے جب ہم واقعی بڑے ہوتے ہیں اورباہر کی دنیا میں نکلتے ہیں تو ہمارے ساتھ بس وہی سب کچھ ہوتا ہے جو ہم نےاپنے گھر اور اسکول کے ماحول سےسیکھا ہوتا ہے ... دراصل اسی درس سےہمیں زندگی میں گر کر سنبھلنے کی تحریک و ترغیب ملتی ہے ... میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی کافی آزادی دی ہے ... آج میَں جو ہوں وہ اسی وجہ سے ہوں، اور یہ آزادی میری زندگی میں کافی مددگار ثابت ہوئی ...

’اسٹارٹپ ‘کے لئے

اپنے آپ سے ہمیشہ پوچھتے رہیں کہ آپ دنیا کو کیا دیں گے ... اور جب آپ خود سے یہ بات پوچھیں تو سچّے دل سےخود اپنا احتساب کریں اور پھر جواب دیں ... کیا آپ واقعی اپنے کام سے محبت کرتے ہیں ... اور دن بھر کی کارکردگی کے بعد آپ خوش ہیں ... اگر ان سوالات کا جواب’ ہاں‘ ہے تو کامیابی آپ کے قدم چومےگي ...اس لئے انکساری اہم هے،اسے اپنے اخلاق و عادات میں ضرور شامل کریں ...

قلمکار : شیوانی سکسینہ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Shivani Saxena

Translation by : Anwar Mirza