ایک وقت 60روپئے کی تنخواہ میں کنبے کی کفالت کر نے والے آج سیکڑوں کروڑ کے مالک

 کبھی 200مربع فٹ کے کمرے میں گذر بسر اور 60 روپئے کی تنخواہ میں کنبے کی کفالت کر چکے، راجکمار گپتا آج بڑے مشہور ریئل اسٹیٹ ٹائیکون اور ممتاز تاجر ہیں ۔ان کی ’رنک سے راجا‘بننے کی کہانی کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔لیکن یہ کہانی ضمیر سے سخت جد و جہد کر نے کی گواہی بھی دیتی ہے ۔ اپنی کم آمدنی کے دنوں میں بھی گپتا فکر ِ بلند رکھتے تھے۔ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنے بڑھتے خاندا ن کے ساتھ رہتے ہوئے بھی وہ ہمیشہ دوسروں کے تئیں اچھے رہے ۔اگر آپ عمل پر یقین نہیں رکھتے تو اس کہانی کو پڑھنے کے بعد آپ یقین کر نے لگیں گے۔

0


کہتے ہیں ’جہاں چاہ وہاں راہ‘۔یہ کہاوت راجکمار گپتا کی زندگی پر با لکل صادق آتی ہے۔ انہوں نے اپنی مثبت سوچ ، سخت محنت اور لگن سے ایک نئی دنیا آباد کی۔کچھ کر گذر نے کا خواب دیکھنے والوں کو گپتا نے اپنی زندگی سے یہ پیغام دیا ہے کہ یقیں محکم اور عمل پیہم ہی جہادِ زندگانی میں اصل شمشیریں ہیں ۔ انہوں نے اپنی حصولیابیوں سےیہ ترغیب دی کہ بلند عزائم اور تعمیری فکرکے حامل مردان ِ جفاکش کیلئے یہ دنیا تنگ نہیں ہے۔

کبھی 200مربع فٹ کے کمرے میں گذر بسر اور 60 روپئے کی تنخواہ میں کنبے کی کفالت کر چکے، راجکمار گپتا آج بڑے مشہور ریئل اسٹیٹ ٹائیکون اور ممتاز تاجر ہیں ۔ان کی ’رنک سے راجا‘بننے کی کہانی کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔لیکن یہ کہانی ضمیر سے سخت جد و جہد کر نے کی گواہی بھی دیتی ہے ۔ اپنی کم آمدنی کے دنوں میں بھی گپتا فکر ِ بلند رکھتے تھے۔ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنے بڑھتے خاندا ن کے ساتھ رہتے ہوئے بھی وہ ہمیشہ دوسروں کے تئیں اچھے رہے ۔اگر آپ عمل پر یقین نہیں رکھتے تو اس کہانی کو پڑھنے کے بعد آپ یقین کر نے لگیں گے۔

راجکمار گپتا ’مکتی گروپ‘کےبانی صدر ہیں۔ 1984میں انہوں نے مغربی بنگال کے ہگلی ضلع میں پہلے رہائشی اپارٹمنٹ کا آغاز کیا۔فن تعمیر میں اپنے اچھے ذوق اورجدید تصور و شعور کے نتیجہ میں راجکمار گپتا کولکاتا میں ہگلی بیلٹ پر کثیر منزلہ رہائش گاہوں کا تصور لیکر بھی سامنے آئے ۔اس وقت سے مکتی گروپ بنگال میں انٹر ٹینمنٹ ہب میں ملٹی پلیکس ،انٹر نیشنل ہوٹل ،لائونج، فائن ڈائن ریسٹورنٹ کے ساتھ ایک بڑا کھلاڑی بن کر ابھرا ہے ۔لیکن ابھی بھی راجکمار گپتا کا نام انٹر نیٹ پردستیاب دیگر ناموں کی طرح آسانی سے نہیں ملتا ۔

سادہ اور منکسر المزاج شخصیت کے حامل گپتا کی توجہ زیادہ تر بزنس اور کار خیر پر مرکوز ہے ۔دو بار ’دنیا کو آپ کی کہانی سے حوصلہ ملے گا ‘کہنے پر وہ انٹرویو دینے پر رضی ہوئے۔ کامیابی کی اس بلندی پر پہنچ کر بھی وہ بہت نرم مزاجی سے بات چیت میں شامل ہوئے ۔

آغاز

’میں پنجاب میں کافی غریب کنبے میں پیدا ہوا ۔وہاں میں اپنی تعلیم کے لئے جد و جہد کر رہا تھا ۔پھر میں کولکاتا آگیا اور یہاں میں نے اپنی تعلیم مکمل کی ۔1978میں میں نے ایک پرائیویٹ ادارے میں جب پہلی ملازمت شروع کی تو اس وقت میری تنخواہ صرف 60 روپئے ماہانہ تھی ۔وہاں کچھ سال گذارنے کے بعد میں ہندوستا ن موٹرس میں آگیا۔وہاں تنخواہ میں تھوڑا اضافہ ہوا۔اس ملازمت میں میں نے پانچ چھ سال گذارے اور یہاں میں نے کارو بار کے گر سیکھے ۔اس کے بعد میں نے اپنا کاروبار اور سپلائی کا بز نس شروع کر دیا۔

کار خیر سے ہموار ہوا کامیابی کا راستہ

میں 200 اسکوائر فٹ کے کمرے میں کنبے کے ساتھ رہتا تھا۔ آج میں آزادی سے زندگی گذاررہا ہوں ۔اس کے لئے میں اپنی زندگی کا شکریہ ادا کر تا ہوں اور ان کے لئے کچھ کر نا چاہتا ہوں جو میری طرح خوش قسمت نہیں ہیں ۔جب میں نےاپنے دوستوں سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ خود تمہاری زندگی مشکل سے گذر رہی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ ہم بھی اس صورت حال میں ہو سکتے تھے۔ ہم اس طرح جی رہے ہیں تو قسمت والے ہیں ۔اور اسی وجہ سے ہمیں ضرورت مندوں کی مدد کر نا چا ہئے ۔چیرٹی کر نے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ یہ بڑی مقدار میں کی جائے ۔ آپ چھوٹی چھوٹی مدد نیک ارادوں سے کر سکتے ہیں۔اسٹیشن پر ضرورت مندوں کو صاف پانی نہیں ملتا اس کے لئے ہم ایک آدمی کو مٹکے کے ساتھ وہاں بیٹھا دیتے ہیں اور وہ لوگوں کو پانی پلا تا ہے ۔اس میں زیادہ خرچ نہیں آتا۔ اس نیک کام میں میرے دوست بھی تعاون کر تے ہیں ۔اس کے بعد ہم نے غریبوں کے لئے مفت دو خانہ قائم کیا ۔اس میں ہمیں معاشی نقصان ہوا ،لیکن وہ زیادہ نہیں تھا۔ ہم نے لوگوں سے پرانا فرنیچر لیا اور روز کچھ وقت نکال کر اس کی مرمت بھی کرائی ۔اس طرح ہم نے دوا خانہ کی شروعات کی اور اس کا افتتاح ہندوستان موٹر س کے سربراہ این کے برلا نے کیا۔اس طرح سماجی کام میں میرا قد بڑھا اور میں اچھےو ایماندار لوگوں کے رابطے میں آیا۔ ان میں سے بہت سے لوگ میرے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے خواہش مند نظر آئے ۔ میں نے اسپتال ،اپارٹمنٹ ،کامپلیس کی شکل میں اپنے پروجیکٹ ان کے سامنے رکھے ۔اور اس طرح میری سماجی خدمات نے میری قسمت کو چمکا دیا۔

مکتی ایئر ویز :ایک ادھورا خواب

میں اپنی زندگی میں شہرت اور حصولیابی نہیں چاہتا ہوں ۔جب مجھے ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں بے حد پر کشش تجاویز مل رہی تھیں تب مجھے کچھ بڑا کر نے کی کھجلی ہوتی تھی۔اس وقت ایشیا میں ایئر لائن سیکٹر کی شروعات ہو رہی تھی اور میں اس کا حصہ بننا چاہتا تھا۔ اس لئے میں نے اپنی ایئر لائن شروع کر نے کا منصوبہ بنایا۔

فیصلہ کرنا آسان کام تھا ۔ لیکن میں ایئر لائن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ مجھے پتہ چلا کہ پلین ایئر پورٹ سے اڑان بھر تے ہیں اور مجھے وہاں جانا چاہئے ۔جب میں وہاں آفس میں گیا اور کہا ’’میں ایئر لائن شروع کر نا چاہتا ہوں ‘‘۔تو یہ سن کر دفتر میں موجود ہر شخص کھڑا ہوگیا۔1994میں بنگال میں شروعات کر نا غلط فیصلہ تھا لیکن میں بضد تھا ۔تکنیکی رکاوٹوں کو دور کر نے کے لئے انتہائی مدد گا ر افسران تھے اور انہوں نے ہمیں سکھایا تب ہم نے انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی ایک چھوٹی سی ٹیم اکٹھا کی۔

میری پروجیکٹ رپورٹ یکم جنوری 1995 کو جمع ہوئی ۔ ٹا ٹا سنگا پور ایئر لائنس کی رپورٹ بھی اسی دن جمع ہوئی۔ میری رپورٹ کو وزارت شہری ہوا بازی نے منظوری دے دی ،ان کی رپورٹ کو نہیں دی گئی۔

اپنا لائسنس لینے سے پہلے میں دہلی گیا اور وہاں چپراسی سے لے کر وزیر شہری ہوا بازی غلام نبی آزاد سے ملا ۔جب میںنے جوائنٹ سکریٹری مسٹر مشرا سے ملاقات کی تو انہوں نے بتایا کہ میری تجویز کتنی مشکل ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے آدمی کو لائسنس نہیں دیں گے جس کے پاس ضروری تکنیکی تربیت اور دیگر پیمانے نہیں ہیں ۔ میں نے ان سے کہا ’’میرے پاس اس میں سے کچھ نہیں ہے لیکن میں ایک اچھا کاروباری ہوں ۔میں اس کے لئے دوسروں کو لے سکتا ہوں او رمالی انتظام کر سکتا ہوں ۔‘‘میری اس ایمانداری سے متاثر ہوکر انہوں نے مجھے لائسنس دے دیا ۔

بین الاقوامی ہوائی جہاز بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ ہم نے کس طرح سودوں اور بات چیت کا اہتمام کیا ،وہ ملک میں اپنی نوعیت کا ایک الگ ہی قصہ تھا۔شروع میں ہمیں ہندوستانیوں کے بارے میں یورپی لوگوں کے غلط تصورات کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔انہوں نے ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔لیکن جب ایک بار وہ بز نس کو سمجھ گئے تو ساری چیزیں آسان ہوگئیں ۔لیکن عجیب اتفاق کہ جب ہم ایئر لائن شروع کر نے والے تھے اسی وقت ہر شد مہتا بد عنوانی نے قوم کو ہلاکر رکھ دیا ۔نئی نرم معیشت میں ہلچل مچ گئی ۔سرمایہ کاروں نے اس طر ح کے ایک جوکھم بھرے کاروبار کو ہاتھ لگانے سے انکار کر دیا اور مکتی ایئر ویز کےپرپر واز سے پہلے ہی شدید زخمی ہوگئے ۔

ناکامی اور مایوسی

ایئر لائن کے ناکام ہونے سے میر ا دل ٹوٹ گیا۔میں نے اسے بنانے میں اپنی زندگی کے اہم سال لگائے لیکن میر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو رہا ہے ۔ جھٹکا اس وقت لگا جب وہ ٹوٹ گیا ۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اس کے بجائے میں نے ریئل اسٹیٹ میں اتنا وقت لگایا ہوتا تو آج ہم اس شعبے میں ملک کے اہم کھلاڑی ہوتے ۔

لیکن مڑ کر پیچھے دیکھنے پر مجھے پتہ چلا کہ کامیابی سے ہم لطف اندوز تو ہوسکتے ہیں ،مگر صحیح معنی میں ناکامی ہی ہمیں سکھاتی ہے۔کسی دن میں مکتی ایئر ویز کوایک حقیقت میں بد لوںگا۔تب تک میں نے جو حاصل کیا ہے اسی سے خوش ہوں ۔

زندگی میں کچھ بڑا کر نے والوں کو پیغام

کامیاب ہونا قابل ستائش ہے ،لیکن آپ صرف اپنے بارے میں سوچ کر ،زندگی میں کہیں آگے نہیں بڑھ سکتے ۔بڑی تصویر کے ایک حصہ کی شکل میں ،خود کو دیکھئے۔وہ کام کیجئے جو معنی رکھتا ہے اور دل سے کیجئے۔تب دیکھئے زندگی آپ کو کہا ں لے جاتی ہے۔