ایم این سی کی ملازمت چھوڑ بن گئے پولیس کانسٹیبل

0

کابھی کبھی شوق اور کمائی میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا پڑتا ہے تو کسی بھی شخص کے لئے یہ بہت مشکل گھڑی ہوتی ہے۔ روپیش کرشنا راؤ پوار نے ممبئ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کیا۔ اس کے دو سال بعد ویسا بینک میں ملازمت کی اور اب وہ پولیس کی وردی میں ملبوس ممبَئ پولیس میں ہیں۔

دراصل انگریزی میں مہارت نے روپیش کا آسانی سے ملازمتیں مل گئیں، لیکن گردہ خراب ہونے کی وجہ سے بیمار ان کے والد نے انہیں ایک دن پوچھ ہی لیا کہ کیا وہ اپنےوالد کی روایت کے مظابق پولس کی ملازمت حاصل نہیں کریں گے۔ روپیش کو اپنے والد کی بات پر عمل کرنا اہم لگا، حالانکہ ان کے دوستوں نے انہیں ایسا کرنے سے روکا، لیکن روپیش نے اپنی ایمانداری، محنت اور لگن سے پولس کی ملازمت میں بھی لوگوں میں اپنی جگہ بنائی۔

روپیش کا ماننا ہے کہ پولیس ایک صحتمند سماج کے لئے کافی ضروری ہے اور وہ اس کا حصہ بن کر فخر محصوص کرتے ہیں۔

سدحھارتھ ستیجیت کو ان کی زندگی کی کہانی اتنی پسند آئی کہ انہوں نے روپیش پر ایک فلم بنا ئی۔ اس فلم کا نام ہارٹ آف لائن رکھا گیا - ممبئ فلم فیسٹول میں دکھائی گئی اس فلم میں پولس فورس کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔

دل کو چھو لینے والی ویڑیو۔۔۔