مودی جی ! با عمل بنو !

0

ممتاز ماہر معاشیات اناطولے کالیستکی نے سن 2010 میں اس بات کی پیش قیاسی کی تھی کہ ایک نئی معیشت ابھر رہی ہے جس کا نہ تو بنیاد گرئی بازار سے تعلق ہوگا اور نہ ہی یہ حکومت گری کے مطابق ہوگی ۔یہ وہ وقت تھا جبکہ معیشت عالمی انحتاط کے ایک بدترین دور سے باہر نکل رہی تھی ۔ انہوںنے اس بات کی بھی پیش قیاسی کی تھی کہ معاشی ترقی کے تین دور مکمل ہوچکے ہیں اور دنیا اقتصادی ترقی کے چوتھے دور میں داخل ہورہی ہے ۔ جیسا کہ کالیستکی نے تحریر کیا ہے انیسویں صدی کی ابتدا سے 1930 تک کے دور کو آز ادانہ اقتصادی بازار یعنی فری مارکٹ اکنومی کا دور کہا جاتا ہے اس دور میں حکومت کسی بھی تجارت کو متاثر یا خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیتی تھی ۔اس کے بعدایک بڑے دباو اور سویت یونین میں کمیونسٹ تجربے نے مغربی دنیا کے ذہن کو بدل ڈالا اور پھر ایک نیا آئیڈیا نکل کر سامنے آیا کہ مارکٹ کو بھرپور آزادی نہیں دی جانی چاہیے اور سرکار کو بھی کچھ نہ کچھ ذمہ داری لینی ہوگی ۔اس نظریہ کو ریاست کی فلاح کے لئے ناگزیر قرار دیا گیا ۔ماہرین کے مطابق یہ نیو ڈیل تھیوری کہلائی ۔روز ویلٹ نے معاشی بحران پر قابو پانے کی کوششکی ۔ریاست اچانک اچانک بگ برادر بن گئی ۔تاہم ستر کی دہائی میں تیل کے بحران نے ماہرین معاشیات اور پالیسی کو اس بات کے لئے مجبور کیا کہ ایک بار پھر مارکٹ کے اصل جواز کو قبول کیا جائے ۔ رونالڈ ریگن اور مارگریٹ تھیچر نئے معاشی نظریے کے نئے مسیحا بن گئے ۔ریاستوں نے ایک بار پھر مارکٹ پر سے اپنا کنٹرول کھودیا ۔عدم مداحلت کی روایت ایک نئی شکل میں وجود میںآئی ۔دوسرے مرحلے کی معاشی ترقی کے قطع نظر اب مملکتیں ایک آسیب سمجھی جارہی تھیں اور قاعدوں کا تمسخر اڑایا جانے لگا تھا ۔اس بات پر زبردست بحث ہونے لگی تھی کہ جس طرح ریاست اور چرچ کو ایک دوسرے کی مداحلت سے الگ رکھا گیا ہے بالکل اسی طرح سے ریاست اور معیشت کو بھی ایک دوسرے سے الگ رکھنا چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک جامع معاشی نظام اور جوکھم سے ٓٓکے لئے یہ نہایت ضروری ہے ۔جوکھم سے آزاد اور

آزاد معاشی فروغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے ۔تاہم سن 2008 کے معاشی بحران نے ایک بار پھرتمام دعووں تمام جواز اور تمام دلیلوں کو نشان زد کردیا ۔اور پھر ایک نئی سوچ کے ساتھ دانشور اور ماہرین نئی راہیں کھوجنے میں مصروف ہوگئے ۔

موجودہ بحران کہیں زیادہ خطرناک اور کہیں زیادہ ضرر رساں ثابت ہوا ۔اور اندیشے مزید گہرے ہوتے گئے کیونکہ نئی بحث نئی راہ نئی اصطلاح اور نیا نظریہ کوئی شکل لینے سے قاصر تھا ۔ہندوستانیوں کے لئے تو یہ کہیں زیادہ جوکھم بھرا اور کہیں زیادہ تحدید آمیز ثابت ہورہا تھا ۔کیونکہ تاریخ میں پہلی بار ہندوستان ایک سنجیدہ اسٹیک ہولڈر بنا تھا اور پوری سنجیدگی کے ساتھ یہاں معاشی رد و بدل کیا گیا تھا ۔تاہم حکومت کے محاذ آرائی والے رویے کے باعث معاشی تجدید نہیں ہو پارہی ہے اور یہ رجحان بے حد تشویش ناک ہے ۔ مسٹر مودی پورے طمطراق کے ساتھ ملک کے وزیر آعظم چن کر آئے ۔انہیں قوم نے ایک ایسے شحص کے طور پر دیکھا جو ملک کا اقتصادی منظر نامہ بدل کر رکھ دے گا اور منموہن سنگھ کے مہنگائی کے دور کو پلک جھپکتے خوشحالی کے دور میں بدل دیگا ۔مگر بد قسمتی سے ایسا ہو نہیں پایا ۔

سنسکس جس کو ملک کی معیشت یا پھر اقتصادی صحت کا بیرو میٹر مانا جاتا ہے بہت تیزی سے انحطاط پذیر ہے ۔جب مودی نے وزیر آعظم کی حیثیت سے حلف لیا تھا تو سنسکس ستائیس ہزار پوائنٹ پر تھا مگر اب یہ گر کر چوبیس ہزار پوائینٹس تک نیچے آگیا ہے ۔اور یہ انحطاط وزیر فینانس کی ناقص کارکردگی کا بین ثبوت ہے ۔روپئے کی قدر گررہی ہے اور اب روپیہ ستر ڈالر تک پہنچ گیا ہے ۔اور ہر گذرتے دن کے ساتھ روپئے کی قدر میں مسلسل کمزوری ریکارڈ کی جارہی ہے ۔موقر رومنامہ ہندو نے رپورٹ کیا ہے کہ نومبر میں آٹھ اہم شعبوں کی کارکردگی انتہائی تشویشناک رہی ہے اور ان کا مظاہرہ %1.3 تک سمٹ کر رہگیا تھا اور یہ رجحان گذشتہ دہائی میں سب سے خراب کارکردگی کا مظہر ہے ۔گذشتہ کچھ برسوں میں پیداوار کے شعبے میں کمزوری آئی ہے شرح نمو نومبر میں% 4.4 کی شرح تک گھٹ گئی تھی ۔ انگریزی روزنامہ ہندو نے اس بات کی بھی رپورٹ دی ہے کہ صنعتی پیداوار کی شرح اکتوبر سے پہلے % 9.8 فیصد تھی جو نومبر میں گھٹ کر 3.2% ہوگئی ہے ۔یہ سن دو ہزار گیارہ کے بعد اب تک کا سب سے بدترین مظاہرہ ہے ۔ٹائیمس لکھتا ہے گو کہ ہندوستان اس برس 7 سے 7.5% کی شرح نمو کی توقع رکھتا تھا تاہم کارپوریٹ انڈیا میں کی شرح نمو تیز رفتاری سے زوال پذیر رہی ۔دو مسلسل کمزوروں مانسونوں کے باعث دیہی مانگ میں تیزی سے گراوٹ آئئی جس کا نتیجہ بینک کے شعبے پر زبردست دباو اور بھاری قرضہ جات کی شکل میں سامنے آیا ۔

ہندوستان کے لئے خوش قسمتی کی بات یہ تھی کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے گری تھیں ۔جب مودی نے وزیر آعظم کی حیثیت سے حلف لیا تھا تو اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت فی بیرل ایک سو تینتیس ڈالر تھی اور ان قیمتوں میں اتنی تیزی سے گراوٹ آئی کہ خام تیل کی قیمت آج عالمی منڈی میں تیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ۔یہ رجحان افراط زر کی گرتی شرحوں سے نمٹنے اور مقابلہ کرنے میں معاون مدد گار ثابت ہوا ہے ۔ اس سے شرح مبادلہ کے ذخائیر محفوظ رکھنے کی بھی مدد ملی ہے ۔تاہم چینی مارکٹ میں بحران کے باعث عالمی معیشت اتار چڑھاو سے دو چار ہوئی ہے ۔گذشتہ پچیس برسوں میں پہلی بار آنے والے اس کمزور معاشی مظاہرے نے ایک نئی تشویش پیدا کی ہے ۔چین کے اس معاشی بحران نے جنوری کے اس مہینے میں عالمی منڈی کو ایک ایسی کیفیت سے دو چار کردیا ہے کہ ایسا گذشتہ دہائی میں بھی نہیں دیکھا گیا تھا ۔بینک آف امریکہ کے میرل لنچ کا کہنا ہے ”جنوری کے محض تین ہفتوں میں عالمی اسٹاک کی قدر میں کچھ 7.8 ٹریلین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ ایک گھمبیر صورتحال ہے ۔امریکہ کے ماہرین معاشیات نے پہلے ہی اس بات کے اشارے دیدیے ہیں کہ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت ایک بار پھر شدید بحران سے دو چار ہوسکتی ہے اور اندیشہ ہے کہ انحتاط کی شرح میں پندرہ سے بیس فیصد تک کا اضافہ ہوگا ۔گراوٹ کا یہ رجحان عالمی مارکٹ کے لئے ایک ہولناک خطرے کا سگنل ثابت ہوسکتا ہے ۔

المناک پہلو تو یہ ہے کہ حکومت ہند آج بھی اس معاشی بحران پر قابو پانے یا اس سے نمٹنے میں پر عزم نظر نہیں ٓاتی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے حکومت کا اعتماد جاتا رہا ہے ۔سن انیس سو پچاسی کے بعد پہلی بار ایک بھرپور اکثریت کے ساتھ حکومت اقتدار میں آئی ہے اس کے باوجود مودی حکومت نے اپنے اقتدار کی ابتدا میں معاشی اصلاحات کی طرف نہ تو توجہ دی اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی قسم کی پیش قدمی کی گئی ۔اس خوش فہمی کے ساتھ بی جے پی نے ایک فاش غلطی کی کہ اسے لوک سبھا میں درکار اکثریت حاصل ہے اور اس زعم میں اس کا رویہ جارحانہ ہوگیا نتیجہ پارلیمنٹ کے مسلسل تعطل کی شکل میں سامنے آیا ۔جی ایس ٹی بل کا پاس نہ ہونا اور کئی معاملات میں بی جے پی کو ایوان میں شدید رکاوٹ کا سامنا اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔اس کے علاوہ اصلاحات کے نام پر بی جے پی کے اقدامات عوام میں بی جے پی کے تئیں ایک بڑی ناراضگی اور عدم اعتمادی کا باعث بنے گویا اب بی جے پی پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا تھا ۔ایور یہ ناراضگی دلی اور بہار کے انتخابات میں بی جے پی کی بد ترین شکست کی شکل میں سامنے آئی ۔دلی اور بہار میں بی جے پی کو ملی ہزیمت ناک شکست کے باعث وزیر آعظم کمزور ہوتے چلے گئے ۔اپوزیشن نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خون کا مزہ چکھ لیا ہے اور اب وہ کوئی موقع ہاتھ سے کھونا نہیں چاہتی ۔وہ کسی بھی حال بی جے پی حکومت کو چین سے بیٹھنے دینا نہیں چاہتی ہے ۔

جب مارکٹ اپنے بل پر استحکام حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو پھر مجبورا ریاست کو مداخلت کرنی پڑتی ہے ۔ریاست ایسا ماحول بناتی ہے کہ جس سے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں میں اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے اور ایک ماحول بنتا ہے ۔اور پھر انہیں بڑے فیصلے کرنے کا حوصلہ ملتا ہے ۔تاہم اس کے لئے اداروں کی حمایت اور مقننہ کی پشت پناہی ناگزیر ہوتی ہے ۔تاہم بیجے پی سرکار اس حقیقیت کو یا تو جانتی نہیں ہے یا پھر جان بوجھ کر نظریں چرارہی ہے اسے اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لئے بغیر اور ساز گار فضا بنائے بغیر کوئی بھی قدم اٹھایا نہیں جاسکتا اور اپوزیشن سرکار کی اس کج فہمی سے بھر پور لطف اٹھارہی ہے ۔معیشت کا جو نیا ماڈل ہے اس کے مطابق ریاست اور مارکٹ کے مابین اشتراکیت بے حد ضروری ہے وہ زمانے لد گئے جب مارکٹ اور ریاست مخالف سمت میں کام کرتے تھے ۔ہندوستان کو اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم آج بھی ایک مکمل جمہوریت نہیں ہیں اور مغربی ملکوں کے بر خلاف ہم آج بھی ایک بدلتی معیشت سے دو چار ہیں ۔لہذا ہمیں جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ بہت نہیں بلکہ کہیں زیادہ مشکل ہیں ۔معاشی اچھال سے باہر آنے کے لئے حکومت ہند کو اب اپنے رویہ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور

بہت زیادہ شائیستہ ہونے کی ضرورت ہے۔اور پھر سماج کے تمام سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے رابطوںکو بہتر بنانا بھی اس موقع پر نہایت ضروری ہوگا ۔تمام جمہوری اداروں کو اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا اور حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدہ کام کرنے ہونگے اور اپوزیشن کو اس بات کا یقین دلانا ہوگا کہ بتدریج تبدیل ہوتے اس عالمی معاشی تناظر میں سب کو مل کر اس مسئلے پر قابو پانا ہے ۔جب تک حکومت اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریگی اس وقت تک اس معاشی بحران پر قابو نہیں پایا جاسکتا ۔افسو س کہ حکومت اس کوشش میں ابھی بھی یا تو پس و پیش کا شکار نظر آتی ہے یا پھرہٹ دھرم ۔

ملک کے پالیسی سازوں کے لئے یہاں میں ماہر معاشیات کیلیستکی کے اس مقولہ کو پیش کرنا چاہونگا جس میں انہوںنے کہا ہے ” سرمایہ دارانہ نظام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت اور مارکٹس غلطی کرتے ہیں اس وجہ سے نہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہوجاتے ہیں بینکار لالچی اور بزنیس مین نا اہل اور ووٹر احمق بلکہ اس وجہ سے بھی کہ دنیا اب بہت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے اور غیر متوقع طور پر کسی بھی فیصلہ ساز میکانزم کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا آسان نہیں رہا ۔ ایسے میں محض عمل کی باتیں عوامی پالیسی کے لئے قابل عمل نہیں ہوسکتیں ۔لہذا مودی جی اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ دکھاوے کے مزاج سے باہر آئیں اور پوری سنجیدگی کے ساتھ با عمل بن جائیں ۔اور آپ کو اس حقیقیت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ آج کی اس جدید دنیا میں پرانے ساز (یعنی کہ گھسے پٹے ہتھکنڈے ) کام نہیں آسکتے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون نگار ۔آسوتوش۔

ترجمہ و تلخیص۔سید سجاد الحسنین۔