فلمی نغموں کے لطف کے ساتھ بھولے بھٹکے بچوں کو ماں باپ سے ملاتا ہے نمائش ریڈیو

0

حیدرآباد میں کل ہند صنعتی نمائش جاری ہے ۔ تفریح کے انگنت ساز و سامان یہاں موجود ہیں ۔ یہ نماَئش ہر سال یکم جنوری سے لے کر 15 فروری تک جاری رہتی ہے۔ یہاں ملک بھر کے کاروباری اور صنعتکار اپنے اشیاء کی نمائش اور فروخت کے لَئے آتے ہیں۔ یہاں کی بہت ساری خوصوصیات میں یہاں کا ریڑیو اسٹیشن بھی ہے۔ جس پر مشہور فلمی نغمے اور امین سیانی کے انداز میں اعلانات شائقین کا دل بہلاتے ہیں۔ ریڑیو میںپرانے فلمی نغموں کی لمبی فہرست ہے۔ لیکن نئی آوازیں بھی `نمائش میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔ روزانہ تقریباً ا لاکھ لوگ نمائش میں آتے ہیں۔

کل ہند صنعتی نمائش کے طور پر کئی ساری چیزیں توجہ کا مرکزہیں۔ ایک توجہ اس ریڈیو بھی ہے، جب بجتا ہے تو نئی اور پرانی نسل کے درمیان تفریحی دلچسپی کا فرق مٹاتے ہوئے، سب کے کانوں میں منفرد رس گھولتا ہے۔ اس میں جہاں پرانے دور کی یاد دلانے والے موسیقی سے لبریز نغموں کو سننے کا اپنا مزہ ہے، وہیں کچھ نئی آوازیں بھی ریڈیو پر بج اٹھتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس دور کے نغموں میں بھی جوش اور کشش کی کمی نہیں ہے۔

نمائش کمیٹی کی طرف سے نمائش کے دوران شام چار بجے سے لے کر رات گیارہ بجے تک ریڈیو لاکھوں افراد کی تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے، بلکہ پچھلی نسل کے ہزارہا لوگ تو صرف اس ریڈیو پر سدا بہار نغمات سننے کے لئے نمائش کا رخ کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ریڈیو کے لاؤڈ اسپيكرو سے نمائش کے ماحول میں اپنے دور کے پسندیدہ نغمات سننے کا لطف منفرد ہے۔

یوں تو لتا، رفیع، مکیش کے گائے مشہور نغموں کا خاص مجموعہ اس ریڈیو سے بجتا ہی ہے، لیکن اے کے۔ سيگل، ہیمنت کمار، منناڈے، طلعت عزیز اور بعد کی نسل کے ادت نارائن، کمار سانو اور سونو نگم کے منتخب گیت بھی نمائش ریڈیو کے مجموعہ کا حصہ ہیں۔ غلام علی، جگجیت سنگھ، انوپ جلوٹا اور نصرت فتح علی خان کی غزلیں بھی اس میں شامل ہیں۔ نور جہاں کی آواز میں چاندنی راتیں ۔۔۔، آواز دے کہاں ہے ۔۔ اور جواں ہے محبت ہنسیں ہے زمانہ ۔۔۔ جیسے نغمات سن کر طبیعت پھڑک اٹھتی ہے۔ ثریا اور شمشاد بانو کے گیت بھی سماں باندھتے ہیں۔

نمائش کمیٹی کی معلومات اور پی آر کمیٹی کے کنوینر وی دياكر شاستری حالانکہ اس بات کے حامی ہیں کہ پرانے گیتوں میں جو لطف آتا ہے، وہ نئے نغموں میں نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ نئے زمانے کی نسل کو بھی ریڈیو سے جوڑنا ضروری ہے اور مسہورکن نغموں کو سنانے کے اصول بھی برقرار رکھنا ہے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے گزشتہ پندرہ بیس سالوں میں آئے کچھ اچھے گیت بھی نمائش ریڈیو کے کلیکشن میں شامل ہو گئے ہیں۔ جن میں بھیگے ہونٹ تیرے، بہتی ہوا سا تھا،.... اگر آپ نے جاؤ،... کس طرح بتائیں ہم تجھ کو چاہیں ۔۔ طرح کچھ نغمات شامل ہیں اور اس کے ساتھ ہی نئی نسل کے کنال گاجاوالا، شان، شرےيا گھوشال اور عاطف اسلم جیسے گلوکاروں کی آوازیں نمائش کے ماحول میں گونجنے لگتی ہیں۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نمائش کے دوران ریڈیو کا آغاز ستیہ نارائن کی کہانی سے ہوتی ہے اور پہلے پندرہ منٹ تک بھجن اور صوفی کلام نشر ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر ہر دن مختلف نغموں کا کلیکشن پیش کیا جاتا ہے۔ مشہور گیتوں کا نمبر بھی ایک بار بجنے کے بعد تین سے چار دن تک نہیں آتا۔

نغمے کے درمیان میں جہاں کچھ اشتہارات آتے ہیں، وہیں احتیاطی پیغام بھی جاری رہتے ہیں۔ جیب كتروں سے ہوشیار رہیے، اپنے اپنے پرس اور بچوں کا خاص خیال ركھيے۔ ساتھ ہی بھولے بھٹکے بچوں سے کبھی انجان اور کبھی پریشان والدین کو کہا جاتا ہے کہ ان کے بچے ریڈیو اسٹیشن میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نمائش میں بچے گم ہونے کے بعد بچے ذیادہ پریشان نہیں ہوتے۔ اناوںسر کی ہندی، اردو، تیلگو اور اگریزی میں نشر اطلاعات سے لوگ اپنے آس پاس نگاہ ڈال کر ٹٹولتے ہیں کہ ان کے بچے ان کے ساتھ ہیں یا نہیں۔

لیکن ریڈیو اس کے بعد بھی جاری رہتا ہے

تشہیری کمیٹی کے رکن روی یادو بتاتے ہیں کہ نمائش ریڈیو میں نغمات سننے کا لطف لیتے ہوئے کچھ لوگ ریڈیو اسٹیشن تک آکر یہ بتا کر بھی جاتے ہیں کہ انہیں کون سا نغمہ سن کر کیسا تجربہ ہوا۔ یہ اس لئے بھی کی وہ جب ایک لاؤڈ اسپیکر کی رینج سے دوسرے لاؤڈ اسپیکر کی حد میں داخل ہونے لگتے ہیں تو وہ وقت ایکو کے اثرات سے ایک خاص ماحول بناتا ہے اور سننے والوں کی پرانی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔

نمائش کی شام جیسے جیسے رات کی طرف آگے بڑھنے لگتی ہے تو گیتوں کی سنجیدگی بھی اسی قسم بدلتی جاتی ہے اور تقریبا 11 بجے نوشاد اور غلام محمد کی ہدایت میں موسیقی سے سجے فلم پاکیزہ کا نغمہ شروع ہوتا ہے، ۔۔ چلتے چلتے۔ ۔۔ يونہی کوئی مل گیا تھا، سرے راہ چلتے چلتے۔.... ریڈیو کے اس گیت کے ساتھ ہی نمائش کی ریل اپنے آخری راوںڈ پر نکل پڑتی ہے۔ غزل کے شعر یہ چراغ بجھ رہے ہیں میرے ساتھ جلتے جلتے ۔۔۔، سے اسٹال آپریٹر سمجھ جاتے ہیں کہ نمائش میں عوامی لائٹیں بھی بند ہوجائیں گی۔

۔۔۔ لیکن ریڈیو اس کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ نائٹ ڈیوٹی کے اناونسر کی ذمہ داری بھولے بھٹکے بچوں کا اعلان کرکے ان کے والیدین کی مدد کرنا ہوتا ہے، ریڈیو یہ ذمہ داری کبھی رات 12 تک تو کبھی 1 بجے ادا کرتا رہتا ہے۔ نمائش ریڈیو کے گیتوں کا سماں یاد رہ جاتا ہے، کشور کمار کے اس گیت کی طرح ۔۔۔ چلتے چلتے میرے یہ گیت یاد رکھنا، کبھی الوداع نہ کہنا ۔۔۔ کبھی ۔۔۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem