ہو بلندی پر ایک مقام اپنا.... ایک سلائی مشین سے شروع ہوا کاروبار پہنچا کئی ملکوں تک

0

زندگی کب، کہاں، کونسا موڑاختیار کرے، طے نہیں ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے، اچانک.. جس کے بارے میں آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ ایسے وقت آپ کیا کریں گے؟ کس طرح حالات کا سامنا کریں گے؟ اس کے لئے آپ کو پہلے سے تیار رہنا پڑےگا۔

شویتا سونی کی کہانی سے بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ شویتا سونی مطمئن اور بے فکر گھریلو خاتون تھیں۔ ایک دن اچانک ان کی زندگی میں بھونچال سا آ گیا۔ ان کے شوہر کے قلب پر حملہ ہوا۔ گھریلو کاموں میں مشغول رہنے والی شویتا کے سامنےزندگی کا سب سے بڑا سوال تھا، اب وہ کیاکرے؟ یہی وہ موڑ تھا، جس نے شویتا سونی کو طلاش معاش کی جانب پہلا قدم رکھنے پر مجبور کیا۔ شویتا نے 2013 میں 'امبر جئے پور' کی شروعات کی۔ بچوں کےملبوسات کے شعبہ میں انہیں کافی جگہ خالی لگتی تھی جہاں وہ خود کو آزمانا چاہتی تھی۔ وہ ہندوستانی ہینڈ بلاکس کے ساتھ مغربی طرز کے ملبوسات تیار کرتی ہیں، ہندوستانی طرز میں لڑکیوں کے لئے لھنگہ، چولی اور لڑکوں کے لئے کرتا پاجاما، قمیض اور نہرو جیکٹ شامل ہے۔ شویتا نےصرف ایک درزی اور دوست سے ادھار لی گئی سلائی مشین کے ساتھ جئے پور میں اپنا کام شروع کیا۔ وہ کہتی ہیں،" ڈیڑھ سال میں میرے پاس 8 ملازم ہیں اورمشینوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ اگلے 2 برسوں میں اس تعداد کو پچاس کرنے کامنصوبہ ہے۔ ''میں نے ابتداء میں اپنے فیس بک صفحے پر کا روبار شروع کیااور دیکھ کر حیران رہ گئی کہ میرے فیس بک کے صفحہ پر موجود دوست آرڈر بک کرنے لگے۔ اندررن 2 ماہ ایک آسٹریلین کمپنی نے میرا کلکشن دیکھااور پہلا آرڈر دینے کے لئے بلایا۔ "شویتا کو خود کفیل بننے سے روکنے کے پیچھے حاسدوں کی کمی نہیں تھی۔ وہ یوپی کے ایک چھوٹے سے قصبے شاہجہاںپور میں پلی بڑھی تھی۔ تعلیم میں اچھی ہونے کے ساتھ وہ اختراعی سوچ بھی رکھتی تھی۔ 90 کے دہے میں تخلیقی صلاحیتوں کو شوق کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ساری توانائی ڈاکٹر انجینئر یا پھر آئی اے ایس بننے پر صرف کی جاتی تھی۔ شویتا نے 12ویں جماعت سائنس کے مضمون میں تکمیل تو کی لیکن اچھے نمبر نہیں آئے وہ مایوس ہوچکی تھیں۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو کنارے رکھ کر مکمل طور مسترد کردیا گیا، ان کی کارکردگی متاثر ہونے لگی، تعلیم میں دلچسپی ختم ہو گئی اور ان کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ انہوں نے اپنی اسٹریم تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور جئے پور میں اپنی نانی کے گھر میں رہتے ہوئے آرٹس میں گریجویشن مکمل کیا۔ وہ کہتی ہیں، ''اس وقت میں نے زندگی میں کچھ حاصل کرنے کی خواہش ترک کردی تھی۔ دیگر ہندوستانی لڑکیوں کی طرح شادی کرلی اور اختراعی، تخلیقی صلاحیتوں جیسے الفاظ بھول گئی۔ ایک چھوٹے سے دیہات میں جہاں اکسپوزر کے مواقع نہیں تھے، ایسے وقت میں جب انٹرنیٹ نہیں تھا اور معیشیت کے متعلق لوگوں کی معلومات بہت کم ہوا کرتی تھی۔ کم عمر میں شادی اور کچھ کرنے کے محدودمواقع، زیادہ سے زیادہ ہم نے جو سنا یا دیکھا تھا، کسی آنٹی یا عورت کا بیوٹی پارلریا دکان چلانا بہت بڑی بات تھی۔ والدین کو بھی ان کی خواہشات سے زیادہ شادی کی فکر ہوتی۔ ایسے ماحول میں میں ماننے لگی تھی کہ عورت کا کام شادی کرنا اور خاندان کو آگے بڑھانا ہے۔ میں کہوں گی کہ یہ میری سب سے بڑی بھول تھی۔"

شویتا کو جب ایک رات احساس ہوا کہ اس کا شوہر امراض قلب سے متاثر ہے، تب اسے لگا کہ وہ ایک ایسے غبارے میں سوار ہے،جو پھٹ چکا۔ وہ اپنے شوہر کو ہسپتال لے گئی اور ڈاکٹروں نے اس کی زندگی بچا لی۔ اس کے سسر کو گاڑی چلانا نہیں آتا تھا اور وہ خود ایک اچھی ڈرائیور نہیں تھی، لہذا اسے خراب حالات سے دو چارہونا پڑا۔ اس رات کو یاد کر کے آج بھی ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

"ان 5-6 دنوں میں ہسپتال کے اندر باہر اور گھر میں مجھے اچانک بہت سے فیصلے لینے پڑے۔ مجھے ہر ذمہ داری قبول کرنی پڑی۔ تاہم میں جذباتی اور جسمانی طور پر ٹوٹ چکی تھی، لیکن کبھی اپنے بچوں اور سسرال والوں کے سامنے نہیں روئی۔"

شوہر کی بیماری کی وجحہ سے ذمہ داریاں اٹھانےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ تاہم، بعد میں اس کی صحت بہتر ہوتی گئی۔ شویتا نےاس کا اس کے کام اور تمام گھریلو کاموں کا خیال رکھا۔ اس کا کہنا ہے،

''میں نے محسوس کیا کہ مشکل حالات میں، میں ایک مضبوط انسان بن سکتی ہوں۔ مجھے صرف اپنے آپ پریقین رکھنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنا انٹرپرائز شروع کرنے کے لئے خود کو منانا تھا۔''

زندگی میں پہلی بار شویتا نے محسوس کیا تھا کہ اسے خود کفیل بننا ہے۔ اس کے بعد تمام چیلنج چھوٹےناظر آتے گئے۔ انہوں نے زندگی میں کبھی گھر کی چہاردیواری باہر کام نہیں کیا تھا۔ سرمایہ ایک مسئلہ تھا، لیکن سب سے بڑا مسئلہ اس میں اعتماد کاتھا۔ انٹر پرایزشروع ہوا اورآہستہ آہستہ جب ان کے ڈیزائن کی تعریف ہونے لگی، خود پر اعتماد بڑھتا گیااور انٹرپرائز کی بھی ترقی ہونے لگی۔

"ہرعورت کو میرا پہلا مشورہ ہے کم از کم ایک بار کوشش ضرور کرے۔ اپنی صلاحیتوں کو جاننےکی، انہیں منوانے کی۔ جب تک آپ کوشش نہ کریں گے آپ کو معلوم ناہیں ہوگا کہ آپ میں کیا خوبیاں ہیں، آپ آگے نہیں بڑھ پائیں گی۔ اگر میری زندگی میں برے حالات نہیں ہوتے، میں اپنی صلاحیت اورشناخت ختم کردیتی۔ لوگوں کو اپنے والد یا شوہر کی بجائے، اپنی شناخت کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔ "

شویتا کا ماننا ہے کہ جب ہم ایک عورت کے طور پر مساوات کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو ہماری ذمہ داری دگنی ہو جاتی ہے۔ عورت کے طور پر ہمیں اپنے مردوں کا مکمل تعا ون کرنا چاہئے، چاہے وہ باپ ہو یا شوہر یا پھر بیٹااقتصادی، ذہنی طور پر ساتھ دینا ہو۔

شویتا کو اپنے شوہر سے حوصلہ ملتا ہے۔ وہ اس کی انٹرپرائز اور دونوں بچوں کی پرورش میں مدد کر رہے ہیں۔ وہ جب اپنے بچون اور شوہر کو اپنے ڈیزائن کئے ہوئے کپڑے پہنے دیکھتی ہیں، تو اسےفخر محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں،''آپ کو ہمیشہ پرجوش رہینے کی ضرورت ہے۔

آپ سے محبت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔ صارفین کی تعریف انہیں اچھا کام کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتی ہے، لیکن شویتا تب بھی محسوس کرتی ہیں۔

"مجھے پتہ ہے میں وہاں پہنچ جاؤں گی، میں نہیں جانتی کب لیکن، ایک چیز ضرور جانتی ہوں کہ میرا کام مجھے اپنی منزل تک پہنچائےگا۔"

تاہم شویتا اپنے آپ کو مزید ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے اور بلندی تک پرواز کرنا چاہتی ہیں۔ "میں نے ایک مشہور ڈیزاینر نہیں بننا چاہتی۔ میں نہیں چاہتی کہ لوگ میرے لباس اونچی قیمتوں پر خریدیں۔ میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ میرے کپڑے ہندوستان اور بیرون ملک کے زیادہ تر اسٹورز میں مناسب داموں پردستیاب۔ میں چاہوں گی کہ بیرون ملک میں رہنے والے تمام بچے ہندوستانی ڈیزائن کے کپڑے پہنیں ۔ میں چاہتی ہوں میرا برانڈ گلوبل برانڈ میں تبدیل ہو جائے۔