نایاب دستکاری کے نمونوں کوزندہ رکھنے والی ثریا آپا

0

ہتھكرگھے سے بنی ہوئی سادہ، نفیس، ہلکے رنگ کی، لیکن خوبصورت ڑزائن کی ساڑی، اسی سے میل کھاتا سفید رنگ کا بلاؤز پہنے بااثر قد و قامت کی جس سليقےمںد خاتون سے ہم ملتے ہیں، یہی ثریا آپا ہیں۔ سفید بالوں کو بہت قرينے سے باندھے ہوئے عینک کے شیشوں کے اندر سے جو آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں، ان میں خوب پیار بھرا ہوا ہے۔ بہت ہلکے سے جو بول ہوٹوں سے نکلتے ہیں، ان میں بھی ایک عجیب سی چاشنی ہے۔ شاید اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ان سے پہلی بار مل رہا ہے یا پھر پرانی ملاقات ہے۔ ملنے والے کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک تجربہ کار، لطیف احساس رکھنے والی بزرگ شخصيت کے سامنے بیٹھا ہے اور اتنی ہی شفقت وہ بھی پاتا ہے۔ اپنی اپنی عمر کے حساب سے دادی، بڑی ماں، کاکی، پھوپھی چاہے جو رشتہ تلاش کریں، لیکن وہ سب کے لئے آپا ہیں، ثریا آپا۔

ثریا حسن بوس، یہی نام ہے ان کا۔ ان کی عمر کے بارے میں سن کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بڑھاپے نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ہے، لیکن انہیں دیکھ کر ہم حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ لگتا ہے وہ عمر کو زندگی کی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر چکما دے کرآگے نکل آئی ہیں اورعمر کا اثر ان کی تلاش میں کہیں اور بھٹک رہا ہے۔ چست تندرست، بڑی خوش مزاجی کے ساتھ اپنی ہی دھن میں آفس سے لوم، لوم سے گھر اور گھر سے اسکول گھومتے ہوئے دن کب گزر جاتا ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔ دیکھنے والے تو اب عادی ہو گئے ہیں، لیکن سنکرحیرت ضرور ہوتی ہے کہ الصبح 4 بجے سے رات 10 بجے تک ثریا آپا کی زندگی 88 سال کی عمر میں بھی مشغولیات سے بھرپور ہے۔

عابڈس جہاں انیسویں صدی کے آخری دنوں میں ہی نوابوں، جاگیرداروں، امیر اور رئیس لوگوں نے اپنے مکان بنا لئے تھے۔ اسی محلے میں ثریا حسن کی پیدائش 1928 میں ایک ایسے حیدرآبادی خاندان میں ہوئی، جس نے گاندھی جی کے اصولوں پر چلتے ہوئے هتھكرگھے کو تو اپنایا ہی ساتھ ہی ساتھ غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان ہوا تو گھر کا سارا غیرملکی سامان سڑک پر لا کرآگ لگا دی۔

ثریا حسن کے والد بدرا لحسن نے عابڈس میں ہی ایک کتاب کی دکان شروع کی تھی، جہاں دنیا بھر کی نئی کتابوں کے ایڈیشن اس وقت کے پڑھنے کے شوقین اوردلدادہ لوگوں کے لئے توجہ کا مرکز ہوتے۔ وہ حیدرآباد میں اپنی نوعیت کی پہلی دکان تھی، جہاں انگریزی کی کتابیں آسانی سے ملا کرتیں۔ انہی دنوں بدرالحسن نے تلنگانہ کے اضلاع میں گھوم گھوم کراچھے کپڑے بننے والے کاریگروں کی تلاش شروع کر دی اور ایک هتھكرگا مرکزبھی شروع کیا۔ وہ بدری فن میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ مختلف ڈزائن کے رومال اور شال تیار کرنے میں ان کی کافی دلچحسپی تھی- بدرالحسن زیادہ نہیں جئے،لیکن انہونے صنعتکاری کا جذبہ بیٹی سریہ کے دماغ میں منتقل کر دیا تھا۔ ثریا 5 سال ہی تھیں کہ والد کا انتقال ہو گیا۔

ثریا حسن نے اپنی ابتدائی تعلیم گرامراسکول میں حاصل کی۔ انٹرميڈيٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے والد کی سے چھوڑی گئی وراثت، یعنی کاٹیج انڈسٹری ایمپوريم میں دلچسپی لینی شروع کر دی۔ انہی دنوں مہدی نواز جنگ نے ہینڈ لوم کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کوآپریٹو سوسائٹی کی شروعات کی تھی۔ ثریہ اس کام میں ان کے ساتھ شامل ہو گئیں۔ حیدرآباد ریاست کے ہندوستان میں ضم ہونے کے بعد جب اسمبلی کا کام شروع ہوا تو یہاں بھی انہوں نے ایک سال تک کام کیا۔ ان دنوں ہینڈ لوم اور ہںڈی كرافٹ میں ان کی سرگرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک اور بیرون ملک سے آنے والے محقق مقامی معلومات حاصل کرنے کے لئے ان سے رابطہ کرتے۔ اسی دوران ایک جرمن لیڈی ہمبرگ یونیورسٹی کی پروفیسر ماریا دہلی سے حیدرآباد تھیں۔ وہ آندھرا پردیش کی کاریگروں پر تحقیق کر رہی تھی۔ انہیں آندھرا پردیش کے گاؤں گاؤں گھمانے کی ذمہ داری ثریا حسن کو دی گئی۔ انہیں ہینڈ لوم میں کافی دلچسپی تھی۔ ثریا کے ساتھ انہوں نے ورنگل، كوںڈاپلی اورآس پاس کی کئی صنعتوں کا دورہ کیا۔ ثریا کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا یہاں کیا کر رہی ہو، دہلی چلی آؤ۔ ماریا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پپل جيكر کے ساتھ کام کریں۔ پھر کیا تھا۔ ثریا نے اپنی ماں کبری بیگم کے ساتھ دہلی کا رخ کیا۔ دستکاری میں مشہور پپل جيكر کے ساتھ ان کے جذبہ کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا۔ اس نئے تجربے کے بارے میں ثریا آپا کہتی ہیں 'حیدرآباد میں کے ہینڈ لوم کاریگری پرعلاقائی اثر رہا ہے۔ ماحول، راجگھرانو اور مقامی لوگوں کا بھی اثر رہا۔ دہلی گئیں تو یہاں کا کام کافی وسیع تھا، ملک بھر کے مختلف اسلوب اپنائے جا رہے تھے۔ یہاں مجھے سارے ملک کی ہینڈ لوم آرٹ اور ڈزائن کو جاننے کا موقع ملا۔ '

یہ آزادی کے بالکل بعد کا دور تھا۔ تاہم حیدرآباد کا نام کافی مشہور تھا، لیکن پنجاب کی کشیداکاری مختلف تھی، لکھنؤ کے فن کا اندازمختلف تھا۔ بنارس کی چیزیں کچھ دوسری طرح کی تھیں، تو بنگال کی بنت کی سٹائل کچھ مختلف ہی تھا۔ کولکتہ میں وہاں کے فن وثقافت کے اثرات ہتھكرگھے پر خوب تھے، شوخ رنگوں کا استعمال کپڑے کے لئے کیا جاتا۔ جنوبی ہند بالخصوص مدراس میں سلک اور كاںچيپرم کے لباس کافی پسند کیے جاتے۔ شمال میں لباس کے ملائم هونے پر زیادہ زور دیا جاتا۔ بنجاروں کی سلائی کے نمونے بھی خاص اہمیت رکھتے تھے۔ ثریہ آپا کو دہلی میں یہ سب جاننے کا موقع ملا۔ ان کے تجربے کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند نے انہیں ہندوستانی شلپكلا اور ہتکرگھا ایکسپورٹ کارپوریشن میں افسرمقرر کیا۔ مسز پپل جيكر کارپوریشن کی اہم عہدیدار تھیں۔

حیدرآباد سے دہلی پہنچی نوجوان ثریہ کے دل میں ہینڈ لوم کے علاوہ بچپن سے ہی ایک اور شوق پل رہا تھا۔ وہ ڈاکٹربنناچاہتی تھیں، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ حالات نے انہیں اس جانب موڈ دیا جہاں مقامی میں مقامی دستکاری صنعت تقریبا بیجان پڑ گئی تھی ۔ آزادی کے بعد پپل جيكر نے ہاتھ میں جب شلپكلا اور ہتھكرگھا ایکسپورٹ کارپوریشن کی ذمہ داری سنبھالی تو وہ ملک کے قدیم ڈزائنوں پر کام ہونے لگا۔ ثریہ نے جب دیکھا کہ انہیں ہندوستانی بُنائی کے بارے میں تو کافی معلومات ہے، لیکن بیرون ملک بالخصوص یورپ میں کس طرح بُنائی ہوتی ہے، یہ سیکھنے کا شوق ہوا اور اسی نیت سے وہ ایک سال کے لئے لندن چلی گئیں۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا- ثریا آپا بتاتی ہیں، 'میں لندن سے ہینڈ لوم میں سرٹیفکیٹ کورس کرنا چاہتی تھی۔ جب داخلہ ملا اور تربیت شروع ہوئی تو پانچ بجے انسٹی ٹیوٹ سے چھٹی مل جاتي تھی۔ اب سوال تھا کہ پانچ بجے کے بعد کیا کریں۔ بچپن سے ایک خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں، لیکن نہیں بن سکی۔ اب ایک خواہش ہوئی کہ ڈاکٹر نہ سہی نرس کا کام تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ اسی ارادے سے میں هیڑںگٹن ہاسپٹل پہنچی اور اپنا ارادہ بتایا۔ انہوں نے اس سے پہلے کسی ہسپتال میں کام کرنے کا میرا تجربہ اور کوئی سرٹیفکیٹ پوچھا۔ میرے پاس ایسا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔ میں نے ان کے سامنے ایک تجویز پیش کی۔ میں نے کہا کہ چھ دن بغیر کسی تنخواہ کے کام کروں گی، اگر پسند آیا تو کام آگے جاری رہے گا، ورنہ چُھٹی۔ وہ اس بات پر راضی ہو گئے۔ ایک ہفتے کے بعد میں نے ان سے رائے پوچھی تو وہ بہت خوش ہوئے اور پھر 5 بجے کے بعد کافی وقت ہسپتال میں گزرنے لگا۔ آٹھ مہینے وہاں کام کیا۔ آخری دنوں میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ جسے میں شاید زندگی بھر نہیں بھول پاؤں اور شاید وہ مریض بھی۔ '

`مجھے ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنا اچھا لگتا۔ اس اتوار کا پورا دن بھی میں وہیں بتاتی۔ ایک رات ایک مریض کو ہسپتال لایا گیا۔ وہ کسی چرچ کے پادری تھے اور انہیں دل کی بیماری تھی، لیکن ایک اور مسئلہ یہ تھا کہ مکمل جسم کسی اور بیماری سے متاثرتھا اور جلد کی كھپلياں ہاتھ لگاتے ہی نکلنے لگتی تھی۔ وہ ہفتے کی رات تھی، دوسرے دن ہسپتال کے لوگ بڑی تعداد میں چھٹی پر رہتے تھے۔ میں نے اس کی حالت دیکھی تو دل میں خیال آیا کہ پورے جسم پر تیل کا لیپ لگا دوں تو شاید کچھ فرق پڑے۔ ڈاکٹروں کے لئے یہ مشورہ بالکل نیا تھا۔ ڈاکٹروں نے آپس میں کچھ بحث کی اور پھر ایسا کرنے کی اجازت دے دی۔ میں نے رات بھر اس پادری کے جسم پرتیل کا لیپ لگایا۔ پیر کو جب ڈاکٹروں نے انہیں دیکھا تو حیران رہ گئے اب جلد کی كھپليا نہیں نکل رہی تھیں اور دل کی دھڑکن میں بھی بہتری تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ دل کے اس مرض کا تعلق کہیں نہ کہیں جلد سے تھا، جلد ٹھیک ہونے سی ہی اس بیماری میں بہتری ہونے لگی اور شاید یہ بات کسی بھی ٹیسٹ سے جاننا ممکن نہ تھا۔'

ثریا آپا نے اپنی عارضی نرس کی ڈیوٹی میں بھی کچھ ایسی خدمات فراہم کیں کہ لندن کا ہسپتال انتظام حیران رہ گیا۔

دہلی میں اب انہوں نے کام شروع ہی کیا تھا کہ سبھاشچدر بوس کے ذاتی سیکرٹری اور آزاد ہند فوج میں اہم کردار ادا کر چکے ان کے چچا عابد حسن سفرانی سنگاپور کی جیل سے چھوٹ کر دہلی چلے آئے۔ یہ وہی عابد حسین تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے `جے ہند 'جیسا نعرہ آزاد ہند فوج کو دیا۔ وزیر اعظم کے طور پر نہرو نے جب سنگاپور کا دورہ کیا تو وہاں کی جیل میں عابد حسن سے ان کی ملاقات ہوئی۔ پہلی ہی ملاقات میں عابد حسن نے نہرو کے ان مضامین پر ناراضگی ظاہر کی، جو انهونے سبھاشچدربوس کے بارے میں لکھے تھے۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ ہندوستانی انتظامی افسر بنے اور ڈنمارک میں حکومت ہند کے سفیر کے طور پر بھی خدمات فراہم کیں۔ ثریا حسن ان کے ساتھ ہی دہلی میں رہیں اور سبھاشچدر بوس کی بہن کے لڑکے اروبدو بوس سے شادی کر لی

۔ ان کا خاندان کانگریس کے کافی قریب تھا۔ دہلی میں بھی آبائی اور سسرال دونوں خاندانوں کے دیگر ارکان کے نہرو گاندھی خاندان سے اچھے تعلقات تھے۔

رفیع احمد قدوائی جب ملک کے وزیر زراعت بنےتو ثریا آپا نے ان کے ساتھ ملک بھر میں گھوم کسانوں کے بارے میں معلومات حاصل کی اتنا ہی نہیں، بلکہ بیج بونے سے لے کر فصلیں کاٹنے تک کا عمل سیکھا، جس کا فائدہ انہیں حیدرآباد آنے کے بعد ہوا ۔ محکمہ

کوٹیج انڈسٹری سے اسسٹنٹ ایکسپورٹ اور کوالٹی کنٹرول مینیجر کے عہدے سے ریٹائر ہوکر 1980 میں شوہر کے انتقال کے بعد وہ حیدرآباد چلی آئیں اور یہاں پر چچا عابد حسن کی طرف سے خریدی گئی زمین پر کھیتی کرنے لگیں۔ چاول اگائے، پھول کی کاشت کی اور ایک کسان کے طور پر کام كيا- انہوں نے کئی سارے پرندے بھی پال لئے۔ بڑی تعداد میں بھینسیں پالیں اور ان کا دودھ بھی خود ہی نکالتی ۔ کئی طرح کی مرغیاں بھی پال لی۔ آج بھی گھر، لوم اور اسکول کے آس پاس کا ہرا بھرا پن بتاتا ہے کہ انہیں ماحولیات سے کتنی محبت ہے۔

سریہ آپا نےایک اسکول بھی شروع کیا اور ایک ہتکرگھا مرکز بھی۔ ایک ریٹائرڈ بُنکر ماہر اور ایک ہتھكرگھے سے شروع شدہ اس یونٹ کے بارے میں ثریا آپا کہتی ہیں کہ چچا نے کہا کہ اس زمین پر وہ اپنی خواہش کے مطابق کچھ فلاحی سرگرمیاں شروع کر سکتی ہیں۔ ان کے کہنے کے بعد 1982 میں ہتکرگھا مرکز قائم كي گیا۔ پھر ایمپوريم کی شروعات ہوئی تو بیواؤں، طلاق شدہ ضرورت مند خواتین کو کم مل گیا اور انکے بچوں کو مفت تعلیم بھی۔ ایک چھوٹا سا هِمرو کا یونٹ دو ریٹائرڈ لوگوں کے ساتھ شروع ہوا۔ پھر آہستہ آہستہ یہ کام آگے بڑھا ۔ وہ کہتی ہیں کہ اس میں مستقل روزگار حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اس طرف آئیں گے نہیں۔ جو خواتین زیادہ روپیہ کمانے چاہتی ہیں، ان کے لئے بھی یہ کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔ نظام کے دورہ میں شاہی گھرانے میں هِمرو اور مشرو کے میں بُنے ہوئے کپڑے پہنے جاتے۔ بچے اور مرد اس شیرواںياں اور پائجامہ بنانے اورعورتیں ساڑيو کے علاوہ کرتے، بلاز سلواتی، لیکن آہستہ آہستہ اس کے بنانے والے کم ہوتے گئے۔ مغل خاندان کے ساتھ بُنکر بھی فارس ہی آئے تھے۔ ہمرو اب صرف ثریا آپا کے لوم میں ہی بن رہا ہے۔ ملک میں کہیں اس کے بنانے والے نہیں رہے، جبکہ مشرو گجرات کے ایک لوم میں بنایا جاتا ہے۔ اس کے تانے بانے ریشمی اور سوت کے ہیں۔

سریہ آپا درياں بھی بناتی ہیں- درياں خریدنےکے لئے آج بھی ان کا پتہ پوچھتے ہوئے لوگ یہاں چلے آتے ہیں۔ انہوں نے یہاں فیب انڈیا کے بانی جان بسل کی مشاورت سے فیبرک ایکسپورٹ یونٹ قائم کیا۔ ان سے پیدا ہوئی درياں بیرون ملک جانے لگیں تھیں، لیکن جب حکومت نے سوت کی برآمد پر پابندی لگائی تو یہ کمپنی بند ہو گئی۔ پھرانہوں نے اپنا مکمل توجہ، ہمرو، مشرو، جامیوار اور پیٹھنی سمیت ملک میں تقریبا ختم ہو چکی نظامی فارسی انداز کی بنائی پر دینا شروع کیا ہے۔ انکے کم کو دیکھتے ہوئے انیں کئی اعجازات ملے ہیں۔ فکی(FCCI) کے علاوہ یودھویر فوندیشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ آج بھی انکا کم جاری ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem