مشکل حالات کو رنگوں سے ہرانے والی فنکارہ شکلا چودھری

51 سال کی عمر میں شکلا چودھری نے پونے یونیورسٹی سے گریجویشن میں ٹاپ کیا۔ نا مواقف حالات میں بھی انہوں نے اپنی خواہش کو پورا کرنے کے کے لئے پوری طاقت جھونک دی، یہ ان کی اپنی شناخت کی جنگ تھی۔

0

کہتے ہیں کہ پرواز اتنی اونچی ہو کہ بادلوں کا قد بھی چھوٹا پڑ جائے۔ کچھ ایسا ہی کیا شکلا چودھری نے۔ جنہوں اپنی زندگی کی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے نہ صرف 48 سال کی عمر میں فائن آرٹ میں گریجویشن میں داخلہ لیا، بلکہ دوسری عورتوں کے لئے بھی مثال بنیں۔

کولکتہ میں سال 1954 میں پیدا ہوئیں شکلا چار بھائی بہنوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کی ماں آرٹسٹ تھیں اور اس بات کا خاص خیال رکھتی تھیں کہ ان کے بچے تعلیم کے ساتھ آرٹ اور دوسری سرگرمیوں پر بھی توجہ دیں۔ دو سال کی عمر میں ہی شکلا چودھری نے ڈانس اسکول جانا شروع کر دیا تھا، لیکن ماں سے متاثرہوکران کا رجحان فائن آرٹس کی طرف ہونے لگا۔

بنگال میں پلی بڑی شکلا چودھری کو چند سال بعد موسیقی سیکھنے کے لئے روندر ڈانس اینڈ میوزک اسکول میں داخل کیا گیا اور یہیں سے ٹیگور میں ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ شاتی نكیتن میں تعلیم کے دوران ان کی زندگی میں بغیر کسی رکاوٹ کے سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ یہاں وہ پر پوری توجہ لگا کر پڑھ رہی تھیں تاکہ فائن آرٹ کی باریکیوں کو اچھی طرح سمجھ سکے۔ وہ چاہتی تھی کہ ان کا شمار بنگال کےاچھے فنکاروں میں ہو۔ وہ سال 1974 سے لے کر 1977 تک کے دوران شانتی نکیتن میں رہیں۔ یہاں پر انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اس دوران وہ اپنے کو آسمان میں پروازکرنے والی ایک چڑیا مانند سمجھتی تھیں۔ وہاں انہوں نے جو سیکھا اسے اپنے اندر سمو لیا۔ وہ مانتی ہیں کہ وہ جو کچھ بھی آج ہیں وہ شانتی نكیتن میں گزارے وقت کی وجہ سے ہیں۔

یہاں بڑے فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ذاتی طور پر اپنے فن کو سنوارنےکی پوری آزادی بھی ملی۔ اس وجہ سے ان میں خوداعتمادی بڑھتی گئی اور نئی چیزیں سیکھنے کا موقع ملا۔ وہ فائن آرٹ کے میدان میں اور آگے بڑھنا چاہتی تھیں، لیکن سال 1977 میں ان کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی اور ان پر گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ آ گیا۔ ساتھ ہی بیٹی کی ذمہ داری بھی ان پر آن پڑی تھی۔ اتنا ہی نہیں ان کے شوہر کا تبادلہ بھوپال ہو گیا تھا اس وجہ سے ان کی تعلیم بالکل رک گئی۔ وہ بتاتی ہیں، "اس وقت میری ترجیح میرا خاندان تھا۔"

انہوں نے اپنا سارا وقت خاندان کو دیا۔ اس طرح انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اپنے خاندان کی بہتری میں صرف کر دیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ ایک طرف ان کے بچے بڑے ہو چلے تھے تودہہسری طرف شکلا چودھری کی ذمہ داریاں بھی کم ہوتی چلی گئیں۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک بار پھر مطالعہ شروع کیا جائے۔ اس درمیان ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان کچھ غلط فہمی بھی پیدا ہو گئی تھی۔ اس وجہ سے ان کو لگنے لگا تھا کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے اعلیٰ تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ وہ دنیا میں اپنی الگ شناخت بنانا چاہتی تھیں۔ یقیناً آرٹ ان کے دل کے قریب کافی قریب تھا۔ یہی ان کی زندگی تھی لہذا وہ ایک بار پھرپوری جدت کے ساتھ اس سےفن میں ڈوب جانا چاہتی تھیں۔

شکلا چودھری نے 48 سال کی عمر میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس کے لئے انہوں نے کالج جانا شروع کیا، پریكٹكل، اسائنمنٹ اور کالج سے منسلک پروگراموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ تب کالج کے کافی سارے طالب علم، وہاں کا اسٹاف اور پروفیسر انہں 'ٹائم پاس آنٹی' کے طور پر جانتے تھے۔ جو یہ سمجھتے تھے کہ شکلا چودھری اپنا خالی وقت گزارنے کے لیے کالج آ رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو یہ نہیں جانتے تھے کہ شکلا چودھری نہ صرف ہاؤس وائف ہیں بلکہ تین بچوں کی ماں بھی ہیں۔ کوئی بھی ان کا ماضی نہیں جانتا تھا اور نہ یہ سمجھ سکتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں۔ وہیں دوسری جانب شکلا چودھری نے کبھی بھی ان سے ہمدردی کی امید ناہیںررکھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ کالج کے دوسرے لوگ ان کے ساتھ اچھا رویہ بہتربنائے۔ جیسے وہاں پر پڑھنے والے دوسرے طالب علموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ان چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے شکلا چودھری نے اپنی فائن آرٹس کی تعلیم جاری رکھی۔

دل میں اگر حوصلہ ہو تو کوئی کام مشکل نہیں ہوتا اور منزل مل جاتی ہے۔ تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود شکلا چودھری اپنی پینٹگ کی پہلی نمائش لگانے میں کامیاب ہو سکیں۔

اور اس نمائش کو نام دیا 'دی فائٹ آف دی فینکس'۔ اتنا سب ہونے کے بعد بھی شکلا چودھری کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں، ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا۔ وہ روانی سے انگریزی نہیں بول سکتی تھیں اس وجہ سے ان کے اندر احساس کمتری پیدا ہو گئی تھی۔ حالانکہ شکلا چودھری کی ابتدائی تعلیم انگریزی اسکول سے ہوئی تھی، لیکن بعد میں وہ بنگالی اسکول میں شریک کی گئیں۔ اس کے بعد جب ان کی شادی ہوئی توان کے شوہر کا تبادلہ پہلے بھوپال اور اس کے بعد حیدرآباد ہو گیا تھا، جہاں پر ہندی سے کام چل سکتا تھا۔ تاہم شکلا چودھری کو ہندی بولنا زیادہ نہیں آتا تھا لیکن، اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی باتیں سن وہ ہندی بولنا سیکھ گئی تھیں۔ انگریزی میں مہارت حاصل کرنے کے لئے انہوں نے انگلش اسپیکنگ کورس میں حصہ لینا شروع کیا، لیکن وقت کی کمی کی وجہ وہ کورس پورا نہیں کر سکیں۔ کیونکہ بچوں اور شوہر کے لئے وقت نکالنا مشکل ہو گیا تھا۔

جب دوسری بار انہوں نے گریجویشن کرنے کا فیصلہ لیا تب بھی زبان ان کے لئے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی۔ کیونکہ جو کورس وہ کر رہی تھی اس کی زبان مراٹھی تھی۔ تب وہ مراٹھی میں لکھے نوٹس کی پھوٹوکوپی کرتی جس کے بعد وہ اپنے شوہر اور اپنے ساتھیوں سے ان کا ترجمہ ہندی میں کرنے کو کہتی تھیں۔ بار بار کی اس مسئلہ کو دیکھتے ہوئے ایک بار ان کی بیٹیاں، ان کے شوہر، ان کے دوست اور نوکرانی ایک ساتھ بیٹھ گئے۔ پورے مضمون کو مختصر کرکے انگریزی میں لکھا، جسے وہ سمجھ سکتی تھی۔ اگرچہ یہ ایک مشکل عمل تھا، لیکن سال 2005 میں 51 سال کی عمر میں شکلا چودھری نے پونے یونیورسٹی سے گریجویشن میں ٹاپ کیا۔

آج بھی اگرچہ شکلا چودھری روانی سے انگریزی اور ہندی نہیں بول پاتی ہوں، لیکن وہ خوش ہیں کہ اپنی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا پاتی ہیں اور وہ بھی بغیر کسی لسانی رکاوٹ کے۔ ان کا کہنا ہے کہ فن کے ذریعے وہ اپنی بات دنیا کے سامنے رکھنے کے قابل ہیں۔ اگرچہ کہ وہ انگریزی میں بات کرتے ہوئے تھوڑی محتاط رہتی ہیں، لیکن جب بھی وہ کچھ بولتی ہیں تو لوگ ان کی باتیں سنتے ہیں۔ اب تک شکلا چودھری ملک کے بڑے شہروں میں اکیلے 12 مقامات پر اپنی پینٹنگ کی نمائش کر کی ہیں۔ ان کے فن میں روزمرہ کی زندگی دیکھنے کو مل جائے گی اس کے لئے وہ روشن رنگ اور اثردار اسٹروک کا استعمال کرتی ہیں۔ ان کی پینٹنگ خریدنے والوں میں نہ صرف ملک کے بلکہ غیر ملکی لوگ بھی شامل ہیں۔

شکلا چودھری کا کہنا ہے کہ آگے بڑھنے کے لئے مثبت خیالات اور مختلف سرگرمیوں سے منسلک رہنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کبھی بھی آپ کے دماغ کو آرام نہیں دینا چاہئے۔ جب بھی دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے تو منفی خیالات اپنا گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ آج کی عورت پہلے کے مقابلے زیادہ آزاد ہے اور اس کے پاس زیادہ موقع ہیں۔ ۔ نا مواقف حالات میں بھی انہوں نے اپنی خواہش کو پورا کرنے کے کے لئے پوری طاقت جھونک دی، یہ ان کی اپنی شناخت کی جنگ تھی۔ وہ ان چیزوں کے پیچھے اس وقت تک لگی رہی جب تک انہوں نے اسے حاصل نہیں کر لیا۔ کسی بھی آرٹسٹ کے لئے اس کی آنکھیں قیمتی ہوتی ہیں، لیکن شکلا چودھری کی دونوں آنکھوں کی جزوی نقطہ نظر کم چکی ہے۔ باوجود انہوں نے اپنے کام کو بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔