ملک کی ترقی کےلیے بچوں کی بہتر پرورش ضروی : دیا مرزا

0

کبھی کبھی انسان کو حا لات نظریہ زندگی سے روشناس کرواتے ہیں - حالات چاہے وہ موافق ہوں یا غیر موافق۔ زندگی گزارنے کے نئے راستے اصل معنی و مقصد زندگی کا فہم دے جاتے ہیں -

دیا مرزا ایک بہترین فنکارہ اور نہایت عمدہ زندگی گزارنے والی دوشیزہ ہیں۔ آج ہم ان کی زندگی پر یوراسٹوری کی مدد سے روشنی ڈالیں گے تاکہ ان کے حالات سے ہمیں بھی کچھ تحریک حاصل ہو-

دیا مرزا اپنے ماضی میں کھو کر ان لمحات کا تجربہ بیان کرتی ہیں جب وہ معصوم سی بچی تھیں - ان کے والدین کے آپسی تعلقات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی طلاق واقع ہوچکی تھی -اس دوران وہ مہینے کے آخری دن والد کے گھر گزارا کرتی تھیں - ایک دن وہ سیڑھیوں پر ڈری سہمی سی بیٹھی سوچ رہی تھیں - میرے والد میرے قریب آئے اور پوچھا " کیا ہوا؟ تم اتنی پریشان کیوں ہو؟ " میں نے جواب دیا "ابو! میں کئی پریشانیوں میں الجھی ہوئی ہوں –" انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کمرے میں لے گئے جہاں ان کی تخلیق کردہ کئی اشیاء موجود تھیں - انہوں نے دنیا کا نقشہ بتاتے ہوے کئی براعظموں کی معلومات دی -دنیا کے نقشے میں بھارت کی طرف اشارہ کرکے اس شہر پر فوکس کروایا جہاں ہم مقیم تھے -ہمارا شہر صرف ایک نقطہ کی شکل میں نظر آرہا تھا - میں نے تجسس بھرے انداز سے پوچھا" کیا ہماراشہر حیدر آباد اتنا چھوٹا ہےکہ اٹلس میں صرف ایک نقطہ کی حیثیت رکھتا ہے؟" والد صاحب نے جواب دیا "کیا تمہارا مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے؟ " اس مثبت انداز نے مجھے حیران تو کیا ہی لیکن یہ لمحہ میرے لیے ناقابل فراموش رہا -زندگی بہت اہم ہے لیکن اپنے آپ میں چھوٹی بھی ہے ۔اس کا ہر پل قیمتی ہے ۔اسے بے کار ضائع نہ کریں۔ زندگی کو لے کر ہمیشہ ہمارا نظریہ مثبت ہی ہونا چاہیے - دیا کا کہنا ہے ،

"میں اپنی زندگی اپنے لحاظ سے گزارنے کی عادی ہوں -میں اپنے تمام فیصلے خود لیتی ہوں ۔اوپر والے کا کرم ہے کہ ہر فیصلہ میں سمجھ بوجھ کر لیتی ہوں - اچھے برے کا فرق کرنے کے بعد میں اپنا راستہ طے کرتی ہوں -میں نے ریمپ سے لے کر بالی ووڈ انٹرپرائز ، پروڈکشن ہاؤس ،بورن فری انٹرٹینمنٹ میں پروڈیوسر اور ڈایریکٹر تک سارے فیصلے میرے اپنے ہیں - مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ایک ہندوستانی ہوں - میں آزادی کی دلدادہ ضرور ہوں لیکن میں یہ نہیں مانتی کہ آپ آزادی کا غلط استعمال کریں -آزادی کا مطلب کسی نیشنل چینل پر شوروغل مچانا نہیں ہے –"

ہندوستانیت ہی اصل پہچان ہے:

دیا کے والد عیسائی دہرئے تھے ۔ماں پیدائشی بنگالی تھیں – جب کہ ان کے سوتیلے والد مسلم تھے اور انہوں نے خود ایک ہندو سے بیاہ کیا ہے -دیا اکثر بچپن میں ماں سے پوچھا کرتی تھیں کہ اس نومولود بچے کا کونسا مذہب ہوتا ہے جو ابھی ابھی دنیا میں آیا ہو؟ دیا مذہب کو صرف ایک تفریق کا ذریعہ مانتی ہیں۔ مذہب ان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتا -وہ اسے لوگوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کا ذریعہ مانتی ہیں -دیا کی ماں کاماننا بھی یہی ہے کہ آدمی کو ایک اچھا انسان ہونا چاہئے- وہ اکثر ماں سے سوال کرتی تھی کہ ماں میں کون ہوں؟ تو ماں کا جواب یہی ہوتا تھا کہ تم ایک اچھی انسان ہو - یہی تمہاری پہچان ہے۔

بچپن میں پہچان کے توسط سےانہیں زندگی کا ایسا درس ملا جس کی وجہ سے مذہب کی بنیاد پر دیا کبھی تفاوت نہیں کرسکیں - ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ اپنے اصول وضوابط کےلحاظ سے زندگی بسر کرتے ہیں - سبھی کے اخلاص ،اخلاق ،تربیت ، اقدارکو ہم سمجھیں تو علم ہوتا ہے کہ سب ایک جیسے ہی ہیں -ہر مذہب اچھائی کا ہی درس دیتا ہے -اس بحث ومباحثہ کےلیے بہت سے مثبت پہلو موجود ہیں -لیکن پھر بھی دیا نے اپنے آپ کو اس بحث سے دور رکھنا ہی بہتر سمجھا اور زندگی میں جو انہیں اچھا لگا اسے اپنا لیا -انہیں بندشیں اورحد بندیاں پسند نہیں تھیں -ہمارے لیے مختص کچھ بھی نہیں ہے ۔ وہ مانتی ہیں کہ انسان کی اپنی ایک پہچان ہونی چاہئے لیکن وہ صرف مذہب سے ہی ہو ، یہ ضروری نہیں -جن وجوہات سے انسانی دماغ میں بغاوت اور تفریق پیدا ہوتی ہو ان منفی پہلوؤں سے انسان نے دور ہی رہنا چاہئے- واضح حقیقت کو اپناتے ہوئے زندگی گزارنے کے لئے ایک مقصد کو روبرو رکھنا چاہئے - زندگی کے شروعاتی دورمیں دیا پر قدرت ہمیشہ مہربان رہی - ان کا بچپن بہت مزیدار اوردلچسپ گزرا - اسی لیے وہ خود کو خوش نصیب مانتی ہیں- یوراسٹوری کے تحریر کردہ مضمون" دیامرزا " میں دیا کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے- زندگی نے دیا کو بہتر زندگی بنانے کےلیے بہت سے مواقع عنایت کئے جس پر انہیں فخر ہے - اور اوپر والے کی مہربانی کی بدولت ہمیشہ انہوں نے اچھے اور برے کی تمیز بہتر ڈھنگ سے کی ۔لوگوں کی شخصیت اور ان کی فطرت سے موقع ومحل کے لحاظ سے واقف ہوتی رہیں - والدین کی بھر پور توجہ کی بناءپر ان کی اچھی پرورش ہوسکی - ان کے والدین نے انہیں یہی سکھایا کہ والدین بھی انسان ہوتے ہیں اور غلطی ان سے بھی ہوسکتی ہے - اگر غلطی ہوتو ہمیں اس کو قبول کرنا چاہئے -بطور تجربہ یہ تعلیم ان کے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھی - دیا کی دلکش و منفرد شخصیت میں ان کے اسکولی لوگوں کا بھی ہاتھ ہے - وہ ایک عام عورت کے ذریعے چلائے جانے والا اسکول تھا - وہاں درخت کے نیچے قدرتی ماحول میں تعلیم دی جاتی تھی - جو کرشن مورتی کے اصول زندگی پر مبنی تھا - وہاں جسمانی تعلیم ، ثقافتی پروگرامس ،گھوڑ سواری ،تیراکی ، غرض ہر انداز سے تعلیم دی جاتی تھی اور پاس کے گاؤں لے جاکر وہاں کے لوگوں کی زندگی سے بھی واقف کروایا جاتا تھا - کبھی کبھی ان غریب لوگوں کے بچوں کو پڑھانے کا موقع بھی دیا جاتا تھا - غرض کہ اسکول میں ہمہ جہت ترقی کے سبھی اصولوں کو پابندی سے نبھایا جاتا تھا -عام علوم سے زیادہ وہاں تجرباتی علم پر بہت توجہ دی جاتی تھی - دیا نے ہندی فلم میں محض 12 یا 13 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ کام کیا۔ اسے سے پہلے وہ آرٹ ہاؤسس اور ورلڈ آرٹس سنیما کا حصہ تھیں۔

مس ایشیا پیسیفک 2000 :

آرٹ اور تجربہ کی دنیا میں مس انڈیا مقابلہ دیا کےلیے کسی میل کے پتھر سے کم نہ تھا - ان کی شروعات سیکھنے و تجربہ حاصل کرنے سے ہوئی نہ کہ اس لیے کہ وہ ٹاپ پوزیشن حاصل کرنا چاہتی تھی - دھیرے دھیرے وہ خود کو مقابلے کےلیے تیار کرنا چاہتی تھی- ممبئی شفٹ ہونے کے بعد سے ان کی خود اعتمادی میں دن بہ دن ترقی ہوتی چلی گئی - یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ گھر سے اکیلی باہر نکلی تھیں - اس درمیان انہوں نے روپیہ اوروقت کا صحیح استعمال سیکھا - مقابلے کے لیے آئی دیگر لڑکیوں سے بات چیت کرنے اورانہیں سمجھانے کا ایک نیا تجربہ بھی یہاں حاصل ہوا- مس انڈیا مقابلے کے اسٹیج سے انہوں نے عالمی سطح پر ہندوستان کی نمائند گی کی - ان لمحات کو یاد کرتے دیا کہتی ہیں،

" اس وقت میں خود کو تنہا محسوس کررہی تھی وہاں میرا اپنا کوئی موجود نہیں تھا - میں ان خوشیوں کو کسی اپنے کے ساتھ شئیر کرنا چاہتی تھی - یہاں میں نے نیا سبق حاصل کیا کہ خوشی کا اصل مطلب آپ کسی کے ساتھ ہونے سے سمجھ سکتے ہیں یا روحانی طور سے آپ جب خوش ہوں تب - مجھے اپنی جیت کی صحیح خوشی کا احساس انڈیا پہنچنے کے بعد ہی ہوا جب میں اپنے والدین سے ملی - ایک عورت کی آزادی اور سکون کی حالت میں روپیہ بہت اہمیت رکھتا ہے- “

سفر بالی ووڈ کا :

مس انڈیا کا تاج پہننے کے بعد دیا کے پاس فلموں کے آفرس کی لائن لگ گئی - اب فلموں میں اداکاری کرنے کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا - ہر قسم کی بے فکری کے ساتھ وہ اپنے کام میں جٹ گئیں - آج وہ اپنی ہر خواہش کی تکمیل ہوجانے سے بہت خوش تھیں- انہیں محسوس ہوا کہ انڈسٹری پر مردوں کا غلبہ ہونے کی وجہ سے یہاں عورت کو اہمیت نہیں دی جاتی - شروعات کے چار پانچ سال بہت مزیدار، دلچسپ گزرے ۔ کئی تجربات ان ہم پیشہ لوگوں سے بھی ملے - اگر آپ ایک عورت ہونے کے ناطے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں تو یہ بات ہم پیشہ لوگوں کو گراں گزرتی ہے - انڈسٹری میں عورتوں نے بھی ہر عہدے کے لئے اپنی جگہ بنانی چاہئے چاہے وہ اداکاری ہو یا فلم میکنگ ۔عورت نے ہر میدان میں طبع آزمائی کرنی چاہئے اور انہیں بھی تحریک دینا چاہئے جو اس میدان میں نئی ہیں- جس کی بدولت ہم جنسی امتیاز اور عدم مساوات کو ختم کرسکیں- اس کےلیے میڈیا کو بھی کام کرنا چاہئے - یہاں اگر کام کو اہمیت دی جائے تو بہتر ہے ۔جنسی امتیاز ثانوی چیز ہے- کیا ہم صرف ٹیچر ، ڈاکٹر یا وکیل بننے تک محدود رہیں ؟ کیوں ؟اس کے علاوہ بھی کئی راستے ہیں جہاں ہم قسمت آزمائی کرسکتے ہیں۔ بس شرط ہے ہمارا انتخاب صحیح ہو- میں ایک فلم میکر ہوں اسکا مطلب یہ نہیں کہ میرے اندر دیگر کام کرنے کی صلاحیت موجود نہیں - دیا اور انکے شوہر کے ذریعے چلنے والی پروڈکشن کمپنی بورن فری انٹرٹینمنٹ کے بارے میں وہ کہتی ہیں،

" اس کے ذریعے میں لوگوں تک منفرد قسم کی کہانیاں پہنچانا چاہتی ہوں –"

دیا خوبصورت اورذ ہین ہونے کے ساتھ ساتھ ا سمارٹ بھی ہیں۔ تمام چیلنج کو قبول کرنے کے ساتھ اقتصادی مسائل کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے- ایک بہتر پروردہ دیا آزادی کی خیرخواہ رہی ہیں۔ دیا کی ماں سب سے زیادہ منضبط یعنی اصول پسندعورت ہیں اور انکی بہتر پرورش نے دیا کویہ مقام دیا جس کے لیے وہ انکی شکر گزار ہیں۔ دیا کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں گرل چائیلڈ ہونے کا مطلب وہ تب سمجھی جب وہ کالج سے گھر جاتی تھی اور کئی شہدے انہیں گھورتے تھے ۔لیکن اس کے باوجود وہ صحیح پرورش کی وجہ سے ہر پل ثابت قدم رہیں -لیکن وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ ایسے من چلے سماج کےلیے کتنے نقصاندہ ہیں - وہ خود کو خوش نصیب مانتی ہیں کہ 'سینکچوری ایشیا 'کی بٹو سہگل کو جاننے کا موقع ملا اور انہیں ان چیزوں میں خود کو فعال بنانے کا موقع ملا جن میں ان کی سب سے زیادہ دلچسپی تھی۔

آج بھی انٹرنیٹ کی مدد سے وہ سماج کے سامنے ان لوگوں کی کہانیوں کو لانا چاہتی ہیں جو نوجوانوں کےلئے ایک مثال اور تحریک ہیں-ان کہانیوں کو وہ نوجوانوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ اگر وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہوگئیں تو ان کےلئے یہ اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

مستقبل کے پلان:

دیا کا ماننا ہے یہ کائنات بہت بڑی ہے اور اس میں بہت سارے امکانات ہیں۔ وہ مستقبل میں مقصدِ حیات کو مقام تک پہنچانے کے مقصد سے کئی فلمیں بنانا چاہتی ہیں –اسی کے ساتھ بچوں کے خوابوں کا خیال رکھتے ہوئے اپنے شوہر ساحل کا کمپنی اور زندگی، دونوں میں پل پل ساتھ دینا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وہ ہمارے پڑھنے والوں کےلیے پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اپنے مقصد کو پہنچا نئے، چاہے وہ کتنا ہی مشکل ہو۔ اس کے بارے میں جانو اور بہتر ڈھنگ سے جانو۔ !



تحریر: بلال جعفری

مترجم : ہاجرہ نور احمد زریابؔ