'ممبئی کا ہائسٹ ریٹیڈ ریستوراں' ... جہاں کام کرنے والے سبھی خواتین و مرد ویٹر گونگے اور بہرے ہیں

0

آپ ایسے کسی ریستوراں میں کبھی گئے ہیں جہاں اپ اپنے کھانے کا آرڈر زبان سے بول کر نہیں بلکہ علامتی زبان میں دے اور ویٹر بھی اسے جھٹ پٹ سمجھ کر فوراً آپ کے آرڈر کی تعمیل کرے گا۔ کچھ ایسی ہی کوشش کی ہے ممبئی میں پرشانت اِسسر اور انوج گوئل نے ۔ جو کافی برسوں تک غیر ملک میں رہنے کے بعد بھارت لوٹے تو انہوں نے اپنے کاروبار کے ساتھ ایسے لوگوں کو جوڑا جو بول یا سن نہیں سکتے تھےلیکن وہ عام لوگوں سے بہتر سمجھ سکتے ہیں، ان سے زیادہ اچھے طریقے سے کام کرسکتے ہیں۔ اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ کام کے بوجھ کے باوجود ہر وقت اپنے چہرے پر مسکراہٹ بنائے رکھتے ہیں۔ ممبئی کے پوائی کے ہیرانندانی گارڈن میں 'مرچ اینڈ مائم' شائد ملک کا پہلا ایسا ریستوراں ہے جہاں کام کرنے والے سبھی خواتین و مرد ویٹر گونگے اور بہرے ہیں۔

بے سہارا لوگوں کے لئے کچھ کر گزرنے کی خواہش ہی ممبئی میں رہنے والے پرشانت اِسسر اور انوج گوئل کو واپس اپنے وطن کھینچ لائی۔ دونوں نے الگ الگ وقتوں میں انگلینڈ کے ہنری بزنس اسکول سے ایم ۔ بی۔اے کیا تھا۔ انوج نے تجارت اور مینیجمنٹ میں ایم۔ بی۔ اے کیا تھا جب کہ پرشانت نے 2008 میں ہوٹل اور ریستوراں سے جڑا ایم۔ بی۔ اے کورس کیا تھا۔ ایم۔ بی۔ اے کے بعد انوج افریقہ چلے گئے جب کہ پرشانت لندن میں ہی رہ رہے تھے۔ ایم۔ بی۔ اے کی پڑھائی پوری کرنے کے بعد پرشانت نے اپنا کاروبار شروع کرنے کے بارے میں سوچا اور سال 2011 میں وہ پارک گروپ آف ہوٹل کے ایم۔ ڈی کے ساھ بھارت واپس آگئے۔ بھارت لوٹ کر انہوں نے کئی ہوٹلوں کے لئے کام کیا لیکن کچھ عرصے کے بعد انہیں لگنے لگا کہ وہ اپنے مقصد سے بھٹک رہے ہیں۔ پرشانت نے یور اسٹوری کو بتایا،

"اس وقت میں نے سوچا کہ میں یہ کیا کر رہا ہوں، جب کہ میرا مقصد اپنا کاروبار شروع کرنا تھا اور میں دوسروں کے لئے کام کر رہا ہوں۔ جس کے بعد میں نے کنسلٹنسی اور ہوٹل کا منصوبہ بنانا شروع کردیا۔"

پرشانت کا کہنا ہے کہ اسی دوران لنکڈن کے ذریعے ان کی ملاقات انوج سے ہوئی۔ وہ بھی اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے تھے۔ ملاقات ہونے پر بات چیت ہوئی اور اس دوران انہوں نے محسوس کیا کہ ایم۔ بی ۔ اے کی پڑھائی کے دوران اخلاقیات کا سبق انہیں بھی پڑھایا گیا تھا۔ جس میں ان کو بتایا گیا تھا کہ کسی بھی کاروبار کو کرنے سے صرف اپنا ہی نہیں بلکہ سماج کا بھی بھلا ہونا چاہئے اور دوسری بات جو ان لوگوں کو اچھی لگی تھی وہ یہ تھی کہ صلاحیت سے زیادہ اپنے کام کے تئیں وقف ہونے اور ایمانداری کو اہمیت حاصل ہے۔


اسی دوران پرشانت ار انوج کی ملاقات شیشیر گورلے اور راجیشور ریڈی سے ہوئی۔ یہ دونوں پہلے سے ہی ممبئی میں 'انڈیا بائٹ' نامی ایک کامیاب کمپنی چلارہے تھے۔ انہوں نے فیس بک پر ٹورنٹو میں ایک سائن ریستوراں دیکھا تھا۔ ایسے ہی ریستوراں ممبئی میں کھولنے کی خواہش شیشیر اور ریڈی نے ان دونوں کے سامنے پیش کی۔ پرشانت اور انوج کا کہنا ہے کہ انہیں یہ آئیڈیا پسند آیا کیونکہ پرشانت اپنے 21 سالہ کریئر میں بھارت اور برطانیہ دونوں جگہوں پر تقریباً 17 تا 18 ریستوراں کھول چکے تھے جو کہ کافی کامیاب رہے تھے۔ لیکن گونگوں اور بہروں کے ساتھ کام کرنے کا انہیں اس سے قبل کوئی تجربہ نہیں تھا۔

پرشانت اور انوج نے اس کام کو شروع کرنے سے پہلے گونگوں اور بہرے لوگوں کے والدین سے ملاقات کی اور ان کو سمجھایا کہ ان کے بچے بھی بہتر کام کرسکتے ہیں۔


پرشانت کہتے ہیں،

"مجھے اور انوج ، دونوں کے یہ یہ لگا کہ اگر ہمیں اپنے کاروبار میں ایسے لوگوں کو جوڑنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں بھی علامتی زبان سیکھنی ہوگی۔ جس کے بعد ہم دونوں نے علامتی زبان سیکھی اور اس کےبعد گونگے اور بہرے بچوں سے بات کی تو ہمیں پتا چلا کہ یہ لوگ بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بات چیت کے دوران ہم دونوں کو یہ بھی علم ہوا کہ ایسے گونگے اور بہرے بچے عام بچوں کے مقابلے میں زیادہ تیز دماغ اور محنتی ہوتے ہیں۔"

پرشانت اور انوج نے اس کے بعد اپنے ریستوراں کے بارے میں سوچا اور ان گونگے اور بہرے لوگوں کو تربیت دی۔ ان کے لئے آٹھ ہفتوں کا ایک خاص طرح کا پروگرام بنایا گیا۔ جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے حصے میں ان لوگوں کو بتایا گیا کہ زندگی کیسے چلتی ہے اور کیسے کام کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر نے کبھی کام نہیں کیا تھا۔ دوسرے حصے مٰں ان لوگوں کو ملازمت کی ضرورت کے بارے میں سمجھایاگیا۔ تیسرے حصے میں انہیں عام انگریزی کا علم دیا گیا جس میں انہیں انگریزی پڑھنا سکھایا گیا۔ چوتھے اور آخری مرحلے میں ان لوگوں کو ماڈیولس میں پاسپٹلٹی کی ٹریننگ دی گئی۔ جس کے بعد سمعی اور لسانی اعتبار سے معذور یہ گونگے اور بہرے مرد و خواتین ویٹرس کو ٹریننگ دینے کے لئے پرشانت اور انوج نے صر ف اپنے رشتے داروں کے لئے 'مرچ اینڈ مائم' کی شروعات کی۔ یہ لوگ یہاں آکر مفت کھانا کھاتے ۔ اس دوران خدمات کی انجام دہی کا یہ سارا کام یہ ویٹرس کی سنبھالتے تھے۔ رشتے داروں سے ملنے والے اچھے تاثرات کے بعد مئی 2015 میں انہوں نے اپنا ریستوراں 'مرچ اینڈ مائم' عام لوگوں کےلئے بھی شروع کردیا۔


پرشانت بتاتے ہیں،

"انہوں نے عام ویٹرس کے مقابلے اتنا اچھا کام کیا کہ ریستوراں کو شروعات کے 6 مہینوں کے اندر ہی زوماٹو کے 'ہائسٹ ریٹیڈ ریستوراں' کا خطاب مل گیا۔ جس میں 800 تجزیات کے ساتھ ہمیں 9۔4 ریٹنگ حاصل ہوئی۔"

اپنے یہاں کام کرنے والے گونگے اور بہرے ویٹرس کی تعریف کرتے ہوئے پرشانت کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے کام کو لے کر بہت با شعور ہوتے ہیں اور میزبانی کی تینوں صفات ان میں موجود رہتی ہیں۔ جیسے کہ یہ ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں، یہ اپنے کام کو لے کر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور یہ لوگ ایک دوسرے کے جذبات کو پڑھ لیتے ہیں۔ ایسے میں ایک گاہک کو اس سے زیادہ اچھی خدمات اور کیا مل سکتی ہیں کہ ویٹر مسکراتا ہوا ان کے موڈ کو پہچان کر توجہ کے ساتھ انہیں اپنی خدمات فراہم کرے۔ ان کے یہاں کل 24 خواتین ومرد ویٹرس کام کرتے ہیں اور ان کی اوسط عمر 22 تا 35 برس کے درمیان ہے۔ اس ریستوراں میں ایک ساتھ 90 لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔


پرشانت کا کہنا ہے کہ ریستوراں کے کاروبار میں جہاں تقریباً 60 فیصد لوگ کام چھوڑ کر چلے جاتے ہیں وہیں ان کی تعداد 2 سے 3 فیصد ہے کیونکہ یہ لوگ فلدی کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اور ان کا بھروسہ جیتنے پر یہ آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ اسی وجہ سے یہ لوگ انہیں 35 فیصد زیادہ تنخواہ دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خدماتی عملے کی ٹی۔ شرٹس کے پیچھے ایک سلوگن لکھوایا ہے۔۔ "آئی نو سائن لینگویج، واٹ اِز یور سوپر پاور۔" اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص انہیں رحم کی نظروں سے نہ دیکھے۔ یہ بھی عام لوگوں کی طرح ہیں۔ پرشانت کا کہنا ہے کہ ،"دراصل معذور تو ہم لوگ ہیں جو سُن اور بول سکتے ہیں۔ اگر یہ لوگ چاہیں تو پل بھر میں ہمارا مذاق بناسکتےہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں چلے گا۔" رات 10 بچے تک کام کرنے والی خاتون ویٹر کو ان لوگوں نے ان کے گھر تک محفوظ چھوڑنے کا انتظام کیا ہوا ہے جب کہ مرد ویٹرس کو یہ نزدیگی بس یا ریلوے اسٹیشن تک چھوڑ آتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ اپریل میں ان کے یہاں کام کرنے والے عملے ، چاہے وہ رسوئی میں کام کرتا ہو یا باہر، اگر اپنا 1 سال پورا کرلے گا تو یہ اسے اپنی کمپنی کے شیئر بھی دیں گے۔ سے وہ 3 سال کے بعد ریڈیم کرواسکتے ہیں۔ کمپنی میں کُل 90 فیصد سرمایہ کاری پرشانت، انوج، شیشیر اور ریڈی نے کی ہے اور 10 فیصد انہوں نے دوستوں سے لیا ہے۔ پرشانت اور انوج اس کے معاون بانی اور شیشیر اور ریڈی اس کے اینجل سرمایہ کار ہیں۔ مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پرشانت کا کہنا ہے کہ اگلے 3 سے 5 برسوں میں ملک میں 18 اور دوبئی ، سنگاپور اور لندن میں ایک ایک ریستوراں شروع کریں گے۔ جہاں ان کا خدماتی عملہ گونگے اور بہرے ویٹرس پر مشتمل ہوگا۔ اس طرح یہ تقریباً 600 ایسے گونگے اور بہرے معذورین کو روزگار فراہم کروائیں گے۔ اپنے منصوبوں کے حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے مزید سرمائے کی ضرورت ہوگی جس کے لئے ان کی بات چیت کئی کمپنیوں سے ہورہی ہے۔  


تحریر:  ہریش بِشٹ

مترجم: خان حسنین عاقب

          ویب سائٹ:  http://mirchiandmime.com/