'صفر' سے شروع ہوا بلندی کا سفر... ڈاکٹر خلیل صدیقی کی حیرت انگیز کامیابیاں

0


ساتویں جماعت میں تاریخ کے مضمون میں صفر ملنے سے اسکول چھوڑنے والے طالب علم کے جدو جہد کی کہانی

آج وہی طالب علم حکومت کی تعلیمی نصاب کو طے کرنے والوں میں شامل

بچّوں کو مفت دینی اور عصری تعلیم دینے کے لئے شروع کیا مدرسہ

مہاراشٹر میں زیادہ ڈگریاں رکھنے والے سرکاری مدرس کے طور پر مشہور ڈاکٹر خلیل الدین صدیقی

ساتویں جماعت میں اس بچّے کو تاریخ کے مضمون میں صفر آنے کی وجه سے ماسٹر کی ڈانٹ اور گھر والوں کی پھٹکارکھانی پڑی تھی۔ وہ واقعہ زندگی پر کچھ یوں اثرانداز ہوا کہ جس کی وجه سے اسکول کی تعلیم ہی ادھوری چھوڑنی پڑی، لیکن بعد میں اس بچّے نے اپنی زندگی کو کچھ یوں سنورا کہ آج وہ مہاراشٹر حکومت کی نصابی کتب کی کمیٹی کا اہم رکن ہے اور ریاست کے بچّوں کو تاریخ کے مضمون میں کیا پڑھا یاجائے، یہ طے کرنے والوں کے درمیان اپنی خاص حیثیت رکھتا ہےKG سے لے کر PG تک بچّوں کے لئے بنائے جانے والی تعلیمی نصاب میں کہیں نہ کہیں خلیل صدیقی کا نام ضرور دکھائی دیتا ہے۔ آج جس شخصیت کو لوگ ڈاکٹر خلیل الدین صدیقی کے نام سے جانتے ہیں، ان کی زندگی کئَ پہلوؤں میں تقسیم ہے۔ صحافی، ماہر تعلیم اور ماہر لسانیات ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کی مختلف اصناف میں زور آزمائش کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک سرکاری ٹیچر کی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ، خود بھی ایک  مدرسہ چلا تے ہوئے 40 بچوں کامستقبل سنوار رہے ہیں۔

یور اسٹوری سے بات چیت کرتے ہوئے خلیل صدیقی نے اپنی ساتویں جماعت کے دوران کا وہ واقعہ سنایا،

''میرا بچپن حیدرآباد اور پان گاوں (لاتورضلع) کے درمیان بنٹا ہوا تھا۔ کبھی ادھر تو کبھی ادھر۔ سات سال کی عمر میں مراٹھی میڈیم اسکول میں داخل کرایا گیا۔ ساتویں جماعت کے نتائج آئے تو سب مضامین میں 80 سے زائد نشانات تھے، لیکن تاریخ میں صفر، اس حالت میں ٹیچر نے پیٹا سو الگ اور بڑے بھائی سے شکایت بھی کر دی۔ یقیناً وہاں بھی خوب ڈانٹا گیا۔ دراصل میری حالت فلم 'تارے زمین پر'۔۔۔ کے اس بچے کی طرح ہی تھی، جس کی آنکھوں کے سامنے ہندسے ناچنے لگتے ہیں، مجھے تاریخیں یاد نہیں رہتی تھی۔ اور پھر مجھے آٹھویں میں اسکول کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر حفظ کرنے کے لئے مدرسے میں داخل کرایاگیا۔''

یہ وہی خلیل صدیقی ہیں، جنہیں آج مہاراشٹر میں سب سے زیادہ ڈگریاں رکھنے والے ٹیچر کے طورپر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے مدرسے سے حفظ اور عالیمت کی تکمیل کی اور پھر عصری تعلیم کا رخ کیا۔عثمانیہ یونورسٹی سے اردو اور عربی میں ایم اے کرنے سے پہلے وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے کئی امتحانات کامیاب کر چکے تھے۔ جب وہ حیدرآباد میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف تھے تو اس کا علم گھر اور رشتہ داروں میں بہت کم لوگوں کو تھا۔ اس دوران کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے خلیل صدیقی کہتے ہیں'

''ابّا کے ایک دوست بی ڈی او (بلاک ڈیولپمنٹ آفسر) تھے، ایک دن ایک شادی کی تقریب میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کہاں گھومتے رہتے ہو، میٹرک کا امتحان پاس کر لو، کم سے کم چپراسی یا کلرک کی ملازمت مل ہی جائَےگی۔ اس وقت میں نے ان کو بتایا کہ میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے کے دوسرے سال میں ہوں۔ سب کو حیرت ہوئی کہ کہاں آٹھویں چھوڑ کر مدرسے میں داخل ہونے والا لڑکا اور کہاں بی اے؟ لیکن یہ حقیقت تھی وہ کہ جہاں بھی رہے، انہوں نے تعلیم کے سلسلے کو نہیں چھوڑا۔ ''

خلیل صدیقی نے اورنگ آباد میں ڈاکٹر بی ار امبیڈکر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تکمیل کی اور بی ایڈ اور ایم ایڈ کے ٹریننگ بھی حاصل کی۔ آج وہ ڈی لٹ کر رہے ہیں۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے، لوگ کوئی جانی مانی شخصیت کو اپنا رول ماڈل بناتے ہیں، لیکن خلیل صدیقی اپنے بڑے بھائی مظہر صدیقی کو ہی اپنا رول ماڈل مانتے ہیں۔ مظہر بہت سلجھے ہوئے انسان تھے۔ وہ اسکول میں ہیڈماسٹر تھے، لیکن ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے ڈپٹی چیف منسٹرگوپی ناتھ منڈے نے انہیں اپنا پی اے بنا لیا تھا۔ مظہر صدیقی کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ خلیل صدیقی سے ایک بھائی ہی نہیں بلکہ ایل راہبر بھی چھن گیا۔ ان کے بچھڑنے کے بعد خلیل نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ان کی یاد میں ایک مدرسو قائم کریں گے،جہاں ماڈرن طریقے سے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ حیرت اس بات کی ہے کہ خلیل نے اس مدرسے کو بنانے کے لئے نہ کسی سے چندا مانگا اور ن رسید بک چھاپی،بلکہ جہاں جہاں بھی کچھ مسائل سامنے آتے، ان کے دوست احباب ان کے اس جذبے کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کھڑے نظر آتے۔ ڈاکٹر خلیل بتاتے ہیں،

''ہم بھائیوں کی زرعی زمین میں سے مظہر بھائی کی زمین پر جب مدرسہ بنانے کی بات آئی تو کئی سارے مسائل تھے، عمارت کی تعمیر، بورویل کی کھدائی، بچوں کے کھانے پینے کا انتظام اور ہم چندا پاوتی کے خلاف تھے، ان حالات میں قدم قدم پر مسائل منہ پسارے کھڑے تھے، لیکن انہیں حل کرنے کے لئے بھی خدا نے اسباب بنا رکھے تھے۔ میرے اپنے بھائیوں اور دوستوں نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے۔ دنیا کو کچھ دینے کا جو حوصلہ اور جذبہ تھا اسے کم ہونے نہیں دیا۔ آج 40 بچّے ہیں۔ ہر بچے پر 7000 روپے سالانہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کے لئے ایک طریقہ نکالا گیا ہے کہ ان کے کفیل تلاش کئے جائیں،جو ایک ایک بچے کی ذمہ داری لیں۔''

یہ مدرسہ دوسرے مدرسوں سے بالکل الگ ہے۔ خلیل صدیقی نے یہاں کے طلباء کی آنکھوں میں نئے خواب بسائے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے کمپیوٹرکے دو ڈپلومہ اپنے مدرسے کے لئے منظور کروائے ہیں۔ وہاں عصری تعلیم کا پورا انتظام ہے، تاکہ بچّے حفظ اور عالمیت کے ساتھ میٹرک کا امتحان کامیاب کریں اور ساتھ میں کمپیوٹر کا ایک ڈپلومہ بھی، تاکہ جب وہ یہاں سے نکلیں تو، کسی بھی مسجد میں بلا معاوضہ اپنی خدمات دے سکیں اور زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرروزگار کے اعلیٰ موقع حاصل کر سکیں۔

خلیل اپنے بھائی کی خواہش پوری کرنے کے لئے مسابقتیی امتحان لکھنا چاہتے تھے، لیکن وقت نے اس معاملے میں ان کا ساتھ نہیں دیا، وہ بتاتے ہیں،

''وقت ہر بار چکمہ دے جاتا، جب اہلیت کے ساتھ عمر 30 سال چاہیے تھی، تو 31 میں داخل ہو گیا تھا، جب اہلیت کی عمر 35 ہوئی تو میں36 میں داخل ہو گیا اور اب جب کہ وہ 40 کر دی گئی تو میں 44 کا ہو گیا۔''
مدرسہ  
مدرسہ  

ڈاکٹر خلیل صدیقی کی بہت ساری خصوصیات میں ان کی صحافت بھی ہے۔ اس کا سلسلہ ان کے طالب علمی سے شروع ہوتا ہے، جب وہ اورنگ آباد ٹائمس کے شعری مقابلوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اردو،ہندی، مراٹھی کے مختلف اخباروں میں وہ کالم نگار رہے۔ آل انڈیا ریڈیو میں خدمات انجام دیں اور آج لاتور سے شائع ہونے والے 'اوصاف' اور تعلیمی سفر جیسے اخبار اور رسالے کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ مانتے ہیں۔ کہ انہں زندگی میں کبھی بھی حالات پر افسوس، دکھ یا ڈر نہیں رہا، کئی ملازمتیں چھوڑی اور نئی ملازمیں اختیار کیں۔ وہ کہتے ہیں، ہمیشہ ایک ملازمت چھوڑتے ہی دوسری تیار تھی۔ میں نے روزگار کی فکر کے بجائے، کام کے جزبے کو ترجیح دی اور کامیاب رہا۔

.......................................................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

راجستھان کے دیہاتوں میں تعلیم کی مشعل جلا رہے ہیں فرمان علی

سلم علاقوں کی تعلیمی غربت کو دور کرنے کے جزبے سے آگے بڑھ رہے ہیں محمد انور


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories