خوب تھی بھوک اوربے عزتی سے میری دوستی اور دونو ں ہی ہیں  میرے استاذ : نانا پاٹیکر 

بھوک اور بے عزتی سے جن کا لمبا واسطہ رہا ہے، جنہوں نے ان دونوں سےکافی کچھ سیکھا ہے، ایسے ہی ایک عظیم اداکار نانا پاٹیکر سے سنتے ہیں انہیں کی زبانی  آنکھیں کھولنے  والی ایک کہانی۔

0

عمر کے تیرہویں برس میں 1963 میں میں نے ملازمت شروع کی تھی۔ ووپہر جب اسکول سے آتا تو گھر میں جو کچھ ہوتا کھاکر دو بجے تقریباً 8 کلومیٹر تک پیدل چل کر اپنے کام پر جاتا ۔ رات تقریباً 9 سے 10 بجے کے درمیان کام کے مقام سے نکلتا اور گھر پہچتے پہچتے کبھی گیارہ توکبھی ساڑھے گیاروہ بج جاتے۔ پھر صبح ساڈھے 6 بجے سےپہلے اٹھکر اسکول کے لئے نکل پڑتا۔ ملازمت میں ماہانہ 35 روپے اور ایک وقت کا کھانا ملا کرتا تھا۔ دیر رات گھر سے لوٹتے ہوئے دو شمشان راستے میں ملتے تھے، لیکن کبھی بھی کسی بھوت یا شیطان سے سابقہ نہیں پڑھا۔ پیٹ کی بھوک تو بھوت سے ذیادہ بھیانک تھی۔ حالات سے ملنے والا سبق نہ تو کسی اسکول سے مل سکتا تھا اور نہ کسی کتاب میں۔ پھر آہستہ آہستہ سب ڈر ، جاتے رہے۔ ہر آنے والے لمحے سے بڑی نڈرتا سے سامنا کرنے کے لئے آگے بڑھتا رہا۔ رات میں کام کی جگہ پر جب نوالے منہ میں ڈالنے لگتا تھا تو کئی بار ماں باپ اور بھائی کی یاد ستانے لگتی۔ کیا انہوں نے کھانا لیا ہوگا۔۔۔ یہ خیال آتا اور بھوک کے طوفان میں کہیں غائب ہو جاتا۔

دیر رات جب گھر لوٹتا رہتا تو راستے پر نہ آدم نہ آدم زاد، اس وقت کی ممبئ بالکل الگ تھی۔ کھبی کبھار کوئی شرابی پیچھے سے پتھر پھیکتا اور اس سے بچنے کی کوشش میں مجھے گالیاں کھانی پڑتیں اور جواب میں، میں بھی گالیاں بکتا نکل جاتا۔ نتیجہ کیا ہوگا اس کا کوئی ڈر نہیں تھا اور نہ مسقبل کی کوئی فکر تھی۔ میں بھی کبھی کوئی پتھر جواباً اس کی جانب پھینک ہی دیتا۔ ہر وقت گزرنے والا ہی تھا۔ اگر کبھی کوئی پیچھے آ بھی جاتا تو  میں اتنی تیز دوڑتا کہ اس کے ہاتھ نہیں آتا۔ ایسا لگتا تھا کہ انجانے میں موت کا ڈر دھندلا ہونے لگا تھا۔ ہر آنے والے جوکھم سے سامنا کرنے کی ہمت بڑھنے لگی تھی۔

کبھی اگر فٹپاتھ پر کسی جوڑے کو آپس میں گلے لگتے دیکھتا تو ذہن میں گھِن اور جسم میں جھرجھری ایک ساتھ محسوس کرتا-نظر لڑکی کے چہرے سے ہوتے ہوئے سینے کی طرف اترنے لگتی، لیکن پتہ نہیں کیوں پیٹ کی بھوک نظر کو  کبھی اس سے نیچے اترنے نہیں دیا۔

بھری دوپہر میں پیدل چلتے ہوئے اڑپی ہوٹل سے آنے والی خوشبو قدموں کی رفتار کچھ کم کر دیتی، لیکن دو قدم بعد پیر  پھر اپنے معمول پر آ جاتے۔ ایک دن جب میں ہوٹل کے پاس رکا تو ایک لڑکے نے دو اڈلی کی چکتیاں میرے ہاتھ میں رکھ دیں، میں اس وقت زور سے چلایا تھا۔ میں بھکاری نہیں ہوں۔ وہاں سے نکلنے کے بعد آگے کا راستہ دھندلہ ہو گیا تھا۔ ماں نے بتایا کہ میں اس رات رات بھر بستر پڑے پڑے نیند میں خوب رویا تھا۔دوسرے دن ماں نے اس کی وجہ جاننی چاہی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ چھپاوں لیکن ایسا نہیں کر سکا۔ ماں کے اسرار پر میں نے ان کو بتا ہی دیا-ددن جب میں اسکول سے گھراور کھڑکی سے گھر میں جھانکا تو ماں باپ دونوں رو رہے تھے-

میں کچھ دیر باہر گھوم کر پھر گھر گیا۔ تب تک بادل چھٹ چکے تھے۔ اپنے بیٹے کے لئے کچھ نہ کر پانے کا غم انہیں ستائے جا رہا تھا- وہ اس بارے میں بات نہیں کرتے تھے، لیکن اندر ہی اندر وہ خوب تکلیف محسوس کرتے تھے-

ماں میں کچھ ہمت ذیادہ تھی۔ مجھے والد کی خوب فکر ہوتی۔ مالکری تھے کسی طرح کی کوئی بری عادت نہیں تھی۔ گوشت بھی نہیں کھاتے تھے۔ میں نے یہ سب کمیاں بعد میں اس وقت پوری کیں جب والد کا کاروبار ٹھیک چلنے لگا تھا۔ جب کاروبار اچھا ہوا تو رشتہ دار بھی بڑھ گئے تھے۔ چھُٹی کے دن گھر والوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔ دو چپاتیاں اور دال، ہری مرچ بھی کھاتا تھا اور پھر خوب پانی سے پیٹ بھرجاتا- آج تک تیز کھانے کی عادت چھوٹی نہیں ہے۔ ماں کی پکائی ہوئی اس چپاتی کی خوشبو دنیا کے کسی پھول میں بھی نہیں ملی-

عید بارات کو پڑوسیوں کے گھر سے میٹھے کی خوشبو آتی، دل ادھر کھینچتا، میٹھا کھانے کی خواہش ہوتی۔ آج میٹھے سے کوئی لگاو نہیں ہے۔ کوئی انسان بھی اگر میٹھی بات کرتا ہے تو شک ہونے لگتا ہے۔ کھانے کے وقت میں دوستوں کے گھر جاکر یہ دیکھنے کی کوشش کرتا کہ ان کا کھانا کیسا ہے۔ میری اگر کوئی بہت قریبی دوست تھی تو وہ بھوک ہی تھی۔ اس عمر میں بھوک نے مجھَ کیا نہیں دیا- قدم قدم پر بھوک نے مجھے ہر حساب سکھا دیا-

ہر سبق پیٹ سے ملا، جواں سال عمری میں بھوک میرے ساتھ ہی ایک اچھی دوست کی طرح میرے بستر پر۔ در اصل میں گہری نیند سو جاتا اور وہ جاگتی رہتی- یہ دیکھتے ہوئے کہ میں زندہ تو ہوں نہ۔ مجھے ایسا لگتا کہ جن لوگوں سے بھوک کی دوستی ہوئی ہے وہ اپنی اگلی زندگی میں کافی خوش رہے ہوں گے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ  کھانا کھاتے ہوئَے کسی کو دیکھتا توتھونک کے گھونٹ پی کر رہ جاتا، سوچتا کہ میں بھی کھانا کھا رہا ہوں اور ایسے ہی کچھ دیر کے لئے خوشی محسوس کرتا- یہ اداکاری بھی آخرکار یہی تو ہے۔ دوسروں کو کھاتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیٹ بھرنے کا احساس۔ آگے اداکاری اور پیچھے حالات کی مار۔

گلے میں دفتر پیٹ میں بھوک اور پاوں میں چکر لیکرجیسے ہی کلاس میں جاتا تو بھوک کو بھلانے کے لئے بھلا شرارتوں کے علاوہ اور کیا چیز ہو سکتی تھی۔ کئی بار استاذ سر کے بل کھڑے ہونے کے لئے کہتے اور میں اسی حالت میں بورڈ پر لکھے اقوال زرین پڑھتا۔ میں اپنے اس استاذ کا شکر گزار ہوں کہ ان کی وجہ سے کمر مضبوط ہو گئی ہے۔ اب اس عمر میں بھی کمر میں کوئی درد نہیں ہوتا، کیوں کی انہوں نےکھڑی حالت میں  جھک کر  پیر کا انگوٹھا پکڑنا سکھایا تھا۔

آنکھ کے پاس کا دوسرا حصہ کونسا ایسا سوال پوچھے جانے پر ناک، منہ، کان ایسا لوگ کہتے ہیں، لیکن اسکول کی زندگی میں مرے سامنے پیر کا انگوٹھا ہی ہوا کرتا تھا۔ آج بھی جب کسرت کرتا ہوں تو میں پیر کا انگوٹھا ضرور پکڑتا ہوں-

میں اپنی بھوک کو لاڈ نہیں کر سکا۔ وہ کچھ نہ کچھ ہمیشہ مجھے کھانے کے لئے مانگتی رہتی، میں اس کا دل نہیں بہلا سکا- پیٹھ سے لگے پیٹ کے ستھ چپک کر رہتی تھی بھوک- وقت کے ساتھ ساتھ اس کو آدھے پیٹ رہنے کی عادت ہو گئی۔ اجنبیوں کی طرح ادھر ادھر دیکھتی رہتی۔ پھر تو اس نے اپنی آنکھیں بند رکھنے کی عادت ڈال لی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میں بیت کی طرح دبلا ہونے لگا اور جسم کی ہڈیاں باہر آنے کی وجہ سے میں چھٹپن کے ابراہم لنکن کی طرح دکھنے لگا- گلے کی ہڈیاں بھی باہرنکل آئیں تھی۔ ہمیشہ پانی پینے کی عادت ہو گئی تھی۔ اس سے گردے کی بیماری سے بھی بچ گیا۔ پانی پیتے وقت گلے کی حالت دلچسپ ہوتی۔ آنکھیں اندر دھنس جانے کی وجہ سے چہرے پر عجیب سا خمار آگیا تھا۔

بھو ک کی ایک اور دوست تھی وہ تھی توہین۔ جب بھی اس سے ملاقات ہوتی۔  آنکھوں سے آنسوں بہنے لگتے، انکھوں کا سارا میل دھل جاتا دور دور تک کے نظارے صاف دکھنے لگتے۔ ہر دن دور دور تک پیدل چلنے سے صحت بھی اچھی رہتی۔ کم کھانے سے پانچوں حس جاگتی رہتیں۔ اور ان سب کی وجہ سے اچھی نیند کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دماغ بالکل الرٹ رہتا۔ جب بھی میں اپنی دوست بھوک کو کہیں لے جاتا، توہین اس کے آس پاس ہی بھٹکتی رہتی۔ شروع شروع میں اس سے گھبراہٹ ہوتی، لیکن بعد میں اس کی عادت سی ہو گئی۔ بھوک اور توہین نے مجھے غور و فکر کرنا سکھایا۔ یہی کہ اچھائی کہیں بھی پیٹھ کے پیچھے کھڑی رہتی ہے۔ اس نے مجھ ےبہت کچھ سکھایا۔

بھوک اور توہین ان کی خوب دوستی۔ ہرجگہ ساتھ ساتھ گھومنے والے۔ میرے پاس بھی یہ کئی دن تک رہے۔ ایک بار جب میں نے انہیں گلے لگایا تو وہ کئی دن میرے ساتھ رہے۔ ان کے ساتھ رہنے سے ایسا لگا جیسے سادھنا کرکے کوئی بڑی حقیقت کو پا لیا ہے۔

بے عزتی کسی بھی واقعے کو تیسری آنکھ سے دیکھنا سکھاتی ہے۔ صبح ہو یا شام توہین کو پی جانے کے بعد بھوک کی آگ بھی بجھ جاتی ہے۔ بے عزتی اور توہین کے گھونٹ نگلتے وقت شروع میں کچھ تکلیف تو ضرور ہوتی ہے، لیکن بعد یہ اس میں مٹھاس بڑھنے لگتی ہے۔ ایک بار جب ان حالات میں آدمی داخل ہو جاتا ہے تو بڑی سے بڑی توہین بھی پچا لیتا ہے۔

بے عزتی اور بھوک کی یونیورسٹی سے اعلا تعلیم حاصل کرکے جب میں باہر نکلا تو دنیا کی کوئی بھی مشکل اور مصیبت میرا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔ کتنی بھی اونچائی پر پیھکے تو جس طرح بلی پھر سے چار پیروں پر ہی زمین پر آتی ہے۔ اسی طرح میرے چہرے پر بھی ای بے دھڑک، بے شرم ہنسی اگ آئی تھی۔ پتہ چل گیا تھا کہ مٹھی مڑنے کے لئے ہی ہوتی ہے۔ مجھے پتہ چل گیا کہ کسی بات پر بجھے جتنی تکلیف پہنچتی ہے اتنی ہی دوسرے کو بھی پہنتی ہے۔ پتہ چل گیا کہ ہر کسی کسی کی انتڑیوں میں بھوک بسی ہے۔ توہین اور بے عزتی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ کھڑے ہونے کے لئے ہر کوئی رینگتا رہتا ہے۔ بلندی کی طرف جانا ہے تو اس کی سیڑھیاں یہ بھوک اور بے عزتی کی ہی ہیں۔

 اب دریا کے دوسرے کنارے پر ہوں۔ اپنے ان استادوں کو اس دورے کنارے پر چھوڑ آیا ہوں۔ اب وہ دوسروں کوزندگی کا سبق سکھا رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے اور آگے کوئی اور دریا ہوگا، جسے پار کر ہو سکتا ہے کہ کوئی اور دوسرے کنارے پر پہنچنا ہو۔ حالانکہ وہ دونوں دوست آج میرے ساتھ نہیں ہیں مجھے دیکھ کر اجنبی بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن میں انہیں بھولا نہیں ہوں۔ 

مراٹھی سے ترجمہ : ایف ایم سلیم