تاریخی شواہد کو نئی نسل کے لئے محفوظ رکھا جائے

 حیدرآباد میں چھ تاریخی عمارتوں کو انٹیک ہیریٹیج ایوارڈ

0

کہانی شہر کی ہو یا شہر کی باشندوں کی۔ وہ تاریخ اور تاریخی اہمیت کی عمارتوں اور شواہد کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ انڈین نشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیرٹیج (انٹیک) کی ملک بھر کی شاخیں تاریخ کے ان بچے کچے شواہد کو محفوظ رکھنے کی تحریک چلا رہی ہے۔ حیدرآباد میں بھی گزشتہ دنوں شہر کی چھ تاریخی عمارتوں کو ان کی دیکھ بھال اور تاریخی اہمیت کے لئے حیدرآباد انٹیك ہیریٹیج ایوارڈ اور ایک عمارت کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ ساتھ ہی ایوارڈ کے پلیٹ فارم سے حیدرآباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا، جس میں عدالت نے تیلنگانہ حکومت کے تاریخی عمارتوں کو ہیریٹیج فہرست سے ہٹانے کے حکم کو مکمل طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اےاوسی ایئر فورس اسٹیشن بیگم پیٹ ایئر کموڈور سریش بڈيال اور نیشنل ٹیبل ٹینس چمپئن رہ چکے میر قاسم علی کے ساتھ سالارجنگ میزیم میں انٹیك حیدرآباد کی کنوینر انورادھا ریڈی اور شریک کنوینر سجاد شاہد نے سات عمارتوں کے لئے ہیریٹیج ایوارڈ اور سٹیفکیٹ پیش کئے-

الوال کا سینٹ فرانسس ذیوئير چرچ کی تعمیر 1840 میں برطانوی فوج کے زمانے میں کی گئی تھی۔ جس کے آس پاس آج بھی تقریبا 100 عیسائی خاندان بستے ہیں۔ یہ حیدرآباد کے سب سے قدیم گرجا گھروں میں سے ایک ہے۔ 2015 میں اس کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ اس کے لئے دیا جانے والا انعام جان چاکو نے حاصل کیا۔

دوسرا انعام رام گوپال بلڈنگ کو دیا گیا۔ اس کی تعمیر دیوان بہادر سیٹھ رام گوپال ملانی نے 1890 میں کی تھی۔ یہ سکندرآباد کے تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ بعد میں رام گوپال ملانی کے نام پر ہی رام گوپال پیٹ محلہ بس گیا۔ اس کے تحفظ کا کام بھی 2015 میں ہی کیا گیا تھا۔ اس کے لئے هركرشن ملانی اور بھرت ملانی نے انعام حاصل کیا۔

ارٹيلری سینٹر گولكونڈا کے ہیریٹیج ارٹيلری کلیکشن اور رنبير ہال کو بھی انعام سے نوازا گیا۔ اس کی اپنی کہنای ہے۔ یہاں قطب شاہی فوجی دستے، مغل فوجیوں اور نظام کے فوجی دستے رہا کرتے تھے۔ اس سینٹر کے پاس قطب شاہوں اور نظاموں کی فوجوں کی جانب سے استعمال کی گئی نایاب توپیں موجود ہیں۔ توپوں کا نادر مجموعہ یہاں ہے۔ رنبیر حال کی تعمیر آصف جاہی حکومت کے دوران نظام کے گولكونڈا بریگیڈ کے لئے کی گی تھی۔ اس کا انعام کرنل پی کرن کمار کو دیا گیا۔

ماصاحب ٹینک حیدرآباد میں واقع حیدرآباد ماونٹیڈ پولس کے اكویسٹیرين سینٹر کو بھی ہیریٹیج ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ جگی حیدرآباد میں گھوڑ سواری کے شوق کی تاریخ کی گواہ رہی ہے۔ آصف جاہی حکومت میں حبشی لوگوں کےافوج کے ٹہرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ آج جہاں سیف آباد کالج ہے، وہاں افريكن کیولری تھا اور اكویسٹیرين ہاوس کو جانوروں کے کلینک کے طور پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ اس کی خستہ حالت کے بعد اسے حیداراباد پولیس کو سونپا گیا تھا۔ پولیس نے اس کو بہترین شکل میں بحال کیا۔ آج بھی یہاں گھوڑ سواری کے لئے حوصلہ افزا ماحول ہے۔ اس کے لئے شہر کے ایڈشنل پولس کمشنر انجنی کمار کو ایوارڈ پیش کیا گیا۔

ملک بھر میں مشہو زندہ طلسمات عمارت، فیکٹری زندہ طلسمات بھی 2016 کے ہیریٹیج ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں شامل تھی۔ اس عمارت کی تعمیر حکیم محمد معیز الدين فاروقی نے 1920 میں کی تھی۔ ان کی بنائی گئی دوا زندہ طلسمات آج بھی اسی طرح مقبول ہے جس طرح وہ پہلے تھی۔ یہ ایوارڈ مسيح الدين فاروقی کو فراہم پیش کیا گیا۔

ایم آئی ایم پارٹی کے ہیڈ کوارٹر دارالسلام کو بھی ہیریٹیج ایوارڈ پیش کیاگیا۔ اس عمارت کی تعمیر 1930 میں کی گئی تھی۔ یورپین اورہندوستانی تعمیر کے ارکٹکچر کا امزاج اس میں شامل ہے۔ عمارت کی مرمت اور تحفظ کا کام حال ہی میں کیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ممبر اسمبلی احمد پاشا قادری نے حاصل کیا۔

عثمانیہ یونیورسٹی کے ومنس کالج کے ڈال ہاؤس کو خصوصی مراعات سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔

تقریب مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کموڈور سریش بڈیال نے کہا کہ حیدارآباد تاریخی اہمیت رکھتا ہے اور یہاں کی عمارتوں کے تحفظ میں پولیس اور فوج کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو ثقافتی، تاریخی، موسیقی، ادب اور کھیل کے نقطہ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ اس کو بچانے کے لئے ہم نے کوشش بھی کی ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کیا جان ہے۔

تقریب میں انورادھا ریڈی اور سجاد شاہد نے شہر کی تاریخی تصویر کو خراب کرنے کا ماحول کو ختم کرنے پر زور دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔

نئی دنیا کے ساتھ جینے کا فارمولا ہے مولانا جہانگیر کا ادارہ ... اسلامی ماڈل یونیورسٹی

دانش محل...کتابوں کا تاج محل ، دانشوروں کاخواب محل

اخبار کی ملازمت چھوڑ کربنےمورخ ...سید نصیر احمد


كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories

Stories by F M SALEEM