دادا کی موت کےبعد شروع کی 6سالہ بچی نے مہم ... ہزاروں سےترک کروائی سگریٹ نوشی

0

اگر انسان میں سماج کو نئی سِمت دکھانے کا جذبہ ہو تو عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس بات کو ثابت کردکھایا ہے اندور کی رہنے والی 11 سالہ دِشا تِواری نے۔ دِشا نے تمباکو کو خلاف اس مہم کا آغاز تب کیا تھا جب ان کی عمر محض 6 برس تھی۔ آج تک دِشا تین ہزار سے زیادہ لوگوں سے سگریٹ نوشی ترک کرواچکی ہے اور اس کی یہ مہم ہنوز جاری ہے۔ اسکول اور ہوم ورک کے علاوہ دِشا کو جو بھی وقت ملتا ہے اسے وہ اپنی اس مہم کو کامیاب بنانے میں لگادیتی ہے۔

یہ واقعہ 6 سال پرانا ہے ۔ اندور کے ایک اوپن ریستوراں میں کچھ نوجوان بیٹھے ہوئے سگریٹ نوشی کر رہے تھے۔ اچانک ایک 5 سالہ بچی نے ان کے پاس جاکر سوال جواب کرنے شروع کردئے۔ 'انکل ، آپ سگریٹ کیوں پی رہے ہیں؟ سگریٹ پینے سے کیا ہوتا ہے؟ کیا آپ کو پتا ہے کہ آپ کی یہ بری عادت آپ کے ساتھ ساتھ آپ کے آس پاس کے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ آپ کو پتا ہے کہ س عادت کی وجہ سے آپ وقت سے پہلے ہی مر سکتے ہیں؟' یہ وہ سوالات تھے جو نکلے تو ایک چھوٹی سی بچی کی زبان سے لیکن ان کا اثر اتنا بڑا تھا کہ ان سوالات نے سگریٹ نوشی کے عادی ان نوجوانوں کو دہلا کر دکھ دیا۔یہ بچی اتنے سوالات پر ہی رُکی نہیں بلکہ اس نے نوجوانوں کو فوراً جلتی ہوئی سگریٹوں اور پاس رکھے سگریٹ کے پیکٹ کو پھینکنے کو کہا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ سگریٹ پیتے ان نوجوانوں کو بچی کی بات ماننی پری۔ یہ بچی تھی دِشا تواری جو اپنے والدین کے ساتھ ریستوراں میں کھانا کھانے آئی تھی۔ ان نوجوانوں نے دِشا کے والد کے پاس آکر بتایا کہ اب تک سگریٹ نوشی ترک کرنے کا سبق تو ہمیں بہت سے لوگوں نے پڑھایا لیکن اس معصوم بچی کے ایک ایک لفظ نے ایسا اثر ڈالا ہے کہ اب ہم سگریٹ نوشی ترک کر رہے ہیں۔

دِشا کے والد اشوین تِواری نے جب اس بارے میں اپنی بیٹی سے بات کی تو اس نے کہا،

میں کسی کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی جلد ہی میرے داداجی کی طرح مرجائے گا۔ اسی لئے میں ان کو روکنا چاہتی ہوں۔

دِشا کے والد نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ اسے ایک مشن بناکر آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس کے مشن میں پورا خاندان اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہے۔ بس ، پھر کیا تھا، دِشا کی مہم چل نکلی۔ دِشا نے سب سے پہلے اپنی سوسائٹی میں رہنے والے ان لوگوں کو ڈھونڈنکالا جو سگریٹ نوشی کے عادی تھے۔دِشا ان سے گھر گھر جاکر ملاقات کرتی۔ ان سے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا وعدہ لیتی اور ان کا موبائل نمبر اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیتی۔ پہلے ہر دن اور پھر کچھ دن چھڑ کر دِشا ان کو فون کرکے انہیں ، ان کا وعدہ یاد دِلاتی۔

دِشا کی یہ کوشش سوسائٹی سے نکل کر اپنی کالونی، پھر دوسری کالونی اور پھر شہر کے دوسرے علاقوں تک جا پہنچی۔ مہم وسیع ہوتی چلی گئی تو دِشا کے ساتھ دیگر لوگ بھی جُڑ تے چلے گئے اور دِشا کی تصویر کے ساتھ اپیل کے پوسٹر اور بینر شہر کے ایسے عوامی مقامات پر لگنے لگے جہاں لوگ کھڑے ہوکر سگریٹ نوشی کیا کرتے تھے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جب 2012 میں 'ورلڈ نو ٹوباکو ڈے' پر دِشا نے سبھی پان کی دوکانوں پر جاکر ان سے اپیل کی کہ وہ صرف ایک گھنٹے کے لئے تمباکو سے بنی اشیاء فروخت نہ کریں ۔ اور اس کا اثرصاف دکھائی دیا۔ دِشا کی یہ مہم خوب سراہی گئی۔ اس کے بعد ہر سال دِشا کی اپیل پر ایک گھنٹے کے لئے 'ورلڈ ٹوباکو ڈے' پر دوکان داروں نے تمباکو سے بنی اشیاء کی فروخت بند کرنا شروع کردیا۔

دِشا دوکانداروں سے سگریٹ اور تمباکو کے پاؤچ اکٹھا کرتی ہے اور عوامی جگہوں پر جاکر ان کی ہولی جلاتی ہے۔ دِشا کا ماننا ہے کہ بھلے ہی اس کی مہم چند ہزار لوگوں تک پہنچ پائی لیکن ایک دن وہ بھی آئے گا جب سماج کا ایک بڑا طبقہ تمباکو سے توبہ کرچکا ہوگا۔ دِشا کی کالونی میں رہنے والے کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنی سگریٹ نوشی کی بری لت کو چھوڑ تو نہیں پائے لیکن سگریٹ پیتے وقت دِشا ان کو دور سے ہی آتی دکھائی دے جائے تو وہ سگریٹ پھینک دیتے ہیں۔دِشا آج پانچویں جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اسکول کی دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہے ۔ اس کے بعد بھی وہ جب اور جہاں اسے موقع ملتا ہے وہ اپنی مہم کے لئے ہر دن کچھ نہ کچھ وقت نکال ہی لیتی ہے۔

تمباکو کے خلاف مہم کے پسِ پشت دِشا کا ایک خاص مقصد ہے۔ دِشا اپنے داداجی سے بہت پیار کرتی تھی۔ گھر میں داداجی کے ساتھ کھیلنا، ان کے ساتھ باغیچے میں گھومنے جانا، ان سے کہانیاں سننا اسے بہت پسند تھا۔ دِشا بھی اپنے داداجی کی بہت لاڈلی تھی۔ داداجی کی اچانک موت کے بعد وہ گُم سُم سی رہنے لگی۔ اس وقت دِشا کی عمر محض 3 برس تھی۔ مگر جب دِشا کی عمر 5 برس ہوئی تو اسے اپنے والد سے علم ہوا کہ اس کے دادا جی کی موت کثرتِ سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ والد سے اس بات کا علم ہونے پر معصوم دِشا کے دل میں یہ بات گھر کر گئی اور یہ چھوٹی سی ٹیس کب ایک بڑی مہم میں تبدیل ہوگئی، اس کا پتا ہی نہیں چلا۔

حال ہی میں دِشا نے تمباکو کے استعمال کے خلاف ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے،" نئی دِشا- بدلتے راستے"۔ اس کتاب میں دِشا نے اپنے داداجی کے ساتھ بتائے لمحات، سگریٹ نوشی کی وجہ سے ان کی بگڑتی صحت اور پھر انجامِ کار، ان کی موت سے جُڑے تمام واقعات لکھے ہیں۔ ساتھ ہی نشے کی وجہ سے برباد ہونے والے لوگوں کی کہانیاں اور نشہ کی لت چھوڑنے کے بعد زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کی کہانیاں بھی اس کتاب میں درج ہیں۔ جلد ہی یہ کتاب اسکول کے بچوں میں تقسیم کی جائے گی جسے پڑھ کر دوسرے بچے اپنے گھر اور آس پاس کے لوگوں سے تمباکو چھوڑنے کی فہمائش کرسکیں گے۔ دِشا کے والد ایک تاجر ہیں لیکن وقت نکال کر وہ اپنی بیٹی کے مشن میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔ دِشا کی تحریر کردہ کتاب کو ہر چھوٹے بڑے اسکول میں بچوں میں تقسیم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

تحریر: سچن شرما

مترجم: خان حسنین عاقبؔ