'نوکری سے نکالانہیں جاتا، تو آج نہ ہو تے 4000 کروڑ کی کمپنی کے مالک

0

کہتے ہیں اگرحوصلے بُلند اور ارادےمضبوط ہوں تو کوئی بھی منزل مشکل نہیں ہوتی ۔آپ کو ضرورت ہوتی ہے بس مہابھارت کے ارجن کی مانند 'مچھلي کی آنکھ پر تمام تر توجہ اور عزم ِمستحکم کے ساتھ نشانہ لگانے کی ۔ کامیابیاں نہ کبھی حالات کی غلام رہی ہیں، نہ ہوں گی،مگرجدوجہد کے دورمیں آدمی ضرور متضادحالات کا شکارہو جاتا ہے ۔ لیکن وہی آدمی اگر غلامی کے اس طوق کو توڑتے ہوئے لگن اور محنت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو ایک دن یقیناً تاریخ رقم کردیتا ہے۔

کسی زمانے میں اپنا کاروبار محض 250 روپے سے شروع کرکے آج اس کو 4000 کروڑ روپےتک لانے والے ’ایس آئی ایس‘ گروپ کے بانی اور چیئرمین’ رویندر کشور سنہا‘ نے بھی حقیقی معنوں میں ایک تاریخ ہی رقم کی ہے ۔ تحریک و ترغیب دینے والی ایک ایسی تاریخ جو اِس جدید دور کے کاروبار ی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتی ہے ۔ رویندر کشور سنہا نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک سرگرم صحافی کے طور پر کیا تھا۔ سنہا بتاتے ہیں،

’’1971 کی ہند پاک جنگ کی رپورٹنگ کے دوران ہندوستانی فوج کے افسران اور جوانوں سے اُن کی اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی ۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد سنہا پٹنہ واپس آ گئے اور سیاسی نامہ نگار کے طور پر روزنامہ ’ سرچ لائٹ‘اور ’پردیپ ‘کے لئے کام کرنے لگے ۔‘‘

 رویندر کشور سنہا 1970 کے دوران مظفر پور کے’ مشهری‘ ڈویژن میں نکسلیوں کے خلاف چلائی گئی قومی رہنما جے پرکاش نارائن (’جے پی‘) کی تحریک کے وقت سے ہی’ جے پی‘ سے منسلک رہے تھے، لہٰذا وہ دن بہ دن ’جے پی‘ کے قریب آتے گئے ۔ اُس وقت کی اندرا گاندھی حکومت میں پھیلی بدعنوانی کے خلاف سنہا نے درجنوں تلخ تنقیدی مضامین لکھے اور بالاخر 1974 میں نوکری سے نکال دیئے گئے۔

رویندر کشور سنہا بتاتے ہیں،

’’ اُس دن شام کے وقت جب میَں جے ۔ پی۔ کے یہاں پہنچا تو ’جے پی‘ کو نوکری سے نکالے جانے کی خبر پہلے ہی مل چکی تھی۔ ’جے پی‘ نے پوچھا کہ اب کیا کرو گے؟ میں نے کہا فری لانسگ کروں گا۔ تب ’جے پی ‘نے مشورہ دیا کہ کچھ ایسا کرو جس سے غریبوں کا دِل جیت سکو۔‘‘

فوج کے حکام اور جوانوں کی مدد سے اُس مشکل وقت میں سنہا نے بنیادی طور پر سابق فوجیوں کی ملازمت بحالی کیلئے سیکورٹی اینڈ انٹلی جینس سروس چلانے کی ٹھان لی ۔ ایک ایسا نیا کام جس میں رویندر کشور سنہا کا کوئی تجربہ نہیں تھا ۔ سنہا بتاتے ہیں کہ اُن کے ایک دوست منی اسٹیل پلانٹ چلاتے تھے، جنہیں رام گڑھ (جھارکھنڈ) میں لگی اپنی پراجیکٹ سائٹ کی حفاظت کے لئے فوج کے ریٹائرڈ جوانوں کی ضرورت تھی۔ سنہا نے اپنے دوست سے کہا کہ وہ کچھ جوانوں کو جانتے ہیں ۔ اس پر اُن کے دوست نے سنہا کو ایک سیکورٹی کمپنی بنانے کی ہی صلاح دے ڈالی۔اِس مشورہ کو سنہا نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ انہوں نے پٹنہ میں ہی ایک چھوٹا ساگیراج کرایہ پر لے کر یہ کام شروع کر دیا ۔ سنہا کی عمر اس وقت محض 23 سال تھی ۔ انہوں نے سب سے پہلے فوج کے 35 ریٹائرڈ جوانوں کو نوکری دی ۔ ان میں 27 گارڈز، تین سپروائزر، تین گن مین اور دو صوبیدار تھے ۔ اس طرح 1974 میں’ایس آئی ایس‘ وجود میں آ گئی ۔ اس کے بعد رویندر کشور سنہا اور ’ایس آئی ایس ‘نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ مثلاً، ابتدائی برسوں میں ہی رویندر کشور سنہا کی محنت اور مہارت اپنا رنگ دکھانے لگی تھی ۔ کچھ ہی سالوں میں گارڈس کی تعداد بڑھ کر تقریباً 5000 ہو گئی اور کمپنی کا ٹرن اوور ایک کروڑ سے اوپر پہنچ گیا تھا ۔

موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ’ایس آئی ایس ‘گروپ میں سوا لاکھ سے زیادہ مستقل ملازمین ہیں ۔پورےہندوستان میں 250 سے زیادہ دفاتر ہیں ۔ تمام 28 ریاستوں کے 600 سے زیادہ اضلاع میں کاروبار پھیلا ہوا ہے۔ ’ایس آئی ایس ‘ نے بین الاقوامی سطح پر پیش قدمی کرتےہوئے 2008 میں آسٹریلیا کی کمپنی ’چب‘ سیکورٹی کے اختیارات حاصل کئے تھے۔ 2016 میں کمپنی کا ٹرن اوور 4000 کروڑ سے تجاوز کر گیا۔

رویندر کشور سنہا نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کے نوجوانوں کو خود مختار اور خود کفیل بننا چاہئے ۔ اُنہیں روزگار لینے والا نہیں، روزگار دینے والا بننے کی سِمت میں پیش قدمی کرنا چاہئے ۔ سنہا کہتے ہیں،

’’اگر کوئی شخص کسی خاص بزنس میں جانا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ بزنس شروع کرنے سے قبل ، سب سے پہلے اس بزنس سے منسلک کسی کمپنی میں کام کرکے تجربہ حاصل کرے ۔ اُس بزنس سے متعلق تحقیق کرے اور اسے انتہائی باریک بینی سے سمجھے ۔‘‘

سنہا بتاتے ہیں کہ بزنس کو آگے بڑھاتے وقت ایسے کئی چیلنجز آپ کے سامنے آتے ہیں جن کا مقابلہ قدرے مشکل ضرور لگتا ہے لیکن آپ کا صبر، لگن اورکڑی محنت ہر چیلنج کو شکست دے سکتا ہے۔

نوجوان کاروباریوں کوکامیابی کا راز بتاتے ہوئے سنہا کہتے ہیں،

’’بزنس میں آنے والی مشکلات اور چیلنجوں سے گھبرانے کی بجائے انہیں حل کرنے کے طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔ بزنس کے ابتدائی برسوں میں آمدنی (ریونیو) سے زیادہ اہم ہوتا ہے مارکیٹ اور لوگو ں کے درمیان اپنی کمپنی کی ساکھ (گُڈوِل )اور عزّت بنانا۔ ‘‘

آپ کو بتاتے چلیں کہ سنہا سیاست میں بھی کافی برسوں سے فعال رہے ہیں ۔ وہ ’جن سنگھ ‘کے دنوں سے ہی’ بی جے پی‘ سے منسلک رہے ہیں۔ وہ بہار بی جے پی کے سینئر نائب صدر اور دو بار انتخابی مہم کمیٹی کے صدر رہے ہیں ۔ تاریخی ’جے پی‘ تحریک میں بھی ان کی سرگرمیاں شامل رہی ہیں۔ وہ جے پرکاش نارائن کے قریب ترین ساتھیوں میںسے ایک ہیں ۔ وہ 2014 میں بہار سے بی جے پی کی جانب سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے ۔ آج بی جے پی کے سینئر رہنماؤں میں ان کا نام شمار کیا جاتا ہے ۔ بی جے پی نے 2013 میں سنہا کو دہلی اسمبلی انتخابات کا معاون انچارج بنایا تھا، جب بی جے پی محض دو نشستوں کی کمی کے باعث حکومت نہیں بنا پائی تھی ۔ وہ متعدد بار بی جے پی قومی مجلسِ عاملہ کے رکن بھی رہے ہیں ۔

فی الحال آر کے سنہا ’ایس آئی ایس ‘گروپ کے چیئرمین کے علاوہ بی جے پی سے ممبر پارلیمنٹ اور کئی سماجی تنظیموں کے سرپرست ہیں۔ وہ ’دہرہ دُون ‘کامشہور بورڈنگ ’انڈین پبلک اسکول‘ بھی چلاتے ہیں ۔ وہ پٹنہ کے ’آدی چترگپت‘ مندر ٹرسٹ کے صدر بھی ہیں ۔ سنہا ایک بے لوث سماجی کارکن بھی ہیں ۔ وہ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں ۔ اپنی ایک سماجی مہم '’سنگت پنگت‘ کے تحت وہ کو شش کرتے ہیں کہ علاج نہ ہونے کے سبب کوئی غریب بیمار آدمی دم نہ توڑ دے، کوئی ہونہار طالب علم معاشی تنگی کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہ جائے ۔ سنہا بِنا جہیز شادی کے شدید حامی ہیں ۔’سنگت پنگت‘ کے تحت انہوں اپنی دیکھ ریکھ میں بِنا جہیز والی بے شمار اجتماعی شادیاں کروائی ہیں۔

اِسی مہم کے تحت وہ جلد ہی دہلی میں متعدد خصوصیت والے ایک مفت’ اوپی ڈی‘ سینٹر کا انتظام کرنے والے ہیں جہاں غریب اور ضرورت مند لوگ اپنا مُفت علاج کرا پائیں گے ۔ جلد ہی ایسے کئی اور مفت’ اوپی ڈی‘ سینٹرپٹنہ، کانپور اور لکھنؤ میں بھی کھولے جائیں گے ۔

قلمکار : روہِت شریواستو

مترجم : انور مِرزا

Writer : Rohit Srivastava

Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

سفرمیں ’وائی فائی‘ کے ذریعے تفریح فراہم کراتا ہے ' فراپ کارن‘ ...

عوام کےلئے بانس کے گھر بنا رہی ہے ’ ونڈر گراس‘ کمپنی ...

اردو کا بیسٹ سیلرناول نگار رحمٰن عبّاس. ..’ روحزِن‘ کے لئے ملیں گے 20 لاکھ روپے