"ایک معذور لیکن باہمت اورباحوصلہ معلمہ "

0

ہاتھوں سے محروم ہے تو پیروں سے تختہ ِسیاہ پر لکھتی اور بچوں کو پڑھاتی ہیں

بسنتی اپنے پورےخاندان کی ذمہ دار بھی ہے

یہ سچ ہے جب کوئی مشکل آتی ہے تو اپنے ساتھ حل بھی لاتی ہے- بس اس حل تک پہنچنے کا صحیح راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے- ہمت ،حوصلہ اورخود اعتمادی اس میدان کے ہتھیار ہیں - کئی مرتبہ حل تلاش کرنے میں لوگ ناکام ہوجاتے ہیں تو ان کا حوصلہ ہار جاتا ہےاور وہ زندگی کو یونہی گزارنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں لیکن جو بہادر ہوتے ہیں اپنی حوصلہ مندی ، محنت ، خود اعتمادی اورہمت کی بدولت مسائل سے ابھر کران پر جیت حاصل کرکے یا انہیں پچھاڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں – اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں - کچھ اسی طرح کے مزاج کی حامل ہیں جھارکھنڈ کی بسنتی جنہوں نے ہمت و حوصلہ کی بدولت مسائل کا حل تلاش کرکے زندگی کے راستوں کو ہموار کیا اور انہیں اب خود اعتمادی کے ساتھ طے کررہی ہیں –

بسنتی نہایت باہمت خاتون ہیں- ان کی سب سے بڑی قابلیت ناموافق حالات پر قابو پانا اورکسی قسم کی مطابقت نہ کرتے ہوئے انہیں موافق حالات میں تبدیل کرنا ہے-

بسنتی پیدائشی معذور ہیں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ان کے کئی ارمانوں پر پانی پھر گیا - ان کی خواہش تھی کہ وہ اسکول جائیں لیکن معذور ہونے کی وجہ سے ماں باپ انہیں اسکول نہیں بھیج رہے تھے۔ لیکن بسنتی کی ضد کی وجہ سے ماں کی ممتا ہار گئی اور پربھاوتی نے انہیں اسکول میں داخلہ دلایا - داخلہ ہونے کے بعد وہ عام بچوں کی طرح پڑھ نہیں سکتی تھیں۔ بس وہاں جاکر ببیٹھی رہتی تھیں - اسکول کے ٹیچرس بھی منع نہیں کرتے تھے - معذوری نےان میں ایک احساس کم تری پیدا کردیا اور وہ چپ چپ سی رہنے لگیں- پھر ایک دن ان کے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ وہ پیروں سے وہی کام کریں جوکام ہاتھوں سے کئے جاسکتے ہیں -اس میں کافی وقت ہمت وحوصلہ لگا لیکن وہ چھوٹی سی بچی نےہمت نہیں ہاری - بچپن سے ہی انہیں خود کو خود مختار اور خود کفیل بنانے کی خواہش تھی - یہ ان کی کڑی محنت اور ناتھکنے والا جذبہ تھا جس کی بناء پر بسنتی پڑھائی کرتی رہیں -خوداعتمادی سے لبریز بسنتی آگے بڑھتی رہیں –

بسنتی نے یوراسٹوری کو بتایا کہ

"سال 1993 میں میٹرک پاس کرنے کے بعد ہی میں نے ٹیوشن پڑھانی شروع کردی- اس دوران میرے والد صاحب مادھو سنگھ اپنی نوکری سے ریٹائرڈ ہوچکے تھے -ایسے میں گھر کی زندگی میرے کاندھوں پر آگئی تھی -اس دوران میں ٹیوشن پڑھاتے ہوئے خود کی تعلیم بھی جاری رکھی - دونوں کام بہترین انداز سے انجام پارہے تھے۔ اسی طرح میں نے اپنی بی۔ اے کی تعلیم مکمل کرلی- تبھی مجھے محسوس ہوا کہ کیوں نہ میں معلمہ بن جاؤں - لگاتار کوششوں کے بعد 2005 میں جھارکھنڈ کے سنڈری میں روڈا باندھ مڈل اسکول میں مجھے تدریس کرنے کا موقع حاصل ہوا-"

بسنتی صرف بیاض میں ہی نہیں بلکہ اسکول کے تختہ سیاہ پر بھی پیروں سے لکھتی ہیں- جماعت کے بچوں کے بک چیک کرنا، انہیں ہوم ورک دینا غرض یہ کہ تمام کام وہ پیروں کی مدد سے ہی کرتی ہیں- بسنتی نے اپنے جسم پر اتنا قابو پالیا ہے کہ اب انہیں تختہ سیاہ پر بھی پیروں سے لکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی –

بسنتی نے یوراسٹوری کو بتایا کہ

"بچپن ہی سے مجھے دوران تعلیم کاپی پر پیروں سے لکھنے کی عادت ہوگئی تھی - لیکن 2005 میں اسکول جوائن کرنے کے بعد تختہ سیاہ پر لکھانا میرے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا - لیکن لگاتار پڑھائی سخت محنت کی بدولت میں اس مقام کو حاصل کرسکی-"

بسنتی پانچ بہنوں میں سب سے بڑی ہیں- باقی بہنیں جسمانی اعتبار سے صحت مند ہیں - بسنتی کی ماں پربھاوتی دیوی کے مطابق، "ہمیں کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ بسنتی اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہے- وہ گھر میں بھی اسی تیزی کے ساتھ تمام کام انجام دیتی ہے- صرف لکھنا ہی نہیں بلکہ گھر کا ہر کام اپنی بہنوں کے ساتھ ساتھ خود کرتی ہے - وہ کسی پر منحصر رہنا نہیں چاہتی - تمام گھریلو ذمہ داریاں وہ کئی سال سے خود نبھارہی ہے- بسنتی کا مقصد اب کسی سرکاری اسکول میں مستقل ملازمت حاصل کرنے کا ہے- اس کےلیے انہوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے - یوراسٹوری اس باہمت حوصلہ مند لڑکی کے جذبے کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے سلام کرتی ہے-

تحریر: روبی سنگھ

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ