مہاتما گاندھی کی یادیں، باتیں اور.... پوتی سمترا گاندھی کلکرنی

دادا بغیر دباؤ کے سچ بلواتے تھے...کی بیٹی سمترا گاندھی کلکرنی 18 سال کی عمر لت دادا مہاتما گاندھی کے ساتھ رہی تھیں... گاندھی جی کی زندگی کے کئی دلچسپ وقعال کی گواہ رہیں.. شوہر اور بچوں کے لئے چھوڑی تھی آئی اے ایس کی نوکری...

0


بابا ئے قوم مہاتما گاندھی ملک اور دنیا کے لئے چاہے جو کچھ رہے ہوں، لیکن اپنی پوتی سُمِترا کے لئے وہ ایک اچھے دادا کی طرح ہی تھے، لیکن ان کے سامنے کھڑے ہوکرسچ بولنے کا حوصلہ خود بہ خود آ جاتا تھا۔ سمترا گاندھی کلکرنی بتاتی ہیں، ''گاندھی ملک اور ملک کے شہریوں کو بابائے قوم کی طرح دیکھتے تھے۔ اپنے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ان کا رویہ اس بات کی عمدو مثال تھی کہ وہ ان کی سچائی دل سے قبول کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ رہنے والے لوگ ان کے سامنے جھو ٹھ نہیں بول پاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں کبھی بھی ان کے سامنے جھو ٹھ نہیں بول پاتی تھی۔ میں کیا ان کے ساتھ رہنے والا کوئی بھی شخص جھو ٹھ نہیں بول پاتا تھا۔ ان کی شخصیت ہی میں کچھ ایسا تھا کہ وہ بغیر کسی دباؤ کے سامنے والے سے سچ بلواتے تھے۔''

گاندھی جی کے بیٹے رام داس کی بیٹی سمترا گاندھی کلکرنی آئی اے ایس افسر رہیں اور راجیہ سبھا میں انہوں نے گجرات کی نمائندگی کی۔ وہ ان دنوں بینگلور میں رہ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک خانگی تقریب میں حصہ لینے کے لئے حیدرآباد آئی تھیں۔ اسی دوران ان ملاقات میں اپنے دادا کے ساتھ گزارے لمحوں اور ان کی زندگی کے کچھ اہم واقعات کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ 18 سال کی عمر تک انہیں گادھی جی کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ اپنے دادا کی یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں،''وہ بہت ڈسپلین کے پابند اور اعتماد سے بھرپور تھے۔ اب جبکہ چھ دہائیوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ اس وقت کی قدریں مختلف تھے۔ اس کے باوجود ان کی ان کی سکھائی باتوںآج بھی کوئی فرق نہں آیا۔ وہ سب کو ایک ہی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ کوئی بھی والدین نہیں چاہتے کہ ان کے بچے جھو ٹھ بولیں، تشدد پر آمادہ ہوں، جس زمین پر جنم لیتے ہیں، اس زمین کو مایوس کریں ۔۔۔۔ گاندھی جی کے بھی بنیادی اصول یہی تھے۔ وہ انصاف پسند تھے۔ ہم نے ان کے ساتھ رہتے ہوئے کبھی ان کی باتوں کو پابندی نہیں سمجھا۔ بلکہ وہ باتیں ہمارے عادتوں اور روزانہ کے معمول کا حصہ بن گئیں۔ بلکہ ہم تو ان کے ساتھ رہتے ہوئے بغیر بتائے ہی رہن سہن، کھانے پینے اور حسن سلوک کے طور طریقے سیکھ گئے تھے۔''

پٹنہ کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سمترا کلکرنی بتاتی ہیں کہ گاندھی جی کے ایک مسلمان دوست ڈاکٹر محمود کے یہاں رہ ٹھہرے تھے۔ فسادات کے بعد امن قائم کرنے کے مقصد سے وہ وہاں ٹھہرے تھے۔ دوپہر کے وقت سمترا جب ایک درخت کے نیچے عام کھاتے ہوئے بیٹھی تھیں، تب گاندھی جی نے ان کے کھانے کے بارے میں پوچھا تو، انهوےنے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں گوشت بنتا ہے،اس لئے وہ کھانا نہیں كھائےگی۔ گاندھی جی نے کہا کہ وہ ان کی تہذیب ہے، لیکن ہمیں تو وہ مجبور نہیں کر رہے ہیں کہ وہی کھائیں۔ انہوں نے ہمارے لئے دال کھانا بنایا ہے۔ گاندھی جی کے لئے چونکہ مختلف کمرہ تھا، لیکن سمترا کو سب کے ساتھ کھانا تھا، تو وہ ہچکچا رہی تھی۔ اس کے لئے گاندھی جی نے اپنی پوتی کو سمجھایا کہ میزبانوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں ان کے ساتھ ہی کھانا کھانا چاہئے۔

آج کے نوجوانوں کو گاندھی جی سے کیا سبق حاصل کرنا چاہئے؟ اس سوال کے جواب میں سمتراکہتی ہیں '' گاندھی جی یکسوئی کا فن جانتےتھے۔ ان میں استقلال تھا۔ ۔ وہ شور شرابے سے بھری بھیڑ بھی سو سکتے تھے۔ سب سے اہم یہ کہ حالات چاہے جیسے ہوں، غلط کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے آپ کو ایک بار صحیح راستے پر چلنے کے لئے تیار کرو تو پھر دباؤ ڈالنے والی قوتیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ معاشرے کے ان لوگوں کی مدد کریں جو کی ضرورت مند ہیں، تکلیف میں ہیں۔ کسی کی مدد کرنے پر بدلے میں کچھ حاصل کرنے کا احساس نہ رکَھیں، بلکو بس اتنا سوچیں کہ میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے، اب یہ اس پر ہے کہ وہ اپنا فرض نبھائے یا نہ نبھائے۔''

سمترا گاندھی کا خیال ہے کہ دنیا کی ہر چیز آپ کے لیے موزوں نہیں ہوتی، بلکہ اسے اپنے لیے موزوں بنانے کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آج ملک کے حالات پہلے سے کچھ بہتر ہیں۔ غربت کچھ کم ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ''ہمارے دور میں نہ مقابلہ تھا، نہ رنگ برنگی کپڑے اور نہ جیب خرچ، جو ملا اسی کو قبول کر لیا۔ مزید کا کوئی لالچ نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔''

سمترا گاندھی کے لئے زندگی کے کئی لمحے بڑے صبر آزما رہے۔ ان کے شوہر انکم ٹکس عہد دار تھے، انہوں نے نوکری چھوڑ کر احمدآباد کے آئی آئی آیم میں تدریس کی خدمت اختیار کر لی۔ اسکے بعد سمترا نے بھی اپنی آئی اے ایس کی نوکری چھوڑ کر شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بارے میں وہ کہتی ہیں، میں نے شادی ان کے ساتھ رہنے کے لئے کی تھِی، تو پھر نوکری کرکے میں الگ کیوں رہوں۔ کئی لوگوں نے نوکری نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا لیکن، میں نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔ ''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem