زمین کے کاروبارمیں آسمان کی بلندیوں کوچھونے والے کرن

والدین سرکاری ملازم تھے، لیکن کرن نے کاروبار کی دنیا میں قدم جمائے ۔ بچپن سے ہی 'آرٹسٹ' تھے اور صلاحیتوں سے مالامال بھی، لیکن ان کی صلاحیتوں کونکھارنے والا کوئی نہیں تھا ۔ انٹر کی تعلیم مکمل ہونے تک بھی مستقبل کا کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا ۔ کبھی سیاست میں جانا چاہتے تو کبھی کھلاڑی بننے کا خواب دیکھتے ۔ ڈگری کی تعلیم کے دوران آئی اے ایس افسر بننے کی ٹھانی ، لیکن محنت کے باوجود جب سول سروسز کا امتحان پاس نہیں کر پائے تو نوکری کی تلاش شروع کی ۔ ایل آئی سی کی نوکری کا موقع تو آیا ، لیکن نوکری ٹھكارنے کے فیصلے نے زندگی کو ایک نئی سمت دی۔ ریئل اسٹیٹ کی کاروباری دنیا میں خوب محنت کی اور اپنے کام سے نام روشن کیا ۔ زمین کے کاروبار میں بچولیوں کے مایا جال کو ختم کرنے اور سب کے لئے فائدہ مند ثابت ہونے والے نئے قاعدے بنانے میں اہم رول ادا کیا اور بڑی کامیابیوں سے 'ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے اصلی ہیرو' ہونے کا خطاب پایا۔

0

تلنگانہ کے کاروباری يدگری کرن کی کامیابی کی کہانی حیرت انگیز، اور منفرد ہے۔ یہ کہانی متاثر کن بھی ہے۔ اپنی نایاب کامیابیوں سے کرن نے کاروبار کی دنیا میں اپنی انتہائی خاص شناخت بنائی ہے۔ ایک سیلز ایگزیکٹیو کے طور پر زمین کے کاروبار کی دنیا میں قدم رکھنے والے کرن اب 1000 کروڑ روپے کے کاروباری سلطنت کے مالک ہیں۔ کرن نے اپنے کیریئر کا آغاز 2500 روپے ماہانہ تنخواہ سے کیا تھا، لیکن محنت سے انہوں نے خوب ترقی کی اور کم وقت میں ہی کامیابی کی بلنديوں کو چھوا۔ جس کمپنی کے دفتر میں ان کو بیٹھنے کے لئے کوئی کرسی بھی میسر نہیں تھی، اسی کمپنی میں وہ وائس-پریسڈنٹ کے عہدے پر پہنچے۔ کرن نے جس ریئل اسٹیٹ کمپنی کے لئے دن رات ایک کر محنت کی وہ جب بند ہوئی تب انہوں نے اسی کمپنی کے ایک ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر نئی کمپنی شروع کی۔ جب اس ڈائریکٹر نے بھی کمپنی سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے تب کرن نے اپنی زندگی کی ساری کمائی لگا کر اپنی کمپنی 'سچر انڈیا 'شروع کی۔ 12 لاکھ روپے کی لاگت سے اپنی کمپنی شروع کرنے والے کرن نے 10 سال میں 1000 کروڑ روپے کی کاروباری سلطنت کھڑی کی۔ ہندوستان کے باہر بھی اپنا کاروبار شروع کر کرن بین الاقوامی سطح پر خود کو قائم کرنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔

کرن کی کہانی میں کامیابی کے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔ ان کی کہانی سکھاتی ہے کہ کامیاب کاروباری بننے کے لئے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ محنت اور جدوجہد کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔ یہ کہانی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادے بلند ہوں، ہار نہ ماننے کا جزبہ ہو، کامیاب ہونے کا جنون سوار ہو تو بڑے خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں۔ کرن کی پیدائش ایک اوسط خاندان میں ہوئی۔ ایک ایسا خاندان جو شہر کی چکاچوند سے دور تھا۔ انٹر تک کرن کی پڑھائی بھی تیلگو میڈیم میں ہوئی۔ شروع سے ان کا نہ کوئی گاڈفادر تھا اور نہ ہی کوئی اتالیق۔ انہیں لائف انشورنس کارپوریشن میں ڈیولپمنٹ آفیسر کی نوکری بھی ملی تھی، لیکن زندگی میں کچھ بڑا اور نیا کرنے کے بلند ارادے نے انہوں نے اس طرح کی نوکری کرنے سے انکار کردیا۔ شروع میں آئی اے ایس افسر بننے کا خواب دیکھا تھا لیکن سخت محنت کے بعد بھی جب وہ پورا نہیں ہوا تب بھی انہوں نے مایوسی اور ناکامی کو خود پر حاوی ہونے نہیں دیا۔

موقع کی تلاش کرتے ہوئے کرن ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کی دنیا میں پہنچے تھے۔ اس دنیا کو اچھے سے دیکھ اور سمجھ لینے کے بعد کرن نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ زمین کا کاروبار کرتے ہوئے ہی کامیابی حاصل کریں گے۔ کرن کامیاب بھی ہوئے۔ یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی تھی۔ ان کے سامنے کئی چیلنج آئے، دقتیں اور مسائل کھڑے ہوئیں۔ انہوں نے ہر چیلنج کو ایک موقع میں تبدیل کیا اور ہر موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور کامیابی کی راہ پر آگے بڑھے۔ سوجھ بوجھ اور قابلیت کے دم پر انہوں نے پریشانیوں اور مسائل کو دور کیا۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نئی روایات کا آغاز کیا۔ کرن نے کاروبار کے نئے اصول و قائدے بنائے۔ سیلز، مارکیٹنگ اور برانڈنگ کے نئے طور طریقے اپناکرریئل اسٹیٹ سیکٹر کے ریئل ہیرو' ہونے کی شناخت بنائی۔

اپنے نام اور کام کو 'سُچِر' کرنے کا ہدف لے کر آگے بڑھ رہے سچر انڈیا گروپ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو افسر کرن کی کہانی تلنگانہ کے هنمكونڈا سے شروع ہوتی ہے، جہاں ان کی پیدائش ہوئی۔ کرن کے والدین دونوں سرکاری ملازم تھے۔ والد وینکٹیشورلو ریونیو اور ماں پھولوں کماری کوآپریٹوز محکمہ میں کام کرتی تھیں۔ وےكٹےشورلو اور پھشپ کماری کی دو ستانے ہوئیں، کرن بڑے تھے اور ان کے پیچھے ایک لڑکی ہوئی۔ خاندان بڑا تھا، خوشحال بھی۔ کرن کی زیادہ تر اسکول کی تعلیم کریم نگر ضلع کے پیداپلی میں ہوئی۔ پہلی سے چوتھی تک کرن کی اسکول کی پڑھائی لکھائی کریم نگر میں ہوئی، جہاں ان کے چچا رہتے تھے۔ شروع میں چچا نے ہی کرن کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ چوتھی کے بعد کرن اپنے ماں باپ کے پاس پیداپلي چلے گئے۔ ان کا داخلہ ایک مشینری اسکول میں کروایا گیا۔ یہاں انہوں نے نوویں تک تعلیم حاصل کی۔ پھر کرن کا داخلہ پیداپلی کے گورنمنٹ جونیئر کالج میں کروا دیا گیا۔ سرکاری اسکول سے ہی کرن نے دسویں کا امتحان پاس کیا۔ سرکاری کالج سے ہی انہوں نے انٹر کی پڑھائی بھی مکمل کی۔ کرن کا کہنا ہے، "میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ ماں باپ کی وجہ سے ہوں۔ والدین نے میں جو مجھے آزادی دی تھی اسی کی وجہ سے میں بچپن میں بہت کچھ کر پایا تھا اور بچپن میں جو کچھ کیا اس کا فائدہ مجھے بڑا ہونے کے بعد ملا۔ والدین نے مجھے کبھی نہیں کہا کہ مجھے بڑا ہو کر ڈاکٹر بننا ہے، یا انجینئر بننا ہے۔ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ بننا ہے یا وہ بننا ہے۔"

اسی آزادی کی وجہ سے کرن ہر طرح کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ تقریر کرنے کے مقابلہ ہو یا پھر مضمون لکھنے کا مقابلہ کرن پوری تیاری کرکے میدان میں اترتے۔ کرن کو بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے کا بھی شوق تھا۔ اسی شوق نے انہیں کئی مقابلے جیتنے میں بھی مدد کی۔ کرن بتاتے ہیں، "ان دنوں معلومات حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ لائبریری کے سوا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ میں لائبریری جاتا تھا اور کتابیں پڑھ کر معلومات حاصل کرتا تھا۔ یہ ساری معلومات میں لکھ لیتا تھا۔ اسی معلومات کی بنیاد پر اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ میں تقریر کرتا تھا اور مضامین لکھتا تھا۔ ہمارے اسکول کے پرنسپل ڈیوڈ سر اعداد و شمار اور حقائق سے بھرے انہی صفحات کو اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔ "

ناچنا گانا بھی کرن کو بہت پسند تھا۔ تلنگانہ کے لوک گیتوں پر وہ جھوم-جھوم کر پوری مستی میں ناچتے تھے۔ ڈرامے میں مختلف کرداروں کو نبھا تے تھے۔ کتابیں پڑھنے کے دوران کرن مہاتما گاندھی، نیتا جی سبھاشچدر بوس اور بال گنگا دھر تلک سے کرن بہت متاثر ہوئے تھے۔ انہی لوگوں کو مثالی مانتے ہوئے کرن نے بچپن سے ہی غریب اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہائی اسکول کی تعلیم کے دوران ہی کرن نے غریب بچوں میں کورس کی کتابیں تقسیم کرنا شروع کیا تھا۔ سال ختم ہوتے ہی کرن امیر بچوں کے یہاں جاتے اور ان سے گزشتہ سال کی کتابیں لے لیتے۔ جمع کی گئی ان کتابوں کو اخبار کے صفحات کا کور چڑھانے کے بعد وہ انہیں لے جا کر غریب بچوں میں بانٹ دیتے تھے۔ کرن کا کہنا ہے، "ماں باپ نے جو آزادی دی وہ میرے ذہن اور اور میرے ایٹٹوڈ کے حساب سے بالکل صحیح رہی۔ بچپن میں جو کشادہ ذہنی ملی وہی ہمیشہ بنی رہی۔ "

اسکول کی طرح ہی انٹر کالج میں بھی کرن نے کھیل کود، فن وثقافت سے منسلک پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اب مقابلوں میں حصہ لینا ان کی عادت بن گئی تھی۔ لیکن، وہ اب بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے تھے کہ آگے چل کر انہیں کون سا پیشہ منتخب کرنا ہے اور زندگی میں کیا کرنا ہے۔ کرن نے بتایا، "جب کبھی میں اخبار میں ان لوگوں کے بارے میں پڑھتا تھا جن لوگوں نے نیا کام شروكر بہت نام کمایا میں ان سے بہت متاثر ہوتا۔ مجھے اس بات پر بہت تعجب ہوتا کہ جن لوگوں نے چار سو سال یا پھر پانچ سو سال پہلے جو کام کیا ہے لوگ انہیں آج بھی یاد کرتے ہیں۔ میں بھی کچھ ایسا ہی بڑا کام کر مشہور ہونا چاہتا تھا۔ "

لیکن، مشہور ہونے کے لئے کیا کیا جائے اس کے نارے میں کرن کے ذہن میں کچھ بھی صاف نہیں تھا۔ وہ کبھی سیاستدان بن کر لوگوں کی مدد کرنا چاہتے تو کبھی کھلاڑی بن کر اپنا نام روشن کرنا چاہتے۔ کبھی ان کے دماغ میں یہ بھی خیال آتا کہ کیوں نہ ماں باپ کی طرح سرکاری نوکری حاصل کی جائے۔ کرن نے کہا، "والدین سے مجھے کھلی چھوٹ ملی تھی اور جان پہچان کے لوگوں میں مجھے راستہ دکھانے والا کوئی نہیں تھا۔ اسی وجہ سے انٹر کی پڑھائی کے دوران تھوڑا كنفيوجن تھی۔ "اسی كنفيوجن کے درمیان بھی کرن نے کالج کے دنوں میں سماجی خدمت کا کام اور کچھ نیا کرنے کی عادت نہیں چھوڑی۔ جب بھی کبھی کسی ساتھی کی یوم پیدائش ہوتا تب کرن سب سے روپے جمع کرتے۔ کوئی زور زبردستی نہیں ہوتی، جس کی جتنی طاقت ہوتی ساتھی اتنے روپے دے دیتے تھے۔ اس روپیوں سے سماج کی بھلائی سے منسلک کام کئے جاتے۔ کبھی کالج کی بلڈنگ کے رنگ روغن کا کام ہوتا تو کبھی ٹوائلٹ صاف کروائے جاتے۔ کبھی میدان میں صفائی مہم چلائی جاتی تو کبھی خون کا عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا جاتا۔ ان تمام پروگراموں میں کرن ہمیشہ 'لیڈر' کے کردار میں ہوتے۔ چھوٹی عمر میں ہی کرن نے قیادت کرنا سیکھ لیا تھا۔ کرن کی ایک اور بڑی خوبی تھی۔ وہ بولتے بہت اچھا تھے اور ان کا مزاج ملنسار تھا۔ بچپن سے کرن کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان کی باتوں میں کچھ عجیب سا جادو تھا، باتوں سے وہ سب کا دل جیت لیتے تھے۔ کیا بچے، کیا بڑے اور کیا بزرگ سب سے کرن آسانی سے گھل مل جاتے ہیں۔

سوشل سروس جاری رہی لیکن کیریئر کے بارے میں كنفيوجن بنا ہوا تھا۔ انٹر پاس کر لینے کے بعد کرن نے محبوب نگر ضلع کے ونپرتی کے گورنمنٹ پولی ٹیکنیک کالج میں داخلہ لے لیا۔ یہاں سے کرن نے ڈپلوما کیا اور ڈپلوما ان کامرس اینڈ کمرشیل پریکٹس کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران کرن نے ٹائپ رائٹر چلانے اور شارٹ هینڈ اسکرپٹ لکھنے میں بھی مہارت حاصل کر لی۔ ڈپلوما پاس کرنے کے بعد کرن نے ورنگل کے كاكتيہ یونیورسٹی سے بی کام کی تعلیم شروع کی۔ گریجویشن کے دوران کرن کے ذہن میں اپنے مستقبل اور کیریئر کے بارے میں واضاحت آنے لگی تھی۔ کرن نے ذہن بنا لیا تھا کہ وہ سول سروسز کے امتحان دیں گے اور آئی اے ایس افسر بنیں گے۔ کرن کو لگا تھا کہ آئی اے ایس افسر بن کر وہ لوگوں کی بھلائی کے لئے سرکاری پالیسیاں بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ بات ان پر کچھ اس طرح سے حاوی ہو گئی کہ ان پر آئی اے ایس افسر بننے کا جنون سوار ہو گیا۔ بی کام کی ڈگری لینے کے بعد وہ سول سروسز کے امتحان کی تیاری کے لئے ورنگل سے حیدرآباد آ گئے۔ انہوں نے وديانگر علاقے میں کرایہ پر ایک کمرہ لیا اور امتحان کی تیاری شروع کی۔ اس کی تیاری میں کرن نے دن رات ایک کر دیئے۔ آئی اے ایس افسر بننے کے مقصد سے انہوں نے کئی دن انیس سے بیس گھنٹے تک مطالعہ کیا۔ سخت محنت کے باوجود کرن اپنے خواب کو پورا نہیں کر پائے۔ انٹرویو لیول تک پہنچنے کے بعد انہیں مایوسی اور ناکامی ملی۔

اس دوران انہوں نے یو پی ایس سی یعنی یونین پبلک سروس کمیشن کے کچھ دوسرے امتحان بھی لکھے تھے۔ انہوں نے لائف انشورنس کارپوریشن یعنی ایل آئی سی میں ڈیولپمنٹ آفیسر کا بھی امتحان دیا تھا، جس میں وہ پاس ہو گئے تھے۔ کرن نے دیکھا تھا کہ ایل آئی سی میں ڈیولپمنٹ آفیسر کی زندگی شاندار ہوتی ہے۔ جہاں کئی سرکاری افسروں کی اپنی گاڑی نہیں ہوتی وہیں سارے ڈیولپمنٹ آفیسر کی کار میں گھومتے پھرتے تھے۔ اتنا ہی نہیں ان ڈیولپمنٹ افسروں کی امدانی اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ انہیں انکم ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہی باتوں سے متاثر کرن نے ایل آئی سی میں ڈیولپمنٹ آفیسر کی نوکری کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ لیکن، اچانک کچھ ایسا ہوا کہ کرن نے نوکری کرنے کے اپنے فیصلے کو بدل لیا۔ کرن نے بتایا، "میں آفر لیٹر لے کر ورنگل میں ایل آئی سی کے زونل آفس گیا۔ آفس پہنچتے ہی میں نے وہاں لوگوں کو یہاں وہاں آتے جاتے دیکھا۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہوا میرے ذہن میں بہت سے خیال آنے لگے۔ میرے ذہن میں کئی سارے سوال کھڑے ہونے لگے۔ میں نے سوچا کیا میں یہاں کا چیئرمین بن سکتا ہوں، كيا ایم ڈی بن سکتا ہوں؟ ان سوالات کا جواب تھا- نہیں۔ مجھے اچانک احساس ہوا کہ جب میری ترقی ہوگی تب میں نے پہلے اسسٹنٹ منیجر بنوں گا، پھر برانچ منیجر بنوں گا اور پھر شاید زونل منیجر، اس کے بعد میں ریٹائر ہو جاؤں گا۔ مجھے یہ بات بھی یاد آئی کہ ملک بھر میں میرے ساتھ ایل آئی سی کے 600 نئے ڈیولپمنٹ آفیسر بن رہے تھے۔ ایک منٹ کے لئے تو مجھے لگا کہ میں شاید زونل منیجر بھی نہ بن پاوںگا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ان 600 لوگوں میں میں بھی ایک رہوں۔ میں کچھ مختلف کرنا چاہتا تھا۔ مجھے لگا کہ میں اس میں کچھ بھی نیا نہیں کر سکتا ہوں۔ پالیسی وہیں ہوں گی اور جو دوسرے لوگ کریں گے وہی کام میں بھی کروں گا۔ میں نے وہیں فیصلہ کر لیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا۔ اس کے بعد میں نے اپنا آفر لیٹر زونل منیجر کے ہاتھوں میں تھما دیا اور وہاں سے لوٹ آیا۔ "

کرن کے والدین کو پورا اعتماد تھا کہ ان کا بیٹا ایل آَئی سی جوائن کر لے گا اور اس کی زندگی بھی سیٹل ہو جائے گی۔ لیکن کرن نے سب کی سوچ اور اعتماد کے الٹ کام کیا تھا۔ اس وقت یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ بہت ہی بہادری کا فیصلہ تھا۔ ایک طرف تو کرن سول سروسز کا امتحان پاس نہیں کر پائے تھے اور دوسرے ان کے ہاتھ میں امدانی کا اور کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا۔اس دن کو اپنی زندگی کے سب سے اہم دنوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کرن نے کہا، "وہ پانچ منٹ میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ انہی پانچ منٹ نے میری زندگی بدل دی تھی۔ وہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ "اس دن کرن اپنے گھر بھی نہیں گئے تھے۔ رات اپنے ایک دوست کے یہاں گزارنے کے بعد وہ اگلے دن اپنے گھر گئے اور گھر والوں کو بتایا کہ انہوں نے ایل آئی سی کی نوکری ٹھکرا دی ہے۔ اس کے بعد کرن پھر حیدرآباد آ گئے۔ دوبارہ سول سروسز امتحان کی تیاری کی۔ خوب محنت کی، لیکن امتحان پاس نہیں کر پائے۔ کرن دو بار مسلسل ناکام رہے تھے۔

ملازمت نہ مل پانے سے کرن کی بے چینی بڑھنے لگی۔ بے چینی کو دور کرنے کے مقصد سے کرن نے 'ايّپّا' کی دیکشا لی۔ کرن نے اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر اور بھی مضبوط کرنے کے مقصد سے ایسا کیا تھا۔ خود مکتفی بننا کی فطرت میں تھا، دیکشا کے بعد وہ پھر کام کی لئے تلاش میں جٹ گئے۔ اسی تلاش میں انہیں جن چیتنيا 'نام کی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی میں ملازمت کے امکانات کے بارے میں پتہ چلا۔ کام کے لئے کرن نے درخواست بھی دی۔ کرن کو سیلز ایگزیکٹیو کی نوکری مل بھی گئی۔ آفر لیٹر لے کر کرن کمپنی کے دفتر پہنچے۔ صبح ٹھیک ساڑھے نو بجے تھے، 15 منٹ کے اندر اندر ساری رسم پوری کر لی گئ اور پھر کرن نے نئی ذمہ داری سنبھال لی۔ وہاں پر موجود لوگوں نے کرن کو مشورہ دیا کہ کیوں نہ ان سے پہلی بکنگ کا آغاز ہو۔ یہ بات سن کر کرن کے دماغ کی بتی جلی اور انہوں نے اسے چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ وہ فوری طور پر دفتر سے نکلے اور اپنے چچا کے پاس گئے۔ چچا کے پاس سے ساڑھے چار ہزار روپے لئے اور دوسری بکنگ کی کوشش شروع کر دی۔ کرن نے ورنگل میں اپنے ایک دوست کو فون لگایا اور اس کے ذریعہ دوسری بکنگ کروائی۔ دو بکنگ کنفرم کرنے کے بعد کرن دفتر پہنچے اور افسروں کو اس کی اطلاع دی۔ دفتر میں موجود تمام لوگ حیران رہے گئے۔ ایک نوجوان نے پہلے ہی دن دو بکنگ کروا دی تھی۔ سب نے کرن کو شاباشی دی۔ اس شاباشی کی وجہ سے کرن کا جوش بڑھا، ان کی امید بڑھی، خواب پھر سے بڑے ہو گئے اور نئی زندگی کی شروعات ہوئی۔ پہلے ہی دن دو بکنگ کروا کر خوب تالیاں بٹور لینے کے بعد کرن ورنگل چلے گئے۔ وہاں انہوں نے اپنے گھر والوں، رشتہ داروں، دوستوں اور جان پہچان کے لوگوں کو اپنی کمپنی 'جن چیتنيا' کے نئے وینچر کے بارے میں بتایا اور انہیں متاثر کر بکنگ کروانی شروع کی۔ پہلے مہینے میں ہی پینتاليس بکنگ کروانے میں کرن کامیاب رہے تھے۔ اس کامیابی کی وجہ سے کمپنی کے دفتر میں لگائے گئے بورڈ پر 'ٹاپر آف دی منتھ' کے ساتھ کرن کا نام تھا۔ بڑی بات یہ ہے کہ سالوں تک اس بورڈ پر کرن کا ہی نام رہا۔ ہرماہ انہوں نے کمپنی کے لئے سب سے زیادہ بکنگ كروائی اور خوب ترقی کی۔ ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کرن نے کہا، "میں نے ہزاروں بکنگ کی ہیں۔ لیکن، میں اپنی پہلی دو بکنگ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ ان دو بكگس نے مجھ میں یقین پیدا تھا کہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔ میں نے اسی دن فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ہمیشہ ٹاپر ہی رہوں گا۔"

ٹاپر بنے رہنے کا جنون کرن پر کچھ طرح سے غالب تھا کہ انہوں نے جی جان لگا دی۔ دن رات محنت کی۔ اپنی سوجھ بوجھ کا پورا استعمال کیا۔ بات چیت سے لوگوں کو متاثر کرنے کا فن جو بچپن میں سیکھا تھا اس کا بھی بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کیا۔ کرن اپنے کام کے لئے مصیبتوں اور تکلیفوں کے دور میں بھی اپنی محنت اور لگن میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ طبیعت ناساز ہونے پر بھی انہوں نے کامیابی سے ہی اپنی صحت سدھاری۔ ایک بار تو وہ ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کا چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا، لیکن کرن نے محنت اور کامیابی کی راہ نہیں چھوڑی اور آگے بڑھتے چلے گئے۔ ہوا یوں تھا کرن دفتر کے کام سے کہیں جا رہے تھے کہ ایک پل پر سے نیچے گر گئے۔ لوہے کی ایک راڈ ان کے پاؤں میں دھنس گئی تھی۔ زخم گہرا تھا، درد انتہائی زیادہ، لیکن کرن کے ارادے اتنے بلند تھے کہ انہوں نے ہار نہیں مانی اور حادثے والے اس ماہ بھی وہ سب سے آگے ہی رہے۔

'جن چیتنيا' میں کام کرنے کے دوران کرن نے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے بہت ہی گہرائی سے زمین، گھروں اور عمارتوں کے کاروبار کا مطالعہ کیا۔ اس مطالعہ سے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار بہت ہی بڑا ہے اور یہ بڑھتا ہی جائے گا۔ انہیں اس کاروبار میں بڑے پیمانے پر امکانات نظر آنے لگی تھیں۔ انہیں لگا کہ زمین، عمارت اور مکان کے کاروبار والی اسی دنیا میں کام کرنے ہوئے وہ خوب نام کما سکتے ہیں۔ کرن کے بھروسے کی بنیاد یہ حقیقت بھی تھی کہ آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن دنیا میں زمین کے بڑھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اسی وجہ سے مستقبل میں زمین کی قیمت اور اس کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو گا۔ اسی وجہ سے کرن نے خود کو رئیل اسٹیٹ کے رنگ میں رنگ لیا۔

اپنی محنت اور سوجھ بوجھ سے کرن نے 'جن چیتنيا' کمپنی میں خوب ترقی بھی کی۔ لیکن، مالکان کے درمیان ابھرے اختلافات کی وجہ سے کمپنی بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی۔ کمپنی میں چار ڈائریکٹر / پارٹنر تھے اور چاروں کے درمیان اختلافات مسلسل بڑھتے جا رہے تھے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی شہرت اور دولت کو ڈائریکٹر ہضم نہیں پا رہے تھے۔ کرن کو اس بات سے بہت ٹھیس پہنچی۔ وہ سب کے سب پارٹنر سے ملے اور انہیں سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کوئی بھی سمجھوتہ کرنے یا راضی ہونے کو تیار نہیں تھا۔ جب کرن کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ کمپنی کے ڈائریکٹر مل کر ایک ساتھ کام نہیں کریں گے تب انہوں نے ایک ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر نئی ریئل اسٹیٹ کمپنی شروع کر لی۔ اس کمپنی کو نام دیا گیا - 'مسٹر مترا'۔ کرن اس نئی کمپنی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بنے اور پرانی کمپنی 'جن چےیتنيا' کے جو ڈائریکٹر تھے نئی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر بنے۔ لیکن، چند ماہ کے بعد منیجنگ ڈائریکٹر نے 'مسٹر مترا' کے بجائے فلموں اور ٹیلی ویژن کی دنیا میں اپنا پیسہ اور وقت لگانے کا فیصلہ لیا۔ کرن چاہتے تھے کہ منیجنگ ڈائریکٹر بھلے ہی کمپنی چھوڑ دیں لیکن انہیں مسٹر مترا 'برانڈ کے استعمال کی اجازت دے دیں۔ اس شخص نے کرن کو برانڈ کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد کرن نے ایک بڑا فیصلہ لیا۔ فیصلہ اس بار بھی بہادری والا تھا اور خطرات سے بھرا ہوا بھی۔ کرن نے ٹھان لی کہ وہ اب اپنے دم پر کمپنی بنائیں گے اور خود ہی اسے چلائیں گے بھی۔ اس طرح سے کرن نے 'سچر انڈیا' کی شروعات کی۔

کمپنی کا نام 'سچر انڈیا' رکھنے کے پیچھے بھی دلچسپ وجہ ہے۔ کرن بتاتے ہیں، "میں ایک ایسا نام چاہتا تھا جو کہ لغت میں نہیں ہو۔ میں چاہتا تھا نام بالکل مختلف ہو، ایک ایسا نام ہو جو کہ میری سوچ اور میرے خیالات سے ملتا ہو۔ نام ایسا ہو جس سے میرے خواب اور میرے ہدف کا بھی پتہ چلے۔ ایک ایسا نام جو میرے ڈی این اے سے بھی میل کھاتا ہو۔ میں نے اپنے اتالیق دھننجے کے ساتھ نام پر بہت غور کیا۔ ہم چاہتے تھے کہ لوگ آسانی سے سمجھ جائیں کہ کمپنی انڈیا کی ہے اس لئے ہم نے نام میں انڈیا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بڑے غور و فکر کے بعد انڈیا کے سامنے 'سچر' شامل کیا۔ سچر کا مطلب ہے اچھا جوکہ ہمیشہ زندہ رہے۔ 'ایس یو' سے ہمارا مطلب اچھا ہے اور 'چر' کا مطلب ہے کبھی نہ مرنے والا۔ میں چاہتا تھا کہ ایک ایسی کمپنی بناؤں جوکہ ہمیشہ کے لئے یاد کی جائے۔ کرن رہے نہ رہے، کمپنی اور برانڈ رہنا چاہئے۔ "اہم بات یہ بھی ہے کہ کرن نے کمپنی شروع کرتے وقت ہی یہ فیصلہ بھی کر لیا تھا کہ سچر انڈیا صرف رئل اسٹیٹ سیکٹر میں ہی کام نہیں کرے گی بلکہ وہ انفراسٹرکچر، ہاسپٹالٹی، ٹرایول ٹورازم جیسے الگ الگ علاقوں میں بھی کامیابی کے نئی منزلوں پر آگے بڑھے گی۔

'سچر انڈیا' سے ہی کرن کاروباری بنے تھے۔ اب تک وہ بطور ملازم کام کر رہے تھے، سیلز ایگزیکٹیو سے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بنے تھے، لیکن پہلی بار وہ کاروباری اور اپنے طور پر کاروباری بن گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سال 2006 میں صرف 12 لاکھ روپے کے سرمایہ سے کرن نے جس 'سچر انڈیا' کو شروع کی تھی وہ آج ایک ہزار کروڑ روپے کی کمپنی بن گئی ہے۔ یعنی کرن آج 1000 کروڑ روپے کے کاروباری سلطنت کے مالک ہیں۔ اتنی بڑی کاروباری سلطنت کا بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہر بار کی طرح کرن نے اپنا تن من دھن سب کچھ کمپنی کی ترقی میں لگا دیا۔ شروع سے ہی کرن چاہتے تھے کہ ان کی کمپنی پروفیشنل رہے اور لوگوں میں ہمیشہ اس کا بھروسا اور مقبولیت بنی رہے۔ کرن نے آئی آئی ایم سے کاروبار کی باریکیاں سمجھ چکے کچھ پیشہور لوگوں کی کمپنی 'موبس' سے 'سچر انڈیا' کا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر بنوایا۔ ایک خاص اور مضبوط حکمت عملی کے تحت حیدرآباد، وجےواڈا، وشاکھاپٹنم، بنگلور جیسے بڑے شہروں میں زمین خریدی۔ زمین خریدنے کے بعد نئے منصوبے اور پروجیکٹس بنا کر انہیں بازار میں پیش کیا۔ موقع ہاتھ لگا تو کرن نے ایک مائننگ کمپنی کو بھی خرید لیا۔ پہلے تین سال 'سچر انڈیا' کے لئے انتہائی شاندار رہے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں 'سچر انڈیا' نے خوب دھوم مچائی اور خوب نام کمایا۔ کرن اور 'سچر انڈیا' کی مقبولیت اور شہرت میں خوب اضافہ ہوا۔ کاروبار پہلے تین سال میں ہی قریب 250 کروڑ روپے کا ہو گیا۔ کرن نے زمین، مکان اور عمارت کے کاروبار کی دنیا میں کامیابی کی نئی کہانی لکھی۔ کرن 'رول ماڈل' بن گئے۔

لیکن، 2009 کے آخر سے کرن کے سامنے کئی نئے چیلنجز آنے لگے۔ نئی دقتیں اور مسائل ان کے سامنے تھے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی کی ایک ہیلی کاپٹر میں موت کے بعد 'علیحدہ تلنگانہ ریاست' کی مانگ کو لے کر نئے سرے سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ یہ تحریک بڑھتی جا رہی تھی۔ اس تحریک کی وجہ سے رئل اسٹیٹ سیکٹر میں کاروبار پر کافی برا اثر پڑا۔ بہت ساری منصوبوں درمیان میں ہی رک گئے۔ کئی منصوبوں نے شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ اس دوران دنیا میں آئی اقتصادی اور کساد بازاری نے بھی ہندوستان میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو ٹھنڈا کر دیا۔ لیکن، تلنگانہ ریاست بننے کے بعد ایک بار سے کرن میں ایک نئے جوش کے کام شروع کیا۔ جس طرح سے نئی ریاست میں، خاص طور پر حیدرآباد اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں، نئے نئے پروجکٹ آ رہے ہیں اس سے ریئل اسٹیٹ میں بھی اچھے دن آنے کی امید بندھی ہے۔

تلنگانہ تحریک اور اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے ہوئے نقصان کو اپنے کاروباری زندگی کا سب سے مشکلوں بھرا دور بتاتے ہوئے کرن بہت جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا، "گزشتہ کچھ سال میرے لئے آسان نہیں تھے۔ پہلے تین سال میں ہم نے جو کمایا اسی کی بنیاد پر ہم نے گزشتہ ساڑھے چھ سال نکال لے گئے۔ کہنے کو تو ہمارے پاس کافی رئیل اسٹیٹ ہے لیکن ان کی قیمت وقت کے ساتھ بدلتی ہے۔ ایک دن ایسا بھی آیا تھا جہاں میرے پاس کروڑوں کی جائیداد تھی لیکن میں ایک ملین روپے کے لئے بہت پریشان ہوا۔ میں نے ہمیشہ اپنے ملازمین کو 30 یا 31 تاریخ کو ہی ان کی سیلری دے دیتا ہوں۔ میں نے کبھی اس تاریخ کو نہیں بدلا۔ میں جانتا ہوں گزشتہ سالوں مجھے اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے کیا کیا کرنا پڑا ہے۔ کئی بار تو میں ڈپریشن میں چلا گیا۔ رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ اسی تناو کو دور کرنے کے لئے میں اکیلا لانگ ڈرائیو پر چلا جاتا تھا۔ حالت یہ تھی کہ میں اپنے آپ سے پوچھنے لگا تھا کہ میں نے غلط تو نہیں کیا ہے؟ اگر میں بھی نئے پراجیکٹ شروع نہیں کرتا اور اپنی بینک بیلنس پر توجہ دیتا تو شاید یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتے۔ لیکن، میں خود ہی موٹویشن لیتا تھا۔ اپنے پرانے دن یاد کرتا تھا۔ ان دنوں کو یاد کر میں خود کو یہ یقین دلاتا تھا کہ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ میرے پاس کچھ نہیں تھا پھر بھی میں نے امپائر بنایا، یعنی میرے پاس ہسٹری ہے کچھ بڑا کرنے کی۔ اسی ہسٹری سے میں موٹيٹ ہوتا رہا۔ "

سچر انڈیا نے بازار میں جس طرح سے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا ہے اسے اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کرن نے کہا، "میں نے سیلز ایگزیکٹیو کے طور پر شروعات کی تھی۔ میں اسی کمپنی میں وائس پریسڈنٹ بنا۔ جس دفتر میں میرے پاس بیٹھنے کے لئے کرسی نہیں تھی اسی دفتر میں میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بنا۔ میں نے حیدرآباد کا پہلا تھیم پارک 'ماؤنٹ اوپیرا' کرئیٹ کیا۔ جو ریئل اسٹیٹ سیکٹر ان اورگنائزڈ تھا اسے آرگنائزڈ بنایا۔ بدنام سیکٹر کی تصویر بدلی۔ ایک ایسا نظام کرئیٹ کیا، جوکہ ٹرانسپیرنٹ ہے اور سب کے لئے فائدہ مند بھی۔ جب لوگ بازار میں 'سچر انڈیا' میں کام کر چکے شخص کو دوسرے لوگوں سے زیادہ توجہ دیتے ہیں تب مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ میں نے اپنی ٹیم کو ایک بریگیڈ کی طرح کھڑا کیا ہے، میں نے خود لوگوں کو ٹریننگ دی اور لوگوں سے کس طرح پیش آنا اور کس طرح سیلز کرنا ہے یہ سکھایا ہے۔ "

کرن چاہتے ہیں کہ جو نظام '' انہوں نے 'سچر انڈیا' کے ذریعے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کرئیٹ کیا ہے اسے ملک اور دنیا کے بڑے بزنس اسکول 'کیس اسٹڈی' کے طور پر لیں۔ کرن کی خواہش ہے کہ ان کے بنائے نظام کو ملک بھر میں 'سچر کوڈ' یا پھر 'سچرماڈل' کے نام سے لاگو کیا جائے۔ غور طلب ہے کہ یہ کرن کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے وینچرز بھی 'ائی ايس او سرٹفیكٹ' کا عمل ہندوستان میں شروع ہو پایا۔حیدرآباد کے جوبلی ہلسں علاقے میں 'سچر انڈیا' کے دفتر میں ہوئی ایک انتہائی خاص ملاقات کے دوران کرن نے یہ بھی کہا، "میں کبھی دولت کے پیچھے نہیں بھاگا۔ میرا مقصد ہمیشہ یہی رہا کہ میں کچھ ایسا کام کروں جسے دنیا ہمیشہ یاد رکھے۔ "

کرن نے 'سچر انڈیا' کے ذریعہ تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، بہار جیسی ریاستوں میں اپنی کاروباری سلطنت کو پھیلایا ہے۔ وہ ہندوستان کے علاوہ دنیا کے 10 مختلف ممالک میں بھی اپنا کاروباری سفر شروع کر چکے ہیں۔ ان کا مقصد بھارت کے علاوہ دنیا کے 12 اور ممالک میں اپنی کمپنی کو پھیلانا چاہتے ہیں۔کامیاب کاروباری کے ساتھ ساتھ کرن ایک سوشل ورکر کے طور پر بھی کافی مشہور ہیں۔ کرن اپنے ادارے 'سچر انڈیا فاؤنڈیشن' کے ذریعہ ملک کے مختلف حصوں میں سوشل سروس کر رہے ہیں۔ غریب اور ضرورت مند بچوں کو تعلیم کے لئے اسکالر شپ دینا، انفرادی طریقوں سے بچوں کی مدد کرنا، گاؤں کو گود لینا، ان کو مثالی گاؤں بنانا جیسے کئی سارے کام کرن اپنے ادارے کے ذریعہ کرتے ہیں۔ کرن کی کامیابی، ان کی خدمت اور کاروباریت کو ذہن میں رکھتے ہوئے بلغاریہ کی حکومت نے انہیں ہندوستان میں اپنا ایزازی کونسل بنایا ہے۔

کاروباری دنیا میں کرن کی شناخت ایک خاص وجہ سے بھی ہے۔ اور یہ وجہ ہے برانڈ بلڈنگ اور مارکیٹنگ کے لئے ان کے کام۔ بھارتی کرکٹ ٹیم نے جب پہلا 20-20 ورلڈ کپ جیتا تھا تب کرن نے اعلان کر دیا تھا کہ عالمی فاتح ٹیم کے سارے کھلاڑیوں کو 'سچر انڈیا' کے ایک پروجیکٹ میں پلاٹ دیے جائیں گے۔ کسی دوسری کمپنی کے کچھ سوچنے سے پہلے ہی کرن نے یہ اعلان کر اپنی دور اندیشی اور تیز دماغ کا ثبوت دیا تھا۔ ایسا انہوں نے کئی بار کیا۔ بھارتی ہاکی ٹیم نے جب ایشیا کپ جیت لیا تب بھی انہوں نے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو اپنے ایک وینچر میں پلاٹ دلوا دیئے۔

بڑی بڑی شخصیتوں سے ملنا، نیوز کی سرخیوں میں چھانے والے لوگوں سے میل جول کرنا، لوگوں میں اپنی کمپنی کو مقبول بنائے رکھنے کے لئے الگ الگ اور نئے نئے طریقے اپنانا بھی کرن کی عادت بن گئی ہے اور یہی عادت انہیں کاروباریوں کے درمیان ایک خاص پہچان بھی دلاتی ہے۔ کرن نے کتابیں بھی لکھی ہیں۔

کرن نے اپنے بچپن کی کچھ ایسے واقعات بھی سنائے جن کے بارے مِں انتہائی قریبی لوگ بھی نہیں جانتے ہیں۔ جب وہ ساتویں جماعت میں تھے۔ والد ان سے اتنا پیار کرتے تھے کہ انہوں نے کبھی بھی، کہیں بھی، کسی بھی بات کو لے کر کرن کو نہ ڈانٹا اور نہ ہی پھٹکار لگائی۔ محبت کا عالم یہ تھا کہ باپ نے کبھی بلند آواز میں بھی کرن کو کچھ نہیں کہی کہا تھا۔ بچپن میں کرن پڑھائی لکھائی تو کرتے تھے لیکن ان کی دلچسپی کھیلنےکودنے میں زیادہ تھی۔ دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میں انہیں بہت مزا آتا تھا۔ کرن زیادہ تر وقت اچھے بچوں کے ساتھ رہے لیکن جب وہ ساتویں میں تھے تو کچھ شرارتی بچوں سے ان کی دوستی ہو گئی، جو اسکول نہیں جاتے تھے اور ان سب کا صرف ایک ہی کام ہوتا - دن بھر مٹرگشتی کرنا۔ ایسے بچوں کے ساتھ کرن کی دوستی دن بہ دن پکی ہوتی جا رہی تھی۔ دوستوں کے ساتھ وقت خرچ کرنے کے لئے کرن نے اسکول کی کلاس بنك کرنا شروع کر دیا۔ کرن گھر سے نکل کر اسکول جاتے تو ضرور تھے، لیکن اسکول پہنچنے کے بعد دیوار فلانگ كر باہر نکل جاتے اور اپنے دوستوں کے ساتھ مٹرگشتی کرتے۔ ہر دن یہی ہونے لگا - گھر سے نکلنا، اسکول جانا، سائیکل باہر پھینکنا، پھر خود دیوار سے کودنا، باہر انتظار کر رہے دوستوں سے ملنا اور پھر مزہ، دھوم دھڑاكا۔ ان سب کے بعد کرن گھر ایسے لوٹتے تھے جیسے کہ وہ ایک سیدھے سادے بچے ہیں اور انہوں نے اسکول میں خوب دل لگا کر تعلیم حاصل کی ہے۔ ماں باپ کو کئی دنوں تک اس بات کہ بھنک ہی نہیں لگی کہ ان کا لاڑلا بیٹا اسکول میں پڑھ لکھ نہیں رہا ہے اور اسکول کے باہر دوستوں کے ساتھ موج مستی کر رہا ہے۔

انہی دنوں کرن کی دوستی جگن نام کے ایک لڑکے سے بھی ہوئی تھی۔ کرن اور جگن کی دوستی گہری اور پکی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے کچھ بھی کرنے تو تیار تھے، جان دیتے تھے ایک دوسرے پر۔ اکثر اسکول سے بھاگ کر کرن جگن ہی ملتے تھے۔ دونوں دور جا کر گاؤں میں کھیتوں کے مکئی کے بھٹے لیتے تھے اور انہیں بھن کر کھاتے تھے۔ کرن کو جگن کی سے دوستی بہت پسند تھی۔ کرن کا اسکول کریم نگر شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ والدین سے ایک دو روپے کی جو جیب خرچ ملتی تھی وہ اسے اپنے دوستوں پر خرچ کر دیتے تھے۔ کبھی لاری پر چڑھ کر ادھر ادھر جانا تو کبھی فلم دیکھنا تو کبھی کھیتوں میں موج کرنا ۔۔۔ اسی طرح کے کاموں میں رم گئے تھے کرن ۔ ان کو وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب اسکول سے بھاگتے وقت چوکیدار نے انہیں دیکھ لیا تھا۔ پکڑنے کے مقصد سے چوکیدار ان کے اور ان کے ساتھیوں کے پیچھے دوڑا بھی تھا۔ چوکیدار کسی کو پکڑ تو نہیں پایا تھا لیکن کرن کا ایک دوست خود سائیکل لے کر واپس چوکیدار کے پاس چلا گیا تھا۔ اسکول سے بھاگ کر باہر مزہ کرنے کی بات کا پتہ ایک دن ماں باپ کو چل گیا۔ سال کے آخر میں امتحان لکھنے کے لیے ضروری حاضری کم پڑ گئی۔ امتحان لکھنے کے لئے 65 فیصد حاضری ضروری تھی، لیکن کرن کی اسکول میں حاضری صرف 25 فیصد تھی۔ اس دن اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے کرن کی ماں کو بلوا کر کہا کہ کرن کو امتحان میں نہیں بٹھایا جا سکتا ہے کیونکہ حاضری کم ہے۔ ماں یہ بات سن کر دنگ رہ گئیں۔ ان کے لئے اس بات کا یقین کرنا مشکل تھا کہ ان کے لڑکے کا حاضری 25 فیصد ہے جبکہ وہ ہر دن يونفارم پہن کر گھر سے صحیح وقت پر اسکول کے لئے نکلتا تھا اور صحیح وقت پر گھر واپس آتا تھا۔ کرن نے اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑھنے دی تھی کہ وہ اسکول میں نہیں بلکہ باہر اپنا وقت گزار رہے ہیں۔

کرن نے بتایا کہ ان کے والد کا کافی رتبہ تھا۔ اگر والدین چاہتے تو اسکول کے ہیڈ ماسٹر پر مختلف لوگوں سے دباؤ ڈلوا کر کرن کو امتحان میں بٹھانے پر مجبور کر سکتے تھے۔ لیکن، ماں باپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس فیصلے سے کرن کو بھی کافی حیرانی ہوئی۔ فیصلہ ماں کا تھا، جس پر باپ نے بھی مہر لگائی تھی۔ ماں نے فیصلہ لیا تھا کہ کرن امتحان نہیں دیں گے اور دوبارہ سے ساتویں کی پڑھائی کریں گے۔ ماں اپنے اس فیصلے پر اٹل تھیں اور اسی وجہ سے کرن کو بہت دکھ ہوا۔ کرن کا کہنا ہے ، "ماں اصولوں کی پکی تھیں۔ مجھ میں آج جو کچھ بھی اچھی چیزیں ہیں وہ ماں کی بدولت ہی ہیں۔ میں نے ماں کی وجہ سے زندگی میں بہت سارے سبق سیکھے ہیں۔ ماں نے شاید ایک سبق سکھانے کے مقصد سے ہی مجھے دوبارہ ساتویں کی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کیا تھا۔ "

کرن یہ بتانے سے ذرا بھی نہیں هچكچاے کہ اپنے جونیئرز کے ساتھ بیٹھ کر اسی کلاس میں دوبارہ ساتویں کے پڑھائی کرنا انہیں بهی برا لگا تھا۔ ان کے سارے ساتھی اچانک ان کے سینئر ہو گئے تھے، یہ بات بھی انہیں کافی بے چین کرتی تھی۔ دسویں کے بعد کالج میں کئی طرح کی سہولتیں تھیں۔ کالج پہنچتے ہی يونفارم سے چھٹی مل جاتی، پڑھائی کا وقت بھی اسکول جتنا لمبا نہیں ہوتا، اسکول کی طرح تمام سبجیکٹ پڑھنے ضروری نہیں ہوتے۔ ہم عمر لڑکوں کی انہی سہولیات کو دیکھ کر کرن کے دل میں ایک عجیب سی چوبھن ہوتی۔ کرن نے کہا، "ساتویں تک میرے ساتھ پڑھنے والے دوست دسویں پاس کر کالج چلے گئے تب مجھے بہت ہی دکھ ہوا۔ مجھے اس بات کا افسوس ہوتا کہ میں اب بھی اسکول کی چاردیواری میں بندھا ہوا ہوں جبکہ میرے ساتھی کالج چلے گئے ہیں۔ یہ خیال مجھے ڈپریشن میں لے گیا تھا۔ بڑی مشکل سے میں اس ڈپریشن سے باہر آیا تھا۔ "کرن کو اس بات کا ملال تھا کہ پڑھائی میں کمزور نہ ہونے کے باوجود انہیں دوبارہ ایک ہی کلاس میں بیٹھنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ انہیں اپنی اس غلطی کا بھی احساس ہو گیا کہ انہوں نے اپنے دوستوں کے چکر میں پھنس کر اپنا ایک سال برباد کیا ہے۔

ماں کے سخت فیصلے سے کرن نے بہت سارے سبق سیکھ لئے تھے۔ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ زندگی میں نظم و ضبط بہت ضروری ہے، وقت بہت طاقتور ہوتا ہے اور ایک بار نکل گیا وہ واپس نہیں آتا ہے۔ کرن نے یہ بات بھی جان لی کہ سنگت کا بھی زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے یعنی جیسی سنگت ویسی رنگت۔ لیکن، کرن اپنے آپ کو اس بات کے لئے خوش نصيب مانتے ہیں کہ سنگت چاہے کس طرح بھی رہی ہو انہیں کسی بری چیز یا عادت کی لت نہیں لگی۔ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جسے معاشرہ برا مانتا ہے۔ اسکول کے دنوں میں جو کام انہوں نے غلط کیا تھا وہ ایک ہی تھا - اسکول سے بھاگ کر مٹرگشتی کرنا۔

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories