ایک کشمیری مسلمان جوڑے نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اپنے پنڈت دوست کے گھر پہنچایا اناج

0

ایسے وقت جب حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد کشمیر جل رہا ہے اور نصف سے زیادہ کشمیر میں کرفیو ہے، حالات کافی کشیدہ ہیں، اس کے باوجود ایک بہادر مسلم کشمیری خاتون زبیدہ بیگم اور ان کے شوہر اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے پنڈت دوست کے گھر اناج پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ منظر ملک کی ملی جلی تہذیب کی منفرد کہانی بیان کرتا ہے۔ سری نگر کی کشیدگی بھری سڑک پر اناج کی بوری پیٹھ پر لادے چل رہے ہیں، اپنے دوست کے لئے جس نے جہلم کے اس پار سے انہیں یاد کیا ہے۔

تصویر- انڈیا ٹوڈے
تصویر- انڈیا ٹوڈے
زبیدہ بتاتی ہیں کہ ان کی دوست نے انہیں فون کرکے بتایا کہ ان کے گھر میں اناج کی ضرورت ہے۔ ان کے ساتھ بیمار دادی رہتی ہیں۔ 'میں نے اپنی دوست کی آواز پر اس کے گھر اناج پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ یہ کافی مشکل تھا، لیکن ہم نے ان کے گھر تک اناج پہنچنے کی کوشش کی۔ '

انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایسے وقت جب دکانیں بند ہیں۔ نقل و حمل کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس جوڑے نے پیدل چل کر ہی اپنی پنڈت دوست کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ پولیس نے بھی وہاں آنے جانے کی ممانعت کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود یہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ جواهرنگر میں ديوان چند کے فلیٹ پر پہنچ ہی گئی۔

ديوان چند کہتے ہیں کہ یہاں سب لوگ پریشان ہیں۔ ہم خوش ہیں کہ اس دوست خاندان نے اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر انسانیت کو زندہ رکھا ہے۔

ديوان چند کا خاندان برسوں سے وادی میں رہتا ہے۔ وہ آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے ہیں۔ ان کی بیوی ایک مقامی اسکول میں کام کرتی ہیں، جہاں زبیدہ بھی ان کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ديوانچند ان کا خاندان اور بوڑھی دادی سب اس وقت مدد کی فریاد کر رہے تھے، جب وادی میں بحران کی صورت حال تھی اور ان کی دوست ان کی مدد کے لئے حاضر ہو ہی گئی۔

گزشتہ پانچ سالوں سے کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ تشدد اور احتجاج کے کئی واقعات سامنے آ رہی ہیں۔ برہان وانی کی موت کے بعد حالات اور بھی بدتر ہو گئے ہیں۔ ان سب کے باوجود زبیدہ کے بے لوث کام کی مثال نے ثابت کر دیا کہ کس طرح انسانیت آج بھی زندہ ہے۔

-تھنک چینج اینڈیا