کتابوں اور خون کے عطیہ کیلئے لوگوں کو بیدارکرنے میں مصروف ایک پروفیسر کی منفرد کوشش

0

بک کلب کے ذریعے دوسروں کو اپنی پرانی کتابیں دینے کیلئے راغب کرنے کا کرتے ہیں کام...

کتابیں تیارکرنے کیلئے کٹنے والے لاکھوں درختوں کوبچانے میں کرتے ہیں مدداور کررہے ہیں ماحولیات کا تحفظ...

بلڈ آن ڈیمانڈ ویب سائٹ کے توسط سے 2500بلڈ ڈونروں کو ایمرجنسی میں عطیہ خون کیلئے کیاہے تیار...

آج کے اس مصروفیت کے دورمیں جہاں لوگ اپنی ہی روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل کرنے میں خود کو ناکام پارہے ہیں ،وہیں ایک شخص ایسابھی ہے جو اپنی بیحد مصروف زندگی سے وقت نکال کر دوسروں کی زندگی روشن کرنے اور ان کی جان بچانے کے کام میں پوری تندہی اور دلجمعی سے لگاہواہے۔اس شخص کا نام ہے ڈاکٹر راجیو کمار گپتا۔شعبہ _¿ تعلیم میں ایک معروف نام ہونے کے علاوہ ڈاکٹر گپتانوئیڈااور مضافات کے طلباءکے درمیان اپنی انوکھی پہل فیس بک پیج ’نوئیڈا بک ڈونرس کلب‘اور ایک ویب سائٹ ’بلڈ آن ڈیمانڈ ڈاٹ کام‘ (bloodondemand.com) کے سب کافی مقبول ہیں۔

اصلاً متھراکے رہنے والے اور فی الوقت نوئیڈاکے گورنمنٹ ڈگری کالج میں فیکلٹی آف کامرس اینڈ بزنس ایڈمنسریشن میں اکاو_¿نت اور لاءکے پروفیسر ڈاکٹر گپتاکاخیال ہے کہ زیادہ تر طلباءاپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کتابوں اور دیگر نصابی اشیاءکو یاتو کباڑی کو فروخت کردیتے ہیں یا پھر وہ پڑی پڑی دھول کھاتی رہتی ہیں۔ایسی صورت میں دوہرانقصان ہوتاہے۔ایک طرف تو یہ کتابیں ضرورت مندوں کی رسائی سے دوررہ جاتی ہیں اور دوسری طرف انھیں دوبارہ تیارکرنے میں ماحولیات کا بہت زیادہ نقصان ہوتاہے۔

ڈاکٹر گپتاکہتے ہیں، ’ ’ کتابیں تیارکرنے کے عمل کو پوراکرنے کیلئے ہر سال بے شمار درختوں کو قربان کیاجاتاہے اور اس کے باوجود یہ ایک بڑے طبقے کی پہنچ سے دورہی رہتی ہیں۔مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کررہے اور مختلف مضامین کا مطالعہ کررہے طلباءہر سال ایک موٹی رقم خرچ کرکے کتابیں خریدتے ہیں اوربعد میں یہ ہزاروں کی قیمت کی کتابیں ردی ہوجاتی ہیں۔یہ صرف علم کی ہی توہین نہیں ہے ،بلکہ اس کے سبب ماحولیا ت پر بھی بہت برااثر پڑرہاہے کیوں کہ انھیں تیارکرنے کیلئے بہت بڑے پیمانے پر پیڑوں کو کاٹاجاتاہے۔“

طلباءایسی کتابوں کا باہمی تبادلہ کرسکیں اور غربت کے سبب ان سے محروم طلباءان کتابوں سے اپنے علم میں اضافہ کرسکیں اسی کے مدنظر انھوں نے 2009میں ایک ویب سائٹ usedbooksandgoods.comشروع کی۔حالاں کہ انھیں شروع میں اپنی اس پہل کی وجہ سے دوسروں کی کافی باتیں سننی پڑیں اور کچھ دنوں بعد انھیں یہ ویب سائٹ بندکرنی پڑی۔ڈاکٹر گپتابتاتے ہیں ، ”میں نے یہ ویب سائٹ یہ سوچ کر شروع کی تھی کہ لوگ اپنی پرانی کتابیں ہمیں دیں گے اور ہم انھیں ضرورت مندوں کو مہیاکرائیں گے۔کچھ دنوں تک تو سب کچھ ٹھیک چلالیکن جلد ہی میرے ملنے والوں نے مجھے کباڑی کہناشروع کردیااور میرے پاس بھی ان کتابوں کو رکھنے کیلئے جگہ کی کمی پڑنے لگی جس کی وجہ سے مجھے اسے روکناپڑا۔“

لیکن دھن کے پکے راجیو نے شکست نہیں مانی۔انھوں نے دیکھاکہ آج کے نوجوان فیس بک کا بہت بڑے پیمانے پر استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے نوجوانوں کی فیس بک کے تئیں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کے بارے میں سوچااور نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کےلئے ایک فیس بک پیچ ’نوئیڈابک ڈونرس کلب‘ تیارکیا۔ڈاکٹر گپتابتاتے ہیں ، ” اس کلب کے ذریعے جو بھی اپنی پرانی کتابیں دوسروں کو پڑھنے کیلئے دیناچاہتے ہیں وہ اس پیج پر جاکر اپنی تفصیل ڈال دیتے ہیں اس کے بعد ضرورت مند آپس میں رابطہ قائم کرکے کتابوں وغیرہ کا تبادلہ کرلیتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر کوئی اپنی کتابیں کسی ادارے یا کتب خانے وغیرہ کو دیناچاہتاہے تو وہ بھی اس پر معلومات پوسٹ کردیتاہے اور پھر لوگ ان سے رابطہ کرلیتے ہیں۔

ڈاکٹر گپتامزید کہتے ہیں، ” ہمارے اس کلب کے توسط سے سب سے زیادہ مدد ان طلباءکی ہوتی ہے جو مالی تنگی کے سبب مہنگی کتابیں خریدنے سے قاصر رہتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارامقصد اس کلب کے ذریعے شہر کے سبھی کامرشیل کالجوں ،اگنو،آرمی سیکٹر اور کلبوں کے علاوہ مختلف لائبریریوں کو آپس میں جوڑناہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کتابوں سے استفادہ کرسکیں۔اس کے علاوہ راجیو گپتاکا خیال ہے کہ ان کی اس کوشش سے بڑی تعداد میں درختوں کو بھی کٹنے سے بچایاجاسکتاہے۔

فی الوقت تقریباً 250افراد ان کے اس کلب کے رکن ہیں،جن میں شعبہ _¿ تعلیم سے وابستہ کچھ ممتاز شخصیات بھی ہیں۔ڈاکٹر گپتابتاتے ہیں ، ”یہاں تک کہ ہمارے کالج کے سابق پرنسپل مسٹر جے پی شرمابھی ہمارے اس کلب کے رکن ہیںجنھوں نے اپنی برسوں کی محنت سے جمع کردہ کتابوں کو ان ضرورت مندوں کے استعمال کیلئے دے دی ہیں۔ساتھ ہی کئی اور لوگ بھی اپنی کتابیں وغیرہ پڑھنے کیلئے دینے کے ارادے سے آگے آرہے ہیں۔“

کتابوں کو ضرورت مندوں تک پہنچانے کے علاوہ ڈاکٹر راجیو گپتا خون کی کمی کے سبب موت سے جدوجہد کررہے لوگوں کے لئے بھی ایک مسیحا بن کر سامنے آئے ہیں۔انھوںنے حادثہ یا آفت کے وقت ضرورت کی بنیاد پر خون کا انتظام کرنے کے ادارے سے ایک ویب سائٹ bloodondemand.comشروع کی جس میں موجودہ وقت میں 2500سے زائد لوگ وابستہ

ہیں۔ ڈاکٹر راجیو بتاتے ہیں ، ”سال 2009میں ہمارے کالج کے پرنسپل کی ماں کو ایک حادثہ کے بعد خون کی ضرورت تھی لیکن گھر کے ارکین تک خون دینے سے کترارہے تھے۔اسی وقت میں نے ہنگامی حالات میں خون مہیاکرانے کا تہیہ کیا اور کئی رضاکاروں کا ایک آن لائن گروپ تیار کیا جو کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں خون کا عطیہ کرنے کے لئے تیار تھے۔ “ ڈ اکٹر راجیو کہتے ہیں کہ ہمارے سماج میں آج بھی عطیہ خون کے سلسلے میں کافی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں اور زیادہ تر لوگ خون لینا تو چاہتے ہیں لیکن اپنے جسم سے خون دینے کو تیار نہیں ہیں۔

اپنی اس ویب سائٹ کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے ڈاکٹرراجیو کہتے ہیں، ”خون دینے کا خواہش مند کوئی بھی شخص ہماری اس ویب سائٹ پر آکر اپنا ایک لاگ ان تیار کرسکتاہے اور اسے رجسٹریشن کے بعد ایک پاسورڈ مہیا کرایا جاتا ہے جس کا استعمال وہ کسی بھی وقت کرسکتاہے ۔ ہم اپنی اس ویب سائٹ پر ڈونر کا بلڈ گروپ اس کے موبائل نمبر سمیت مہیا کراتے ہیں تاکہ کوئی بھی شخص ضرورت کے وقت ان سے براہ راست رابطہ قائم کرسکے۔“ اپنی اس کوشش کے سبب وہ اب تک نوئیڈااور آس پاس کے علاقوں میں کئی لوگوں کی جان بچاچکے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر راجیوکمار گپتا لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے راغب کرنے کے مقصد سے اور ایک سماجی و ثقافتی ماحول بنانے کی پہل کے سبب ایک ویب سائٹ ’نرمان ۔نوئیڈا ‘(www.nirman-noida.com) بھی کامیابی سے چلارہے ہیں۔اس کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ” اس ویب سائٹ کے ذریعہ ہمارا ارادہ اہل اور پیشہ ور لوگوں کو ایک اسٹیج پر لاکر انھیں ملک اور معاشرہ کو مضبوط کرنے کے لئے راغب کرنا ہے۔ اس ویب سائٹ کے ذریعہ یکساں فکر والے افراد سامنے آکر اپنے خیالات رکھتے ہیں اور ایک بہتر سماج کی تشکیل میں اپنے افکار سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔“

ڈاکٹر راجیو ان سب کاموں کو اپنے پیسوں سے ہی انجام دے رہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوںنے ابھی تک ان سب کاموں کے لئے کسی سے کسی بھی طرح کی مالی مدد نہیں لی ہے ۔ وہ کہتے ہیں ، ”ہاں !میرے کچھ طلباءان ویب سائٹوں کو تیار کرنے اور ان کی دیکھ بھال کے کام میں ضرور مدد کرتے ہیں۔ باقی ان میں ہونے والا سارا خرچ میں خود ہی برداشت کرتاہوں ۔“

ان سب کاموں کے علاوہ ڈاکٹر راجیو ماحولیات کے تحفظ کی سمت میں بھی اپنی جانب سے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پیڑ لگانے کےلئے راغب کرتے ہیں۔ڈاکٹر راجیوکہتے ہیں، ”میرا خیال ہے کہ ہم سب بندر کی اولاد ہیں اور نقل کرنا ہماری فطرت ہے ۔ہمیں اپنے آس پاس جو ہوتانظرآتاہے ہم بھی وہی دہراتے ہیں ۔ایسی صورت میں اگر میں پیڑ لگاو_¿ں گا تو مجھے دیکھ کر اور لوگ بھی سامنے آئےں گے اور پیڑ لگانے کے لئے راغب ہوں گے۔“ نوئیڈا میں جہاں بھی کہیں بڑی مجرمانہ واردات ہوتی ہے ڈاکٹر گپتا وہاں جاکر پودا لگاتے ہیں ۔ ” میں نے نٹھاری کوٹھی کے باہر پودا لگایا۔ ملک بھر میں مشہور آروشی کے گھر کے باہر اس کی یاد میں پودا لگایا اور ابھی حال ہی میں ملک کو دہلادینے والے اخلاق قتل معاملہ میں متوفی کی یاد میں بھی میں نے ایک پودا لگایا ہے۔ “ ماحولیات کے تئیں ان کے اس لگاو_¿ کے سبب لوگ اب انھیں ’دھرتی پتر ‘ بھی کہنے لگے ہیں۔

ڈاکٹرراجیو کمار گپتا کو ان کے ان نیک کاموں کے عوض کئی انعامات سے بھی نوازا گیا ہے ۔ انھیں 2009میں ایئرانڈیا کی طرف سے براڈ آو_¿ٹ لک لرنرس ٹیچر (BOLT) ایوارڈ سے نوازاگیا جس میں انھیں سنگا پور جانے کا موقع ملا ۔ اس کے علاوہ 2006میں انھیں ’ویک ‘ میگزین کے جانب سے’ٹیچر وداے کاز ‘ بھی منتخب کیا گیا ۔

ڈاکٹر راجیو گپتا تدریس اور ان سب سماجی کاموں کے علاوہ مسلسل مطالعہ بھی کرتے رہتے ہیں اور اب تک وہ کئی مضامین میں ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں ۔ ڈاکٹر گپتا ایم کام ،ایل ایل بی ، پی ایچ ڈی اور ایم بی اے کرنے کے علاوہ ماسٹر ان جرنلزم بھی کرچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس سال وہ سی اے کا فائنل امتحان بھی دینے والے ہیں۔ ساتھ ہی وہ سپریم کورٹ میں اترپردیش کے سب ہی اعلیٰ تعلیم اداروں کے نامنی کی حیثیت سے بھی نمائندگی کرتے ہیں۔

تحریر:نشانت گوئل

ترجمہ:محمد وصی اللہ حسینی