چنچلگوڑا جیل کے 30 قیدی بنے مصور، سید شیخ کی کامیاب کوشش

0

جیل میں قیدیوں کی جانب سے مفید چیزیں بنانے اور وہاں رہ کرمطالعہ کے زریعہ امتحان لکھ کر ڈگریاں حاصل کرنے اور کتابیں لکھنے کی باتیں تو سنی تھیں، لیکن حیدرآباد کی چنچلگوڑا جیل کے 30 قیدی پہلی بار مصور بنے ہیں۔ اسٹیٹ ارڈ گیلری، مادھاپور، حیدرآباد میں ان قیدیوں کی تصاویر کی نمائش شائقین کے لئے ایک نیا تجربہ تھی۔

كرشناكرتی فاؤنڈیشن اور تلنگانہ جیل محکمہ نے مشترکہ طور پر منفرد تقریب رکھی تھی۔ كرشناكرتی فاؤنڈیشن سے اسکالر شپ حاصل کرنے والے ایک آرٹسٹ سید تین ماہ سے چنچل گوڑہ جیل میں قیدیوں کو مصوری کا فن سکھا رہے ہیں۔ یہاں تقریبا 30 قیدیوں نے اپنی دلچسپی سے پینٹنگ سیکھی ہے۔

سید نے بتایا کہ قیدیوں میں کافی تخلیقی صلاحیتں موجود ہیں۔ 1000 سے زیادتصوریں ان قیدیوں نے بنائی ہیں۔ ان میں سے 80 نمونے نمائش کے لئے منتخب کئے گیے۔ یہ نمائش 12 فروری سے مادھاپر واقع اسٹیٹ آرٹ گیلری میں شروع ہوئی ہے اور 14 فروری تک جاری رہے گی۔

ایک سوال کے جواب میں سید نے بتایا

'' قیدیوں نے کیا گناہ کئے ہیں اور کس جرم کی سزا انہیں ملی ہے، اس کے بارے میں میں نے نہ سوچا اور نہ کسی سے پوچھا، بلکہ ان کے اندر چھپی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے مقصد سے ہی میں نے یہ کام قبول کیا اور آج جو کامیابی ملی ہے اس سے کافی خوش ہوں۔''

قیدیوں کی فن کے نمونے دیکھ کر ہر کسی کی زبان سے تعریفی الفاظ ہی نکل رہے تھے۔ دراصل سید کا تعالق آندھرا پردیش کے وجےنگرم ضلعے کے ایک چھوٹے سے گاوں سے ہے۔ انہوں نے حیدرآباد یونورسٹی سے ایم ایف اے کیا ہے اور کرشنا کرتی فاونڈیشن کی اسکالرشپ حاصل کرنے میں بھی وہ کامیاب رہے ہیں۔

قیدیوں نےان تصویر میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے رنگ بکھیرے ہیں۔ فن ایک ایسا احساس ہے جو ہر شخص میں کہیں نہ کہیں چھپا رہتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے، تو اسے باہر لانے کی۔ ساتھ ہی فن کو کسی قسم کی سرحدوں میں بھی نہیں باندھا جا سکتا۔ مادھاپر واقع اسٹیٹ آرٹ گیلری میں آج سے شروع ہوئی پینٹنگ نمائش اس کا براہ راست ثبوت ہے۔ اس نمائش کی تصاویر کو جیل کی چاردیواری کے اندر قید افراد کی نے کینوس پر اتارا گیا ہے ۔

نمائش کا افتتاح کرنے والے تلنگانہ ریاست کے وزیر داخلہ اور جیل وزیر ناينی نرسمہا ریڈی نے کیا۔ زیادہ تر تصاویر پنسل اور رنگوں کے خوبصورت امتزاج سے بنی ہیں۔ انہیں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اگر صحیح ہدایت ملے تو راہ سے بھٹک کر مجرم بنے لوگوں کو ان کے اندر چھپی آرٹ کی سمجھ کا احساس دلا کراکر سزا کے خاتمے پر ان کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

تلنگانہ کے وزیر ناينی نرسمہا ریڈی نے اس منفرد پہل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرٹ وہ ذریعہ ہے جو لوگوں کی عادات و اطوار کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی جو خوبصورتی قیدیوں نے پینٹنگز میں اتاری ہے، اسے اپنی زندگی میں بھی اتاكر ایک اچھا شہری بنیں گے اور جرائم سے ہمیشہ کے لئے دور رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششوں سے معاشرے کو نئی سمت ملے گی۔

اس موقع پر كرشناكرت فاؤنڈیشن کے پرشانت لاهوٹی نے اس فن نمائش کے انعقاد کا پورا کریڈٹ ڈائریکٹر جنرل آف پرزنس اینڈ كریكشنل سروسز ونے کمار سنگھ کو دیتے ہوئے کہا اس کی شروعات اس مقصد سے کی گئی کہ قیدیوں کے خیالات میں تبدیلی لا کر ان کو ملک کی تعمیر کا حصہ بنایا جا سکے۔ اسی تناظر میں کلاکرتی آرٹ گیلری نے چنچلگوڑا جیل انتظامیہ تعاون سے جیل میں فن مصوری کا ورکشاپ منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں قیدیوں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہفتے میں ایک دن منعقد ایک گھنٹے کی کلاس کو بڑھا کر ہفتے میں تین بار دو گھنٹے کے لئے کرنا پڑا۔ مستقبل میں دیگر جیلوں میں جا کر بھی اس قسم کی ورکشاپس منعقد کرنے کی منصوبہ ہے۔

مختلف قسم کے رنگوں اور سیاہ سفید تصاویر سے آراستہ اس پینٹنگ کی نمائش کے تناظر میں انسٹرکٹر سید شیخ نے کہا،

''قیدیوں کو تربیت دینا اپنے آپ میں منفرد تجربہ رہا۔ پہلے تو تھوڑا سا ہچکچا رہا تھا کہ نہ جانے قیدیوں کا رخ کیسا ہو، لیکن ورکشاپ شروع ہونے کے بعد لگا کہ مجرموں کے ذہن میں بھی کہیں نہ کہیں نرم احساس چھپا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ قیدیوں میں خود کو تبدیل کرنے کی نفسیاتی کوشش بھی ہوتی ہے۔ وہ بھی اپنا ماضی بھول کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ قیدیوں کے ساتھ کام کرنا اب تک کا سب سے زیادہ دلچسپ تجربہ رہا، جہاں ہر قیدی میں ایک آرٹسٹ نظر آ رہا تھا۔''


کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔۔۔

سب کچھ لٹنے کے بعد بھی بسا ئی نئی دنیا 'سب رینٹ کرو ڈاٹ کام' کے مالک راج شیوراجو کی کہانی

چھوٹے سے شہر امبا لہ کے سنیل اوہری نے کیسے قائم کی اٹھارہ کروڑ روپئے مالیتی آئی ٹی کمپنی۔ Xportsoft؟


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem