نئی سوچ اور نئے پلیٹ فارم کے ساتھ کویتا گپتا

0

دنیا کو دیکھنے کے اس جذبے نے کویتا گپتا کو ایسا خواب دکھایا جس سے وہ ہر اس ملک کی کہانی کو عام لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہیں جو آج بھی کہیں نہ کہیں دب کر رہ گئی ہیں۔

دہلی کے مارواڑی خاندان میں پیدا ہوئی کویتا اتنی خوش نصیب تھی کہ انہیں باہر جاکر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان کی تعلیم کی شروعات سنٹ۔ ذیوير ہوئی اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے 2007 میں انہوں نے اپنی آعلی تعلیم مکمل کی۔ بینکنگ اور فنانس میں کام کرنےکے بعد وہ ممبئی میں انوراگ کشیپ کی فلم کمپنی کے لئے انہوںے سی ايف او کے طور پر کام کیا۔ اسی سال وہ سنے روسٹ کیپٹل ایڈوائزری کی کو-فاوںڈر بھی بن گئی۔ کویتا نے دنیا بھر کے لوگوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا جہاں وہ دنیا ممالک کی کہانیوں کو لوگوں سے رو بہ رو کرا سکے اور اس ملک کو دیکھنے کا ایک نیا نظریہ لوگوں میں پیدا ہو سکے۔ ان کا خیال ہے کہ ہر ملک ہر شہر اپنے آپ میں عجوبہ

ہے۔ وہ ان سب کہانیوں پر روشنی ڈالنا چاہتی ہیں جو کہیں نہ کہیں دب کے رہ گئی ہیں اور خبر بن کر لوگوں کے سامنے نہ آ سکی۔ ان کے دوست فرحا اور پراچی نے بھی انہیں سراہا اور وی مائںڈ جیسے پلیٹ فارم کو آگے لے جانے کی ترغیب دی۔

وی مائنڈ دنیا بھر سے صارفین کی بنیاد پر شہری رپورٹنگ کے لئے ایک سماجی پلیٹ فارم ہے۔

ان کا خیال ہے کہ لوگو نے اپنی محدود معلومات سے ممالک کے بارے میں اپنی رائے قائم کی ہے۔ کویتا لوگو کی اسی سوچ کو معاشرے کے سامنے لا کر ان کا یہ بھرم توڑنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی یہ محدود معلومات ہی کافی نہیں ہے دوسرے ممالک کو صحیح طریقوں میں سمجھنے کے لئے، اسی خیال نے وی مائنڈ جیسا سوشل فورم قائم کیا جا سکا۔ اس کے ذریعے وہ ہر اس ملک کی کہانی دنیا کے سامنے لا سکیں جو کہیں نہ کہیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ وہیں آگے وہ افریقہ کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ جس طرح افریقہ کا نام ایڈس سے جوڑ دیا گیا، جبکہ اس ملک کی کئی خوبیاں ہیں، جنہیں ظاہر نہیں کیا جا سکا۔

مختلف ممالک کے سفر سے کویتا نے بہت کچھ سیکھا اور اس سے ان کا نظریہ بھی بدل گیا۔ مختلف ممالک کا سفر کر چکی کویتا کا خیال ہے کی کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں خواتین کے تحفظ اور ظلم و ستم سے متعلق واقعات سامنے نہ آئے ہوں۔ وہ آگے کہتی ہیں کہ یہ انہوں نے خود تجربہ کیا ہے کہ خواتین کی پر مظالم اور ان کا تحفظ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ہم لوگ اپنے پاس دستیاب معلومات کی بنیاد پریہ مان کر چلتے ہیں کہ دوسرے ممالک ویسا ہی ہو رہا ہوگا، مگر صورت حال یکثر الگ ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر وہ کہتی ہیں کہ نیروبی شہر کو لوٹ پاٹ کا شہر کے طور پر مشہور کردیا گیا، مگر وہ جب وہاں گئی تو انہوں نے دیکھا کہ نیروبی افریقہ کا سب سے بڑا آئی ٹی ہب ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدت سےلاکھوں لوگوں کی زندگی پر بہت بڑا اثرپڑتا ہے۔ اسی کی ایک مثال نیروبی ہے، جو ٹریفک جام کے معاملے میں بھی کافی مشہور ہے، لیکن وہاں کی ٹیکسیوں میں ڈونگلس اور ہاٹ اسپاٹ کی سہولت دستیاب ہے تاکہ لوگ اپنا قیمتی وقت ٹیکسی میں کام کرکے بچا سکیں۔

کویتا نے وی مائنڈ جیسا سماجی پلیٹ فارم بنایا جہاں لوگ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان تمام شہروں کی کہانیاں اسٹاک کر پائیں جو کبھی ابھر کے سامنے نہیں آ سکی۔ وہیں اپنی اس بھاگ دوڑ بھری زندگی کے تناؤ کو دورکر سکیں۔کویتا شاہ رخ خان کی فلمیں دیکھنا ، ٹہلنا ، میڈٹیشن کرنا اور کتابیں پڑھنا پسند کرتی ہیں۔ زندگی کے ہر قدم پر کچھ نیا کرنے کا حوصلہ رکھنے والی کویتا نے اپنی سوچ سے لوگوں کا نظریہ تبدیل کر دیا ہے۔

قلمکار: پریانکا پاروتھ

مترجم : زلیخہ نظیر