احمدآباد کے 25 سالہ نوجوانان: 5.3 بلین ڈالر کی مارکیٹ میں اپنا وجود بنانے کوشاں

0

جب کسی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے انوسٹمنٹ بینکر، UI/UX ڈیزائنر اور ڈیولپر مل کر بیٹھتے ہیں لیکن کوئی زیادہ بڑی رکاوٹ سے مزاحمت ہوتی ہے جسے دور کرنا ضروری ہوجائے، تب کیا ہوتا ہے؟

ان تین 25 سالہ نوجوانوں کے لئے اس کا نتیجہ پیداواری صلاحیت کے حامل آلہ بنام Gridle کی شکل میں ظاہر ہوا۔

یہ سب اوائل 2013ءمیں شروع ہوا، جب یش شاہ (25 سال)، ابھیشک دوشی (25 سال) اور انوپما پانچل (24 سال) ایک پارٹ ٹائم پراجکٹ پر کام کررہے تھے کہ Tumblr کی مانند کوئی ’اوپن بلاگنگ پلیٹ فام‘ بنایا جائے۔

لیکن تین مختلف شہروں کا مطلب ہوا کہ مل جل کر کام کرنے کے لئے مختلف آلات استعمال کرنا۔ جیسا کہ یش بتاتے ہیں، انھوں نے پانچ ماہ کی مدت میں ویڈیو کالنگ کے لئے Skype استعمال کیا، فائلوں کے تبادلے کے لئے Dropbox ، گفتگو کے لئے WhatsApp، داخلی مراسلت کے لئے ای میل اور ان سب کے علاوہ Facebook گروپس کا بھی استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ پیداواری صلاحیت میں سخت گراوٹ ہوا، کیوں کہ زیادہ تر وقت platforms بدلتے رہنے میں صرف ہوگیا۔

یہ بات سمجھ آگئی کہ انھیں آپس میں دوست ہونے کے باوجود اس مسئلہ کا سامنا ہوا، تو پھر ان رکاوٹوں کا قیاس ہی کیا جاسکتا ہے جن سے انٹرپرائزس کو نمٹنا پڑتا ہے۔ پس، عالمی سطح پر معروف 18 ’اشتراکی وسائل‘ یا collaboration tools کا تجزیہ اور 33 انٹرپرائزس سے وابستہ 200 لوگوں سے بات کرنے کے بعد انھوں نے اخذ کیا کہ اگرچہ اشتراکی وسائل سے ٹاسک مینجمنٹ کے مسائل حل ہوتے ہیں، لیکن زیادہ بڑا مسئلہ مل جل کر کام کرنے کے لئے کئی وسائل کا استعمال کرنا ہے۔

آج ان تینوں نوجوانوں کا پیش کردہ حل Gridle.io اپنے کلاو¿ڈ پر مبنی پلیٹ فام پر ویب سائٹ اور موبائل استعمال کرنے والے رفقائے کار کے لئے چیاٹ، فائل، ٹاسک، آڈیو۔ ویڈیو کانفرنسنگ اور پراجکٹ مینجمنٹ ٹولس کو یکجا کرتا ہے۔

یش وضاحت سے سمجھاتے ہیں کہ

اگر کوئی کمپنی فائل شیئرنگ کے لئے Dropbox استعمال کرتی ہے، ویڈیو کانفرنسنگ کے لئے Skype، چیاٹ کے لئے Lync اور ای میل اور کیلنڈر کے لئے Outlook کو بروئے کار لایا جاتا ہے تو Gridle ان تمام ٹولس کو یکجا کرتا ہے اور ہمارے استعمال کنندگان کے لئے single user interface بناتا ہے۔ اس طرح عملہ کو چار مختلف ٹیابس کھولنے اور ’ڈراپ باکس‘ پر کسی فائل کے تعلق سے Lync پر چیاٹنگ سے بچاتا ہے۔

مسئلہ کو تاڑنا

سادہ زبان میں سمجھیں تو یہ پلیٹ فام معلومات جمع کرتا اور کسی استعمال کنندہ کے کارگر ذاتی ٹولس سے نیا مواد حاصل کرتا ہے اور انھیں واحد منظر میں پیش کرتا ہے، اور ساتھ ہی اپنی طرف سے ٹاسک مینجمنٹ، فوری پیام رسانی، فائل مینجمنٹ اور آڈیو کانفرنسنگ کے ٹولس متعارف کراتا ہے، جن کو ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاسکے۔

نومبر 2013ءمیں قائم کردہ یہ کمپنی 14 انڈسٹریز سے وابستہ 139 کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کررہی ہے اور 5,900 یوزرس میں 1,600 ٹیموں کو سنبھال رہی ہے۔ ان صنعتوں میں انڈسٹریل ڈیزائن سے لے کر کنزیومر ویب، آئی ٹی، کنسلٹنسیز، ہیلت کیئر اور ایچ آر تک ہیں، جن میں اسٹرلنگ ہاسپٹلز، سی آئی آئی اور ڈیکان لمیٹیڈ جیسے نام شامل ہیں۔

شریک بانیوں کا دعویٰ ہے کہ جو بھی تقویت ملی جو صرف زبانی تشہیر کے ذریعے حاصل ہوئی، جس میں 85 فی صد باقاعدہ استعمال کنندگان نے کوئی رقمی یا اسی نوعیت کی ترغیبات کے بغیر دو یا زائد لوگوں کو اس پلیٹ فام پر کام کے لئے مدعو کیا۔

زیادہ تر ٹولس کی طرح یہ پلیٹ فام بنیادی کاموں کے استعمال کے لئے فری ہے۔ انٹرپرائز سے مخصوص خصوصیات جیسے لامحدود مدعوئین، پرائیویٹ پراجکٹس، ٹمپلیٹس، 1000 GB فائل کی گنجائش، اڈوانسڈ سرچ، Gridle کی جانب سے ٹیم ڈیمو، کمپنی ڈائریکٹری، LDAP اِنٹگریشن، اڈمین کنٹرولس، فنسنگ، SSL پروٹکشن کے معاملے میں ہر یوزر کے لئے $5 کی فیس وصول کی جاتی ہے۔

یہ ٹیم رواں ماہ اس پلیٹ فام کے لئے اضافی فعالیت کی شروعات کررہی ہے اور نیچرل لینگویج ڈیٹکشن کو متعارف کرانے کوشاں ہے جہاں مختلف ٹاسک کی تشکیل کے لئے فارمس پُر کرنے کے بجائے یوزر متعلقہ شخص کو ٹیاگ کرتے ہوئے بس تحریر چھوڑ سکتا ہے، جب کہ یہ پلیٹ فامassignees، subject، deadline اور اس پراجکٹ کو ڈھونڈ لیتا ہے جسے منسلک کرنا ہوتا ہے۔

اس اَپ ڈیٹ سے کیلنڈرز بھی متعارف ہوجائیں گے جو سارے Google، Outlook اور Apple سے ہم آہنگ ہوں گے، اس کے ساتھ templates، work-flows اور 11 اِنٹگریشنس بھی سامنے آئیں گے جن میں Dropbox، Drive، Onedrive، Zendesk، Appear، Slack، Github اور giphy شامل ہیں۔ یہ فرم رواں ماہ اپنا Android app شروع کرنے بھی کوشاں ہے، جس کے بعد مارچ میں iOS version پیش کیا جائے گا۔

یہ فرم سنٹر فار اِنوویشن اِنکیوبیشن اینڈ انٹریپرینرشپ (CIIE) احمدآباد میں پروان چڑھائی جارہی ہے اور دو مرتبہ فنڈنگ سے جملہ 120,000 ڈالر اکٹھا کئے گئے ہیں۔

مستقبل کا جائزہ

شریک بانیوں کا ماننا ہے کہ اس پراڈکٹ کا ویژن پیداواری صلاحیت کے لئے ایسا ایکوسسٹم فروغ دینا ہے جو یوزرس کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے اور اس کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرے۔ وہ کہتے ہیں:

ہم پیداواریت کے مترادف بننا چاہتے ہیں، جس طرح کوئی ERP کی بابت سوچے تو SAP کا خیال کرتا ہے، یا سیلز کے بارے میں سوچیں تو Salesforce کا معاملہ ہوتا ہے۔

وہ یقین رکھتے ہیں کہ کوئی اپنے تمام ٹولس کو ایک جگہ رکھے تو پیداواریت میں 13 فی صد اضافے میں مدد مل سکتی ہے۔ سکیورٹی کے معاملے میں فی الحال یہ 10 رکنی ٹیم اس پلیٹ فام کو زیادہ بڑے انٹرپرائزس کے لئے کلائنٹ کے سَرور پر پیش کررہی ہے تاکہ مکمل سلامتی یقینی ہوجائے۔ علاوہ ازیں، سَرور سے عاری کلائنٹس کے لئے یہ 128bit SSL encrypted پلیٹ فام ہے جس میں AWS انٹرپرائز سلیوشن کے تمام سکیورٹی تقاضوں کی تعمیل کی جاتی ہے۔

یوراِسٹوری کا موقف

ایک ریسرچ منجانب Markets and Markets کے مطابق انٹرپرائز کولابوریشن مارکیٹ کی قدر 2019ءتک 70.61 بلین ڈالر ہوجانے کی توقع ہے۔

گزشتہ سال ریسرچ فرم Gartner نے بتایا تھا کہ ہندوستان کی انٹرپرائز سافٹ ویئر مارکیٹ توقع ہے 12.8 فی صد کی شرح پر بڑھتے ہوئے 2016ءمیں 5.3 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ علاوہ ازیں، VMWare نے بھی گزشتہ سال پیش قیاسی کی تھی کہ ہندوستان میں انٹرپرائز موبیلٹی مارکیٹ 2.3 بلین ڈالر والی منڈی بن جائے گی، جس سے اس شعبے میں Gridle جیسی کمپنیوں کو ترقی کے لئے زبردست گنجائش فراہم ہوگی۔

مستحکم شرح بڑھوتری کے ساتھ Gridle اِنٹرپرائز سافٹ ویئر کیٹگری میں اُبھرتی فرم معلوم ہوتی ہے۔ تاہم یہی واحد platform نہیں ہے؛ AutoCus اس شعبے میں اپنی پیشکش Clusto کے ذریعے بڑا حصہ حاصل کرلینے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ واحد اضافی چیز یہ ہے کہ Gridle کا مقصد اپنے ذاتی functionalities فراہم کرنے کے ساتھ ہی ساتھ B2B solution بھی ہونا ہے۔

تاہم یہ دیکھنا دلچسپ رہے گا کہ کس قدر نئے خصوصیات جیسے پلیٹ فام کی لچک اِنٹرپرائز پروڈکٹیویٹی کولابوریشن ٹولس کے شعبے میں ترقی کا موجب بنیں گے۔

اسٹارٹپس اور این جی اوز کو Gridle ترتیب وار 1000$ کریڈٹس اور 5000$ کریڈٹس کے ساتھ پریمیم پلان دے رہا ہے۔ ان کریڈٹس سے استفادے کے لئے پرومو کوڈ YS2016 استعمال کیجئے۔

ویب سائٹ : https://gridle.io/

قلمکار : تروش بھلا ّ

مترجم : عرفان جابری

Writer : Tarush Bhalla

Translator : Irfan Jabri