نئے دور کی آئنسٹائن سبرینا نے اڈايا تھا 14 سال کی عمر میں اپنا ایئر کرافٹ

ایم ائی ٹی گریجویٹ اور ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی سبرینا فزکس کے پیچیدہ سوالات کا جواب بڑی آسانی سے دیتی ہیں۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے کئی طرح کے نئے نئے تجربے کرنے شروع کر دیے تھے۔ انہی تجربات میں سے ایک ان کا بنایا ہوا سنگل انجن ہوائی جہاز ہے جسے 14 سال کی عمر میں انہوں نے خود اڈايا تھا۔

0


'جب آپ تھکے ہوئے ہوں تو سو جاؤ، ورنہ کام کرتے رہو' .. کہنا ہے سبرینا پاسٹرسكی کا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دی نیکسٹ آئنسٹائن کا خطاب پانے والی سبرینا نے کار چلانے سے پہلے ہی ہوائی جہاز اڈايا ہے۔ وہ اپنے ساتھ سمارٹ فون نہیں رکھتی۔ دنیا کے لاکھوں لوگ سوشل میڈیا پر چپکے رہتے ہیں، لیکن سبرینا اس سے بچنے کی کوشش کرتی ہے، بلکہ اس نے اب تک اپنا فیس بک اکاؤنٹ بھی نہیں کھولا ہے، بلکہ وہ ٹوئٹر اسٹاگرام اور لنكڈان پر بھی نہیں ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنا ویب سائٹ PhysicsGirl روزانہ اپ ڈیٹ کرتی ہے۔ اپنی کامیابیاں دنیا کو بتاتی ہے اور تعریفیں پاتی ہے۔

سبرینا کیوبا نژاد پہلی نسل کی امریکی ہیں۔ 1993 میں شکاگو میں ان کی پیدائش ہوئی۔ ایڈسن ریجنل گفٹیڈ سینٹر میں 1998 میں انہوں نے داخلہ لیا۔ اليانس مےتھامےٹكس اینڈ سائنس اکیڈمی سے 2010 میں انہوں نے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 2003 سے ہی اڈان بھرنا سیکھنا شروع کیا تھا۔ 2006 میں انہوں نے اپنا پہلا کٹ ایئر کرافٹ بنانا شروع کیا تھا۔

ایم ائی ٹی گریجویٹ اور ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی سبرینا فزکس کے پیچیدہ سوالات کا جواب بڑی آسانی سے دیتی ہیں۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے کئی طرح کے نئے نئے تجربے کرنے شروع کر دیے تھے۔ انہی تجربات میں سے ایک ان کا بنایا ہوا سنگل انجن ہوائی جہاز ہے جسے 14 سال کی عمر میں انہوں نے خود اڈايا تھا۔

ایم ائی ٹی کے پروفیسر ایللین ہیگرٹی اور ارل مرمن نے جب پلین اڈاتی ہوئی فزکس گرل سبرینا کا ویڈیو یو ٹیوب پر دیکھا تو اسے نئے تجربات کے لئے منتخب کیا۔ ہیگرٹی بتاتے ہیں، 'جب ہم نے اسے دیکھا تو منھ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس میں بےپناہ صلاحیت ہے۔ '

حالانکہ شروع میں اسے ایم ائی ٹی میں داخلہ کے لئے انتظار کرنا پڑا تھا، لیکن اس نے 500 پوائنٹ گریڈ سے اپنی بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔

سبرینا نے بلندی کا سفر اسی وقت شروع کیا تھا، جب اس نے اپنے بنائے ہوئے طیارے سے اڈان شروع کر دی تھی۔ لائٹ سپیروٹ ایئر مینيفیكچرر کے طور پر صند یافتہ سبرینا کہتی ہے،

"سب سے پہلے جب میں نے اس پر کام شروع کر دیا تھا، تو واقعی یہ ایک چیلنج تھا کیونکہ میں 12 سال کی تھی۔ یہ ایک حیرت انگیز تجربہ ہے، جو آپ کو نصابی کتابوں سے نہیں مل سکتا۔'

الياناس میتھمےیٹكس اینڈ سائنس اکیڈمی کے پرنسپل ایرک میكلرن بتاتے ہیں کہ سبرینا امریکی فزکس سائنسدانوں کی سیمی فانلسٹ ٹیم میں منتخب کی گئیں 23 خواتین میں سے ایک ہیں۔ یہ مقام انھوں نے 300 طلبا کی بھیڑ میں سے نکل کر حاصل کیا ہے۔

سبرینا ان دنوں خواتین اور اقلیتوں کو سائنس میں حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ایک ڈاكيومینٹری بنا رہی ہے۔ میكلرن بتاتے ہیں کہ سبرینا میں ریاضی اور فزکس کی بے پناہ صلاحیتوں ہیں۔ ان علاقوں میں آپ کے علم کا استعمال کس طرح حقیقی دنیا کے لئے کیا جا سکتا ہے، وہ کر رہی ہے۔ بلکہ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ نوجوان خواتین کے لئے سائنس کے میدان میں اپنے کو ثابت کرنے کا ایک راستہ بنا رہی ہے۔

سبرینا نے پركٹن، ہارورڈ، ایم ائی ٹی، فوربس سمیٹ فلاڈیلفيا میں اپنی تقریروں سے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ ناسا کے علاوہ امیزان کے بانی جیف بیزوس اور بلو اورجن جیسے ایروسپیس ڈیویلپرز سے بھی سبرینا کو ملازمتوں کے لئے پیشکش مل چکی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Stories