19 سالہ نوجوان ملک کے سب سے بڑے 'ڈرائیور آن ڈیمانڈ' پلیٹ فارم کا بانی

0

کہا جاتا ہے کہ جب کوئی نوجوان 18 سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس کی زندگی میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہی اور وہ پہلے کی بہ نسبت اپنے مستقبل کے تئیں زیادہ سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ ہماری آج کی اس کہانی میں ہم جس شخص کو متعارف کروارہے ہیں اس شخص نے ایک ایسی عمر میں وہ سب کچھ حاصل کرلیا جس عمر میں لوگ محدود وسائل تک ہی سمٹے رہتے ہیں۔

جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں نتین شرما کی جنہوں نے اپنی عمر کے محض 18 برسوں میں ہی کچھ بڑا کرنے کا سوچا اور اپنی قابلیت کے دم پر اسے حاصل بھی کرلیا۔ نتین روایتی گریجویٹ اور اس کے بعد کسی غیر ملکی یونیورسٹی سے ریگولر ایم ۔ بی ۔ بے کی ڈگری لے کر بیٹھنا نہیں چاہتے تھے۔ نتین یہ بات بہتر طریقے سے جانتے تھے کہ ایک ساتھ دو کشتیوں کی سواری نہیں کی جاسکتی۔ بالآخر انہوں نے ریگولر پڑھائی چھوڑدی اور ایمیٹی یونیورسٹی سے فاصلاتی طرز سے اپنی ڈگری پوری کی۔

گزشتہ برس ہی نتین نے ایک نئے کاروباری آئیڈیا کے لئے بازار کی تحقیق کی اور پایا کہ ہندوستانی بازار بے شمار امکانات سے بھرا پڑا ہے۔انہوں نے 'ہائپر لوکل ڈیلیوری ماڈل' کے بارے میں سوچا مگر کسی وجہ سے انہوں نے اپنا خیال ترک کردیا۔ اس وقت تک انہوں نے یہ پایاکہ لوگوں کو اس وقت بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب انہیں اپنے لئے ڈرائیور کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس سمت میں کام کرتے ہوئے نیتین نے 'ڈرائیور آن ڈیمانڈ' خدمات کی شروعات کی۔

ڈرائیو بڈ ٹیم :

اپنی ریسرچ کے دوران نتین دہلی۔ این سی آر یعنی نیشنل کیپیٹل ریجن میں تقریباً 1500 گاڑیوں کے مالکین سے ملے اور اس طرح ان کے ذریعے 100 گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کی مفصل معلومات یعنی ڈاٹا بیس تیار کیا جو ان کے وینچر سے جُڑنا چاہ رہے تھے۔ وہ ایک ہفتے کے لئے ممبئی بھی گئے اور وہاں بھی انہوں نے 300 گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کا ڈاٹا بیس تیار کیا۔ کولکاتا میں نتین کی شروعات تھوڑی دھیمی تھی کیونکہ وہاں محض 100 ڈرائیوروں کا ہی ڈاٹا بیس تیار ہوپایا۔ غور طلب ہے کہ ان سب کے درمیان نتین اپنے آئیڈیا پر فنڈنگ کے لئے لگاتار سرمایہ کاروں سے بھی رابطہ بنائے ہوئے تھے۔اگست کا مہینہ نتین کے لئے خوش کُن تھا جہاں انہیں ایک ہی سرمایہ کار سے اپنے آئیڈیا پر کام کرنے کے لئے 10 لاکھ روپئے کی امداد حاصل ہوئی۔

نومبر 2015 میں نتین نے ڈرائیور بڈ کی شروعات کی۔ ڈرائیور بڈ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو براہِ راست گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کو ان لوگوں سے جوڑتا ہے جنہیں اپنی گاڑیوں کے لئے ڈرائیوروں کی تلاش ہوتی ہے۔

ڈرائیور بڈ کے بانی اور سی۔ ای ۔ او 19 سالہ نتین کہتے ہیں کہ ،"ہم ایک آن لائن لوکیشن پر مبنی، ڈرائیور۔آن۔ڈیمانڈ خدمات کا پلیٹ فارم ہیں جو گاہک کو کُل وقتی ڈرائیورس مہیا کروانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ " ساتھ ہی نتین یہ بھی مانتے ہیں کہ جہاں ایک طرف یہ پلیٹ فارم آپ کو بھروسے مند ڈرائیور فراہم کرتا ہے وہیں انہیں تلاش کرنے میں آپ کی محنت بھی بچاتا ہے۔ نتین نے یہ بھی کہا کہ ان کا ہدف بھارت کا سب سے بڑا ڈرائیور ڈاٹا بیس بنانا ہے جہاں صرف ماہر ڈرائیور ہوں۔

بزنس پلان:

نتین کا یہ پلیٹ فارم ابتداء میں گاہک کو پہلے گھنٹے اور بعد میں گھنٹے کے بعد منٹ کی شرح سے چارج کرتا ہے۔ پہلے گھنٹے کے لئے ان کا معاوضہ 125 روپئے اور 4 گھنٹوں کے لئے 450 روپئے ہے۔ 8 گھنٹوں کی خدمات کے لئے ان کی فیس 650 روپئے ہے۔

آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ ڈرائیو بڈ کی خاصیت 30 منٹ کے اپنے بدلاؤ کا وقت ہے۔ ساتھ ہی یہ بی ٹو بی مارکٹ سے بھی اپنا بزنس نکالتا ہے۔ یہ دہلی این سی آر کے بہت سے این جی اوز اور نائٹ کلبس کو ڈرائیور فراہم کرتا ہے۔ ڈرائیو بڈ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ ایک طرفہ ٹرپ یا رات کی ٹرپ میں اپنے گاہک سے اضافی پیسے وصول نہیں کرتے۔ نتین بتاتے ہیں کہ وہ اپنے ڈرائیوروں کو ایک ٹریننگ دیتے ہیں جس کی مدت ایک ہفتہ ہوتی ہے اور جس کا مقصد گاہکوں کا اطمینان ، ان کا تحفظ اور ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے۔

سرمایہ کاری اور ترقی:

نتین نے ڈرائیو بڈ کی شروعات اپنے بچائے ہوئے پیسوں سے کی۔ انہوں نے اس پلیٹ فارم پر 8 لاکھ روپئے خرچ کئے جو انہوں نے بڑی محنت سے جمع کئے تھے۔

فی الحال ڈرائیو بڈ ایک 11 رُکنی ٹیم ہے جو آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں پر دستیاب ہے۔ نتین نے معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ اس پلیٹ فارم کی شروعات نومبر 2015 میں ہوئی تھی اور اس وقت ان کے ہر روز 150 تا 200 گھنٹوں کی بلنگ کروائی جاتی ہے۔ نتین بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ان کا ارتقاء آنگینک ہے اور ان کا رپیٹ کسٹمر سسٹم ریٹ ٪90 ہے۔

آج ان کے اس پلیٹ فارم میں 25 ڈرائیور پے رول پر اور 80 ڈرائیور بطور فری لانس کام کر رہے ہیں۔ آج ان کے پاس 1500 رجسٹرڈ گاہک ہیں جو ہفتے ہیں کم از کم تین مرتبہ ان کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔

اپنا تجربہ بتاتے ہوئے نتین کہتے ہیں کہ،"آج کئی ایسے کاروباری ہیں جو محض اس وجہ سے اسٹارٹپ نہیں شروع کرسکتے کیونکہ ان کی عمر کم ہے۔ " انہوں نے کہا کہ اب لوگوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ملک اور تجارت دونوں کا ہی مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور آج کا نوجوان ہی اپنی توانائی سے چھوٹے سے چھوٹے کاروبار کی ایک نئی منزل تک لے جاسکتا ہے۔

نتین تجربے کو بھی کاروبار کے لئے ضروری مانتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تجربہ اور توانائی، دونوں مل جائیں تو کوئی بھی بات ناممکن نہیں ہے۔ اورہر شخص وہ سب کچھ حاصل کرسکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

بازار اور مقابلہ آرائی:

بات جب کار کی ملکیت کی ہو تو بھارت میں 1000 لوگوں پر 18 کاریں بھارت کو دنیا میں 160 ویں مقام پر کھڑا کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ، 2025 تک بھارت میں کار کی ملکیت بڑھےگی جہاں 1000 لوگوں میں 35 لوگوں کے پاس کار ہوگی۔

ملکیت کی اوسط سطح تک 1000 لوگوں کو فی 35 کار کے لئے اضافہ ہوگا۔ معلوم ہو کہ بنگلور میں قائم ڈرائیو یو بھی ایک ایسا ہی پلیٹ فارم ہے جو اپنے گاہکوں کو کچھ ایسی ہی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے بھارت کو پہلی مرتبہ اس طرح کی خدمات فراہم کی ہیں۔

ایک پیغام:

نتین کا ماننا ہے کہ لوگ اس بات کو ہضم نہیں کرپاتے کہ ایک 18 سالہ نوجوان اسٹارٹپ کی شروعات کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہاں کے لوگوں میں جوکھم اُٹھانے کی صلاحیت بھی کم ہے۔ نتین کا یہ بھی سوچنا ہے کہ اگر آپ جوکھم اُٹھانے کو تیار ہیں تو ایسےکم ہی لوگ ہوں گے جو آ پ کا ساتھ دیں اور آپ کی حمایت کریں۔

نتین نے یہ بھی بتایا کہ شروعاتی دور میں انہوں نے اپنے آئیڈیا کے بارے میں کم ہی لوگوں کو بتایا کیوں کہ ان کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ انہیں لوگوں سے منفی ردِ عمل ہی ملے گا۔

نتین اس بات کو بے باکی کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ کئی مرتبہ لوگوں کے منفی ردِعمل سے وہ پست حوصلہ ہوئے لیکن پھر انہوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور اپنے پلان کو عملی جامہ پہنایا اور کامیابی کے نئے مقام کو حاصل کیا۔


کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔۔۔


چنچلگوڑا جیل کے 30 قیدی بنے مصور، سید شیخ کی کامیاب کوشش

واجد خان .. پیٹنٹ اور گنیز ریکارڈ رکھنے کے باوجود غیرمعروف آرٹسٹ

تحریر: توصیف عالم

مترجم: خان حسنین عاقبؔ