کرناٹک کلاسکل موسیقی کا ملائیشیائی چینی فنکار...چانگ چو سین

جب شوق کو پر لگ جاتے ہیں تو چھوٹی نظر آتی ہیں مشکلیں...کٹھن گھڑیوں میں بھی نہیں چھوڑی راہبغیر کیسی معومات کے پہنث گَئے تھے استاد پٹّمال کے گھر....پنڈت جسراج اورڑ سے نوازے گئے

0

جب ہم کسی چیز کی چاہت رکھتے ہیں اور اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں، اسے اپنی شناخت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے شدید خواہش اور قوۃ ارادی لازمی ہے۔ گزشتو دنوں حیدرآباد شہر کے بیگم پیٹ میں واقع اِیڈیٹوریم میں ایک خاص لباس میں کرناٹک کلاسکی موسیقی پیش کرتے ہوئے اس فنکار کو دیکھتے ہوئے اس بات کا یقین اور بھی بڑھ جاتا ہے کہجب فن سے محبت اور اور قوۃ ارادی ایک ہو جاتے ہیں تو پھر دنیا کو مٹھی میں کرتے دیر نہیں لگتی۔ سینکڑوں لوگوں کے دل دماغ کو اپنی کلاسیکی گانکی سے سکون پہنچانے والے چانگ چيو سین کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جب ہم ان سے ملتے ہیں اوران کی زندگی کے ان مشکل وقتوں کے بارے میں سنتے ہیں تو کر دنگ رہ جاتے ہیں۔

اپنی زمین سے کافی دور جنوبی ہندوستان میں پہنچ کر کرناٹک کلاسکی موسیقی میں اپنی صلاحیت کا متعارف کرنے والے ملائیشیا چینی فنکارچانگ چيو سین فن کی دنیا کا متاثر کن نام ہے، چینی خاندان، جو ملائیشیا کے کوالالمپور سے آندھرا پردیش آتا ہے اور یہاں اس کے خاندان کے نوجوان کو کلاسیکی موسیقی سیکھنے کا شوق ہوتا ہے، لیکن اس کی غیر ملکی شناخت اس کے اڈے آتی ہے۔ کوئی بھی استاد آسانی سے اس کو یہ فن سکھانے کے لئے راضی نہیں ہوتا۔

ایک دن ٹیلیفون ڈکشنری سے اچانک اسے ایک نام ملتا ہے، جس کے بارے میں اس کو صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ خاتون کرناٹک کلاسیکی موسیقی جانتی ہے۔ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ اس خاتون تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ وہ خاتون عظیم موسیقار ڈی کے۔ پٹّامل تھیں۔ اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے چانگ بتاتےہیں،

''مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کتنی بڑی عظیم خاتون ہیں۔ میں نے ستیہ سائِی بابا کے کہنے پر ان کا فون ملایا اور انہوں نے ملنے کی اجازت دے دی۔ حالانکہ جب میں ان کے گھر پہنچا تو ان کے شوہر نے بالکل نیا لڑکا جان کر مجھے موسقی سکھانے سے انکار کر دیا۔ میں اس سے پہلے ان کے ڈرائنگ روم میں رکھے ایوارڈ اور دیوار پر ٹنگے سرٹیفکیٹ دیکھتے ہوئے سمجھ گیا تھا کہ وہ کوئی عام آرٹسٹ نہیں ہیں۔ میں نے وہیں طے کیا کہ مجھے انہیں سے سیکھنا ہے۔ میں نے ان سے میرا گانا سننا کی درخواست کی۔ پھر وہ کسی طرح مان گئیں۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ انہیں کلاسیکی موسیقی میں اشتراک کے لئے پدم وبھوش ایوارڈ ملا ہے، لیکن وہ میرے لئے عظیم استاد اور عزیز دادی کی طرح رہی۔''

ایک بار پٹامل نے اس نوجوان آرٹسٹ کے بارے میں کہا تھا، `وہ مجھے پاٹّی (نانی) کہتا تھا اور میرے لئے پوتے کی مانند ہی تھا۔ میں موسیقی کے تئیں اس کی محبت سے متاثر تھی۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن وہ گاِئکی کی دنیا میں نام کرے گا۔ '

۲۰۱۵ میں چانگ کو پنڈت جسراج روٹری کلب آف حیدرآباد ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ خود پنڈت جسراج نے سین کو پیش کیا۔ چانگ چيو سین نے کرناٹک کلاسیکی موسیقی کے تئیں اپنی محبت اور احترام اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ستیہ سائی بابا سے ترغیب حاصل کر انہوں نے پدم وبھوش مسٹر کی DK پٹٹمل کو اپنا استاد بنانے میں کامیابی پائی اور انہی کی وجہ سے وہ کلاسیکی موسیقی میں آگے بڑھ سکے۔

سین کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، کہ وہ سنسکرت کے علاوہ كنڑا، تامل، ملیالم اور تیلگو زبان کی تخلیخات کو بڑی آسانی سے گاتے ہیں۔ ان سنسکرت بھجن سن سننے والا ادنگ رہ جاتا ہے۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں، ''مجھے خود پتہ نہیں ہے کہ مجھے چینی اور ملائیشیا سے زیادہ سنسکرت اور تامل کیوں پسند ہے۔ بہت سے لوگوں نے مجھے چینی میں نہ گانے کے بارے میں پوچھا لیکن میں ان کو کوئی وجہ نہیں بتا سکا۔''

سین نے ملائیشیا میں رہتے ہوئے ایک تمل استاد سے سنسکرت کی تعلیم حاصل کی۔ پھر انہوں نے چینئی میں بھرت ناٹيم بھی سیکھا۔ ایک دور وہ بھی تھا جب انہیں اپنے شوق کی منزل پر آگے بڑھنے کے راستے بند نظر آنے لگے تھے۔ وہ بہت سے استادوں سے ملے، موسقی سکھانے کی درخواست کی، لیکن وہ اتنے روپے مانگتے تھے کہ سین مایوس ہو جاتے۔ موسیقی کے تئیں ان کی محبت کو اس وقت ان استادوں نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ذیادہ رقم چاہتے تھے۔ سین کہتے ہیں، ''لوگ شاید یہی سمجھتے ہیں کہ تمام غیر ملکی کافی پیسے والے ہوتے ہیں۔ میرے پاس بہت زیادہ پیسے نہیں تھے۔ میں نے ادھر ادھر کچھ کام کر کے کچھ روپے جمع کئے تھے، لیکن اتنے نہیں تھے، جتنے وہ مانگ رہے تھے۔''

چانگ چيو سین ان بہت کم لوگوں میں سے ہیں جنہیں ان کے راستے سے کوئی ڈگا نہیں سکتا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ موسیقی سیکھنے کے لئےہندوسنتان میں رہتے اور اپنے اخراجات کے لئے جب روپے کم پڑتے تو پھر کام کے لئے ملائیشیا چلے جاتے۔ آج انہوں نے اپنی خاص شناخت بنائی ہے اور انہیں اپنے روشن مستقبل پر یقین ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem