گیارہویں کے طالب علم نے  شرمندہ تعبیر کیا'میک ان انڈیا' کا خواب

0


گیارہویں کلاس میں پڑھنے والے انکور ترپاٹھی نے بنایا وهاٹس ایپ کو چیلنج دینے والا اپلکیشن

پلےاسٹور پر موجود ہے وهاٹس ایپ کو چیلنج دینے والا انکور کا اینک ایپ

یوزرس نے اس ایپلکیشن کے لیے 4.5 اسٹار کی ریٹنگ دی

وزیر اعظم نریندر =مودی کے میک ان انڈیا کے خواب کو گورکھپور کے 11 ویں جماعت کے طالب علم انکور ترپاٹھی نے سچ کر دکھایا ہے۔ نوجوانوں میں انتہائی مقبول وهاٹس ایپ، وائبر، هاک جیسے بین الاقومی رسانی ایپلكیشنس کی طرح ہی انکور کا اینک ایپ پلے اسٹور پر دھمال مچا رہا ہے۔ اس نو نہال کا دعوی ہے کہ یہ اپلکیشن وهاٹس ایپ سے دگنی صلاحیت والا ہے اور اس میں کئی بہترین خصوصیات بھی موجود ہیں۔

گورکھپور کے راپتی نگر محلے کے باشندے انکور ترپاٹھی نولس اکیڈمی میں 11ویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ کامرس کی تعلیم حاصل کر رہے اس نوعمرلڑکے نے موبائل کے وهاٹس ایپ کو دیکھ کر خود کی ایک اپلیکیشن بنانے کی ٹھانی۔ کافی دنوں تک ریسرچ اور معلومات حاصل کرنے کے بعد بالآخر انکور کو حسب منشا کامیابی مل ہی گئی۔ اپنی کامیابی کو اپنے اہل خانہ، دوستوں اساتذہ سمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو بھی چونکا دیا ہے ۔ ساتھ ہی وهاٹس ایپ اور اس وقت تمام موجودہ دور کے رسانی ایپلكشن سے زیادہ خصوصیات کے ساتھ 3 فروری کو انکور نے اپنے اینک ایپ نامی اس ایپ کو پلے سٹور پر رجسٹرڈ کروایا۔ رجسٹرڈ ہونے کے بعد آہستہ آہستہ ہی سہی مگر یہ ایپلکیشنز دھمال مچانے لگا ہے۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسے اپنے اےڈرووايڈ فون پر ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ ڈاؤن لوڈ کا عمل مسلسل جاری ہے۔ سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ اب تک تمام یوزرس نے اس ایپلکیشنز کے لیے 4.5 اسٹار کی ریٹنگ دی ہے۔

متوسط خاندان میں پیدا ہوئے انکور ترپاٹھی کے والد گورکھناتھ ترپاٹھی رجسٹری محکمہ میں ملازم ہیں۔ ۔ تین بھائیوں میں انکور سب سے بڑے ہیں۔ انکور نے يورسٹوری کو بتایا،

" ہر تین سال کے بعد والد صاحب کا تبادلہ ہوتا۔ میرے دوست بنتے اور جلد ہی بچھڑ جاتے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کی خاطر میں نے انٹرنیٹ کی دنیا سے تعلق بڑھایا اور مسلسل نئی ٹیکنالوجی اور رجحان کو سیکھنا شروع کیا۔"

قابل ذکر ہے کہ انکور نے اطلاع انقلاب کے اس دور میں بھی بغیر کسی خاص تربیت اور ٹیکنیکل تعاون کے دنیا کی تمام نامور رسانی ایپلكشن کے سامنے مکمل طور ہندوستانی رسانی ایپلی کیشنز کے ذریعے بااثر موجودگی درج کرائی ہے۔

اینک ایپ ایک سوشل نیٹ ورکنگ اپلکیشن ہے۔ ٹھیک وهاٹس ایپ کی طرح یہ کام کرتا ہے، لیکن اس کے خصوصیات اور صلاحیت وهاٹسپ سے دوگنا ہے۔ انکور بتاتے ہیں،

"اس اپلکیشن سے بڑی سے بڑی فائل ٹرانسفر کی جا سکتی ہے۔ اس کے میسج خود بخود کلاؤڈ میں محفوظ ہو جاتے ہیں جسے کبھی بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سروس بھی دوسرے نیٹ ورکنگ اپلی کیشن کی طرح کافی تیز ہے۔ سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ بالکل مفت ہے کے ساتھ ہی پوری طرح ہندوستانی ہے۔ اینک ایپ سے ایک ساتھ 100 لوگوں کو میسج بھیجا جا سکتا ہے۔ "

انکور مستقبل میں اپلکیشن ڈیولپر بننا چاہتے ہیں۔ وہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں، جہاں دوسرے باصلاحیت لوگ کام کر سکیں اور اپنی تخلیق کا مظاہرہ کر سکیں تاکہ ملک کے کام آئے۔ ساتھ ہی ان کے دلی خواہش ہے کہ وہ سپورٹ ڈیجیٹل انڈیا کے لئے کام کریں۔ انکور نے بتایا کہ وهاٹس ایپ یوز کرنے سے ملک کی دولت بیرون ملک جائے گا۔ لیکن مقامی اپلکیشن سے ملک کو ہی فائدہ ہوگا۔ ہمارا پیسہ بیرون ملک جانے سے بچ سکے گا۔ ساتھ ہی ملک میں انفارمیشن انقلاب کے اس دور میں اہم کردار نبھا سکیں گے۔

........................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

19 سالہ نوجوان ملک کے سب سے بڑے 'ڈرائیور آن ڈیمانڈ' پلیٹ فارم کا بانی

1 لاکھ روپئے سے 100 کروڑ روپئے تک : ایک اسٹارٹپ کی ذاتی کوشش سے فطری ترقی

------------------

قلمکار : کلدیپ بھاردوج

مترجم : زلیخا نظیر