پیرالائسیس اٹیک اور بریسٹ کینسرسے لڑ کر سائیکلنگ چیمپئن بنی ’لزرينا‘ 

0

کہتے ہیں، دنیا امیدوں پر قائم ہے ۔ زندگی میں چاہے لاکھ پریشانیاں ہوں، امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ جیسے کہ رات کتنی بھی تاریک اور ڈراؤنی کیوں نہ ہو، اس کا اختتام ایک خوبصورت صبح کے ساتھ ضرور ہوتا ہے ۔ زندگی بھی زندہ دلی کے ساتھ تبھی گزاری جاتی ہے، جب اس کے ہر لمحے کو جینے کے لئے انسان کے پاس چٹّان جیسے مضبوط حوصلے اور ارادے ہوں، جو اُسے ہر حال میں خوش آئند دنوں کی توقعات سے باندھے رکھتے ہیں۔ گردش کی آندھيو ں میں بھی اُسے ثابت قدم رکھتے ہیں اور اُسے ہمّت عطا کرتے ہیں۔ ایسے پُر امید لوگ مشکل سے مشکل لمحات کو بھی اپنے بس میں کر لیتے ہیں ۔ حالات کے تھپیڑوں سے لڑ کر اپنے لئے الگ راہ اور شناخت بناتے ہیں، جو پورے معاشرے کے لئے ایک نظیر بن جاتا ہے ۔ لوگ اس سے سبق لیکر زندگی میں آگے بڑھتے ہیں، اور اپنا مستقبل سنوارتے ہیں ۔ ایسا ہی کچھ کیا ہے دہلی سے ملحق نوئیڈا کے سیکٹر39 میں رہنے والی’ لزرينا بجاج ‘نے ۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔ بلند اِرادوں اور مثبت پیش قدمی سے وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، جسے لوگ ناقابلِ حصول سمجھ کر اپنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں ۔

پیشے سے ایچ آر پروفیشنل مسز بجاج نے کئی جان لیوا بیماریوں سے لڑ کر ایک کامیاب سائیكلسٹ کا سفر طے کیا ہے ۔ وہ اُن تمام لوگوں کے لئے ایک مثال ہیں جو کسی جسمانی بیماری یا معذوری کی وجہ سےاپنے خواب پورے نہیں کر پاتے ہیں ۔ 15 مارچ 2016 منگل کے دن انہوں نے اپنے 35 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر’ یوراسٹوری‘ سے اپنی کہانی شیئر کی۔

زندگی کا وہ سياه دور

زندگی میں دُکھ، درد اور پریشانیاں ہمیشہ دبے پاؤں دستک دیتی ہیں۔ ’لزرینا بجاج‘ کے ساتھ بھی نو سال پہلے یہی ہوا تھا ۔ اُس رات بس کچھ دیر پہلے تک سب کچھ حسبِ معمول تھا ۔ گھر کے لوگ ڈِنر کے بعد سونے کی تیاری میں تھے ۔ ’لزرینا‘ بھی اپنےبیڈ روم میں سونے گئیں تھیں ۔ اتنے میں اچانک اُن کی طبیعت بگڑ گئی ۔ جسم میں اینٹھن، عجیب سی بے چینی اور جسم کے اعضاء شل ہو نے لگے ۔ گھر کے لوگوں کے لئے کچھ سمجھ پانا مشكل تھا ۔ آناً فانا ًمیں انہیں اسپتال لے جایا گیا ۔ ڈاکٹروں نے چیک اپ کر کے بتایا کہ یہ پیرالائسیس اٹیک ہے ۔ ڈاکٹر کے یہ الفاظ جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ خود ’لزرینا‘ کے لئے اور اُن کے گھر کے لوگوں کے لئے بھی ۔ سبھی کے دماغ میں بس ایک ہی سوال تھا، کیا وہ پھر سے نارمل ہو پائیں گی؟ ایک عام انسان کی طرح پھر سے چل پھر پائیں گی؟ اگر ہاں، تو کتنا وقت لگے گا؟’لزرینا‘کا مہینوں تک ٹریٹمنٹ چلتا رہا ۔ دوا کے ساتھ وہ خاص ایکسرسائز بھی جو ڈاکٹروں نے بتائی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہو رہی تھیں۔ پیرا لائسیس سے وہ تقریباً نکل چکی تھیں۔ وہ اس بات سے بے حد خوش تھیں کہ اب وہ بھی ایک عام انسان کی طرح خود اپنی ’اِسکوٹی‘ اور کار ڈرائیو کرکے اپنا سارا کام خودکریں گی ۔ مال جائیں گی، شاپنگ کریں گی اور تھیٹر میں فلمیں دیکھیں گی۔

شاید ہی کسی کو علم تھا کہ ایک نئی مصیبت چپکے چپکے اُن کا پیچھا کر رہی تھی ۔پیرالائسیس اٹیک کے ٹھیک دو سال بعد 2009 ء میں انہیں بریسٹ کینسر نے اپنی زد میں لے لیا ۔ دو سال تک پیرالائسیس کی مسلسل اذیت جھیلنے کے بعد ’لزرینا‘ نے ابھی ٹھیک سے راحت کی سانس بھی نہیں لی تھی کہ ایک بار پھر وہ فکر و تردّدکے گہرے سمندر میں ڈوب چکی تھیں ۔ ایسا گمان ہوا جیسے سب کچھ ختم ہو رہا ہو۔ زندگی ایک بار پھر ایسی راہ پر کھڑی ہو گئی تھی، جہاں بے یقینی اورتاریکی تھی ۔ بدحواسی کا ایک عالم تھا ۔ ایک عجیب سی کشمکش تھی ۔ امیدوں پر ٹکی زندگی تھی۔ لیکن ’لزرينا ‘نے صبر و تحمّل کا دامن نہیں چھوڑا۔

 وہ ایک بار پھر اسی حوصلے، طاقت اور زندہ رہنے کی خواہش کے ساتھ اِس نئی مصیبت سے لڑنے اور اس پر قابو پانے میں مصروف ہو گئیں ۔ دو سال تک جاری علاج کے بعد’ لزرينا ‘نے اس لاعلاج جیسی بیماری پر قابو پا لیا ۔ لیکن پریشانیاں تھیں کہ اُن کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی تھیں ۔ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری ۔ ابھی وہ اس مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں ہی تھیں کہ اس بار انہیں موٹاپے یعنی’ اوبے سِٹی‘ نے گھیرلیا تھا ۔ مسلسل چار برسوں تک گھر پر رہنے، ورزش نہ کرنے ، پیرالائسیس اور بریسٹ کینسر کے دوران چلنے والی دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹ کی وجہ سے اُن کا وزن کافی بڑھ گیا تھا ۔ وہ اپنے معمول کے وزن 55 کلوگرام سے بڑھ کر 96 کلوگرام پر پہنچ گئی تھیں ۔ موٹاپا دُور کرنے کے لئے کافی ٹریٹمنٹ چلا۔ لیکن آیور ویدک، هوميوپیتھک، نیچرو تھیراپی اور گھریلو نسخوں سے لے کر برانڈیڈ دوائیں تک، تمام بیکار ثابت ہوئیں۔

موٹاپے کا مسئلہ اور سائیکل کا ساتھ

بلند ارادوں اور حوصلوں سے مضبوط ’لزرينا ‘سمجھ چکی تھیں کہ بڑھا ہوا وزن کم کرنے کے لئے انہیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا ۔ ڈاکٹروں سے صلاح مشورہ کرکے ورزش تو انہوں نے پہلے ہی شروع کر دی تھی ۔ لیکن اِس بار انہوں نے پسینہ بہا کر زیادہ سے زیادہ کیلوریز ’برن‘ کرنے کی سوچی اور ایک سائیکل خرید لائیں ۔ انہوں نے روزانہ صبح شام سائیکل چلانا شروع کیا ۔ رفتہ رفتہ وقت گزرتا گیااور ان کا وزن بھی کم ہو کر معمول پر آ گیا ۔لیکن اِس دوران ’لزرينا ‘کی سائیکلنگ کی ٹائمنگ اور روزانہ طے ہونے والے فاصلے بڑھ چکے تھے ۔

 مجبوری میں چلائی گئی سائیکل اب اُن کا شوق بن چکا تھا ۔ اس کے پسِ پشت ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وزن کو معمول پر برقراررکھنے کے لئے انہیں اس انتہائی سستے ذریعہ کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اب وہ اپنی سائیکل لے کر نوئیڈا کی حدود سے نکل کر دہلی کے انڈیا گیٹ تک پہنچ رہی تھیں۔ کبھی نوئیڈا سے گریٹر نوئیڈا، نوئیڈا سے دہلی تو کبھی نوئیڈا سے غازی آباد کی جانب جانے والی سڑکوں پر تیز رفتار سائیکلنگ کرتے ہوئے اس شہر سے مکالمہ کرنا ان کا مشغلہ بن چکا تھا۔

نہرو اسٹیڈیم کا راستہ، لائف کا ٹرننگ پوائنٹ

یہ سال 2014 میں دہلی کی اُمس بھری گرمی کی ایک شام تھی ۔ تیز رفتار گاڑیاں سڑکوں پر سرپٹ بھاگ رہی تھیں۔’ لزرينا ‘ حسبِ معمول اپنے دفتر سے لوٹ کر اپنی گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے بعد سائیکلنگ پر نکلی تھیں۔ اس دن انہوں نے نوئیڈا سے انڈيا گیٹ ہوتے ہوئے جنوبی دہلی کےراستوں کی پیمائش کی تھی۔ نہرو اسٹیڈیم کے پاس پہنچنے پر انہوں نے کچھ سائیکل سواروں کو اسٹیڈیم سے نکلتے اور کچھ ایک کو اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا ۔ بس انہوں نے بھی اپنی سائیکل کا رُخ اسی طرف موڑ دیا ۔ اندر پہنچنے پر پتہ چلا کہ یہاں دہلی اسپورٹس اتھارٹی کی جانب سے ایک سائیکل ریس منعقد کی جا رہی ہے ۔ پروفیشنل سائیكلسٹ ریس میں حصہ لینے کے لئے فارم بھر رہے تھے ۔’ لزرينا ‘کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے؟ کیا ایسی ریس میں انہیں بھی حصہ لینا چاہئے؟ لیکن پہلے تو کبھی انہوں نے ایسا کیا نہیں ہے۔پتہ نہیں کس طرح کریں گی؟ پہلے تو شوہر سے پوچھنا ہو گا- ایسے ہی سوالات سے ان کے قدم بار بار ٹھٹھک رہے تھے ۔ وہ تذبذب کی حالت میں تھیں ۔ تبھی کسی اجنبی نے انہیں آواز دی کہ کیا آپ کو فارم مل گیا ہے؟ ’ لزرينا ‘نے نہیں میں اپنا سر ہلا دیا ۔ بس اُس شخص نے انہیں فارم لا کر دے دیا اور ’لزرينا ‘نے وہیں فارم بھر کر اسے جمع کر دیا۔

کامیابی کی نئی شروعات

جون 2014 میں دہلی میں منعقد ریاستی سطح کی 40 کلومیٹر کی ’پلوٹون رائیڈرس‘ ریس میں سارے شرکاء کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ’لزرينا بجاج‘ فاتح بنیں۔ یہ اُن کی زندگی کا ایک شاندار تجربہ تھا۔ اِس جیت نے مستقبل میں ان کے سائیكلسٹ بننے کا راستہ اور منزل دونوں ہی دکھا دیا تھا ۔ وہ ایک کے بعد ایک ریس جیتتی گئیں ۔ پھر انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ گزشتہ دو سالوں میں وہ تقریباً ایک درجن مقابلوں میں حصّہ لے کرتیز رفتاری کی ریس جیت چکی ہیں ۔ دسمبر 2015 میں گڑگاؤں،دہلی’ گرینڈفانڈو ٹائم ٹرائل‘ کی 44 کلومیٹر ریس میں انہوں نے پہلا مقام حاصل کیا۔ سال 2016 کی شروعات میں ہوئے کئی قومی سطح کے مقابلوں میں’لزرینا بجاج‘ نے دوسرا مقام حاصل کیا ۔ اب تک انہوں نے 6 گولڈ اور 3 سلور کے ساتھ 10 سے زائد تمغے اپنے نام کئے ہیں۔ اُن کی جیت کی فهرست کافی طویل ہے ۔

مستقبل کے منصوبے

’لزرينا بجاج‘ اپنی جیت کے اس سلسلے سے ابھی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ سائیکلنگ کی دنیا میں سب سے ٹاپ پر پہنچیں، ایشیائی اور اولمپک گیمز سمیت دیگر عالمی مقابلوں میں ملک کے لئے میڈل حاصل کریں۔ وہ چاہتی ہیں کہ لوگ انہیں، ایچ آرپروفیشنل نہیں بلکہ ایک سائیكلسٹ کے طور پر جانیں پہچانیں۔ پورے ملک میں ان کا نام ہو ۔

 وہ چاہتی ہیں کہ لوگوں میں سائیکلنگ کے تعلق سےبیداری لائی جائے ۔ خاص طور پر اُن خواتین کے لئے جو’ اوبے سِٹی‘ کا شکار ہو رہی ہیں ، انہیں باقاعدہ طور پر سائیکل چلانی چاہئے ۔ اِس سے نہ صرف موٹاپا بلکہ ذیابیطس، بلڈ پریشر، ارتھرائٹس جیسے تمام امراض دُور رہتے ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو پروفیشنل سائیکلنگ کی طرف بھی توجہ دینا چاہئے ۔ انہیں اسپورٹس کے اِس شعبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔ اس سے ایک طرف وہ نہ صرف جسمانی طور پرفِٹ رہیں گی بلکہ اس سے انہیں اسپورٹس کیرئر میں بھی آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے ۔

بیٹے کو بھی دِلا رہی ہیں ٹریننگ

’لزرينا ‘خود سائیکلنگ میں آنے کے بعد اب اپنے آٹھ سالہ بیٹے ’آكرش‘ کو بھی پروفیشنل ٹرینر سے سائیکلنگ کی تربیت دِلوا رہی ہیں ۔ وہ اپنے بچّے کو بھی ایک کامیاب سائیكلسٹ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہیں ۔

خدا سے کوئی شکایت نہیں

زندگی میں کافی اُتار چڑھاو دیکھنے کے بعد ہر کوئی ٹوٹ جاتا ہے اورشکوے شکایت پر اُتر آتا ہے ۔ لیکن ایک کامیاب سائیکلسٹ بننے کے بعد ’لزرينا‘ اپنے آپ سے مطمئن ہیں ۔ انہیں خدا سے بھی کوئی شکایت نہیں ہے ۔ وہ مانتی ہیں کہ اوپر والا جو بھی کرتا ہے، ٹھیک کرتا ہے ۔ پریشانیاں اور مصیبتیں ہمیں پریشان کرنے نہیں بلکہ قابل اور مضبوط بنانے کے لئے آتی ہیں۔ ہم حالات سے لڑنا اور لڑ کر جینا سیکھتے ہیں ۔ اوپر والا ہماری اہلیت اورصلاحیتوں کو پہچانتاہے ،صحیح وقت آنے پر ہمیں ہماری منزل تک پہنچاتا ہے ۔ بس انسان کو اس پر اعتماد رکھنا چاہئے ۔ کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ پرانے دنوں کو بھُلاكر آگے بڑھنا چاہیے ۔

قلمکار : حُسین تابِش

مترجم : انور مِرزا

Writer : Husain Tabish

Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

ممبئی میں ضرورت مندوں کے لئے فرشتہ ہے ایک آٹو ڈرائیور، مُفت میں پہنچاتا ہے اسپتال تک...

سیاحت سے معاشی استحکام کیلئےسرکاری اور نجی شعبوں میں ہم آہنگی ضروری