کچرا چُننے والے بچّوں کو ’ راک اسٹار‘ بنانےکیلئے ابھیجیت نے بنایا ’ دھاراوی راکس‘

0

ہندوستان کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں بسی ایشیا کی سب سے بڑی جھونپڑا بستی ’دھاراوی‘ ، اپنے آپ میں ایک آزاد ریاست جیسا علاقہ ہے ۔ اس علاقے میں پہلا قدم رکھتے ہوئے ،مشینوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ڈکراتے جانوروں کی بے ہنگم آوازوں کا شور، پانی حاصل کرنے کے لئے مار پیٹ، گھریلو جھگڑوں اور بے شمار گالیوں سے روبرو ہونے کا تصّور ذہن میں تھا۔ لیکن اس کے بر خلاف میرا سامنا وہاں جس حقیقت سے ہوا وہ بہت ہی غیر متوقع تھا ۔ میرے تصورات کے برعکس وہاں سنائی دینے والی پُرامن اور موسیقی ریز آوازوں نے مجھے ایسی خوشگوار حیرت سے دوچار کیا کہ میَں حقیقت جاننے کے لئے بے چین ہو گیا۔

میں نے اُن آوازوں کا پیچھا کیا جو مجھے ایک انتہائی سنسان سی چمڑے کی بند پڑی یونٹ کے اوپر واقع ایک کمیونٹی سینٹر پر لے گئیں، جو کہ ہماری توقعات اور تصّورات کے دھاراوی کے بالکل برعکس تھا۔ اُس کے داخلی دروازے پر تحریر کردہ ’ایكارن فاؤنڈیشن‘ (ACORN Foundation)نام کا ایک بینر ہمارا استقبال کر رہا تھا ۔ اندر لڑکوں کی ایک ٹیم بیٹھی نظر آئی جن میں سب سے چھوٹا لڑکا تقریباًچار فٹ کا ہوگا اور سب سے بڑا ایک چوڑی چھاتی اور بھاری بھرکم آوازوالا مرد تھا۔ وہ سبھی یکساں جوش و جذبے سے کانوں کو بھلی لگنے والی موسیقی ترتیب دینے میں محو تھے۔ مگر یہ موسیقی روایتی سازوں سے ترتیب نہیں دی جارہی تھی بلکہ بیکار سمجھ کر پھینک دئیےجانے والے پلاسٹک کے بیرل، آئل پینٹ کے ڈبّے ، پلاسٹک کے کین جیسے کاٹھ کباڑ کو ڈھول، ڈرم نیز دیگر آلاتِ موسیقی کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اوراس عمل کے نتیجے میں ایک اچھّی خاصی موسیقی سے آراستہ دھُن سنائی دے رہی تھی۔

’ راک اسٹار‘ بنانے کا عزم

موسیقی کی اِس عجیب و غریب جُگل بندی کو ترتیب دینے اوراِس ٹیم کی قیادت کرنے والا شخص ’ابھیجیت جیجوریکر‘ درمیان میں کھڑا گٹاربجا رہا تھا ۔ ابھیجیت کا مقصد محض ردّی، کاٹھ کباڑ، ڈبّہ کنستر اور ’بھنگار‘کو موسیقی کے آلات میں تبدیل کرنا ہی نہیں تھا بلکہ یہ شخص کُوڑا، کچرا چُننے والوں کے بچّوں، فیکٹریوں میں کام کرنے والےملازموں، گھریلو نوکروں نیز غربت و لاچاری میں اپنی زندگی گزارنے والوں کو ایک ’ راک اسٹار‘ بنانے کا عزم رکھتا ہے ۔’ دھاراوي راكس‘ ابھیجیت جیجوریکر کا خواب ہے ۔

ایسار(Essar) گروپ کے ساتھ مارکیٹنگ پروفیشنل کی حیثیت سے ملازمت کے سلسلے میں ابھیجیت پہلی بار ممبئی آئے۔ اس کے بعد وہ ٹائمز گروپ کے مشہور اخبار ’ اِكانامِك ٹائمز‘ سے منسلک ہوئے، اور آخر کار’ اِنک ٹالكس‘(INK Talks) کے ساتھ منصوبہ ساز اور شراکت قائم کرنے والے مشیر کے طور پر کام کرنے لگے ۔ لیکن یہ سب کرتے ہوئے بھی وہ ایک دوہری زندگی جی رہے تھے ۔ مذکورہ بالا تمام کاموں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے یہ شخص، ابھیجیت، ایشیا کی سب سے بڑی جھوپڑپٹّی کے ایک میوزیکل بینڈ کا مینیجر، گِٹارِسٹ Guitarist، ایجنٹ اورتشہیر کار کے طور پراپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہا ہے ۔

’’ میَں اپنے کاروباری چیلنجز کے سبب آج سے چار سال قبل ممبئی آیا تھا لیکن میرے اندر موجود فنکار نے کبھی بھی مجھے موسیقی سے دُور نہیں ہونے دیا اور میَں اپنی اِس صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے سماجی تبدیلی لانے کی سمت میں اپنا تعاون دینا چاہتا تھا ۔ میرے والد’ پرمود جیجوریكر‘ روٹری کلب کے پرانے رکن رہے ہیں اور مجھے یہ سب خصوصیات ان سے ہی وراثت میں ملی ہیں ۔ موسیقی کا شوق مجھے ’ بلوفراگ ‘ (BlueFROG) کی طرف لے گیا جہاں ایک دوست کے ذریعے میرا تعارف ایک ایسے شخص سے ہوا جو واقعی بہت ہی شاندار کام کر رہا تھا ۔‘‘

اُس شخص کا نام’ ونود شیٹی‘ تھا جو’ ایكارن فاؤنڈیشن‘ نامی ایک این جی او اور’ بلوفراگ‘ نامی ایک میوزک کلب کے ڈائریکٹر ہیں۔ ونود شیٹی جھوپڑ پٹّیوں میں رہنے والے بچّوں اور کُوڑا، کچرا چُننے والوں کی فلاح و بہبود کے کام میں لگے ہوئے تھے ۔ وہ ایک ایسے موسیقار کی تلاش میں تھے جو موسیقی کے ذریعے اُن کے فاؤنڈیشن سے مستفیض ہونے والوں کے لئے کچھ مثبت کام کر سکے۔

’’ میَں نے فورا ًہی حامی بھر دی اور کہا - سننے میں تو یہ بہت حیرت انگیز ہے! ہمیں یہ کرنا چاہیے۔ اس کے بعد واقعات خودبخود وقوع پذیر ہوتے گئے اور میں اِن تمام بچّوں سے پہلی بار ممبئی کے ماٹونگا علاقے میں واقع سینٹ زیوئيرس انسٹی ٹیوٹ میں ملا اور ان کا پس منظر جاننے کے بعد میرے پاس اظہار کے لئے الفاظ نہیں تھے ۔ مجھے فوری طور پر ہی اس بات کا احساس ہو گیا کہ مجھے اِن کی زندگی بدلنے کے لئے کچھ کرنا ہے کیونکہ وہ سب اِس کے حقیقی مستحق ہیں ۔‘‘

بیکار چیزوں اور بدنام سمجھے جانے والے لوگوں میں  موسیقی جگانا

آپ کے دماغ میں یہ سوال ضرور کوند رہا ہو گا کہ ا بھیجیت ایسی غیر متوقع جگہ سے اِن’ جواہرات‘ کوڈھونڈ نکالنے میں کس طرح کامیاب ہوئے ؟

’’ ایسا کرنا بالکل بھی مشکل نہیں تھا ۔ ہمارا ملک اس طرح کی صلاحیتوں سے بھرا پڑا ہے ۔ جی ہاں، یہ بالکل سچ ہے کہ پیسے والے لوگ اپنے بچّوں کی صلاحیتوں کو سامنے لانے کے لئے ایک اچھی خاصی رقم خرچ کر سکتے ہیں لیکن خدا نے صلاحیتیں تو تمام انسانوں کے درمیان تقریباً یکساں ہی تقسیم کی ہیں۔ اور جب آپ اِن لوگوں کے ساتھ کچھ وقت گزاریں گے تو آپ کو بھی اس بات کا یقین ہو جائے گا۔ کچھ اچھے موسیقار ہیں، کچھ ڈانسر ہیں اور کچھ ایک بہت اچھّے اداکار بھی ہیں اور کچھ تو اتنے بہترین ہیں کہ وہ ایک اچھّے ’شواسٹاپر‘(Show Stopper) ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس دُنیا کو دکھانے کے لئے اس قدر صلاحیتیں ہیں کہ ہم مسلسل 40 منٹ کا ایک دلچسپ اور پُر کشش پروگرام پیش کر سکتے ہیں ۔‘‘

ایک طرف تو یہ بچّے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے بل پر ناظرین کو مسحور کر دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف ایک ایسی چیز بھی ہے جو لوگوں کی توجہ یکلخت ہی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور وہ ہے موسیقی پیش کر نے والے ان کے مخصوص سازو سامان ، جو کہ پرانی اشیاء اور بیکار سمجھے جانے والے کاٹھ کباڑ کے ٹکڑوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ اور یہ سب بھی ابھیجیت کے ہی دماغ کی پیداوار ہے ۔ابھیجیت کہتے ہیں،’’ ہماری فاؤنڈیشن کا نعرہ ہے ’’ری سائیکل ، ری یوز اور ریسپیکٹ‘‘۔ میَں مشہور افریقی بینڈ’ تال انکارپوریٹڈ‘(Taal Inc) کے ساتھ بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکا ہوں جن کی موسیقی اتنی سادہ اورزمین سے جُڑی ہے کہ گاؤں والوں کے دلوں پر براہِ راست اثر اندازہوتی ہے ۔‘‘

دھاراوي ایشیا میں ردّی، کباڑ اور بھنگار کا سب سے بڑا مرکز ہے اور ایسی صورتِ حال میں ابھیجیت کے لئے پہلے سے ہی دستیاب اشیاء کا استعمال کرتے ہوئے اُنہیں اپنے کام کے لائق بنا دینا بالکل قدرتی تھا ۔ اور 50 لوگوں کو جمع کرکے انہیں ایک’ بینڈ‘ کی شکل دینا ۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ موسیقی کے کتنے بڑے عالم یا ماہر ہیں ،جب ڈرم بجتا ہے تو ہر کسی کے پاؤں اپنے آپ ہی تھركنے لگتے ہیں ۔ ان کی موسیقی کے نہ صرف سُر، تال صحیح ہوتے ہیں بلکہ وہ فنکارانہ مہارت کے بھی بالکل قریب ہوتی ہے۔

اِس کے بعد ابھیجیت کا اصل امتحان شروع ہوا اور انہوں نے صرف ایک گھنٹے کے قلیل وقت میں ہی اپنے اِس گروپ کے اہم گلوکار کو پیش کئے جانے والے گیت کے تمام الفاظ درست تلفّط کےساتھ یاد کرا دئیے ۔ اب وہ گلوکارنغمے کے بول بغیر ہچکچائے یا هكلائے گانے میں کامیاب ہو رہا تھا۔ ڈرم بجانے والوں نے ڈرم کی بیٹس پکڑ لی تھیں، گلوکار بالکل درست تلفظ ادا کر رہے تھے اور دیگر تمام معاون فنکار اپنا اپنا کام انتہائی مہارت کے ساتھ کر رہے تھے اور نتیجہ حیرت انگیز تھا۔ حالانکہ ان کے اس بینڈ کو جنوبی ہند طرز کی موسیقی میں ماہر ہونے کے لئے اپنے سٹائل میں کچھ ترمیم ضرور کرنی پڑی۔

زندگی کا سب سے اہم لمحہ

وقت کے ساتھ ساتھ یہ بینڈ اور اِن کی موسیقی کی شہرت پھیلنے لگی اور سُپر اسٹار امیتابھ بچّن بھی زیادہ عرصہ تک ان سے لا علم نہ رہ سکے اور ایک دن انہوں نے اپنے گھر میں پروگرام رکھ کر ان کی میزبانی کی ۔

’’ہم نے اب تک ملک بھر میں 100 سے بھی زیادہ شو کئے ہیں لیکن امیتابھ بچّن کے گھر پر اُن کے سامنے پرفارم کرنا ہماری زندگی کا سب سے زیادہ یادگار اور اہم لمحہ رہا ہے ۔ ‘‘

’’ دھاراوي راكس‘ اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہا ہے ۔ اگنی ، كرِش کالے ، انڈین اوشین، پاپان، اور ایسے ہی بہت سے دیگر نامور موسیقار، گلوکار اور بینڈز کا تعاون اِن بچّوں کے لئے کافی کارگر ثابت ہو رہا ہے ۔ امریکہ اور یورپ سے آئے کئی لوگ ہماری روزمرہ کی زندگی پرفلمیں بھی تیار کر چکے ہیں ۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو اِس شہرت کے پسِ پشت صرف سوشل میڈیا ہے ۔ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں یہ دُنیا کے سامنے لانے کے لئے سوشل میڈیا کا شکریہ ۔‘‘

سال میں ایک بار یہ لوگ ’ دھاراوي راكس فنڈ ریزر‘ کے نام سے اپنا ایک ’ایونٹ‘ کرتے ہیں جہاں آرٹسٹ بالکل مفت اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس کے ذریعے جمع ہونے والی تمام رقم ’ایكارن‘ کو دی جاتی ہے ۔’’ہم نے اپنے ساتھ شامل بچّوں کے بھی ’ریکرنگ‘ (Recurring) اکاؤنٹ کھلوا رکھے ہیں۔ آخر کار وہ بھی آرٹسٹ ہیں اور ہمارے تمام ا يونٹس اورپروگراموں سے ہونے والی آمدنی کے 60 سے 70 فیصد حصّے کے وہ مستحق ہیں ۔ کچھ سال بعد بالغ ہونے پر وہ اِس پیسے کا استعمال کرنے کے مجازہوں گے ۔‘‘ کبھی 30 سے 40 بچّوں کا ایک گروپ آج 100 سے بھی زیادہ کی تعداد کو پار کر چکا ہے ۔

آپ کچھ دیں گے تبھی کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے

جہاں تک بچّوں میں رونما ہونے والی تبدیلی کی بات ہے تو اسے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے اور اب وہ پہلے سے زیادہ با اخلاق،منظم اور پُر اعتماد نظر آتے ہیں لیکن میری دلچسپی یہ جاننے میں زیادہ تھی کہ ابھیجیت کے نقطۂ نظر سے کیا تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے ۔

’’ میَں نے کہاں سے شروع کیا تھا؟ آپ کسی بھی چیز میں جذبہ، جنون اور لگن کے بغیر اتنی شاندار تبدیلی کبھی نہیں لا سکتے ہیں۔ میں نے جس طرح کی باتوں کو مسلسل برداشت کیا ہے وہاں قدم قدم پر چیلنج ہی چیلنج تھے۔ اِن بچوں کو نظم و ضبط کی تربیت دینا ہی اپنے آپ میں ایک بہت بڑا چیلنج تھا ۔انہیں کس طرح بات کرنی چاہیے یا پھر کس طرح برتاؤ کرنا چاهيے۔ کئی بار تو مجھے دل پر جبر کر کےان بچّوں کو یہ سب باتیں بڑے سخت لہجے میں سكھاني اور سمجھاني پڑیں ۔ کیونکہ یہ سب بچّے جس بیک گراؤنڈ سے آتے ہیں وہاں انہیں کبھی عزّت واحترام نہیں ملا، اس لئے انہیں کسی کی عزّت و احترام کرنا سکھانا اتنا آسان نہیں تھا۔ لیکن آج یہ سب بالکل بدل چکے ہیں اور اب یہ سب ایک شانداراور باوقار شخصیت کے مالک ہیں ۔ اور کامیابی کی بلندی پر پہنچنے کے باوجود بھی ان کے قدم اب بھی زمین پر ہی ہیں۔‘‘

قلمکار : نِشانت گوئل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Nishant Goel

Translation by : Anwar Mirza